<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 13:12:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 13:12:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب کے 5 اضلاع میں ایچ آئی وی/ایڈز کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1104983/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صوبہ پنجاب کے 5 اضلاع فیصل آباد، چنیوٹ، ساہیوال، جھنگ اور ننکانہ میں ایچ آئی وی کے مرض کا شکار افراد میں اضافہ خطرناک شرح تک بڑھ گیا ہے اور اس وقت ان علاقوں سے 2800 سے زائد مریض مفت ادویات کے لیے پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام (پی اے سی پی) کے پاس رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1487667/alarming-surge-in-hivaids-cases-in-five-districts-of-punjab"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پی اے سی پی کے ذرائع کے مطابق پروگرام کا فیصل آباد یونٹ الائیڈ ہسپتال کے کمرے میں قائم کیا گیا ہے جو ایچ آئی وی/ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کو مفت ادویات فراہم کررہا ہے جبکہ ان 5 اضلاع سے ماہانہ 70 سے 90 کیسز اس بیماری کے موصول ہورہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ان مریضوں میں سے زیادہ تر کو اپنی حالت کے بارے میں خون عطیہ کرنے، بیرون ملک جانے یا سرجری سے گزرنے سے قبل کیے گئے اسکریننگ ٹیسٹ کے ذریعے معلوم ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102119"&gt;لاڑکانہ کے 14 بچوں میں ایچ آئی وی پازیٹو (ایڈز) ہونے کا انکشاف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم ان علاقوں میں ایچ آئی وی کے اس طرح کے زیادہ کیسز سامنے آنے کے باوجود یہ پریشان کن ہے کہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اب تک ایچ آئی وی مریضوں کی اتنی بڑی تعداد کی وجوہات جاننے کے لیے کوئی اسکریننگ کیمپ نہیں لگایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا تھا کہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ کے تعلقہ رتو ڈیرو میں بڑی تعداد میں ایچ آئی وی کیس صوبائی حکومت کے لیے بدنامی کا باعث بنے اور اسی کو دیکھتے ہوئے پنجاب میں متعلقہ انتظامیہ نے خود کو بچانے کے لیے اس معاملے پر روشنی نہیں ڈالی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پی اے سی پی کے متعلقہ اسٹاف کو مرض سے متعلق بڑے اعدادوشمار کے حوالے سے معلومات کے لیک ہونے کے خلاف سختی سے خبردار کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی تناظر میں حکام کی زبانی ہدایات پر الائیڈ ہسپتال میں پی اے سی پی حکام باضابطہ طور پر مریضوں کی تعداد بتانے کو تیار نہیں تھے اور نہ ہی یہ بتانے کو تیار تھے کہ یہ مریض کن علاقوں سے آئے اور کس طرح انہیں وائرس ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے اس تمام صورتحال پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا اور متعلقہ علاقوں میں اتائیوں کے خطرے کو دیکھنے میں ضلعی انتظامیہ کی ناکامی پر شدید تنقید کی، ساتھ اسے اس خطرے کو ایچ آئی وی/ایڈز کے پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے معاملے پر تبادلہ خیال کے لیے ڈاکٹر صولت نواز کی سربراہی میں پی ایم اے اراکین کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن (پی ایچ سی) پر اتائیوں کو اجازت دینے کا الزام بھی لگایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے الزام لگایا کہ وقفے وقفے سے اتائیوں کے خلاف نام نہاد آپریشنز صرف متعلقہ حکام کی ماہانہ رشوت میں اضافے کا ذریعہ ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102565"&gt;حیدرآباد میں ایچ آئی وی کے 140 مثبت کیسز حکومتی توجہ حاصل کرنے میں ناکام&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع نے اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا کہ سرکاری ہسپتالوں کی جانب سے ایچ آئی وی/ایڈز مریضوں کی سرجری سے انکار کرنے کی مشق بھی اس بیمارے کے پھیلنے کی وجہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایسے مریضوں کے پاس کوئی آپشن نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ وہ نجی ہسپتالوں تک رسائی حاصل کریں جہاں انہیں خون کی اسکریننگ کے بغیر آپریشن کے اس عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اس کے نتیجے میں وائرس دیگر مریضوں میں پھیلتا ہے جو ان نجی ہسپتالوں میں کمزور طریقے سے جریحی آلات کے ذریعے سرجری سے گزر رہے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صوبہ پنجاب کے 5 اضلاع فیصل آباد، چنیوٹ، ساہیوال، جھنگ اور ننکانہ میں ایچ آئی وی کے مرض کا شکار افراد میں اضافہ خطرناک شرح تک بڑھ گیا ہے اور اس وقت ان علاقوں سے 2800 سے زائد مریض مفت ادویات کے لیے پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام (پی اے سی پی) کے پاس رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔</strong></p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1487667/alarming-surge-in-hivaids-cases-in-five-districts-of-punjab"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق پی اے سی پی کے ذرائع کے مطابق پروگرام کا فیصل آباد یونٹ الائیڈ ہسپتال کے کمرے میں قائم کیا گیا ہے جو ایچ آئی وی/ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کو مفت ادویات فراہم کررہا ہے جبکہ ان 5 اضلاع سے ماہانہ 70 سے 90 کیسز اس بیماری کے موصول ہورہے ہیں۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ان مریضوں میں سے زیادہ تر کو اپنی حالت کے بارے میں خون عطیہ کرنے، بیرون ملک جانے یا سرجری سے گزرنے سے قبل کیے گئے اسکریننگ ٹیسٹ کے ذریعے معلوم ہوا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102119">لاڑکانہ کے 14 بچوں میں ایچ آئی وی پازیٹو (ایڈز) ہونے کا انکشاف</a></strong></p>

<p>تاہم ان علاقوں میں ایچ آئی وی کے اس طرح کے زیادہ کیسز سامنے آنے کے باوجود یہ پریشان کن ہے کہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اب تک ایچ آئی وی مریضوں کی اتنی بڑی تعداد کی وجوہات جاننے کے لیے کوئی اسکریننگ کیمپ نہیں لگایا گیا۔</p>

<p>ذرائع کا کہنا تھا کہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ کے تعلقہ رتو ڈیرو میں بڑی تعداد میں ایچ آئی وی کیس صوبائی حکومت کے لیے بدنامی کا باعث بنے اور اسی کو دیکھتے ہوئے پنجاب میں متعلقہ انتظامیہ نے خود کو بچانے کے لیے اس معاملے پر روشنی نہیں ڈالی۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ پی اے سی پی کے متعلقہ اسٹاف کو مرض سے متعلق بڑے اعدادوشمار کے حوالے سے معلومات کے لیک ہونے کے خلاف سختی سے خبردار کیا گیا تھا۔</p>

<p>اسی تناظر میں حکام کی زبانی ہدایات پر الائیڈ ہسپتال میں پی اے سی پی حکام باضابطہ طور پر مریضوں کی تعداد بتانے کو تیار نہیں تھے اور نہ ہی یہ بتانے کو تیار تھے کہ یہ مریض کن علاقوں سے آئے اور کس طرح انہیں وائرس ہوا۔</p>

<p>دوسری جانب پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے اس تمام صورتحال پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا اور متعلقہ علاقوں میں اتائیوں کے خطرے کو دیکھنے میں ضلعی انتظامیہ کی ناکامی پر شدید تنقید کی، ساتھ اسے اس خطرے کو ایچ آئی وی/ایڈز کے پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ قرار دیا۔</p>

<p>اس حوالے سے معاملے پر تبادلہ خیال کے لیے ڈاکٹر صولت نواز کی سربراہی میں پی ایم اے اراکین کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن (پی ایچ سی) پر اتائیوں کو اجازت دینے کا الزام بھی لگایا گیا۔</p>

<p>انہوں نے الزام لگایا کہ وقفے وقفے سے اتائیوں کے خلاف نام نہاد آپریشنز صرف متعلقہ حکام کی ماہانہ رشوت میں اضافے کا ذریعہ ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102565">حیدرآباد میں ایچ آئی وی کے 140 مثبت کیسز حکومتی توجہ حاصل کرنے میں ناکام</a></strong></p>

<p>ذرائع نے اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا کہ سرکاری ہسپتالوں کی جانب سے ایچ آئی وی/ایڈز مریضوں کی سرجری سے انکار کرنے کی مشق بھی اس بیمارے کے پھیلنے کی وجہ ہے۔</p>

<p>ایسے مریضوں کے پاس کوئی آپشن نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ وہ نجی ہسپتالوں تک رسائی حاصل کریں جہاں انہیں خون کی اسکریننگ کے بغیر آپریشن کے اس عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔</p>

<p>انہوں نے مزید کہا کہ اس کے نتیجے میں وائرس دیگر مریضوں میں پھیلتا ہے جو ان نجی ہسپتالوں میں کمزور طریقے سے جریحی آلات کے ذریعے سرجری سے گزر رہے ہوتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1104983</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Jun 2019 13:31:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد سلیم)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/06/5d008fc2759d0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/06/5d008fc2759d0.jpg"/>
        <media:title>5 اضلاع سے ماہانہ 70 سے 90 کیسز اس مرض سے متعلق موصول ہورہے ہیں — فائل فوٹو/ رائٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
