<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 23:05:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 23:05:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جتنا دباؤ ڈالنا ہے ڈال لو، پیپلز پارٹی ڈرنے والی نہیں، بلاول بھٹو
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1105189/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے واضح طور پر کہا ہے کہ جتنا دباؤ ڈالنا ہے ڈال لو پیپلز پارٹی جھکنے اور ڈرنے والی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نئے پاکستان کے نئے پنجاب کی صورتحال سب کے سامنے ہے، نالائق حکومت نے ملک کے سب سے بڑے صوبے کے لیے نالائق وزیراعلیٰ منتخب کیا، وفاق جس طرح صوبوں کے وسائل و حقوق پر ڈاکہ ڈال رہا ہے اور پنجاب میں جو معاشی حملے ہورہے ہیں یہ عوام کے ساتھ سب سے بڑی نا انصافی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پرانے پاکستان میں پنجاب کا بجٹ 60 کھرب ہوتا تھا وہ اب نئے پاکستان میں 23 کھرب ہوگیا ہے، اس کٹوتی کا بوجھ یہاں کے عوام، غریب، کسان، بے روزگار نواجون کو اٹھانا پڑے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ماہر اقتصادیات خبردار کر رہے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی کی حکومت آئی ایم ایف بجٹ کو منظور کرتی ہے تو 80 لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہوں گے، حکومت غریبوں، مظلوموں کا حق ماررہی ہے اور امیر ترین لوگوں چوروں ڈاکووں کے لیے ایمنسٹی اسکیم دی جاتی ہے لیکن غریبوں، کسانوں، مزدوروں کے لیے کوئی ایسی اسکیم نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1105120/"&gt;عمران خان دعا کریں اگلی حکومت پیپلزپارٹی کی بنے، بلاول بھٹو&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہر صوبے کا بجٹ کم کیا جارہا اس سے زیادہ ظلم کیا ہوسکتا ہے،پاکستان کے عوام بہت بہادر ہیں اور ملک کے لیے قربانی دینے کو تیار ہیں لیکن جب صاف نظر آئے کہ امیروں کے لیے بیل آؤٹ اور ایمنسٹی جبکہ مظلوم پاکستانیوں کے لیے مہنگائی، غربت اور بے روزگاری ہو تو پھر یہ ایک نہیں 2 پاکستان ہیں، اس کے خلاف آواز بلند کرنا پیپلزپارٹی کا فرض ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ عوام کے حقوق پر حملے کیے جارہے، پیپلزپارٹی اس معاشی دہشت گردی کو برداشت نہیں کرے گی، پہلے بھی کہا تھا کہ اگر یہ لوگ عوام دشمن بجٹ پیش کرتے ہیں تو پیپلز پارٹی سڑکوں پر نکلنے گی اور عوامی رابطہ مہم شروع کرنے پر مجبور ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے عوام دوست بجٹ پیش کرنے کا موقع دیا لیکن جس طرح کا عوام دشمن بجٹ پیش ہوا یہ اس ملک کی معاشی خود کشی ہے، عمران خان نے کہا تھا کہ وہ آئی ایم ایف نہیں جائیں گے لیکن انہوں نے وہاں جاکر پورے ملک کو معاشی خود کشی کروا دی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہمارے جمہوری اور انسانی حقوق پر جو حملے ہورہے ہیں، اس کے خلاف آواز اٹھانا ہمارا فرض ہے، 1973 کا آئین، 18 ویں ترمیم اور ہمارے جمہوری حقوق حقوق پر حملے کیے جارہے ہیں، ہم یہ برداشت نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پہلے بھی واضح طور پر کہا تھا کہ جتنے کیسز بنانے ہیں بنا دیں، میرے پورے خاندان، پارٹی کو جیل بھیجنا ہے بھیج دیں مگر پیپلز پارٹی جمہوریت، 1973 کے آئین، انسانی و معاشی حقوق، صحافت کی آزادی، فوجی عدالتوں، لاپتہ افراد کے معاملے پر اپنا موقف نہیں بدلے گی، جتنا دباؤ ڈالنا ہے ڈالو جو کرنا ہے کرلو پیپلزپارٹی نظریاتی جماعت ہے، یہ ذوالفقار بھٹو اور بینظیر بھٹو کی جماعت ہے یہ جھکنے والی، بکنے والی اور ڈرنے والی جماعت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے کارکنوں کے ساتھ مل کر 50 سال جدوجہد کی، ہمارے کارکن سے قیادت تک ساتھ ہوتے ہیں مگر ہم اپنے نظریہ، موقف، اصولوں پر یوٹرن یا سمجھوتہ نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلاول بھٹو نے کہا آمر اور کٹھ پتلی عمران خان کے نئے پاکستان میں فرق کیا ہے، یہ صحافی اگر مجھ سے وہ سوال نہیں پوچھ سکتے جو وہ پوچھنا چاہتے ہیں، اگر صحافت، انسانی حقوق کی آزادی، قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ نہیں ہے تو ان آمر اور نئے پاکستان میں کیا فرق ہے، پاکستانیوں کو مل کر جدوجہد کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پاکستان کے بہت مسائل ہیں، جن کا حل ایک آدمی نہیں نکال سکتا، ہم سب مل کر پاکستان کے مسائل کا حل نکالیں گے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099615"&gt;آصف زرداری، بلاول بھٹو کی نیب راولپنڈی میں ایک مرتبہ پھر طلبی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس موقع پر سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کسی کی حد سے زیادہ حمایت نہیں کی، میں ہمیشہ اپنی جماعت کی حمایت کرتا ہوں لیکن میں ان اصولوں پر عمل کرتا ہوں جو ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کے ہیں اور جہاں تک پی ٹی ایم اراکین کی بات ہے تو میں ان کے بنیادی اور انسانی حق ہر پاکستانی کا ایک جیسا ہونا چاہیے آپ کو بولنے اور اپنا موقف پیش کرنے کی آزادی ہو، اگر آپ رکن قومی اسمبلی ہیں تو یہ حق ہے کہ آپ کا پروڈکشن آرڈر جاری ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شمالی و جنوبی وزیرستان، لاہور کے نمائندوں کو جیل میں ڈال کر انہیں پورے بجٹ عمل سے باہر رکھنا غیر آئینی و غیر قانونی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مریم نواز سے ملاقات سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ آج صبح مریم نواز نے ظہرانے کی دعوت دی ہے، جسے میں قبول کروں گا، پاکستان کے اتنے مسائل ہیں کہ سب نے مل کر اس کا حل نکالنا ہے، سب نے مل کر معاشی، انسانی و جمہوری حقوق کو تحفظ پہنچانا ہے، ہم سب نے مل کر پی ٹی آئی، آئی ایم ایف کے بجٹ کو روکنا ہے اور ملک کو معاشی خود کشی سے بچانا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کا مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے ساتھ نظریاتی معاملات ہیں لیکن ملکی مفاد میں مل کر کام کرنے کو تیار ہیں مگر یہ کٹھ پتلی حکومت اصل میں سنجیدہ نہیں، لہٰذا پھر ان سے بات کروں گا جو عوام کے حقوق کے تحفظ میں سنجیدہ ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d05c4adb5e8b'&gt;مریم نواز کی بلاول بھٹو کو ملاقات کی دعوت&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو کل (16 جون) کو ملاقات کی دعوت دی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے بتایا تھا کہ بلال بھٹو زرداری نے دعوت کو قبول کیا ہے اور وہ کل دوپہر میں رائے ونڈ جائیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ساتھ ہی اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ اس ملاقات میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے کچھ دیگر اہم رہنما بھی شریک ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھر ذرائع نے بتایا تھا کہ ملاقات میں وفاق اور پنجاب کے صوبائی بجٹ، اپوزیشن جماعتوں کی ممکنہ احتجاجی تحریک، آصف زرداری، حمزہ شہباز، فریال تالپور کی گرفتاری سمیت اہم امور زیر بحث آئیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں مریم نواز نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اور بلاول کی ملاقات نواز شریف اور شہباز شریف کی اجازت سے ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پارٹی کے تمام فیصلے نواز شریف اور شہباز شریف سمیت پارٹی کے لوگوں سے مشاورت سے کیے جاتے ہیں، جبکہ پارٹی کے اصول اور قواعد و ضوابط کی پاسداری مجھ پر بھی لازم ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/MaryamNSharif/status/1139889493824155648"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے واضح طور پر کہا ہے کہ جتنا دباؤ ڈالنا ہے ڈال لو پیپلز پارٹی جھکنے اور ڈرنے والی نہیں ہے۔</p>

<p>لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نئے پاکستان کے نئے پنجاب کی صورتحال سب کے سامنے ہے، نالائق حکومت نے ملک کے سب سے بڑے صوبے کے لیے نالائق وزیراعلیٰ منتخب کیا، وفاق جس طرح صوبوں کے وسائل و حقوق پر ڈاکہ ڈال رہا ہے اور پنجاب میں جو معاشی حملے ہورہے ہیں یہ عوام کے ساتھ سب سے بڑی نا انصافی ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ پرانے پاکستان میں پنجاب کا بجٹ 60 کھرب ہوتا تھا وہ اب نئے پاکستان میں 23 کھرب ہوگیا ہے، اس کٹوتی کا بوجھ یہاں کے عوام، غریب، کسان، بے روزگار نواجون کو اٹھانا پڑے گا۔</p>

<p>بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ماہر اقتصادیات خبردار کر رہے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی کی حکومت آئی ایم ایف بجٹ کو منظور کرتی ہے تو 80 لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہوں گے، حکومت غریبوں، مظلوموں کا حق ماررہی ہے اور امیر ترین لوگوں چوروں ڈاکووں کے لیے ایمنسٹی اسکیم دی جاتی ہے لیکن غریبوں، کسانوں، مزدوروں کے لیے کوئی ایسی اسکیم نہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1105120/">عمران خان دعا کریں اگلی حکومت پیپلزپارٹی کی بنے، بلاول بھٹو</a></strong></p>

<p>انہوں نے کہا کہ ہر صوبے کا بجٹ کم کیا جارہا اس سے زیادہ ظلم کیا ہوسکتا ہے،پاکستان کے عوام بہت بہادر ہیں اور ملک کے لیے قربانی دینے کو تیار ہیں لیکن جب صاف نظر آئے کہ امیروں کے لیے بیل آؤٹ اور ایمنسٹی جبکہ مظلوم پاکستانیوں کے لیے مہنگائی، غربت اور بے روزگاری ہو تو پھر یہ ایک نہیں 2 پاکستان ہیں، اس کے خلاف آواز بلند کرنا پیپلزپارٹی کا فرض ہے۔</p>

<p>چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ عوام کے حقوق پر حملے کیے جارہے، پیپلزپارٹی اس معاشی دہشت گردی کو برداشت نہیں کرے گی، پہلے بھی کہا تھا کہ اگر یہ لوگ عوام دشمن بجٹ پیش کرتے ہیں تو پیپلز پارٹی سڑکوں پر نکلنے گی اور عوامی رابطہ مہم شروع کرنے پر مجبور ہوگی۔</p>

<p>اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے عوام دوست بجٹ پیش کرنے کا موقع دیا لیکن جس طرح کا عوام دشمن بجٹ پیش ہوا یہ اس ملک کی معاشی خود کشی ہے، عمران خان نے کہا تھا کہ وہ آئی ایم ایف نہیں جائیں گے لیکن انہوں نے وہاں جاکر پورے ملک کو معاشی خود کشی کروا دی۔</p>

<p>بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہمارے جمہوری اور انسانی حقوق پر جو حملے ہورہے ہیں، اس کے خلاف آواز اٹھانا ہمارا فرض ہے، 1973 کا آئین، 18 ویں ترمیم اور ہمارے جمہوری حقوق حقوق پر حملے کیے جارہے ہیں، ہم یہ برداشت نہیں کریں گے۔</p>

<p>انہوں نے مزید کہا کہ پہلے بھی واضح طور پر کہا تھا کہ جتنے کیسز بنانے ہیں بنا دیں، میرے پورے خاندان، پارٹی کو جیل بھیجنا ہے بھیج دیں مگر پیپلز پارٹی جمہوریت، 1973 کے آئین، انسانی و معاشی حقوق، صحافت کی آزادی، فوجی عدالتوں، لاپتہ افراد کے معاملے پر اپنا موقف نہیں بدلے گی، جتنا دباؤ ڈالنا ہے ڈالو جو کرنا ہے کرلو پیپلزپارٹی نظریاتی جماعت ہے، یہ ذوالفقار بھٹو اور بینظیر بھٹو کی جماعت ہے یہ جھکنے والی، بکنے والی اور ڈرنے والی جماعت نہیں ہے۔</p>

<p>صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے کارکنوں کے ساتھ مل کر 50 سال جدوجہد کی، ہمارے کارکن سے قیادت تک ساتھ ہوتے ہیں مگر ہم اپنے نظریہ، موقف، اصولوں پر یوٹرن یا سمجھوتہ نہیں کرتے۔</p>

<p>بلاول بھٹو نے کہا آمر اور کٹھ پتلی عمران خان کے نئے پاکستان میں فرق کیا ہے، یہ صحافی اگر مجھ سے وہ سوال نہیں پوچھ سکتے جو وہ پوچھنا چاہتے ہیں، اگر صحافت، انسانی حقوق کی آزادی، قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ نہیں ہے تو ان آمر اور نئے پاکستان میں کیا فرق ہے، پاکستانیوں کو مل کر جدوجہد کرنا پڑے گا۔</p>

<p>چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پاکستان کے بہت مسائل ہیں، جن کا حل ایک آدمی نہیں نکال سکتا، ہم سب مل کر پاکستان کے مسائل کا حل نکالیں گے۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099615">آصف زرداری، بلاول بھٹو کی نیب راولپنڈی میں ایک مرتبہ پھر طلبی</a></strong></p>

<p>اس موقع پر سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کسی کی حد سے زیادہ حمایت نہیں کی، میں ہمیشہ اپنی جماعت کی حمایت کرتا ہوں لیکن میں ان اصولوں پر عمل کرتا ہوں جو ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کے ہیں اور جہاں تک پی ٹی ایم اراکین کی بات ہے تو میں ان کے بنیادی اور انسانی حق ہر پاکستانی کا ایک جیسا ہونا چاہیے آپ کو بولنے اور اپنا موقف پیش کرنے کی آزادی ہو، اگر آپ رکن قومی اسمبلی ہیں تو یہ حق ہے کہ آپ کا پروڈکشن آرڈر جاری ہو۔</p>

<p>بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شمالی و جنوبی وزیرستان، لاہور کے نمائندوں کو جیل میں ڈال کر انہیں پورے بجٹ عمل سے باہر رکھنا غیر آئینی و غیر قانونی ہے۔</p>

<p>مریم نواز سے ملاقات سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ آج صبح مریم نواز نے ظہرانے کی دعوت دی ہے، جسے میں قبول کروں گا، پاکستان کے اتنے مسائل ہیں کہ سب نے مل کر اس کا حل نکالنا ہے، سب نے مل کر معاشی، انسانی و جمہوری حقوق کو تحفظ پہنچانا ہے، ہم سب نے مل کر پی ٹی آئی، آئی ایم ایف کے بجٹ کو روکنا ہے اور ملک کو معاشی خود کشی سے بچانا ہے۔</p>

<p>بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کا مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے ساتھ نظریاتی معاملات ہیں لیکن ملکی مفاد میں مل کر کام کرنے کو تیار ہیں مگر یہ کٹھ پتلی حکومت اصل میں سنجیدہ نہیں، لہٰذا پھر ان سے بات کروں گا جو عوام کے حقوق کے تحفظ میں سنجیدہ ہیں۔</p>

<h3 id='5d05c4adb5e8b'>مریم نواز کی بلاول بھٹو کو ملاقات کی دعوت</h3>

<p>قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو کل (16 جون) کو ملاقات کی دعوت دی تھی۔</p>

<p>پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے بتایا تھا کہ بلال بھٹو زرداری نے دعوت کو قبول کیا ہے اور وہ کل دوپہر میں رائے ونڈ جائیں گے۔</p>

<p>ساتھ ہی اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ اس ملاقات میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے کچھ دیگر اہم رہنما بھی شریک ہوں گے۔</p>

<p>ادھر ذرائع نے بتایا تھا کہ ملاقات میں وفاق اور پنجاب کے صوبائی بجٹ، اپوزیشن جماعتوں کی ممکنہ احتجاجی تحریک، آصف زرداری، حمزہ شہباز، فریال تالپور کی گرفتاری سمیت اہم امور زیر بحث آئیں گے۔</p>

<p>بعد ازاں مریم نواز نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اور بلاول کی ملاقات نواز شریف اور شہباز شریف کی اجازت سے ہو رہی ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ پارٹی کے تمام فیصلے نواز شریف اور شہباز شریف سمیت پارٹی کے لوگوں سے مشاورت سے کیے جاتے ہیں، جبکہ پارٹی کے اصول اور قواعد و ضوابط کی پاسداری مجھ پر بھی لازم ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/MaryamNSharif/status/1139889493824155648"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1105189</guid>
      <pubDate>Sun, 16 Jun 2019 09:25:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/06/5d04de21b0220.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/06/5d04de21b0220.jpg"/>
        <media:title>کستان کے بہت مسائل ہیں، جن کا حل ایک آدمی نہیں نکال سکتا—اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
