<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 01:58:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 01:58:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سراج درانی کی درخواست ضمانت پر سماعت سے ایک اور جج کی معذرت
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1105410/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی: سندھ ہائی کورٹ کے ایک اور جج نے سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی کے خلاف بدعنوانی ریفرنس میں ضمانت کی درخواست سننے سے معذرت کرلی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قومی احتساب بیورو (نیب) نے رواں برس فروری میں اسپیکر سندھ اسمبلی کو اسلام آباد میں قائم ایک ہوٹل سے تفتیش کے لیے حراست میں لیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے بعد آغا سراج، ان کے بھائی آغا مسیح الدین، اہلیہ، بیٹوں اور بیٹیوں سمیت خاندان کے 13 اراکین کے خلاف کراچی کی احتساب عدالت میں ریفرنس فائل کردیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102420"&gt;آمدن سے زائد اثاثے: آغا سراج درانی کے خلاف نیب کی تحقیقات مکمل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گرفتار اسپیکر اسمبلی نے اپنے وکیل کے ذریعے سندھ ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست کی تھی جبکہ ان کے بھائی اور دیگر ملزمان نے بھی عبوری ضمانت کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ درخواستیں جب جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس محمد سلیم جیسر پر مشتمل بینچ کے سامنے سماعت کے لیے پیش کی گئیں تو جسٹس سلیم جیسر نے ضمانت کی درخواست سننے سے معذرت کرلی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے بعد مذکورہ معاملہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو پاس بھیج دیا گیا تا کہ درخواست کی سماعت کے لیے بینچ تشکیل دیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097908"&gt;‘ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ موجودہ اسپیکر اسمبلی کو گرفتار کیا گیا‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعدازاں سراج درانی کی ضمانت کی درخواست جسٹس محمد کریم خان آغا اور جسٹس عمر سیال پر مشتمل ایک اور ڈویژن بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم نو تشکیل شدہ بینچ میں سے جسٹس کریم آغا نے درخواست سننے سے معذرت کرلی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یار رہے کہ نیب نے اسپیکر صوبائی اسمبلی کو مبینہ طور پر آمدنی سے زائد منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں بنانے کی تحقیقات کے لیے حراست میں لیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1101267"&gt;آمدن سے زائد اثاثے: احتساب عدالت نے آغا سراج درانی کو جیل بھیج دیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے ساتھ ان سے 352 افراد کی غیر قانونی تعیناتی، ایم پی اے ہاسٹل کی تعمیرات، سندھ اسمبلی کی بلڈنگ کے سرکاری فنڈ میں خوردبرد اور ان منصوبوں کے پروجیکٹ ڈائریکٹرز کی تقرری کی بھی تفتیش کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ ماہ نیب نے آغا سراج درانی اور دیگر کے خلاف ریفرنس فائل کیا تھا جس میں ان پر غیر قانونی ذرائع سے ایک ارب 61 کروڑ روپے کے اثاثے بنانے کا الزام تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 19 جون 2019 کو ڈان اخبار می شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی: سندھ ہائی کورٹ کے ایک اور جج نے سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی کے خلاف بدعنوانی ریفرنس میں ضمانت کی درخواست سننے سے معذرت کرلی۔</p>

<p>قومی احتساب بیورو (نیب) نے رواں برس فروری میں اسپیکر سندھ اسمبلی کو اسلام آباد میں قائم ایک ہوٹل سے تفتیش کے لیے حراست میں لیا تھا۔</p>

<p>جس کے بعد آغا سراج، ان کے بھائی آغا مسیح الدین، اہلیہ، بیٹوں اور بیٹیوں سمیت خاندان کے 13 اراکین کے خلاف کراچی کی احتساب عدالت میں ریفرنس فائل کردیا گیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102420">آمدن سے زائد اثاثے: آغا سراج درانی کے خلاف نیب کی تحقیقات مکمل</a></strong></p>

<p>گرفتار اسپیکر اسمبلی نے اپنے وکیل کے ذریعے سندھ ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست کی تھی جبکہ ان کے بھائی اور دیگر ملزمان نے بھی عبوری ضمانت کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔</p>

<p>مذکورہ درخواستیں جب جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس محمد سلیم جیسر پر مشتمل بینچ کے سامنے سماعت کے لیے پیش کی گئیں تو جسٹس سلیم جیسر نے ضمانت کی درخواست سننے سے معذرت کرلی۔</p>

<p>جس کے بعد مذکورہ معاملہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو پاس بھیج دیا گیا تا کہ درخواست کی سماعت کے لیے بینچ تشکیل دیا جائے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097908">‘ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ موجودہ اسپیکر اسمبلی کو گرفتار کیا گیا‘</a></strong></p>

<p>بعدازاں سراج درانی کی ضمانت کی درخواست جسٹس محمد کریم خان آغا اور جسٹس عمر سیال پر مشتمل ایک اور ڈویژن بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کی گئی۔</p>

<p>تاہم نو تشکیل شدہ بینچ میں سے جسٹس کریم آغا نے درخواست سننے سے معذرت کرلی۔</p>

<p>یار رہے کہ نیب نے اسپیکر صوبائی اسمبلی کو مبینہ طور پر آمدنی سے زائد منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں بنانے کی تحقیقات کے لیے حراست میں لیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1101267">آمدن سے زائد اثاثے: احتساب عدالت نے آغا سراج درانی کو جیل بھیج دیا</a></strong> </p>

<p>اس کے ساتھ ان سے 352 افراد کی غیر قانونی تعیناتی، ایم پی اے ہاسٹل کی تعمیرات، سندھ اسمبلی کی بلڈنگ کے سرکاری فنڈ میں خوردبرد اور ان منصوبوں کے پروجیکٹ ڈائریکٹرز کی تقرری کی بھی تفتیش کی گئی۔</p>

<p>گزشتہ ماہ نیب نے آغا سراج درانی اور دیگر کے خلاف ریفرنس فائل کیا تھا جس میں ان پر غیر قانونی ذرائع سے ایک ارب 61 کروڑ روپے کے اثاثے بنانے کا الزام تھا۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 19 جون 2019 کو ڈان اخبار می شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1105410</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Jun 2019 15:02:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/06/5d09f2d454183.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/06/5d09f2d454183.jpg"/>
        <media:title>اسپیکر سندھ اسمبلی کو اسلام آباد میں قائم ایک ہوٹل سے تفتیش کے لیے حراست میں لیا تھا—فائل فوٹو: ڈان نیوز ٹی وی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
