<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 03:08:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 03:08:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>محمد شامی ورلڈ کپ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے دسویں باؤلر
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1105648/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت کے فاسٹ باؤلر محمد شامی نے ورلڈ کپ 2019 کے گروپ مرحلے میں افغانستان کے خلاف مشکلات میں گھری ہوئی ٹیم کو آخری اوور میں بہترین باؤلنگ کے ذریعے فتح دلائی اور ورلڈ کپ کی تاریخ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے دسویں باؤلر بن گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محمد شامی نے افغانستان کے خلاف میچ کے آخری اوور میں 12 رنز کا دفاع کرتے ہوئے وکٹ پر موجود تجربہ کار بلے باز محمد نبی کو تیسری گیند پر آؤٹ کیا حالانکہ وہ 52 رنز بنا کر وکٹ پر موجود تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شامی نے چوتھی گیند پر آفتاب عالم کی وکٹیں اڑائیں اور پانچویں گیند پر نئے آنے والے آخری بلے باز مجیب الرحمٰن کی بھی وکٹیں اڑا کر نہ صرف بھارت کو 11 رنز سے فتح دلائی بلکہ اپنے کیریئر کی پہلی اور ورلڈ کپ کی تاریخ کی دسویں ہیٹ ٹرک کا اعزاز حاصل کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1105621/"&gt;ورلڈکپ:شامی کی ہیٹ ٹرک، بھارت نے افغانستان کو شکست دے دی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی ہیٹ ٹرک بھی بھارت کے باؤلر نے کی تھی، چیتن شرما نے 31 اکتوبر 1987 کو ناگپور میں نیوزی لینڈ کے خلاف مسلسل تین بلے بازوں کو آؤٹ کرکے یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان کے ثقلین مشتاق ورلڈ کپ کی تاریخ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے دوسرے باؤلر ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ثقلین مشتاق نے ورلڈ کپ 1999 میں 11 جون کو لندن میں زمبابوے کے ہنری اولنگا، ایڈم ہیکل اور پومی ایم بانگوا کو آؤٹ کرکے ہیٹ ٹرک کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/cricketworldcup/status/1142488521346887682"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ورلڈ کپ 2003 میں دو کھلاڑیوں نے ہیٹ ٹرک کا کارنامہ انجام دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سری لنکا کے چمندا واس نے 14 فروری 2003 کو بنگلہ دیش کے خلاف ہیٹ ٹرک کی تھی، انہوں نے حنان سرکار، محمد اشرفل اور احسان الحق کو آؤٹ کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ورلڈ کپ 2003 کی دوسری ہیٹ ٹرک آسٹریلیا کے فاسٹ باؤلر بریٹ لی نے کینیا کے خلاف ڈربن میں 15 مارچ 2003 کو کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سری لنکا کے لاستھ ملینگا نے 28 مارچ 2007 کو ویسٹ انڈیز کے جارج ٹاؤن اسٹیڈیم میں جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں مسلسل چار گیندوں میں چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے ورلڈ کپ اور کرکٹ کی تاریخ میں مسلسل چار وکٹیں لینے کا ریکارڈ بنایا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ملینگا نے ایک ہی اوور میں شان پولا، اینڈریو ہال، جیکس کیلس اور مکھایا انتینی کو آوٹ کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویسٹ انڈیز کے کیماروچ اور ملینگا نے 2007 کے ورلڈ کپ میں ہیٹ ٹرک کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت میں کھیلے گئے ورلڈ کپ کے میچ میں کیماروچ نے 28 فروری 2011 کو فیروز شاہ کوٹلہ اسٹیڈیم میں نیدرلینڈز کے خلاف مسلسل تین گیندوں پر تین وکٹیں حاصل کی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ملینگا نے یکم مارچ 2011 کو کولمبو کے پریماداسا اسٹیڈیم میں کینیا کے خلاف ہیٹ ٹرک کرکے دوسری مرتبہ ہیٹ ٹرک کا اعزاز حاصل کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/cricketworldcup/status/1142493712452399104"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں 2015 کا ورلڈ کپ کھیلا گیا جہاں ایک مرتبہ پھر دو ہیٹ ٹرک ہوئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میلبورن کرکٹ اسٹیڈیم میں 14 فروری 2015 کو انگلینڈ کے اسٹیون فن نے آسٹریلیا کے بریڈ ہیڈن، گلین میکسویل اور مچل جانسن کو آؤٹ کرکے اس ٹورنامنٹ کی پہلی ہیٹ ٹرک کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری ہیٹ ٹرک جنوبی افریقہ کے پارٹ ٹائم باؤلر جے پی ڈومینی نے سری لنکا کے خلاف 18 مارچ 2015 کو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محمد شامی ورلڈ کپ 2019 میں ہیٹ ٹرک کرنے والے پہلے باؤلر ہیں جبکہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے مجموعی طور پر دسویں اور بھارت کے دوسرے باؤلر ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ میں پاکستان کے جلال الدین کو اولین ہیٹ ٹرک کا اعزاز حاصل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک روزہ کرکٹ میں باؤلرز اب تک مجموعی طور پر 47 مرتبہ ہیٹ ٹرک کا کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت کے فاسٹ باؤلر محمد شامی نے ورلڈ کپ 2019 کے گروپ مرحلے میں افغانستان کے خلاف مشکلات میں گھری ہوئی ٹیم کو آخری اوور میں بہترین باؤلنگ کے ذریعے فتح دلائی اور ورلڈ کپ کی تاریخ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے دسویں باؤلر بن گئے۔</p>

<p>محمد شامی نے افغانستان کے خلاف میچ کے آخری اوور میں 12 رنز کا دفاع کرتے ہوئے وکٹ پر موجود تجربہ کار بلے باز محمد نبی کو تیسری گیند پر آؤٹ کیا حالانکہ وہ 52 رنز بنا کر وکٹ پر موجود تھے۔</p>

<p>شامی نے چوتھی گیند پر آفتاب عالم کی وکٹیں اڑائیں اور پانچویں گیند پر نئے آنے والے آخری بلے باز مجیب الرحمٰن کی بھی وکٹیں اڑا کر نہ صرف بھارت کو 11 رنز سے فتح دلائی بلکہ اپنے کیریئر کی پہلی اور ورلڈ کپ کی تاریخ کی دسویں ہیٹ ٹرک کا اعزاز حاصل کرلیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1105621/">ورلڈکپ:شامی کی ہیٹ ٹرک، بھارت نے افغانستان کو شکست دے دی</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی ہیٹ ٹرک بھی بھارت کے باؤلر نے کی تھی، چیتن شرما نے 31 اکتوبر 1987 کو ناگپور میں نیوزی لینڈ کے خلاف مسلسل تین بلے بازوں کو آؤٹ کرکے یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔</p>

<p>پاکستان کے ثقلین مشتاق ورلڈ کپ کی تاریخ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے دوسرے باؤلر ہیں۔</p>

<p>ثقلین مشتاق نے ورلڈ کپ 1999 میں 11 جون کو لندن میں زمبابوے کے ہنری اولنگا، ایڈم ہیکل اور پومی ایم بانگوا کو آؤٹ کرکے ہیٹ ٹرک کی تھی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/cricketworldcup/status/1142488521346887682"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ورلڈ کپ 2003 میں دو کھلاڑیوں نے ہیٹ ٹرک کا کارنامہ انجام دیا تھا۔</p>

<p>سری لنکا کے چمندا واس نے 14 فروری 2003 کو بنگلہ دیش کے خلاف ہیٹ ٹرک کی تھی، انہوں نے حنان سرکار، محمد اشرفل اور احسان الحق کو آؤٹ کیا تھا۔</p>

<p>ورلڈ کپ 2003 کی دوسری ہیٹ ٹرک آسٹریلیا کے فاسٹ باؤلر بریٹ لی نے کینیا کے خلاف ڈربن میں 15 مارچ 2003 کو کی تھی۔</p>

<p>سری لنکا کے لاستھ ملینگا نے 28 مارچ 2007 کو ویسٹ انڈیز کے جارج ٹاؤن اسٹیڈیم میں جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں مسلسل چار گیندوں میں چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے ورلڈ کپ اور کرکٹ کی تاریخ میں مسلسل چار وکٹیں لینے کا ریکارڈ بنایا تھا۔</p>

<p>ملینگا نے ایک ہی اوور میں شان پولا، اینڈریو ہال، جیکس کیلس اور مکھایا انتینی کو آوٹ کیا تھا۔</p>

<p>ویسٹ انڈیز کے کیماروچ اور ملینگا نے 2007 کے ورلڈ کپ میں ہیٹ ٹرک کی تھی۔</p>

<p>بھارت میں کھیلے گئے ورلڈ کپ کے میچ میں کیماروچ نے 28 فروری 2011 کو فیروز شاہ کوٹلہ اسٹیڈیم میں نیدرلینڈز کے خلاف مسلسل تین گیندوں پر تین وکٹیں حاصل کی تھیں۔</p>

<p>ملینگا نے یکم مارچ 2011 کو کولمبو کے پریماداسا اسٹیڈیم میں کینیا کے خلاف ہیٹ ٹرک کرکے دوسری مرتبہ ہیٹ ٹرک کا اعزاز حاصل کیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/cricketworldcup/status/1142493712452399104"></a>
            </blockquote>
            </div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں 2015 کا ورلڈ کپ کھیلا گیا جہاں ایک مرتبہ پھر دو ہیٹ ٹرک ہوئیں۔</p>

<p>میلبورن کرکٹ اسٹیڈیم میں 14 فروری 2015 کو انگلینڈ کے اسٹیون فن نے آسٹریلیا کے بریڈ ہیڈن، گلین میکسویل اور مچل جانسن کو آؤٹ کرکے اس ٹورنامنٹ کی پہلی ہیٹ ٹرک کی۔</p>

<p>دوسری ہیٹ ٹرک جنوبی افریقہ کے پارٹ ٹائم باؤلر جے پی ڈومینی نے سری لنکا کے خلاف 18 مارچ 2015 کو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کی۔</p>

<p>محمد شامی ورلڈ کپ 2019 میں ہیٹ ٹرک کرنے والے پہلے باؤلر ہیں جبکہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے مجموعی طور پر دسویں اور بھارت کے دوسرے باؤلر ہیں۔</p>

<p>یاد رہے کہ ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ میں پاکستان کے جلال الدین کو اولین ہیٹ ٹرک کا اعزاز حاصل ہے۔</p>

<p>ایک روزہ کرکٹ میں باؤلرز اب تک مجموعی طور پر 47 مرتبہ ہیٹ ٹرک کا کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1105648</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Jun 2019 23:10:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/06/5d0e8a683ebeb.jpg?r=298138114" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/06/5d0e8a683ebeb.jpg?r=1829684005"/>
        <media:title>محمد شامی نے میچ کے آخری اوور میں ہیٹ ٹرک کی—فوٹو:آئی سی سی ٹویٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
