<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Amazing</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 26 Apr 2026 22:16:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 26 Apr 2026 22:16:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یہ کوا ہے یا گوریلا؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1105728/</link>
      <description>&lt;p&gt;کوے تو آپ نے بہت دیکھیں ہوں گے مگر گوریلے جیسا کوئی نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جی ہاں گوریلے کی طرح نظر آنے والا کوا سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے جسے گوریلا کرو کا ہی نام دے دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک ٹوئٹر صارف نے اس پرندے کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی جو اپنے پروں کے ساتھ کچھ ایسے کھڑا تھا جیسے کوئی گوریلا چاروں ہاتھوں پیروں پر کھڑا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1105584' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/06/5d10ca657b603.png"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اور یہ ویڈیو وائرل ہوگئی جسے کو 80 لاکھ سے زائد بار دیکھا جاچکا ہے جبکہ ایک لاکھ سے زائد بار شیئر بھی کیا جاچکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جاپانی شہر ناگویا کے صارف نے اس ویڈیو کو ایک شاپنگ سینٹر کے قریب بنایا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ٹوئٹر صارف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے جب پہلی بار اس کوے کو دیکھا تو وہ شاک رہ گئے، کیونکہ وہ کسی 'زومبی' جیسا نظر آرہا تھا مگر کچھ دیر دیکھنے کے بعد وہ اچھا لگنے لگا اور پھر ویڈیو بھی بنالی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ویڈیو پر ہزاروں افراد کا ردعمل سامنے آیا اور انہوں نے پرندے کے عجیب انداز پر بات کی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/keita_simpson/status/1141576785303199745?ref_src=twsrc%5Etfw"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جانوروں کی زندگی پر تحقیق کرنے والی واشنگٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ایک سائنسدان کائلی سوئفٹ نے اس پرندے کے عجیب انداز پر وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ درحقیقت یہ ایک عام رویہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بڑا کوا ہے جو ایشیا میں پایا جاتا ہے اور یہ پرندہ سورج کی روشنی کو جذب کرنے کے لیے اکثر اس انداز میں کھڑے ہوجاتے ہیں جس سے لگتا ہے کہ وہ ٹانگوں اور دم سے محروم ہے، مگر اس سے پرندے کو جسم گرم کرنے میں مدد ملتی ہے جبکہ پروں کی دیکھ بھال بھی ہوتی ہے جن کو کیڑوں اور بیکٹریا سے خطرہ لاحق ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم ایک اور سائنسدان ڈیو سلیگر کے مطابق اکثر بھوکے یا نڈھال پرندے بھی اپنے پروں کو اس انداز سے نیچے گرا کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کوے تو آپ نے بہت دیکھیں ہوں گے مگر گوریلے جیسا کوئی نہیں۔</p>

<p>جی ہاں گوریلے کی طرح نظر آنے والا کوا سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے جسے گوریلا کرو کا ہی نام دے دیا گیا ہے۔</p>

<p>جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک ٹوئٹر صارف نے اس پرندے کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی جو اپنے پروں کے ساتھ کچھ ایسے کھڑا تھا جیسے کوئی گوریلا چاروں ہاتھوں پیروں پر کھڑا ہوتا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1105584' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/06/5d10ca657b603.png"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اور یہ ویڈیو وائرل ہوگئی جسے کو 80 لاکھ سے زائد بار دیکھا جاچکا ہے جبکہ ایک لاکھ سے زائد بار شیئر بھی کیا جاچکا ہے۔</p>

<p>جاپانی شہر ناگویا کے صارف نے اس ویڈیو کو ایک شاپنگ سینٹر کے قریب بنایا تھا۔</p>

<p>اس ٹوئٹر صارف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے جب پہلی بار اس کوے کو دیکھا تو وہ شاک رہ گئے، کیونکہ وہ کسی 'زومبی' جیسا نظر آرہا تھا مگر کچھ دیر دیکھنے کے بعد وہ اچھا لگنے لگا اور پھر ویڈیو بھی بنالی۔</p>

<p>اس ویڈیو پر ہزاروں افراد کا ردعمل سامنے آیا اور انہوں نے پرندے کے عجیب انداز پر بات کی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/keita_simpson/status/1141576785303199745?ref_src=twsrc%5Etfw"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>جانوروں کی زندگی پر تحقیق کرنے والی واشنگٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ایک سائنسدان کائلی سوئفٹ نے اس پرندے کے عجیب انداز پر وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ درحقیقت یہ ایک عام رویہ ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بڑا کوا ہے جو ایشیا میں پایا جاتا ہے اور یہ پرندہ سورج کی روشنی کو جذب کرنے کے لیے اکثر اس انداز میں کھڑے ہوجاتے ہیں جس سے لگتا ہے کہ وہ ٹانگوں اور دم سے محروم ہے، مگر اس سے پرندے کو جسم گرم کرنے میں مدد ملتی ہے جبکہ پروں کی دیکھ بھال بھی ہوتی ہے جن کو کیڑوں اور بیکٹریا سے خطرہ لاحق ہوتا ہے۔</p>

<p>تاہم ایک اور سائنسدان ڈیو سلیگر کے مطابق اکثر بھوکے یا نڈھال پرندے بھی اپنے پروں کو اس انداز سے نیچے گرا کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1105728</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Jun 2019 18:14:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/06/5d10ca1585104.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/06/5d10ca1585104.jpg"/>
        <media:title>یہ کوا جاپان میں نظر آیا — اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
