<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 09:12:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 09:12:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم  نے کاروبار کی رجسٹریشن آسان بنانے کیلئے کمیٹی قائم کردی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1105762/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کاروبار کی رجسٹریشن کے طریقہ کار کو آسان بنانے کے لیے فریم کی تشکیل کی غرض سے پاکستان ریگولیٹری ماڈرنائزیشن انیشی ایٹو (پی آر ایم آئی) کے قیام کی منظوری دے دی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1490185/imran-forms-body-to-ease-business-registration"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق یہ اعلیٰ سطحی کمیٹی پاکستان میں کاروبار کو آسان بنانے کے سلسلے میں ملک کی درجہ بندی کو بہتر بنا کر نئی راہیں کھولے گی اور سرمایہ کاری کو پر کشش بنائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق آسانی سے کاروبار کرنے کے حوالے سے مرتب کردہ فہرست میں 190 ممالک میں پاکستان کا 136واں نمبر  ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1105589"&gt;وزیراعظم 'میثاق معیشت' پر کمیٹی بنانے کیلئے آمادہ ہوگئے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس اسٹیئرنگ کمیٹی کی سربراہی مشترکہ طور پر وزیراعظم عمران خان، مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ شہزاد ارباب اور مشیر برائے تجارت عبد الرزاق داؤد کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سلسلے میں منعقدہ اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر شہزاد ارباب نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس کا بنیادی مقصد نئے کاروبار کی رجسٹریشن آسان بنانا، اجازت نامے اور تصدیق نامہ عدم اعتراض (این او سی) جاری کرنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیراعظم کو بتایا گیا کہ یہ کمیٹی بدعنوانی کو کم کرنے اور چھوٹے اور میڈیا انٹرپرائزز(ایس ایم ای) کو خودکار طریقہ کار کے مواقع فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1103662"&gt;معیشت بہت جلد بحران سے باہر آجائے گی، وزیراعظم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خودکار طریقہ کار کی عدم موجودگی اور مختلف سرکاری محکموں سے این او سی لینے کی قانونی پابندی کی وجہ سے ماضی میں ایس ایم ای کا شعبہ متاثر ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مختلف محکموں سے این او سی لینے اور رجسٹریشن کروانے کی وجہ سے بدعنوانی کے راستے کھلے جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری بھی متاثر ہوئی‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اجلاس میں موجود شرکا کو بتایا گیا کہ پی آر ایم آئی اسٹیئرنگ کمیٹی کی سربراہی مشترکہ طور پر شہزاد ارباب اور عبدالرزاق داؤد کریں گے جبکہ سیکریٹری تجارت، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو، چیئرمین ایس ای سی پی، چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ پاکستان، کراچی، لاہور اور فیصل آباد کے چیمبرز آف کامرس کے صدور اور پاکستان بزنس کونسل کے نمائندے شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104662"&gt;آئیں متحد ہوکر ملک کو معاشی بحران سے نکالیں، وزیراعظم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب قبائلی علاقے سابق فاٹا سے تعلق رکھنے والے پارلیمینٹیرین نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور اس میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کا مسئلہ ان کے سامنے رکھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے باوجود ایف ای ڈی اب بھی قبائلی اضلاع میں نافذالعمل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس پر وزیراعظم نے یقین دہانی کروائی کہ ان کے تحفظات جلد دور کرلیے جائیں گے، اس کے ساتھ انہوں قبائلی اضلاع کی عوام کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی جلد تکمیل کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کاروبار کی رجسٹریشن کے طریقہ کار کو آسان بنانے کے لیے فریم کی تشکیل کی غرض سے پاکستان ریگولیٹری ماڈرنائزیشن انیشی ایٹو (پی آر ایم آئی) کے قیام کی منظوری دے دی۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1490185/imran-forms-body-to-ease-business-registration">رپورٹ</a></strong> کے مطابق یہ اعلیٰ سطحی کمیٹی پاکستان میں کاروبار کو آسان بنانے کے سلسلے میں ملک کی درجہ بندی کو بہتر بنا کر نئی راہیں کھولے گی اور سرمایہ کاری کو پر کشش بنائے گی۔</p>

<p>عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق آسانی سے کاروبار کرنے کے حوالے سے مرتب کردہ فہرست میں 190 ممالک میں پاکستان کا 136واں نمبر  ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1105589">وزیراعظم 'میثاق معیشت' پر کمیٹی بنانے کیلئے آمادہ ہوگئے</a></strong></p>

<p>اس اسٹیئرنگ کمیٹی کی سربراہی مشترکہ طور پر وزیراعظم عمران خان، مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ شہزاد ارباب اور مشیر برائے تجارت عبد الرزاق داؤد کریں گے۔</p>

<p>اس سلسلے میں منعقدہ اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر شہزاد ارباب نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس کا بنیادی مقصد نئے کاروبار کی رجسٹریشن آسان بنانا، اجازت نامے اور تصدیق نامہ عدم اعتراض (این او سی) جاری کرنا ہے۔</p>

<p>وزیراعظم کو بتایا گیا کہ یہ کمیٹی بدعنوانی کو کم کرنے اور چھوٹے اور میڈیا انٹرپرائزز(ایس ایم ای) کو خودکار طریقہ کار کے مواقع فراہم کرے گی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1103662">معیشت بہت جلد بحران سے باہر آجائے گی، وزیراعظم</a></strong> </p>

<p>اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خودکار طریقہ کار کی عدم موجودگی اور مختلف سرکاری محکموں سے این او سی لینے کی قانونی پابندی کی وجہ سے ماضی میں ایس ایم ای کا شعبہ متاثر ہوا۔</p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مختلف محکموں سے این او سی لینے اور رجسٹریشن کروانے کی وجہ سے بدعنوانی کے راستے کھلے جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری بھی متاثر ہوئی‘۔</p>

<p>اجلاس میں موجود شرکا کو بتایا گیا کہ پی آر ایم آئی اسٹیئرنگ کمیٹی کی سربراہی مشترکہ طور پر شہزاد ارباب اور عبدالرزاق داؤد کریں گے جبکہ سیکریٹری تجارت، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو، چیئرمین ایس ای سی پی، چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ پاکستان، کراچی، لاہور اور فیصل آباد کے چیمبرز آف کامرس کے صدور اور پاکستان بزنس کونسل کے نمائندے شامل ہوں گے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104662">آئیں متحد ہوکر ملک کو معاشی بحران سے نکالیں، وزیراعظم</a></strong></p>

<p>دوسری جانب قبائلی علاقے سابق فاٹا سے تعلق رکھنے والے پارلیمینٹیرین نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور اس میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کا مسئلہ ان کے سامنے رکھا۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے باوجود ایف ای ڈی اب بھی قبائلی اضلاع میں نافذالعمل ہے۔</p>

<p>جس پر وزیراعظم نے یقین دہانی کروائی کہ ان کے تحفظات جلد دور کرلیے جائیں گے، اس کے ساتھ انہوں قبائلی اضلاع کی عوام کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی جلد تکمیل کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1105762</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Jun 2019 13:09:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید عرفان رضا)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/06/5d1190742197a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/06/5d1190742197a.jpg"/>
        <media:title>کمیٹی کی سربراہی مشترکہ طور پر وزیراعظم عمران خان،مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ شہزاد ارباب اور مشیر برائے تجارت عبد الرزاق داؤد کریں گے—تصویر: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
