<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 06:25:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 06:25:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 6 ارب ڈالر قرض کی منظوری دے دی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1106283/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں معاشی استحکام کے لیے 3 سال کے عرصے میں 6 ارب ڈالر قرض فراہم کرنے کی منظوری دے دی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے ترجمان گیری رائس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں کہا کہ ‘آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ نے پاکستان کے معاشی منصوبے میں تعاون کے لیے تین برس کے دوران 6 ارب ڈالر قرض کی منظوری دے دی ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘اس کا مقصد ملک کی معیشت میں مستقل بڑھوتری اور معیار زندگی کو بہتر کرنا ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/IMFSpokesperson/status/1146458110812405760"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ٹویٹر میں اپنے بیان میں کہا کہ ‘آئی ایم ایف بورڈ نے ہمارے معاشی اصلاحاتی منصوبے میں تعاون کے لیے پاکستان کو 6 ارب ڈالر کا ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) کی منظوری دے دی ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارا منصوبہ معاشی عدم توازن کو کم کرکے بڑھوتری کا ہے، کمزور طبقے کے  مکمل تحفظ کے لیے سماجی سطح پر اخراجات کو مستحکم کیا گیا ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ‘ایک ایسا اصلاحاتی نظام جس میں حکومت کی مالی حالت کو بہتر بنانے سمیت ریونیو کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے قرضوں میں کمی لانا ہمارے پروگرام میں شامل ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے قرض کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘یہ قرض ملک اور حکومت کے فائدے میں ہے تاکہ ملک کی مالی صورت حال کو بہتر بنانے اور مضبوط معاشی انتظام کو یقینی بنانا ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/a_hafeezshaikh/status/1146460778771505153"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد 12 مئی کو اعلان کیا تھا کہ پاکستان کو 3 برسوں کے دوران 6 ارب ڈالر سے زائد قرض ملے گا جس سے ملک میں معاشی اصلاحات کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1103166"&gt;آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر قرض کا معاہدہ طے پاگیا، مشیر خزانہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی ٹی وی کو ایک خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا تھا کہ ‘آئی ایم ایف میں جانے سے پاکستان کو جو فائدے نظر آرہے ہیں اس میں 3 سال کے عرصے میں تقریباً 6 ارب ڈالر ملیں گے اور اس سے متعلق ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک جیسے مالیاتی اداروں سے ہمیں تقریباً 2 سے 3 ارب ڈالر کی اضافی رقم ملے گی’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا تھا کہ ‘اگر 6 ارب ڈالر اور یہ اضافی 2 سے 3 ارب ڈالر کم سود پر ملیں گے تو ہمارے قرضے کی صورت حال میں قدرے بہتری آئے گی اور جو پروگرام ہم آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر کریں گے اس سے دنیا میں ایک اچھا پیغام جائے گا اور سرمایہ کار سمجھیں گے کہ پاکستان میں اصلاحات کیے جارہے ہیں’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک سوال پر انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘یہ قرض 3 برسوں کے دوران 6 ارب ڈالر کا ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی شرائط پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ‘کچھ ایسی چیزیں تھیں جس کو ہمیں خود کرنا چاہیے جیسے کہ اگر آئی ایم ایف کہے کہ اپنی حیثیت کے مطابق اخراجات کریں تو یہ ہمارے بھی مفاد میں ہے، اگر سرکاری ادارے مسلسل خسارے میں جائیں تو ان کو ٹھیک کرنا ہمارے مفاد میں ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر ہم امیر لوگوں کو سبسڈی دیں اور اس کو روکیں اور ان سے ٹیکس زیادہ لیں تاکہ پورے ملک کا فائدہ ہو، تو ایسی باتیں آئی ایم ایف بھی کہہ رہا لیکن یہ ہمارے مفاد میں بھی ہیں’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عبدالحفیظ شیخ کے مطابق ‘کئی چیزیں ایسی ہیں جو پاکستان کے اندر کافی عرصے سے نہیں ہوئیں اور یہ ایک موقع ہے کہ ہم آئی ایم ایف سے پروگرام کرنے جارہے ہیں اور ہم ان مسائل، جن کو اسٹرکچرل مسائل کہا جاتا ہے یعنی دیکھیں کہ پاکستان میں ہر دور میں مسلسل برآمدات نہیں بڑھ سکیں، بیرونی سرمایہ کاری نہیں آسکی، سرکاری ادارے ویسے ہی رہے، ریونیو کبھی بھی اچھے انداز میں نہیں بڑھا سکے ہیں’۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں معاشی استحکام کے لیے 3 سال کے عرصے میں 6 ارب ڈالر قرض فراہم کرنے کی منظوری دے دی۔</p>

<p>آئی ایم ایف کے ترجمان گیری رائس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں کہا کہ ‘آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ نے پاکستان کے معاشی منصوبے میں تعاون کے لیے تین برس کے دوران 6 ارب ڈالر قرض کی منظوری دے دی ہے’۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘اس کا مقصد ملک کی معیشت میں مستقل بڑھوتری اور معیار زندگی کو بہتر کرنا ہے’۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/IMFSpokesperson/status/1146458110812405760"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ٹویٹر میں اپنے بیان میں کہا کہ ‘آئی ایم ایف بورڈ نے ہمارے معاشی اصلاحاتی منصوبے میں تعاون کے لیے پاکستان کو 6 ارب ڈالر کا ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) کی منظوری دے دی ہے’۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارا منصوبہ معاشی عدم توازن کو کم کرکے بڑھوتری کا ہے، کمزور طبقے کے  مکمل تحفظ کے لیے سماجی سطح پر اخراجات کو مستحکم کیا گیا ہے’۔</p>

<p>عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ‘ایک ایسا اصلاحاتی نظام جس میں حکومت کی مالی حالت کو بہتر بنانے سمیت ریونیو کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے قرضوں میں کمی لانا ہمارے پروگرام میں شامل ہے’۔</p>

<p>آئی ایم ایف کے قرض کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘یہ قرض ملک اور حکومت کے فائدے میں ہے تاکہ ملک کی مالی صورت حال کو بہتر بنانے اور مضبوط معاشی انتظام کو یقینی بنانا ہے’۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/a_hafeezshaikh/status/1146460778771505153"></a>
            </blockquote>
            </div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>خیال رہے کہ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد 12 مئی کو اعلان کیا تھا کہ پاکستان کو 3 برسوں کے دوران 6 ارب ڈالر سے زائد قرض ملے گا جس سے ملک میں معاشی اصلاحات کی جائیں گی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1103166">آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر قرض کا معاہدہ طے پاگیا، مشیر خزانہ</a></strong></p>

<p>پی ٹی وی کو ایک خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا تھا کہ ‘آئی ایم ایف میں جانے سے پاکستان کو جو فائدے نظر آرہے ہیں اس میں 3 سال کے عرصے میں تقریباً 6 ارب ڈالر ملیں گے اور اس سے متعلق ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک جیسے مالیاتی اداروں سے ہمیں تقریباً 2 سے 3 ارب ڈالر کی اضافی رقم ملے گی’۔</p>

<p>انہوں نے کہا تھا کہ ‘اگر 6 ارب ڈالر اور یہ اضافی 2 سے 3 ارب ڈالر کم سود پر ملیں گے تو ہمارے قرضے کی صورت حال میں قدرے بہتری آئے گی اور جو پروگرام ہم آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر کریں گے اس سے دنیا میں ایک اچھا پیغام جائے گا اور سرمایہ کار سمجھیں گے کہ پاکستان میں اصلاحات کیے جارہے ہیں’۔</p>

<p>ایک سوال پر انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘یہ قرض 3 برسوں کے دوران 6 ارب ڈالر کا ہے’۔</p>

<p>آئی ایم ایف کی شرائط پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ‘کچھ ایسی چیزیں تھیں جس کو ہمیں خود کرنا چاہیے جیسے کہ اگر آئی ایم ایف کہے کہ اپنی حیثیت کے مطابق اخراجات کریں تو یہ ہمارے بھی مفاد میں ہے، اگر سرکاری ادارے مسلسل خسارے میں جائیں تو ان کو ٹھیک کرنا ہمارے مفاد میں ہے’۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر ہم امیر لوگوں کو سبسڈی دیں اور اس کو روکیں اور ان سے ٹیکس زیادہ لیں تاکہ پورے ملک کا فائدہ ہو، تو ایسی باتیں آئی ایم ایف بھی کہہ رہا لیکن یہ ہمارے مفاد میں بھی ہیں’۔</p>

<p>عبدالحفیظ شیخ کے مطابق ‘کئی چیزیں ایسی ہیں جو پاکستان کے اندر کافی عرصے سے نہیں ہوئیں اور یہ ایک موقع ہے کہ ہم آئی ایم ایف سے پروگرام کرنے جارہے ہیں اور ہم ان مسائل، جن کو اسٹرکچرل مسائل کہا جاتا ہے یعنی دیکھیں کہ پاکستان میں ہر دور میں مسلسل برآمدات نہیں بڑھ سکیں، بیرونی سرمایہ کاری نہیں آسکی، سرکاری ادارے ویسے ہی رہے، ریونیو کبھی بھی اچھے انداز میں نہیں بڑھا سکے ہیں’۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1106283</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jul 2019 08:21:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/07/5d1cde3463ac4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/07/5d1cde3463ac4.jpg?0.9722634333667426"/>
        <media:title>آئی ایم ایف نے 3 برس کے لیے قرض کی منظوری دی ہے—فائل/فوٹو:رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
