<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 07:43:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 10 Jun 2026 07:43:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’حکومت نے آئی پی پیز کو 9 کھرب 56 ارب روپے اضافی ادا کیے‘
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1106668/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: حکومت نے 10 سال کے عرصے میں توانائی پیدا کرنے والے نجی اداروں (آئی پی پیز) کو 9 کھرب 56 ارب روپے کی اضافی ادائیگی کی جو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے لیے جانے والے 6 ارب ڈالر قرض سے بھی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سینیٹ کی ذیلی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے کنوینر سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے ایک بیان میں کہا کہ آئی پی پیز کے معاہدوں کی ماہرین کی مدد سے کیے گئے تجزیے میں یہ بات سامنے آئی کہ آئی پی پیز کو 4 سو ارب روپے کی آمدنی ہونی تھی لیکن بجائے اس کے انہوں نے 14 سو ارب روپے کا منافع کمایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اور آئی پی پیز نے ان اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اندازے غلط فہمی کی بنیاد پر لگائے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094867"&gt;بجلی بنانے والی کمپنیوں کو زائد رقم دینے کا معاملہ: چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لےلیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحریک انصاف کے سینیٹر نعمان خٹک کا کہنا تھا کہ 5 سال کے عرصے کے دوران 8 آئی پی پیز کا جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حیرت انگیز طور پر یہ آئی پی پیز، ریگولیٹر کی جانب سے منظور کردہ 15 فیصد منافع سے کہیں زیادہ یعنی 2 ارب 30 کروڑ روپے سالانہ کما رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی پالیسی کے مطابق  وہ 77 کروڑ 17 لاکھ روپے سالانہ منافع کما سکتے ہیں لیکن وہ اوسطاً 3 ارب 10 کروڑ 60 لاکھ روپے سالانہ کما رہے تھے یعنی 2 ارب 38 کروڑ 90 لاکھ روپے کا ناجائز منافع۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس بارے میں سینیٹر کا مزید کہنا تھا کہ 40 تھرمل پاور اسٹیشنز کے لیے حکومت نے آئی پی پیز کو 9 کھرب 55 ارب 70 کروڑ روپے اضافی اداکیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1054901"&gt;حکومت آئی پی پیز کے بلوں کی ادائیگیوں میں تذبذب کاشکار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سینیٹر نعمان خٹک نے مطالبہ کیا کہ یہ اضافی ادائیگیاں آئی پی پیز سے وصول کی جائیں اور اگر حصہ داروں کو اس کی ادائیگی کی جاچکی ہیں تو شیئر ہولڈرز سے برآمد کیے جائیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب نیپرا ٹیم نے دعویٰ کیا کہ معلوم ہوتا ہے کہ سینیٹر کو غلط معلومات دی گئیں اور وہ داخلی شرح سود اور سرمائے پر منافع کو ایک دوسرے میں شامل کر رہے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس پر سینیٹر نعمان خٹک نے کہا کہ لگتا ہے نیپرا آئی پی پیز کا دفاع کررہا ہے اسے اس حوالے سے محتاط ہونا چاہیے کیونکہ کمیٹی کے سامنے دیا گیا غلط جواب دھوکہ دہی کے زمرے میں آئے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/104742"&gt;آئی پی پیز کو 326 ارب روپے کی ادائیگی کا فیصلہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس بارے میں آئی پی پیز ایڈوائزری کونسل کی ترجمان ڈاکٹر فاطمہ خوشنود نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیپرا نے ڈالر کی داخلی شرح سود پر 25 سال کے لیے آئی پی پیز 15 فیصد منافع کی منظوری دی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 10 جولائی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: حکومت نے 10 سال کے عرصے میں توانائی پیدا کرنے والے نجی اداروں (آئی پی پیز) کو 9 کھرب 56 ارب روپے کی اضافی ادائیگی کی جو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے لیے جانے والے 6 ارب ڈالر قرض سے بھی زیادہ ہے۔</p>

<p>سینیٹ کی ذیلی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے کنوینر سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے ایک بیان میں کہا کہ آئی پی پیز کے معاہدوں کی ماہرین کی مدد سے کیے گئے تجزیے میں یہ بات سامنے آئی کہ آئی پی پیز کو 4 سو ارب روپے کی آمدنی ہونی تھی لیکن بجائے اس کے انہوں نے 14 سو ارب روپے کا منافع کمایا۔</p>

<p>تاہم نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اور آئی پی پیز نے ان اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اندازے غلط فہمی کی بنیاد پر لگائے گئے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094867">بجلی بنانے والی کمپنیوں کو زائد رقم دینے کا معاملہ: چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لےلیا</a></strong> </p>

<p>تحریک انصاف کے سینیٹر نعمان خٹک کا کہنا تھا کہ 5 سال کے عرصے کے دوران 8 آئی پی پیز کا جائزہ لیا گیا۔</p>

<p>حیرت انگیز طور پر یہ آئی پی پیز، ریگولیٹر کی جانب سے منظور کردہ 15 فیصد منافع سے کہیں زیادہ یعنی 2 ارب 30 کروڑ روپے سالانہ کما رہے ہیں۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی پالیسی کے مطابق  وہ 77 کروڑ 17 لاکھ روپے سالانہ منافع کما سکتے ہیں لیکن وہ اوسطاً 3 ارب 10 کروڑ 60 لاکھ روپے سالانہ کما رہے تھے یعنی 2 ارب 38 کروڑ 90 لاکھ روپے کا ناجائز منافع۔</p>

<p>اس بارے میں سینیٹر کا مزید کہنا تھا کہ 40 تھرمل پاور اسٹیشنز کے لیے حکومت نے آئی پی پیز کو 9 کھرب 55 ارب 70 کروڑ روپے اضافی اداکیے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1054901">حکومت آئی پی پیز کے بلوں کی ادائیگیوں میں تذبذب کاشکار</a></strong></p>

<p>سینیٹر نعمان خٹک نے مطالبہ کیا کہ یہ اضافی ادائیگیاں آئی پی پیز سے وصول کی جائیں اور اگر حصہ داروں کو اس کی ادائیگی کی جاچکی ہیں تو شیئر ہولڈرز سے برآمد کیے جائیں۔</p>

<p>دوسری جانب نیپرا ٹیم نے دعویٰ کیا کہ معلوم ہوتا ہے کہ سینیٹر کو غلط معلومات دی گئیں اور وہ داخلی شرح سود اور سرمائے پر منافع کو ایک دوسرے میں شامل کر رہے ہیں۔ </p>

<p>جس پر سینیٹر نعمان خٹک نے کہا کہ لگتا ہے نیپرا آئی پی پیز کا دفاع کررہا ہے اسے اس حوالے سے محتاط ہونا چاہیے کیونکہ کمیٹی کے سامنے دیا گیا غلط جواب دھوکہ دہی کے زمرے میں آئے گا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/104742">آئی پی پیز کو 326 ارب روپے کی ادائیگی کا فیصلہ</a></strong></p>

<p>اس بارے میں آئی پی پیز ایڈوائزری کونسل کی ترجمان ڈاکٹر فاطمہ خوشنود نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیپرا نے ڈالر کی داخلی شرح سود پر 25 سال کے لیے آئی پی پیز 15 فیصد منافع کی منظوری دی تھی۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 10 جولائی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1106668</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Jul 2019 14:30:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/07/5d258c7d70ecc.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/07/5d258c7d70ecc.jpg"/>
        <media:title>حکومت پاکستان کی پالیسی کے مطابق  وہ 77 کروڑ 17 لاکھ روپے سالانہ منافع کما سکتے ہیں—تصویر: شٹراسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
