<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 17:23:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Apr 2026 17:23:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کو آئی ایم ایف پیکج کی پہلی قسط موصول
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1106673/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے 6 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج میں سے 99 کروڑ 14 لاکھ ڈالر کی پہلی قسط موصول ہوگئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے ترجمان نے بتایا کہ یہ رقم 70 کروڑ 16 لاکھ ڈالر کے اسپیشل ڈرائنگ رائٹس (ایس ڈی آر) کے مساوی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;'ایس ڈی آر' آئی ایم ایف کی مالیاتی منتقلی کا ایسا پیمانہ ہے جس میں مختلف کرنسیوں کا مجموعہ شامل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ رواں ماہ 3 تاریخ کو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 6 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کی منظوری دی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ملک کے غیر ملکی زرِ مبادلہ پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے کے لیے اس مجموعی پیکج میں سے ایک ارب ڈالر فوری طور پر جاری کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106588/"&gt;آئی ایم ایف پروگرام: اگلے سال کھربوں روپے کے مزید ٹیکس لگائے جائیں گے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ملک کی زبوں حال معیشت کو سہارا دینے کی غرض سے لیے گئے آئی ایم ایف پیکج کی رقم مرحلہ وار 3 سال 3 ماہ کے عرصے میں موصول ہوگی اور اس دوران ہر 3 ماہ کے بعد پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل اس ہفتے کے آغاز میں ایک سینئر عہدیدار نے کہا تھا موجودہ سال سے شروع ہو کر 22-2021 تک 3 سال کے عرصے میں پاکستان کو آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر ملیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس میں سے 4 ارب 35 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی رقم سال 23-2022 تک واپس کرنا ہوگی جس کے بعد پاکستان کو موصول ہونے والی کل رقم محض ایک ارب 65 کروڑ ڈالر ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106517/"&gt;آئی ایم ایف پیکج: پاکستان کو 6 ارب ڈالر میں سے صرف ایک ارب 65 کروڑ ڈالر ملیں گے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;6 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی (ای ایف ایف) کے تحت رواں ہفتے ایک ارب ڈالر کی رقم موصول ہونے کے بعد مختصر مدت کے لیے غیر ملکی زرِ مبادلہ میں اضافہ ہوگیا کیوں کہ گزشتہ 6 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ای ایف ایف کی ادائیگی کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ گزشتہ ای ایف اف کے تحت آئی ایم ایف کی جانب سے سال 14-2013 میں ادائیگیوں کا آغاز ہوا تھا جو 2016 میں مکمل ہوگئیں تھی اور اب ان کی واپسی مارچ 2019 سے شروع ہوئی تھی جو جون 2026 تک جاری رہے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لہٰذا 3 سال کے دوران پاکستان کو رواں مالی سال میں 2 ارب 30 کروڑ ڈالر ملیں گے جس کے بعد اگلے سال ایک ارب 84 کروڑ 70 لاکھ اور مالی سال 22-2021 میں ایک ارب 84 کروڑ 70 لاکھ موصول ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106576/"&gt;بجٹ ہماری مشاورت سے تیار کرکے پارلیمنٹ سے منظور کروایا گیا، آئی ایم ایف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رواں مالی سال کے دوران پاکستان کو ایک ارب 4 کروڑ 50 لاکھ ڈاکر واپس ادا کرنے ہیں جس کے بعدایک ارب 16 کروڑ 70 لاکھ ڈالر اور سال 22-2021 میں ایک ارب 6 کروڑ ڈالر کی رقم لوٹانی ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کا مطلب پاکستان کو رواں مالی سال ایک ارب 26 کروڑ ڈالر آئندہ مالی سال میں 68 کروڑ ڈالر اور مالی سال 22-2021 میں 78 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی کی رقم موصول ہوگی&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے برعکس مالی سال 23-2022 میں آئی ایم ایف فنڈ کی جانب سے کوئی رقم حاصل نہیں ہوگی البتہ 53 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی رقم واپس ضرور کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے 6 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج میں سے 99 کروڑ 14 لاکھ ڈالر کی پہلی قسط موصول ہوگئی۔</p>

<p>اسٹیٹ بینک کے ترجمان نے بتایا کہ یہ رقم 70 کروڑ 16 لاکھ ڈالر کے اسپیشل ڈرائنگ رائٹس (ایس ڈی آر) کے مساوی ہے۔</p>

<p>'ایس ڈی آر' آئی ایم ایف کی مالیاتی منتقلی کا ایسا پیمانہ ہے جس میں مختلف کرنسیوں کا مجموعہ شامل ہوتا ہے۔</p>

<p>یاد رہے کہ رواں ماہ 3 تاریخ کو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 6 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کی منظوری دی تھی۔</p>

<p>ملک کے غیر ملکی زرِ مبادلہ پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے کے لیے اس مجموعی پیکج میں سے ایک ارب ڈالر فوری طور پر جاری کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106588/">آئی ایم ایف پروگرام: اگلے سال کھربوں روپے کے مزید ٹیکس لگائے جائیں گے</a></strong></p>

<p>ملک کی زبوں حال معیشت کو سہارا دینے کی غرض سے لیے گئے آئی ایم ایف پیکج کی رقم مرحلہ وار 3 سال 3 ماہ کے عرصے میں موصول ہوگی اور اس دوران ہر 3 ماہ کے بعد پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔</p>

<p>اس سے قبل اس ہفتے کے آغاز میں ایک سینئر عہدیدار نے کہا تھا موجودہ سال سے شروع ہو کر 22-2021 تک 3 سال کے عرصے میں پاکستان کو آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر ملیں گے۔</p>

<p>جس میں سے 4 ارب 35 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی رقم سال 23-2022 تک واپس کرنا ہوگی جس کے بعد پاکستان کو موصول ہونے والی کل رقم محض ایک ارب 65 کروڑ ڈالر ہوگی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106517/">آئی ایم ایف پیکج: پاکستان کو 6 ارب ڈالر میں سے صرف ایک ارب 65 کروڑ ڈالر ملیں گے</a></strong> </p>

<p>6 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی (ای ایف ایف) کے تحت رواں ہفتے ایک ارب ڈالر کی رقم موصول ہونے کے بعد مختصر مدت کے لیے غیر ملکی زرِ مبادلہ میں اضافہ ہوگیا کیوں کہ گزشتہ 6 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ای ایف ایف کی ادائیگی کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔</p>

<p>یاد رہے کہ گزشتہ ای ایف اف کے تحت آئی ایم ایف کی جانب سے سال 14-2013 میں ادائیگیوں کا آغاز ہوا تھا جو 2016 میں مکمل ہوگئیں تھی اور اب ان کی واپسی مارچ 2019 سے شروع ہوئی تھی جو جون 2026 تک جاری رہے گی۔</p>

<p>لہٰذا 3 سال کے دوران پاکستان کو رواں مالی سال میں 2 ارب 30 کروڑ ڈالر ملیں گے جس کے بعد اگلے سال ایک ارب 84 کروڑ 70 لاکھ اور مالی سال 22-2021 میں ایک ارب 84 کروڑ 70 لاکھ موصول ہوں گے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106576/">بجٹ ہماری مشاورت سے تیار کرکے پارلیمنٹ سے منظور کروایا گیا، آئی ایم ایف</a></strong></p>

<p>رواں مالی سال کے دوران پاکستان کو ایک ارب 4 کروڑ 50 لاکھ ڈاکر واپس ادا کرنے ہیں جس کے بعدایک ارب 16 کروڑ 70 لاکھ ڈالر اور سال 22-2021 میں ایک ارب 6 کروڑ ڈالر کی رقم لوٹانی ہوگی۔</p>

<p>اس کا مطلب پاکستان کو رواں مالی سال ایک ارب 26 کروڑ ڈالر آئندہ مالی سال میں 68 کروڑ ڈالر اور مالی سال 22-2021 میں 78 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی کی رقم موصول ہوگی</p>

<p>اس کے برعکس مالی سال 23-2022 میں آئی ایم ایف فنڈ کی جانب سے کوئی رقم حاصل نہیں ہوگی البتہ 53 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی رقم واپس ضرور کرنا ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1106673</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Jul 2019 21:04:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکطاہر شیرانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/07/5d25986630f15.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/07/5d25986630f15.jpg"/>
        <media:title>یہ  رقم 70 کروڑ 16 لاکھ ڈالر کے اسپیشل ڈرائنگ رائٹس (ایس ڈی آر) کے مساوی ہے—تصویر شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
