<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 16:06:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 16:06:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا ورلڈ کپ فائنل میں 2015 کا ری پلے ہوگا؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1106703/</link>
      <description>&lt;p&gt;ورلڈ کپ 2019  کے پہلے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ نے بھارت کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 18 رنز سے شکست دی تو دونوں ٹیموں نے جیت اور ہار کے ساتھ منفرد انداز میں ورلڈ کپ 2015 کے سیمی فائنل کی یاد تازہ کرا دی، جبکہ دفاعی چمپیئن آسٹریلیا اور میزبان انگلینڈ کے درمیان دوسرا سیمی فائنل بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت نے ورلڈ کپ 2019 کے سفر کا آغاز دیگر ٹیموں کے مقابلے میں دیر سے کیا لیکن ٹیم جب بھارت سے انگلینڈ کے لیے روانہ ہوئی تو فیورٹ ترین ٹیم تصور کی جارہی تھی کیونکہ اس سے قبل بھارتی ٹیم کے کھلاڑی آئی پی ایل کے سیزن میں شرکت کے بعد بھرپور تیاری کے ساتھ ورلڈ کپ میں شرکت کرنے جارہے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب نیوزی لینڈ کی ٹیم ورلڈ کپ کی فیورٹ ٹیموں کی فہرست میں شامل نہیں تھی لیکن اپنے ابتدائی میچوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرکے اس نے خطرے کی گھنٹی بجادی تھی، لیکن پاکستان کے خلاف پہلی شکست کے بعد ان کی خامیاں کھل کر سامنے آئی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ورلڈ کپ کے گروپ میچوں میں نیوزی لینڈ اور پاکستان کی ٹیموں نے یکساں کامیابیاں حاصل کی تھیں لیکن نیوزی لینڈ نے رن ریٹ کی بنیاد پر سیمی فائنل میں جگہ بنائی تو اس کا مقابلہ بھارت جیسی مضبوط ٹیم سے تھا جس نے پورے ورلڈ کپ میں صرف ایک شکست کا منہ دیکھا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106681/"&gt;ورلڈکپ سیمی فائنل: بھارت کو شکست، نیوزی لینڈ ایک مرتبہ پھر فائنل میں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت نے صرف انگلینڈ کے علاوہ آسٹریلیا، پاکستان، جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز سمیت دیگر ٹیموں کو شکست دے کر پوائنٹس ٹیبل میں اول پوزیشن اپنے نام کی تھی اور اس کارکردگی کو دیکھتے ہوئے کرکٹ پنڈتوں کا خیال تھا کہ بھارت سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کو باآسانی ہرا کر فائنل میں پہنچ جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ورلڈ کپ 2019 میں ٹیموں کو ایک ہی گروپ میں اس طرح ترتیب دیا گیا تھا کہ تمام ٹیمیں آپس میں مد مقابل ہوں اور سرفہرست 4 ٹیمیں سیمی فائنل تک پہنچیں لیکن بارش کی مداخلت کے باعث کئی میچ منسوخ ہوئے، اسی طرح نیوزی لینڈ اور بھارت کے درمیان گروپ میچ بھی بارش کی نذر ہوگیا تھا اور دونوں ٹیموں کو ایک، ایک پوائنٹ دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان گروپ میچ 13 جون 2019 کو شیڈول تھا لیکن بارش کے باعث یہ میچ ممکن نہ ہوسکا تھا اور یوں دونوں ٹیمیں سیمی فائنل میں پہلی مرتبہ آمنے سامنے تھیں جہاں بھارت نے نیوزی لینڈ کی بیٹنگ کو قدرے آسان ہدف تک محدود رکھا لیکن بارش کی مداخلت کے باعث دو دنوں پر مشتمل سیمی فائنل کے دوسرے روز بھارت کی مضبوط بیٹنگ لائن دھوکا دے گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیوزی لینڈ کی ٹیم نے اس جیت کے ساتھ ہی مسلسل دوسری مرتبہ ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے کا اعزاز حاصل کیا، اس سے قبل اس نے 2015 میں جنوبی افریقہ کو 4 وکٹوں سے شکست دے کر فائنل تک رسائی حاصل کی تھی جہاں اسے آسٹریلیا سے 7 وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/cricketworldcup/status/1148968042241691649"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کا رواں ورلڈ کپ کے سیمی فائنل سے موازنہ کیا جائے تو یہ بات خارج از امکان نہیں کہ فائنل میں ایک مرتبہ پھر نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کا مقابلہ ہوگا اور اگر ایسا ہوا تو یہ مقابلہ دلچسپ ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیوزی لینڈ نے گزشتہ ورلڈ کپ میں بھی اے بی ڈی ولیئرز کی قیادت میں جنوبی افریقہ کی مضبوط ترین ٹیم کو شکست دی تھی اور اب بھارت جیسی مضبوط ٹیم کو شکست دے کر ماہرین کے اندازوں کو غلط ثابت کردیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب گزشتہ ورلڈ کپ کی فاتح آسٹریلیا نے سیمی فائنل میں بھارت کو شکست دے کر فائنل میں کامیابی حاصل کی تھی اور دفاعی چمپیئن کی بھارت کے خلاف کامیابی نیک شگون ثابت ہوئی تھی اور اب نیوزی لینڈ اس روایت کو بھی جاری رکھ سکتی ہے، لیکن دوسری جانب انگلینڈ اپنے ہوم گراؤنڈ میں آسٹریلیا کے لیے ترنوالہ ثابت نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106647/"&gt;کیا آپ جانتے ہیں کہ ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں کتنے میچز ریزرو ڈے کو کھیلے گئے؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان سیمی فائنل کی بات کی جائے تو اس کی مماثلت گزشتہ ورلڈ کپ کا دوسرا سیمی فائنل کھیلنے والی ٹیموں سے کی جا سکتی ہے جہاں دفاعی چمپیئن بھارت کا مقابلہ میزبان آسٹریلیا سے تھا اور اس مرتبہ دفاعی چمپیئن آسٹریلیا کا مقابلہ میزبان انگلینڈ سے ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا میزبان انگلینڈ کی ٹیم دفاعی چمپیئن کو ہرا کر فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوتی ہے یا پھر آسٹریلیا کے سامنے گھٹنے ٹیک کر فائنل میں ایک مرتبہ پھر نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کو مدمقابل دیکھنا چاہے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا کی سیمی فائنل میں جیت یا ہار دونوں صورتوں میں ورلڈ کپ 2015 کی تاریخ کسی نہ کسی صورت خود کو ضرور دہرائے گی، لیکن اس کے لیے ہمیں آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان دوسرے سیمی فائنل مقابلے کا انتظار کرنا ہوگا۔  &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ورلڈ کپ 2019  کے پہلے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ نے بھارت کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 18 رنز سے شکست دی تو دونوں ٹیموں نے جیت اور ہار کے ساتھ منفرد انداز میں ورلڈ کپ 2015 کے سیمی فائنل کی یاد تازہ کرا دی، جبکہ دفاعی چمپیئن آسٹریلیا اور میزبان انگلینڈ کے درمیان دوسرا سیمی فائنل بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔</p>

<p>بھارت نے ورلڈ کپ 2019 کے سفر کا آغاز دیگر ٹیموں کے مقابلے میں دیر سے کیا لیکن ٹیم جب بھارت سے انگلینڈ کے لیے روانہ ہوئی تو فیورٹ ترین ٹیم تصور کی جارہی تھی کیونکہ اس سے قبل بھارتی ٹیم کے کھلاڑی آئی پی ایل کے سیزن میں شرکت کے بعد بھرپور تیاری کے ساتھ ورلڈ کپ میں شرکت کرنے جارہے تھے۔</p>

<p>دوسری جانب نیوزی لینڈ کی ٹیم ورلڈ کپ کی فیورٹ ٹیموں کی فہرست میں شامل نہیں تھی لیکن اپنے ابتدائی میچوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرکے اس نے خطرے کی گھنٹی بجادی تھی، لیکن پاکستان کے خلاف پہلی شکست کے بعد ان کی خامیاں کھل کر سامنے آئی تھیں۔</p>

<p>ورلڈ کپ کے گروپ میچوں میں نیوزی لینڈ اور پاکستان کی ٹیموں نے یکساں کامیابیاں حاصل کی تھیں لیکن نیوزی لینڈ نے رن ریٹ کی بنیاد پر سیمی فائنل میں جگہ بنائی تو اس کا مقابلہ بھارت جیسی مضبوط ٹیم سے تھا جس نے پورے ورلڈ کپ میں صرف ایک شکست کا منہ دیکھا تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106681/">ورلڈکپ سیمی فائنل: بھارت کو شکست، نیوزی لینڈ ایک مرتبہ پھر فائنل میں</a></strong></p>

<p>بھارت نے صرف انگلینڈ کے علاوہ آسٹریلیا، پاکستان، جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز سمیت دیگر ٹیموں کو شکست دے کر پوائنٹس ٹیبل میں اول پوزیشن اپنے نام کی تھی اور اس کارکردگی کو دیکھتے ہوئے کرکٹ پنڈتوں کا خیال تھا کہ بھارت سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کو باآسانی ہرا کر فائنل میں پہنچ جائے گا۔</p>

<p>ورلڈ کپ 2019 میں ٹیموں کو ایک ہی گروپ میں اس طرح ترتیب دیا گیا تھا کہ تمام ٹیمیں آپس میں مد مقابل ہوں اور سرفہرست 4 ٹیمیں سیمی فائنل تک پہنچیں لیکن بارش کی مداخلت کے باعث کئی میچ منسوخ ہوئے، اسی طرح نیوزی لینڈ اور بھارت کے درمیان گروپ میچ بھی بارش کی نذر ہوگیا تھا اور دونوں ٹیموں کو ایک، ایک پوائنٹ دیا گیا تھا۔</p>

<p>بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان گروپ میچ 13 جون 2019 کو شیڈول تھا لیکن بارش کے باعث یہ میچ ممکن نہ ہوسکا تھا اور یوں دونوں ٹیمیں سیمی فائنل میں پہلی مرتبہ آمنے سامنے تھیں جہاں بھارت نے نیوزی لینڈ کی بیٹنگ کو قدرے آسان ہدف تک محدود رکھا لیکن بارش کی مداخلت کے باعث دو دنوں پر مشتمل سیمی فائنل کے دوسرے روز بھارت کی مضبوط بیٹنگ لائن دھوکا دے گئی۔</p>

<p>نیوزی لینڈ کی ٹیم نے اس جیت کے ساتھ ہی مسلسل دوسری مرتبہ ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے کا اعزاز حاصل کیا، اس سے قبل اس نے 2015 میں جنوبی افریقہ کو 4 وکٹوں سے شکست دے کر فائنل تک رسائی حاصل کی تھی جہاں اسے آسٹریلیا سے 7 وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/cricketworldcup/status/1148968042241691649"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>گزشتہ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کا رواں ورلڈ کپ کے سیمی فائنل سے موازنہ کیا جائے تو یہ بات خارج از امکان نہیں کہ فائنل میں ایک مرتبہ پھر نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کا مقابلہ ہوگا اور اگر ایسا ہوا تو یہ مقابلہ دلچسپ ہوگا۔</p>

<p>نیوزی لینڈ نے گزشتہ ورلڈ کپ میں بھی اے بی ڈی ولیئرز کی قیادت میں جنوبی افریقہ کی مضبوط ترین ٹیم کو شکست دی تھی اور اب بھارت جیسی مضبوط ٹیم کو شکست دے کر ماہرین کے اندازوں کو غلط ثابت کردیا ہے۔</p>

<p>دوسری جانب گزشتہ ورلڈ کپ کی فاتح آسٹریلیا نے سیمی فائنل میں بھارت کو شکست دے کر فائنل میں کامیابی حاصل کی تھی اور دفاعی چمپیئن کی بھارت کے خلاف کامیابی نیک شگون ثابت ہوئی تھی اور اب نیوزی لینڈ اس روایت کو بھی جاری رکھ سکتی ہے، لیکن دوسری جانب انگلینڈ اپنے ہوم گراؤنڈ میں آسٹریلیا کے لیے ترنوالہ ثابت نہیں ہوگی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106647/">کیا آپ جانتے ہیں کہ ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں کتنے میچز ریزرو ڈے کو کھیلے گئے؟</a></strong></p>

<p>اگر انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان سیمی فائنل کی بات کی جائے تو اس کی مماثلت گزشتہ ورلڈ کپ کا دوسرا سیمی فائنل کھیلنے والی ٹیموں سے کی جا سکتی ہے جہاں دفاعی چمپیئن بھارت کا مقابلہ میزبان آسٹریلیا سے تھا اور اس مرتبہ دفاعی چمپیئن آسٹریلیا کا مقابلہ میزبان انگلینڈ سے ہے۔</p>

<p>اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا میزبان انگلینڈ کی ٹیم دفاعی چمپیئن کو ہرا کر فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوتی ہے یا پھر آسٹریلیا کے سامنے گھٹنے ٹیک کر فائنل میں ایک مرتبہ پھر نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کو مدمقابل دیکھنا چاہے گی۔</p>

<p>آسٹریلیا کی سیمی فائنل میں جیت یا ہار دونوں صورتوں میں ورلڈ کپ 2015 کی تاریخ کسی نہ کسی صورت خود کو ضرور دہرائے گی، لیکن اس کے لیے ہمیں آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان دوسرے سیمی فائنل مقابلے کا انتظار کرنا ہوگا۔  </p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1106703</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Jul 2019 19:24:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/07/5d260e162e95d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/07/5d260e162e95d.jpg"/>
        <media:title>نیوزی لینڈ نے سیمی فائنل میں مسلسل دوسری کامیابی اور بھارت نے مسلسل دوسری ناکامی حاصل کی—فوٹو:اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
