<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 15:50:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 15:50:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ورلڈکپ سیمی فائنل: انگلینڈ اور آسٹریلیا کی تاریخ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1106713/</link>
      <description>&lt;p&gt;کرکٹ کے بارہویں ورلڈکپ کے دوسرے سیمی فائنل میں &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106472/"&gt;دفاعی چیمپیئن آسٹریلیا اور میزبان انگلینڈ&lt;/a&gt; کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے تاہم دونوں ٹیموں کی ورلڈ کپ کی تاریخ میں سیمی فائنل میں کارکردگی پر نظر دوڑائی جائے تو 5 مرتبہ کی چیمپیئن آسٹریلیا کو واضح برتری حاصل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ورلڈ کپ کا دوسرا سیمی فائنل انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان برمنگھم میں کھیلا جائے گا جبکہ آسٹریلیا کی ٹیم کو رواں ورلڈکپ میں بھی انگلینڈ پر واضح برتری حاصل ہے جہاں انہیں دو شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ انگلینڈ کو 3 میچوں میں شکست ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا نے 25 جون کو لارڈذ کے تاریخی گراؤنڈ میں گروپ میچ میں انگلینڈ کو 64 رنز کے واضح مارجن سے شکست دے کر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ورلڈ کپ کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو انگلینڈ اور آسٹریلیا کی ٹیمیں پہلی مرتبہ 1975 میں اولین ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں آمنے سامنے آئی تھیں جہاں آسٹریلیا نے انگلینڈ کو چاروں شانے چت کرکے فائنل میں جگہ بنائی تھی لیکن ویسٹ انڈیز نے فائنل میں انہیں شکست دے دی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106647/"&gt;کیا آپ جانتے ہیں کہ ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں کتنے میچز ریزرو ڈے پر کھیلے گئے؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انگلینڈ اور آسٹریلیا کا 1987 ورلڈکپ کے فائنل میں بھی مقابلہ ہوا اور ایک مرتبہ پھر انگلینڈ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں آسٹریلیا پہلی مرتبہ کرکٹ کا چیمپیئن بن گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کرکٹ ورلڈ کپ کی ابتدائی تاریخ میں انگلینڈ نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ابتدائی تینوں ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک رسائی کی جبکہ 1979 میں کامیابی بھی حاصل کی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/cricketworldcup/status/1149031812028612608"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انگلش ٹیم ورلڈکپ  1979 کے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کو شکست دے کر فائنل میں پہنچی تھی جہاں انہیں ویسٹ انڈیز سے شکست ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ورلڈ کپ 1987 کے بعد انگلینڈ کی ٹیم مسلسل دوسری مرتبہ 1992 کے ورلڈکپ میں بھی سیمی فائنل میں پہچنے میں کامیاب تو ہوئی لیکن فائنل میں ایک مرتبہ پھر اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن اب اس کے سامنے آسٹریلیا نہیں بلکہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان کا چیلنج درپیش تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم 27 سال کے عرصے کے دوران انگلش ٹیم عالمی کپ کے دوران کبھی بھی کوارٹر فائنل مرحلے سے آگے نہیں بڑھی اور تقریباً تین دہائیوں بعد پہلی مرتبہ اسے اپنے ہوم گراؤنڈ میں آئن مورگن کی قیادت میں سیمی فائنل تک پہنچنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d28982813227'&gt;آسٹریلیا کو سیمی فائنل میں کبھی شکست نہیں ہوئی&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب آسٹریلیا کا ورلڈکپ کا سفر انتہائی شان دار ہے، آسٹریلیا کو سب سے زیادہ 5 ورلڈ کپ جیتنے کا اعزاز حاصل ہے اس کے علاوہ &lt;strong&gt;سیمی فائنل میں کبھی بھی شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑا&lt;/strong&gt; اور  7 فائنلز میں صرف دو مرتبہ شکست ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا نے پہلی مرتبہ 1975 میں سیمی فائنل میں انگلینڈ کو شکست دی اور دوسری مرتبہ 1987 میں پاکستان کو شکست دے کر فائنل تک رسائی کی اور چمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان، بھارت اور سری لنکا کی میزبانی میں 1996 کا ورلڈ کپ کھیلا گیا اور آسٹریلیا نے ایک مرتبہ پھر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیمی فائنل تک رسائی کی اور کامیابی بھی حاصل کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا نے 1996 ورلڈکپ میں ویسٹ انڈیز کو شکست دی تھی جبکہ فائنل میں اس وقت کی ناتجربہ کار سری لنکا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1105781/"&gt;ورلڈ کپ: آسٹریلیا کی سیمی فائنل میں رسائی، انگلینڈ کو 64 رنز سے شکست&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسٹیووا کی قیادت میں آسٹریلیا نے 1999 کا ورلڈ کپ کھیلا جہاں انہوں نے سیمی فائنل میں ڈرامائی انداز میں جنوبی افریقہ کو شکست دی جو کرکٹ کی تاریخ کا منفرد سیمی فائنل ہے جبکہ فائنل میں وسیم اکرم کی قیادت میں بہترین کھیل کا مظاہرہ کرنے والی پاکستانی ٹیم کو یک طرفہ مقابلے کے بعد شکست دے کر دوسری مرتبہ چمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا نے 1999 میں چیمپیئن بننے کے بعد ریکارڈز قائم کرتے ہوئے مسلسل کامیابیاں حاصل کی اور 2003 اور 2007 کے ورلڈ کپ میں بھی چیمپیئن کا تاج پہن لیا، 2003 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں سری لنکا کو شکست دی تھی اور فائنل میں بھارت کو ہرایا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ 2007 کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں مدمقابل آئی تھیں لیکن آسٹریلیا کا پلڑا ایک مرتبہ پھر بھاری رہا اور فائنل تک رسائی کرتے ہوئے مسلسل دوسری مرتبہ سری لنکا کو شکست دے کر ورلڈ کپ جیتنے کی ہیٹ ٹرک مکمل کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رکی پونٹنگ کی قیادت میں آسٹریلیا نے ورلڈ کپ جیتنے کی ہیٹ ٹرک کی تھی لیکن 2011 کے ورلڈ کپ میں کوارٹر فائنل تک رسائی ممکن ہوئی لیکن 2015 میں ورلڈ کپ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں مشترکہ طور پر کھیلا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106709/"&gt;‘بھارت کا ورلڈ کپ کا بدترین خوف سیمی فائنل میں سچ بن گیا’&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا کو کرکٹ کی تاریخ میں ہوم گراؤنڈ میں ورلڈ کپ جیتنے والی دوسری ٹیم بننے کا اعزاز حاصل ہوا اس سے قبل بھارت نے 2011 میں ہوم گراؤنڈ میں سری لنکا کو شکست دے کر یہ ریکارڈ بنایا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تین دہائیوں بعد اب ایک مرتبہ پھر آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ٹیمیں سیمی فائنل میں مدمقابل ہیں، انگلینڈ کو ہوم گراؤنڈ کا فائدہ بھی حاصل ہے جبکہ آسٹریلیا کے پاس ورلڈ کپ کی تاریخ میں انگلینڈ کو اہم میچوں میں شکستوں سے دوچار کرنے کا ریکارڈ بھی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ٹیموں کی موجودہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہوگا کہ کون سی ٹیم سیمی فائنل باآسانی جیتے گی جبکہ تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو آسٹریلیا کو برتری حاصل ہے تاہم گزشتہ دونوں ورلڈ کپ میں فاتح میزبان ٹیمیں رہی ہیں اور اس حوالے سے بھی ہیٹ ٹرک بھی ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انگلینڈ کی فتح کی صورت میں ورلڈ کپ کی تاریخ میں آسٹریلیا کو سیمی فائنل میں پہلی مرتبہ شکست ہوگی جبکہ آسٹریلیا کی فتح کی صورت میں گزشتہ دو ورلڈ کپ میں میزبان ٹیم کے فاتح بننے کی روایت کا خاتمہ ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انگلینڈ کی ٹیم سیمی فائنل جیت کر تاریخ بدل دیتی ہے یا آسٹریلیا اپنی کامیابی سے آخری دونوں ورلڈ کپ کی تاریخ کو پاش پاش کرے گا یہ فیصلہ تو برمنگھم کے میدان میں ہی ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کرکٹ کے بارہویں ورلڈکپ کے دوسرے سیمی فائنل میں <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106472/">دفاعی چیمپیئن آسٹریلیا اور میزبان انگلینڈ</a> کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے تاہم دونوں ٹیموں کی ورلڈ کپ کی تاریخ میں سیمی فائنل میں کارکردگی پر نظر دوڑائی جائے تو 5 مرتبہ کی چیمپیئن آسٹریلیا کو واضح برتری حاصل ہے۔</p>

<p>ورلڈ کپ کا دوسرا سیمی فائنل انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان برمنگھم میں کھیلا جائے گا جبکہ آسٹریلیا کی ٹیم کو رواں ورلڈکپ میں بھی انگلینڈ پر واضح برتری حاصل ہے جہاں انہیں دو شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ انگلینڈ کو 3 میچوں میں شکست ہوئی۔</p>

<p>آسٹریلیا نے 25 جون کو لارڈذ کے تاریخی گراؤنڈ میں گروپ میچ میں انگلینڈ کو 64 رنز کے واضح مارجن سے شکست دے کر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی تھی۔</p>

<p>ورلڈ کپ کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو انگلینڈ اور آسٹریلیا کی ٹیمیں پہلی مرتبہ 1975 میں اولین ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں آمنے سامنے آئی تھیں جہاں آسٹریلیا نے انگلینڈ کو چاروں شانے چت کرکے فائنل میں جگہ بنائی تھی لیکن ویسٹ انڈیز نے فائنل میں انہیں شکست دے دی تھی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106647/">کیا آپ جانتے ہیں کہ ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں کتنے میچز ریزرو ڈے پر کھیلے گئے؟</a></strong></p>

<p>انگلینڈ اور آسٹریلیا کا 1987 ورلڈکپ کے فائنل میں بھی مقابلہ ہوا اور ایک مرتبہ پھر انگلینڈ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں آسٹریلیا پہلی مرتبہ کرکٹ کا چیمپیئن بن گیا تھا۔</p>

<p>کرکٹ ورلڈ کپ کی ابتدائی تاریخ میں انگلینڈ نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ابتدائی تینوں ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک رسائی کی جبکہ 1979 میں کامیابی بھی حاصل کی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/cricketworldcup/status/1149031812028612608"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>انگلش ٹیم ورلڈکپ  1979 کے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کو شکست دے کر فائنل میں پہنچی تھی جہاں انہیں ویسٹ انڈیز سے شکست ہوئی تھی۔</p>

<p>ورلڈ کپ 1987 کے بعد انگلینڈ کی ٹیم مسلسل دوسری مرتبہ 1992 کے ورلڈکپ میں بھی سیمی فائنل میں پہچنے میں کامیاب تو ہوئی لیکن فائنل میں ایک مرتبہ پھر اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن اب اس کے سامنے آسٹریلیا نہیں بلکہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان کا چیلنج درپیش تھا۔ </p>

<p>تاہم 27 سال کے عرصے کے دوران انگلش ٹیم عالمی کپ کے دوران کبھی بھی کوارٹر فائنل مرحلے سے آگے نہیں بڑھی اور تقریباً تین دہائیوں بعد پہلی مرتبہ اسے اپنے ہوم گراؤنڈ میں آئن مورگن کی قیادت میں سیمی فائنل تک پہنچنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ </p>

<h3 id='5d28982813227'>آسٹریلیا کو سیمی فائنل میں کبھی شکست نہیں ہوئی</h3>

<p>دوسری جانب آسٹریلیا کا ورلڈکپ کا سفر انتہائی شان دار ہے، آسٹریلیا کو سب سے زیادہ 5 ورلڈ کپ جیتنے کا اعزاز حاصل ہے اس کے علاوہ <strong>سیمی فائنل میں کبھی بھی شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑا</strong> اور  7 فائنلز میں صرف دو مرتبہ شکست ہوئی۔</p>

<p>آسٹریلیا نے پہلی مرتبہ 1975 میں سیمی فائنل میں انگلینڈ کو شکست دی اور دوسری مرتبہ 1987 میں پاکستان کو شکست دے کر فائنل تک رسائی کی اور چمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔</p>

<p>پاکستان، بھارت اور سری لنکا کی میزبانی میں 1996 کا ورلڈ کپ کھیلا گیا اور آسٹریلیا نے ایک مرتبہ پھر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیمی فائنل تک رسائی کی اور کامیابی بھی حاصل کی۔</p>

<p>آسٹریلیا نے 1996 ورلڈکپ میں ویسٹ انڈیز کو شکست دی تھی جبکہ فائنل میں اس وقت کی ناتجربہ کار سری لنکا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1105781/">ورلڈ کپ: آسٹریلیا کی سیمی فائنل میں رسائی، انگلینڈ کو 64 رنز سے شکست</a></strong></p>

<p>اسٹیووا کی قیادت میں آسٹریلیا نے 1999 کا ورلڈ کپ کھیلا جہاں انہوں نے سیمی فائنل میں ڈرامائی انداز میں جنوبی افریقہ کو شکست دی جو کرکٹ کی تاریخ کا منفرد سیمی فائنل ہے جبکہ فائنل میں وسیم اکرم کی قیادت میں بہترین کھیل کا مظاہرہ کرنے والی پاکستانی ٹیم کو یک طرفہ مقابلے کے بعد شکست دے کر دوسری مرتبہ چمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔</p>

<p>آسٹریلیا نے 1999 میں چیمپیئن بننے کے بعد ریکارڈز قائم کرتے ہوئے مسلسل کامیابیاں حاصل کی اور 2003 اور 2007 کے ورلڈ کپ میں بھی چیمپیئن کا تاج پہن لیا، 2003 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں سری لنکا کو شکست دی تھی اور فائنل میں بھارت کو ہرایا تھا۔</p>

<p>آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ 2007 کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں مدمقابل آئی تھیں لیکن آسٹریلیا کا پلڑا ایک مرتبہ پھر بھاری رہا اور فائنل تک رسائی کرتے ہوئے مسلسل دوسری مرتبہ سری لنکا کو شکست دے کر ورلڈ کپ جیتنے کی ہیٹ ٹرک مکمل کی تھی۔</p>

<p>رکی پونٹنگ کی قیادت میں آسٹریلیا نے ورلڈ کپ جیتنے کی ہیٹ ٹرک کی تھی لیکن 2011 کے ورلڈ کپ میں کوارٹر فائنل تک رسائی ممکن ہوئی لیکن 2015 میں ورلڈ کپ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں مشترکہ طور پر کھیلا گیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106709/">‘بھارت کا ورلڈ کپ کا بدترین خوف سیمی فائنل میں سچ بن گیا’</a></strong></p>

<p>آسٹریلیا کو کرکٹ کی تاریخ میں ہوم گراؤنڈ میں ورلڈ کپ جیتنے والی دوسری ٹیم بننے کا اعزاز حاصل ہوا اس سے قبل بھارت نے 2011 میں ہوم گراؤنڈ میں سری لنکا کو شکست دے کر یہ ریکارڈ بنایا تھا۔</p>

<p>تین دہائیوں بعد اب ایک مرتبہ پھر آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ٹیمیں سیمی فائنل میں مدمقابل ہیں، انگلینڈ کو ہوم گراؤنڈ کا فائدہ بھی حاصل ہے جبکہ آسٹریلیا کے پاس ورلڈ کپ کی تاریخ میں انگلینڈ کو اہم میچوں میں شکستوں سے دوچار کرنے کا ریکارڈ بھی ہے۔</p>

<p>آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ٹیموں کی موجودہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہوگا کہ کون سی ٹیم سیمی فائنل باآسانی جیتے گی جبکہ تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو آسٹریلیا کو برتری حاصل ہے تاہم گزشتہ دونوں ورلڈ کپ میں فاتح میزبان ٹیمیں رہی ہیں اور اس حوالے سے بھی ہیٹ ٹرک بھی ہوسکتی ہے۔</p>

<p>انگلینڈ کی فتح کی صورت میں ورلڈ کپ کی تاریخ میں آسٹریلیا کو سیمی فائنل میں پہلی مرتبہ شکست ہوگی جبکہ آسٹریلیا کی فتح کی صورت میں گزشتہ دو ورلڈ کپ میں میزبان ٹیم کے فاتح بننے کی روایت کا خاتمہ ہو جائے گا۔</p>

<p>انگلینڈ کی ٹیم سیمی فائنل جیت کر تاریخ بدل دیتی ہے یا آسٹریلیا اپنی کامیابی سے آخری دونوں ورلڈ کپ کی تاریخ کو پاش پاش کرے گا یہ فیصلہ تو برمنگھم کے میدان میں ہی ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1106713</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Jul 2019 19:24:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/07/5d26fd869d38e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/07/5d26fd869d38e.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/07/5d264d49ef0cf.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/07/5d264d49ef0cf.jpg"/>
        <media:title>انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان 32 برس بعد ورلڈ کپ فائنل میں مقابلہ ہورہا ہے—فوٹو:رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
