<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 21:15:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 21:15:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں 18.3 فیصد خاندان سنگین غذائی قلت کے شکار ہیں، اسٹیٹ بینک
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1107029/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے آدھے سے زائد گھرانوں کو سنگین حد تک غذائی قلت کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1494372/sbp-report-shines-light-on-food-insecurity"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق معاشی حالات پر اپنی سہ ماہی رپورٹ میں اسٹیٹ بینک نے پاکستان میں غذائی قلت کے مسئلے پر خصوصہ روشنی ڈالی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلوچستان میں تقریباً 30 فیصد گھرانے فاقے پر مجبور ہیں جبکہ دوسری جانب گلگت بلتستان میں 80 فیصد گھرانے غذا کے حوالے سے خوشحال ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں یہ شرح 70 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خوفناک بات یہ ہے کہ ملک کے 36.9 فیصد غذائی قلت کا شکار گھرانوں میں سے 18.3 فیصد کو سنگین غذائی قلت کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صرف 63.1 فیصد ملک کے گھرانے غذا کے حوالے سے خوشحال ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1095296"&gt;تھر میں غذائی قلت، 48 گھنٹوں میں مزید 6 بچوں کی اموات&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;در حقیقت وزارت صحت اور اقوام متحدہ کے ادارے برائے اطفال (یونیسیف) کے نیشنل نیوٹریشنل سروے 2018 کے مطابق پاکستان گندم پیدا کرنے والا دنیا کا 8واں، چاول پیدا کرنے والا دنیا کا 10واں، گنے پیدا کرنے والا دنیا کا 5واں اور دودھ پیدا کرنے والا دنیا کا چوتھا سب سے بڑا ملک ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ایک تہائی آبادی غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جس کا مطلب ہے کہ ملک میں 5 کروڑ افراد اپنی آمدنی کے حساب سے ضروریات زندگی سے محروم ہیں جن میں سے کئی افراد دیہاتی علاقوں میں رہتے ہیں جہاں غربت کی شرح 30.7 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آبادی کے تیزی سے بڑھنے اور نامناسب پانی اور ماحولیاتی صورتحال غذائی قلت کے حوالے سے تشویش آئندہ 2 سے 3 دہائی میں مزید بڑھے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ’تخمینے کے مطابق غذائی قلت اور اس سے ہونے والے اثرات پر ہر سال ملک کی جی ڈی پی کا 3 فیصد (7.6 ارب ڈالر) خرچ ہوتا ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1095592"&gt;غذائی قلت سے 3 روز میں مزید 12بچے جاں بحق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق 1497 ڈالر فی کس آمدنی کے ساتھ پاکستان اب بھی نامناسب نشونما، آئرن، کیلشیئم وٹامن اے وغیرہ کی کمی اور صاف پانی کے فقدان جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’غذائی مصنوعات جیسے گوشت، مچھلی، دودھ، سبزی اور پھلوں کے فی فرد کھانے کے حساب سے پاکستان ترقی یافتہ ممالک سے 6 سے 10 گنا پیچھے ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے بھی زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ ملک میں 5 سال سے کم عمر کے آدھے سے زائد بچوں کا قد چھوٹا ان کی عمر کے حساب سے چھوٹا ہے اور دس میں سے قد کے لحاظ سے وزن کی کمی کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ پاکستان گلوبل ہنگر انڈیکس پر 119 ممالک میں سے 106 نمبر پر آتا ہے جسے سنگین نوعیت کا غذائی قلت کا سامنا کرنے والا ملک بتایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے آدھے سے زائد گھرانوں کو سنگین حد تک غذائی قلت کا سامنا ہے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1494372/sbp-report-shines-light-on-food-insecurity"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق معاشی حالات پر اپنی سہ ماہی رپورٹ میں اسٹیٹ بینک نے پاکستان میں غذائی قلت کے مسئلے پر خصوصہ روشنی ڈالی۔</p>

<p>بلوچستان میں تقریباً 30 فیصد گھرانے فاقے پر مجبور ہیں جبکہ دوسری جانب گلگت بلتستان میں 80 فیصد گھرانے غذا کے حوالے سے خوشحال ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں یہ شرح 70 فیصد ہے۔</p>

<p>خوفناک بات یہ ہے کہ ملک کے 36.9 فیصد غذائی قلت کا شکار گھرانوں میں سے 18.3 فیصد کو سنگین غذائی قلت کا سامنا ہے۔</p>

<p>صرف 63.1 فیصد ملک کے گھرانے غذا کے حوالے سے خوشحال ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1095296">تھر میں غذائی قلت، 48 گھنٹوں میں مزید 6 بچوں کی اموات</a></strong></p>

<p>در حقیقت وزارت صحت اور اقوام متحدہ کے ادارے برائے اطفال (یونیسیف) کے نیشنل نیوٹریشنل سروے 2018 کے مطابق پاکستان گندم پیدا کرنے والا دنیا کا 8واں، چاول پیدا کرنے والا دنیا کا 10واں، گنے پیدا کرنے والا دنیا کا 5واں اور دودھ پیدا کرنے والا دنیا کا چوتھا سب سے بڑا ملک ہے۔ </p>

<p>اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ایک تہائی آبادی غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جس کا مطلب ہے کہ ملک میں 5 کروڑ افراد اپنی آمدنی کے حساب سے ضروریات زندگی سے محروم ہیں جن میں سے کئی افراد دیہاتی علاقوں میں رہتے ہیں جہاں غربت کی شرح 30.7 فیصد ہے۔</p>

<p>آبادی کے تیزی سے بڑھنے اور نامناسب پانی اور ماحولیاتی صورتحال غذائی قلت کے حوالے سے تشویش آئندہ 2 سے 3 دہائی میں مزید بڑھے گی۔</p>

<p>اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ’تخمینے کے مطابق غذائی قلت اور اس سے ہونے والے اثرات پر ہر سال ملک کی جی ڈی پی کا 3 فیصد (7.6 ارب ڈالر) خرچ ہوتا ہے‘۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1095592">غذائی قلت سے 3 روز میں مزید 12بچے جاں بحق</a></strong></p>

<p>رپورٹ کے مطابق 1497 ڈالر فی کس آمدنی کے ساتھ پاکستان اب بھی نامناسب نشونما، آئرن، کیلشیئم وٹامن اے وغیرہ کی کمی اور صاف پانی کے فقدان جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔</p>

<p>’غذائی مصنوعات جیسے گوشت، مچھلی، دودھ، سبزی اور پھلوں کے فی فرد کھانے کے حساب سے پاکستان ترقی یافتہ ممالک سے 6 سے 10 گنا پیچھے ہے‘۔</p>

<p>اس سے بھی زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ ملک میں 5 سال سے کم عمر کے آدھے سے زائد بچوں کا قد چھوٹا ان کی عمر کے حساب سے چھوٹا ہے اور دس میں سے قد کے لحاظ سے وزن کی کمی کا شکار ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ پاکستان گلوبل ہنگر انڈیکس پر 119 ممالک میں سے 106 نمبر پر آتا ہے جسے سنگین نوعیت کا غذائی قلت کا سامنا کرنے والا ملک بتایا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1107029</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Jul 2019 16:23:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکشاہد اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/07/5d2d4cceab560.jpg?r=1970402717" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/07/5d2d4cceab560.jpg?r=588853349"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/07/5d2d4567a5f1a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/07/5d2d4567a5f1a.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
