<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:19:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:19:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کلبھوشن کیس، کب کیا ہوا؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1107124/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کی سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران 3 مارچ 2016 کو بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی پاک فوج کے ہاتھوں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1035210/"&gt;گرفتاری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے بعد یہ خبر پاک بھارت سرحد کے دونوں اطراف میں رہائش پذیر کروڑوں افراد کے درمیان موضوع بحث بن گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاک فوج نے اس گرفتاری کو ’بھارتی مداخلت اور ریاستی پشت پناہی سے ہونے والی دہشت گردی کا ثبوت قرار دیا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے بعد بھارت کے متضاد دعوے، جوابی الزامات، اعترافی بیان، جاسوسی کرنے پر کلبھوشن یادیو کا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل، تخریب کاری اور دہشت گردی کی دفعات کے واقعات رونما ہوئے اور پھر یہ کیس &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.icj-cij.org/files/case-related/168/19422.pdf"&gt;بین الاقوامی عدالت انصاف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں جا پہنچا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت نے پاکستان کی فوجی عدالت کی جانب سے کلبھوشن کو سزائے موت دینے کے فیصلے کے خلاف عالمی عدالت سے رجوع کیا تھا جس کے بعد پھانسی پر حکم امتناع جاری کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارتی جاسوس کے 3 سال پر محیط اس کیس میں اب ایک فیصلہ کن موڑ آن پہنچا ہے جب عالمی عدالت انصاف بھارت کے اعتراض پر 17 جولائی کو فیصلہ سنائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس اہم ترین متوقع فیصلے کے پیشِ نظر ڈان نے مارچ 2016 میں کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد سے اب تک اس تمام قضیے میں پیش آنےوالے اہم ترین واقعات پر روشنی ڈالی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d300b0066ec4'&gt;3 مارچ 2016&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;کلبھوشن یادیو، بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالسز ونگ (را) کا جاسوس حسین مبارک پٹیل کے جعلی نام سے کام کرتا تھا جس بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے پاکستان میں جاسوسی اور تخریب کاری میں ملوث ہونے پر ایک آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d300b0066f35'&gt;25 مارچ 2016&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ایک &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1035393"&gt;بیان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں کلبھوشن یادیو نے بتایا کہ وہ بھارتی بحریہ کا &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1035210/"&gt;حاضر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; سروس افسر ہے تاہم بھارتی دارالحکومت سے اسی روز ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ کلبھوشن &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1035257"&gt;سابق نیوی افسر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں بھارت نے بھارتی جاسوس سے کسی بھی قسم کے روابط ہونے سے &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1035417"&gt;انکار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کیا اور اس تک قونصلر کی رسائی طلب کی، اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ کلبھوشن کی بلوچستان سے گرفتاری کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d300b0066f4a'&gt;12 اپریل 2016&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;پاکستان میں کلبھوشن یادیو کے خلاف کوئٹہ کے محکمہ انسداد دہشت گردی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1035948"&gt;پہلا مقدمہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; درج کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d300b0066f5c'&gt;2 مئی 2016&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;بھارتی جاسوس کے خلاف ابتدائی تحقیقات کا آغاز ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d300b0066f6e'&gt;16 جون 2016&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;چونکہ بھارتی جاسوس غیر قانونی طور پر ایران کی سرحد عبور کر کے بلوچستان میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا لہٰذا پاکستانی حکومت نے ایران سے رابطہ کیا تھا جس پر  16 جون کو &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1038717/"&gt;ایران نے جواب&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; بھجوایا تھا تاہم اس کی تفصیلات ذرائع ابلاغ میں جاری نہیں کی گئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d300b0066f80'&gt;6جنوری 2017&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے سیکریٹری جنرل کو پاکستان میں سرحد پار دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے اور کلبھوشن کی گرفتاری پر ایک &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1050036/"&gt;ڈوزیئر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; پیش کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d300b0066f90'&gt;10 اپریل 2017&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;کلبھوشن یادیو کا کورٹ مارشل کیا گیا اور فوجی عدالت نے اسے جاسوسی کے الزام میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1055612/"&gt;سزائے موت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; سنائی جبکہ بھارت نے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے سزائے موت سنائے جانے کو ’&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1326291"&gt;سوچا سمجھا قتل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d300b0066fa1'&gt;15 اپریل 2017&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف کلبھوشن یادیو کی اپیل کی پیروی کرنے حوالے سے وکلا کو &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1327063"&gt;خبردار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری عامر سعید نے کہا کہ وکلا کلبھوشن کو رہا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ’جو پاکستان کے معصوم شہریوں کی جانوں سے کھیلنے کا مرتکب پایا گیا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d300b0066fb2'&gt;8 مئی 2017&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;بھارت نے پاکستان کے فیصلے کے خلاف &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1057516/"&gt;عالمی عدالت انصاف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; سے رجوع کیا اور کلبھوشن یادیو کیس میں ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d300b0066fc2'&gt;18 مئی 2017&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;جس پر عالمی عدالت انصاف نے پاکستان میں کلبھوشن کی سزائے موت پر ’عدالت کی جانب سے حتمی فیصلہ سنائے جانے تک‘ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1058016/"&gt;عمدرآمد روک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں عالمی عدالت نے اس پاکستانی موقف کو بھی مسترد کردیا تھا کہ آئی سی جے اس معاملے میں مداخلت کا اختیار نہیں رکھتی اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ چونکہ اس کیس میں ویانا کنوینش کی خلاف ورزی کا الزام شامل ہے جسے پاکستان اور بھارت دونوں تسلیم کرتے ہیں لہٰذا وہ اس کیس کی سماعت کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d300b0066fd2'&gt;22 جون 2017&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;کلبھوشن یادیو کا &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1060127/"&gt;دوسرا اعترافی بیان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; جاری کیا گیا جس میں اس نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ ریپبلک آرمی کے ساتھ مل کر بلوچستان میں تخریب کار سرگرمیاں کرنے کا اعتراف کیا اس کے ساتھ سزائے موت پر آرمی چیف سے رحم کی اپیل بھی کی۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d300b0066fe3'&gt;13ستمبر 2017&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;بھارت نے عالمی عدالت انصاف میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1064657/"&gt;تحریری درخواست&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; دائر کی جس میں قونصلر تک رسائی نہ دینے کی وجہ سے پاکستان  پر ویانا کنویشن کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d300b0066ff3'&gt;10 نومبر 2017&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاکستان میں بھارتی جاسوس کی اس کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1067871/"&gt;اہلیہ  سے ملاقات&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کروانے کی پیشکش کی۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d300b0067003'&gt;13 دسمبر 2017&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;بھارتی دعوے پر پاکستان نے عالمی عدالت میں اپنا &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1069833/"&gt;جواب جمع&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کروایا جس میں یہ موقف اختیار کیا کہ جاسوسی کی کارروائیوں میں ویانا کنویشن کا اطلاق نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d300b0067013'&gt;25 دسمبر 2017&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;دفتر خارجہ میں کلبھوشن یادیو کی اس کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1070548/"&gt;والدہ اور اہلیہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; سے ملاقات کروائی گئی، یہ ملاقات دونوں ممالک کے مابین سفارتی سرد مہری ختم کرنے کی غرض سے جذبہ خیر سگالی کے تحت کروائی گئی اس دوران کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ سیکیورٹی چیک سے گزارا گیا اور ملاقات میں کسی دوسری زبان میں بات کرنے پر بھی پابندی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d300b0067023'&gt;6 جنوری 2018&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;بھارتی خبروں کی ایک ویب سائٹ ’دی قوائنٹ‘ نے ایک &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1071233/"&gt;آرٹیکل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; شائع کیا جس میں بتایا گیا کہ کلبھوشن یادیو ’را‘ کا ملازم تھا اور پاکستان میں ایجنٹس کے لیے انسانی وسائل کو استعمال کرنے کی نئے سرے سے کوششیں کررہا تھا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d300b0067033'&gt;2 فروری 2018&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;بھارت کے ایک مایہ ناز جریدے ’فرنٹ لائن‘ نے ایک آرٹیکل میں اس بات کا &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1072742/"&gt;اعتراف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کیا کہ کلبھوشن ممکنہ طور پر نیوی افسر تھا اور بھارت پاکستان میں خفیہ طور پر جنگ کررہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d300b0067043'&gt;6 فروری 2018&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;ایک عہدیدار نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کلبھوشن یادیو تخریب کاری اور دہشت گردی کے الزمات پر &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1387502"&gt;مقدمے کا سامنا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کررہا ہے دوسری جانب پاکستان نے کلبھوشن سے متعلق کیس میں 13 بھارتی عہدیداروں تک رسائی مانگی تھی تاہم بھارت نے اس حوالے سے تعاون کرنے سے انکار کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d300b0067053'&gt;18 فروری 2019&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;پلوامہ حملے کے پاکستان اور بھارت کے مابین ہونے والے باقاعدہ جھڑپ کے بعد عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کے مقدمے کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097766/"&gt;سماعت کا آغاز&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کیا تھا جس میں بھارت نے اعلیٰ عدالت سے استدعا کی کہ کلبھوشن کے خلاف سزا کو مسترد کیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عالمی عدالت انصاف  میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزا کے خلاف کیس کی سماعت کے دوسرے روز پاکستانی وکیل خاور قریشی نےکلبھوشن کے پاسپورٹ سے متعلق برطانوی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097836/"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; پیش کی۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d300b0067064'&gt;21 فروری 2019&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;آئی سی جے میں  زیر سماعت کلبھوشن یادیو کیس میں بھارت کلبھوشن یادیو کی رہائی کے اپنے ہی مطالبے سے &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097977/"&gt;دستبردار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; ہوگیا۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d300b0067074'&gt;4 جولائی 2019&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;عالمی عدالت انصاف نے ایک &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106329/"&gt;پریس ریلیز&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ کلبھوشن یادیو کیس میں حتمی فیصلہ 17 جولائی کو سنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کی سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران 3 مارچ 2016 کو بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی پاک فوج کے ہاتھوں <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1035210/">گرفتاری</a></strong> کے بعد یہ خبر پاک بھارت سرحد کے دونوں اطراف میں رہائش پذیر کروڑوں افراد کے درمیان موضوع بحث بن گئی۔</p>

<p>پاک فوج نے اس گرفتاری کو ’بھارتی مداخلت اور ریاستی پشت پناہی سے ہونے والی دہشت گردی کا ثبوت قرار دیا‘۔</p>

<p>جس کے بعد بھارت کے متضاد دعوے، جوابی الزامات، اعترافی بیان، جاسوسی کرنے پر کلبھوشن یادیو کا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل، تخریب کاری اور دہشت گردی کی دفعات کے واقعات رونما ہوئے اور پھر یہ کیس <strong><a href="https://www.icj-cij.org/files/case-related/168/19422.pdf">بین الاقوامی عدالت انصاف</a></strong> میں جا پہنچا۔</p>

<p>بھارت نے پاکستان کی فوجی عدالت کی جانب سے کلبھوشن کو سزائے موت دینے کے فیصلے کے خلاف عالمی عدالت سے رجوع کیا تھا جس کے بعد پھانسی پر حکم امتناع جاری کردیا گیا تھا۔</p>

<p>بھارتی جاسوس کے 3 سال پر محیط اس کیس میں اب ایک فیصلہ کن موڑ آن پہنچا ہے جب عالمی عدالت انصاف بھارت کے اعتراض پر 17 جولائی کو فیصلہ سنائے گی۔</p>

<p>اس اہم ترین متوقع فیصلے کے پیشِ نظر ڈان نے مارچ 2016 میں کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد سے اب تک اس تمام قضیے میں پیش آنےوالے اہم ترین واقعات پر روشنی ڈالی ہے۔</p>

<h3 id='5d300b0066ec4'>3 مارچ 2016</h3>

<p>کلبھوشن یادیو، بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالسز ونگ (را) کا جاسوس حسین مبارک پٹیل کے جعلی نام سے کام کرتا تھا جس بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے پاکستان میں جاسوسی اور تخریب کاری میں ملوث ہونے پر ایک آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا۔</p>

<h3 id='5d300b0066f35'>25 مارچ 2016</h3>

<p>پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ایک <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1035393">بیان</a></strong> میں کلبھوشن یادیو نے بتایا کہ وہ بھارتی بحریہ کا <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1035210/">حاضر</a></strong> سروس افسر ہے تاہم بھارتی دارالحکومت سے اسی روز ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ کلبھوشن <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1035257">سابق نیوی افسر</a></strong> ہے۔</p>

<p>علاوہ ازیں بھارت نے بھارتی جاسوس سے کسی بھی قسم کے روابط ہونے سے <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1035417">انکار</a></strong> کیا اور اس تک قونصلر کی رسائی طلب کی، اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ کلبھوشن کی بلوچستان سے گرفتاری کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔</p>

<h3 id='5d300b0066f4a'>12 اپریل 2016</h3>

<p>پاکستان میں کلبھوشن یادیو کے خلاف کوئٹہ کے محکمہ انسداد دہشت گردی میں <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1035948">پہلا مقدمہ</a></strong> درج کیا گیا۔</p>

<h3 id='5d300b0066f5c'>2 مئی 2016</h3>

<p>بھارتی جاسوس کے خلاف ابتدائی تحقیقات کا آغاز ہوا۔</p>

<h3 id='5d300b0066f6e'>16 جون 2016</h3>

<p>چونکہ بھارتی جاسوس غیر قانونی طور پر ایران کی سرحد عبور کر کے بلوچستان میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا لہٰذا پاکستانی حکومت نے ایران سے رابطہ کیا تھا جس پر  16 جون کو <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1038717/">ایران نے جواب</a></strong> بھجوایا تھا تاہم اس کی تفصیلات ذرائع ابلاغ میں جاری نہیں کی گئیں۔</p>

<h3 id='5d300b0066f80'>6جنوری 2017</h3>

<p>اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے سیکریٹری جنرل کو پاکستان میں سرحد پار دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے اور کلبھوشن کی گرفتاری پر ایک <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1050036/">ڈوزیئر</a></strong> پیش کیا۔</p>

<h3 id='5d300b0066f90'>10 اپریل 2017</h3>

<p>کلبھوشن یادیو کا کورٹ مارشل کیا گیا اور فوجی عدالت نے اسے جاسوسی کے الزام میں <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1055612/">سزائے موت</a></strong> سنائی جبکہ بھارت نے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے سزائے موت سنائے جانے کو ’<strong><a href="https://www.dawn.com/news/1326291">سوچا سمجھا قتل</a></strong>‘ قرار دیا۔</p>

<h3 id='5d300b0066fa1'>15 اپریل 2017</h3>

<p>لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف کلبھوشن یادیو کی اپیل کی پیروی کرنے حوالے سے وکلا کو <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1327063">خبردار</a></strong> کیا۔</p>

<p>بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری عامر سعید نے کہا کہ وکلا کلبھوشن کو رہا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ’جو پاکستان کے معصوم شہریوں کی جانوں سے کھیلنے کا مرتکب پایا گیا‘۔</p>

<h3 id='5d300b0066fb2'>8 مئی 2017</h3>

<p>بھارت نے پاکستان کے فیصلے کے خلاف <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1057516/">عالمی عدالت انصاف</a></strong> سے رجوع کیا اور کلبھوشن یادیو کیس میں ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔</p>

<h3 id='5d300b0066fc2'>18 مئی 2017</h3>

<p>جس پر عالمی عدالت انصاف نے پاکستان میں کلبھوشن کی سزائے موت پر ’عدالت کی جانب سے حتمی فیصلہ سنائے جانے تک‘ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1058016/">عمدرآمد روک</a></strong> دیا۔</p>

<p>علاوہ ازیں عالمی عدالت نے اس پاکستانی موقف کو بھی مسترد کردیا تھا کہ آئی سی جے اس معاملے میں مداخلت کا اختیار نہیں رکھتی اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ چونکہ اس کیس میں ویانا کنوینش کی خلاف ورزی کا الزام شامل ہے جسے پاکستان اور بھارت دونوں تسلیم کرتے ہیں لہٰذا وہ اس کیس کی سماعت کرسکتے ہیں۔</p>

<h3 id='5d300b0066fd2'>22 جون 2017</h3>

<p>کلبھوشن یادیو کا <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1060127/">دوسرا اعترافی بیان</a></strong> جاری کیا گیا جس میں اس نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ ریپبلک آرمی کے ساتھ مل کر بلوچستان میں تخریب کار سرگرمیاں کرنے کا اعتراف کیا اس کے ساتھ سزائے موت پر آرمی چیف سے رحم کی اپیل بھی کی۔</p>

<h3 id='5d300b0066fe3'>13ستمبر 2017</h3>

<p>بھارت نے عالمی عدالت انصاف میں <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1064657/">تحریری درخواست</a></strong> دائر کی جس میں قونصلر تک رسائی نہ دینے کی وجہ سے پاکستان  پر ویانا کنویشن کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا۔</p>

<h3 id='5d300b0066ff3'>10 نومبر 2017</h3>

<p>پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاکستان میں بھارتی جاسوس کی اس کی <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1067871/">اہلیہ  سے ملاقات</a></strong> کروانے کی پیشکش کی۔</p>

<h3 id='5d300b0067003'>13 دسمبر 2017</h3>

<p>بھارتی دعوے پر پاکستان نے عالمی عدالت میں اپنا <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1069833/">جواب جمع</a></strong> کروایا جس میں یہ موقف اختیار کیا کہ جاسوسی کی کارروائیوں میں ویانا کنویشن کا اطلاق نہیں ہوتا۔</p>

<h3 id='5d300b0067013'>25 دسمبر 2017</h3>

<p>دفتر خارجہ میں کلبھوشن یادیو کی اس کی <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1070548/">والدہ اور اہلیہ</a></strong> سے ملاقات کروائی گئی، یہ ملاقات دونوں ممالک کے مابین سفارتی سرد مہری ختم کرنے کی غرض سے جذبہ خیر سگالی کے تحت کروائی گئی اس دوران کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ سیکیورٹی چیک سے گزارا گیا اور ملاقات میں کسی دوسری زبان میں بات کرنے پر بھی پابندی تھی۔</p>

<h3 id='5d300b0067023'>6 جنوری 2018</h3>

<p>بھارتی خبروں کی ایک ویب سائٹ ’دی قوائنٹ‘ نے ایک <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1071233/">آرٹیکل</a></strong> شائع کیا جس میں بتایا گیا کہ کلبھوشن یادیو ’را‘ کا ملازم تھا اور پاکستان میں ایجنٹس کے لیے انسانی وسائل کو استعمال کرنے کی نئے سرے سے کوششیں کررہا تھا‘۔</p>

<h3 id='5d300b0067033'>2 فروری 2018</h3>

<p>بھارت کے ایک مایہ ناز جریدے ’فرنٹ لائن‘ نے ایک آرٹیکل میں اس بات کا <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1072742/">اعتراف</a></strong> کیا کہ کلبھوشن ممکنہ طور پر نیوی افسر تھا اور بھارت پاکستان میں خفیہ طور پر جنگ کررہا ہے۔</p>

<h3 id='5d300b0067043'>6 فروری 2018</h3>

<p>ایک عہدیدار نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کلبھوشن یادیو تخریب کاری اور دہشت گردی کے الزمات پر <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1387502">مقدمے کا سامنا</a></strong> کررہا ہے دوسری جانب پاکستان نے کلبھوشن سے متعلق کیس میں 13 بھارتی عہدیداروں تک رسائی مانگی تھی تاہم بھارت نے اس حوالے سے تعاون کرنے سے انکار کیا۔</p>

<h3 id='5d300b0067053'>18 فروری 2019</h3>

<p>پلوامہ حملے کے پاکستان اور بھارت کے مابین ہونے والے باقاعدہ جھڑپ کے بعد عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کے مقدمے کی <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097766/">سماعت کا آغاز</a></strong> کیا تھا جس میں بھارت نے اعلیٰ عدالت سے استدعا کی کہ کلبھوشن کے خلاف سزا کو مسترد کیا جائے۔</p>

<p>عالمی عدالت انصاف  میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزا کے خلاف کیس کی سماعت کے دوسرے روز پاکستانی وکیل خاور قریشی نےکلبھوشن کے پاسپورٹ سے متعلق برطانوی <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097836/">رپورٹ</a></strong> پیش کی۔</p>

<h3 id='5d300b0067064'>21 فروری 2019</h3>

<p>آئی سی جے میں  زیر سماعت کلبھوشن یادیو کیس میں بھارت کلبھوشن یادیو کی رہائی کے اپنے ہی مطالبے سے <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097977/">دستبردار</a></strong> ہوگیا۔</p>

<h3 id='5d300b0067074'>4 جولائی 2019</h3>

<p>عالمی عدالت انصاف نے ایک <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106329/">پریس ریلیز</a></strong> جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ کلبھوشن یادیو کیس میں حتمی فیصلہ 17 جولائی کو سنایا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1107124</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Jul 2019 11:00:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/07/5d2ed9a647682.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/07/5d2ed9a647682.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
