<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 14:19:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 14:19:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت چاند کی جانب دوسری بار مشن بھیجنے میں کامیاب
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1107423/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت نے ایک ہفتے کی تاخیر کے بعد چاند پر اپنا دوسرا مشن ’چندریان ٹو‘ 22 جولائی کی دوپہر کو بھیج دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ابتدائی طور پر بھارت کو ’چندریان ٹو‘ کو گزشتہ ہفتے 15 جولائی کو بھیجنا تھا، تاہم تکنیکی خرابی کی وجہ سے &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106968"&gt;&lt;strong&gt;اس مشن کو نہیں بھیجا جا سکا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ دوسرا موقع ہے کہ بھارت نے اپنا خلائی مشن چاند پر بھیجا ہے اور اگر اس بار انڈیا کا خلائی مشن کامیابی سے چاند پراتر گیا تو بھارت چاند پر پہنچنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے بھارت نے 2008 میں بھی چاند پر خلائی مشن بھیجا تھا، تاہم وہ مشن کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/PIB_India/status/1153235383892602880"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس بار بھارت کے خلائی تحقیقاتی ادارے، حکومت اور سائنس دانوں کو یقین ہے کہ انہیں کامیابی ملے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انڈیا ٹوڈے کے &lt;a href="https://www.indiatoday.in/science/story/chandrayaan-2-launched-isro-sriharikota-gslv-mk-iii-1572214-2019-07-22"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; خلائی مشن ’چندریان ٹو‘ کو ریاست آندرا پردیش کے شہر نیلور کے سری ہری کوٹا کے مقام پر قائم ستیش دھون اسپیس اسٹیشن سے تاریخی مشن پر بھیجا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’چندریان ٹو‘ کو 22 جولائی بروز پیر کی دوپہر 2 بج کر 43 منٹ پر خلا میں چھوڑا گیا اور اس تاریخی لمحے کو بھارت کے متعدد ٹی وی چینلز نے براہ راست دکھایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’چندریان ٹو‘ نامی مشن کو بھارت میں تیار کردہ دیسی ساخت کے راکٹ میزائل جی ایس ایل وی ایم  مارک تھری کے ذریعے بھیجا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس مشن میں ایک چانڈ گاڑی، لونر لینڈر اور روور سمیت 13 سائنسی مشینیں، کیمرے اور آلات بھیجے گئے ہیں جو چاند کے تاریک حصے پر تحقیقات کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/07/5d35c2f50f739.jpg"  alt="چاند مشن کو ریاست آندھرا پردیش سے خلا میں بھیجا گیا&amp;mdash;فوٹو: اسرو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;چاند مشن کو ریاست آندھرا پردیش سے خلا میں بھیجا گیا—فوٹو: اسرو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت کے خلائی تحقیقاتی ادارے ’انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائیزیشن &lt;a href="https://www.isro.gov.in/"&gt;&lt;strong&gt;(اسرو)&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق کھدائی مشین، لینڈنگ مشین اور موبائل مشین سمیت اعلیٰ درجے کی کوالٹی کا کیمرا بھی چاند پر بھیجا گیا ہے جو چاند کے تاریک حصے پر پانی اور زندگی کی تلاش سمیت دیگر معاملات کی تحقیق کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسرو کے مطابق چاند پر بھیجا گیا خلائی مشن 23 دن تک زمین کے مدار میں ہی رہے گا اور 30 کے بعد وہ چاند کے مدار میں شامل ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1105129"&gt;’چندریان ٹو‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; 30 سے 47 ویں دن تک چاند کے مدار میں ہی سفر کرے گا اور توقع کی جا رہی ہے کہ 48 ویں دن مشن چاند کے تاریک ترین جنوبی قطب حصے میں اترے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/isro/status/1153292272961642496"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چاند پر بھیجے گئے مشن کو جس میزائل جی ایس ایل وی ایم  مارک تھری راکٹ سے بھیجا گیا ہے اس میں 110 ٹن سے زائد ایندھن بھرا گیا ہے اور مجموعی طور پر اس راکٹ کا وزن 600 ٹن سے زائد ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ راکٹ تین حصوں ’آربیٹر، لینڈر اور روور‘ پر مشتمل ہے اور ان تینوں حصوں کو الگ الگ نام دیے گیے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آربیٹر کا نام ’وکرم‘ رکھا گیا ہے، اس حصے کا کام چاند کے گرد چکر لگانا اور چاند کی سطح کی جانچ کرنا ہے، دوسرے حصے ’لینڈر‘ کا نام ’وکرم سارا بھائی‘ رکھا گیا ہے اس حصے کا کام مشن کی چاند پر لینڈنگ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1096505' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/07/5d273696d2a77.png"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;راکٹ کے تیسرے حصے ’روور‘ کو نام ’پرگیان‘ رکھا گیا ہے اور اس حصے کا کام مشن میں بھیجے گئے سائنسی آلات کو باہر نکالنا، انہیں تحقیق میں مدد دینا اور چاند کی سطح کے 500 میٹر کے گرد چکر لگانے سمیت کئی طرح کی تکنیکی مدد فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اربوں روپے کی لاگت سے تیار ہونے والے اس خلائی مشن کے حوالے سے بھارتی حکومت اور بھارتی خلائی تحقیقی ادارے کو امید ہے کہ وہ چاند پر کامیابی سے اتر جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر بھارت کا یہ مشن چاند پر کامیابی سے اتر جاتا ہے تو انڈیا امریکا، روس اور چین کے بعد چاند پر پہنچنے والا چوتھا ملک بن جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت نے چاند مشن کو ایک ایسے وقت میں بھیجا ہے جب کہ دنیا بھر میں 2 دن قبل ہی چاند پر انسان کے جانے کا 50 سالہ جشن منایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چاند پر دنیا میں پہلی بار 20 جولائی 1969 کو امریکی خلاباز نیل آرم اسٹرانگ پہنچے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت نے ایک ہفتے کی تاخیر کے بعد چاند پر اپنا دوسرا مشن ’چندریان ٹو‘ 22 جولائی کی دوپہر کو بھیج دیا۔</p>

<p>ابتدائی طور پر بھارت کو ’چندریان ٹو‘ کو گزشتہ ہفتے 15 جولائی کو بھیجنا تھا، تاہم تکنیکی خرابی کی وجہ سے <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106968"><strong>اس مشن کو نہیں بھیجا جا سکا تھا۔</strong></a></p>

<p>یہ دوسرا موقع ہے کہ بھارت نے اپنا خلائی مشن چاند پر بھیجا ہے اور اگر اس بار انڈیا کا خلائی مشن کامیابی سے چاند پراتر گیا تو بھارت چاند پر پہنچنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا۔</p>

<p>اس سے بھارت نے 2008 میں بھی چاند پر خلائی مشن بھیجا تھا، تاہم وہ مشن کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/PIB_India/status/1153235383892602880"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس بار بھارت کے خلائی تحقیقاتی ادارے، حکومت اور سائنس دانوں کو یقین ہے کہ انہیں کامیابی ملے گی۔</p>

<p>انڈیا ٹوڈے کے <a href="https://www.indiatoday.in/science/story/chandrayaan-2-launched-isro-sriharikota-gslv-mk-iii-1572214-2019-07-22"><strong>مطابق</strong></a> خلائی مشن ’چندریان ٹو‘ کو ریاست آندرا پردیش کے شہر نیلور کے سری ہری کوٹا کے مقام پر قائم ستیش دھون اسپیس اسٹیشن سے تاریخی مشن پر بھیجا گیا۔</p>

<p>’چندریان ٹو‘ کو 22 جولائی بروز پیر کی دوپہر 2 بج کر 43 منٹ پر خلا میں چھوڑا گیا اور اس تاریخی لمحے کو بھارت کے متعدد ٹی وی چینلز نے براہ راست دکھایا۔</p>

<p>’چندریان ٹو‘ نامی مشن کو بھارت میں تیار کردہ دیسی ساخت کے راکٹ میزائل جی ایس ایل وی ایم  مارک تھری کے ذریعے بھیجا گیا۔</p>

<p>اس مشن میں ایک چانڈ گاڑی، لونر لینڈر اور روور سمیت 13 سائنسی مشینیں، کیمرے اور آلات بھیجے گئے ہیں جو چاند کے تاریک حصے پر تحقیقات کریں گے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/07/5d35c2f50f739.jpg"  alt="چاند مشن کو ریاست آندھرا پردیش سے خلا میں بھیجا گیا&mdash;فوٹو: اسرو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">چاند مشن کو ریاست آندھرا پردیش سے خلا میں بھیجا گیا—فوٹو: اسرو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>بھارت کے خلائی تحقیقاتی ادارے ’انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائیزیشن <a href="https://www.isro.gov.in/"><strong>(اسرو)</strong></a> کے مطابق کھدائی مشین، لینڈنگ مشین اور موبائل مشین سمیت اعلیٰ درجے کی کوالٹی کا کیمرا بھی چاند پر بھیجا گیا ہے جو چاند کے تاریک حصے پر پانی اور زندگی کی تلاش سمیت دیگر معاملات کی تحقیق کریں گے۔</p>

<p>اسرو کے مطابق چاند پر بھیجا گیا خلائی مشن 23 دن تک زمین کے مدار میں ہی رہے گا اور 30 کے بعد وہ چاند کے مدار میں شامل ہوجائے گا۔</p>

<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1105129">’چندریان ٹو‘</a></strong> 30 سے 47 ویں دن تک چاند کے مدار میں ہی سفر کرے گا اور توقع کی جا رہی ہے کہ 48 ویں دن مشن چاند کے تاریک ترین جنوبی قطب حصے میں اترے گا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/isro/status/1153292272961642496"></a>
            </blockquote>
            </div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>چاند پر بھیجے گئے مشن کو جس میزائل جی ایس ایل وی ایم  مارک تھری راکٹ سے بھیجا گیا ہے اس میں 110 ٹن سے زائد ایندھن بھرا گیا ہے اور مجموعی طور پر اس راکٹ کا وزن 600 ٹن سے زائد ہے۔</p>

<p>یہ راکٹ تین حصوں ’آربیٹر، لینڈر اور روور‘ پر مشتمل ہے اور ان تینوں حصوں کو الگ الگ نام دیے گیے ہیں۔</p>

<p>آربیٹر کا نام ’وکرم‘ رکھا گیا ہے، اس حصے کا کام چاند کے گرد چکر لگانا اور چاند کی سطح کی جانچ کرنا ہے، دوسرے حصے ’لینڈر‘ کا نام ’وکرم سارا بھائی‘ رکھا گیا ہے اس حصے کا کام مشن کی چاند پر لینڈنگ ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1096505' ><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/07/5d273696d2a77.png"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>راکٹ کے تیسرے حصے ’روور‘ کو نام ’پرگیان‘ رکھا گیا ہے اور اس حصے کا کام مشن میں بھیجے گئے سائنسی آلات کو باہر نکالنا، انہیں تحقیق میں مدد دینا اور چاند کی سطح کے 500 میٹر کے گرد چکر لگانے سمیت کئی طرح کی تکنیکی مدد فراہم کرنا ہے۔</p>

<p>اربوں روپے کی لاگت سے تیار ہونے والے اس خلائی مشن کے حوالے سے بھارتی حکومت اور بھارتی خلائی تحقیقی ادارے کو امید ہے کہ وہ چاند پر کامیابی سے اتر جائے گا۔</p>

<p>اگر بھارت کا یہ مشن چاند پر کامیابی سے اتر جاتا ہے تو انڈیا امریکا، روس اور چین کے بعد چاند پر پہنچنے والا چوتھا ملک بن جائے گا۔</p>

<p>بھارت نے چاند مشن کو ایک ایسے وقت میں بھیجا ہے جب کہ دنیا بھر میں 2 دن قبل ہی چاند پر انسان کے جانے کا 50 سالہ جشن منایا گیا تھا۔</p>

<p>چاند پر دنیا میں پہلی بار 20 جولائی 1969 کو امریکی خلاباز نیل آرم اسٹرانگ پہنچے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1107423</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Jul 2019 19:13:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/07/5d35c137d38c6.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/07/5d35c137d38c6.jpg?0.5995765475890469"/>
        <media:title>چندریان ٹو کو 22 جولائی کی دوپہر کو خلا میں بھیجا گیا—فوٹو: انڈیا ٹوڈے
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
