<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 30 May 2026 17:11:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 30 May 2026 17:11:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا بیان، امریکا سے ’وضاحت‘ طلب
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1107474/</link>
      <description>&lt;p&gt;افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ امریکا کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے افغانستان سے متعلق اس بیان پر وضاحت کرنی چاہیے، جس میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ باآسانی جنگ جیت سکتے ہیں لیکن وہ ’ایک کروڑ لوگوں کو قتل نہیں‘ کرنا چاہتے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر نے پیر کو وائٹ ہاؤس میں وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات میں کچھ حیران کن بیانات دیے، جس میں ایک بیان یہ بھی شامل تھا کہ ان کے پاس افغان تنازع کے جلد حل کے لیے منصوبے تھے لیکن اس سے یہ ملک ’صفحہ ہستی سے‘ مٹ جاتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ افغانستان ’ختم ہوجائے گا اور یہ واقعی 10 دن میں ختم ہوجائے گا‘ لیکن ’میں اس راستے پر جانا نہیں چاہتا‘ اور لاکھوں لوگوں کو قتل نہیں کرنا چاہتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1107396/"&gt;عمران خان اور ٹرمپ کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکی صدر کے ان بیانات نے افغانستان میں غم و غصہ کی لہر کی بڑھا دیا ہے، جہاں جنگ زدہ اور پریشان آبادی پہلے ہی امریکی فوج کے انخلا سے متعلق پریشان ہیں کہ آیا وہ دوبارہ طالبان حکومت اور خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایسی صورتحال میں امریکی صدر کے بیان پر افغان صدر اشرف غنی کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت امریکی صدر کے پاکستانی وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران اظہار کیے گئے خیالات پر سفارتی ذرائع اور چینلز کے ذریعے وضاحت کا مطالبہ کرتی ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان، افغانستان سے امریکا کو ’نکالنے‘ کے لیے مدد کرے گا اور واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان تعقلات میں ’زبردست صلاحیت‘ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اشرف غنی نے امریکا کی جانب سے طالبان کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو مسلسل درکنار کرنے پر غصے کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;افغان صدر کے بیان میں کہا گیا ’افغان حکومت ملک میں قیام امن کے لیے امریکی کوششوں کی حمایت کر رہی ہے تاہم حکومت یہ سمجھتی ہے کہ غیرملکی سربراہان مملکت افغان قیادت کی غیرموجودگی میں افغانستان کی قسمت کے فیصلے کا تعین نہیں کرسکتی‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے افغانوں کو ہر روز سوشل میڈیا پر لانے کا باعث بن رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1107208"&gt;افغانستان: پولیس ہیڈکوارٹرز پر طالبان کے حملے میں 12 افراد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک فیس بک صارف محمد فرہاد کا کہنا تھا ’میں حیران ہوا اور مجھے دھمکی اور توہین محسوس ہوئی، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مدد پر ہم امریکا پر تشدد کرتے تھے لیکن اب ڈونلڈ ٹرمپ ہمیں نسل کشی کی دھمکی دے رہے ہیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھر افغانستان کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے سفیر امن زلمے خلیل زاد افغان امن عمل میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے آٹھویں دورسے قبل منگل کو کابل پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم آنے والے دنوں میں ان مذاکرات کا دور دوحہ میں ہونے کا امکان ہے، جہاں اس مرتبہ بھی اشرف غنی اور ان کی انتظامیہ کو اس سے دور رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ امریکا کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے افغانستان سے متعلق اس بیان پر وضاحت کرنی چاہیے، جس میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ باآسانی جنگ جیت سکتے ہیں لیکن وہ ’ایک کروڑ لوگوں کو قتل نہیں‘ کرنا چاہتے۔</p>

<p>فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر نے پیر کو وائٹ ہاؤس میں وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات میں کچھ حیران کن بیانات دیے، جس میں ایک بیان یہ بھی شامل تھا کہ ان کے پاس افغان تنازع کے جلد حل کے لیے منصوبے تھے لیکن اس سے یہ ملک ’صفحہ ہستی سے‘ مٹ جاتا۔</p>

<p>ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ افغانستان ’ختم ہوجائے گا اور یہ واقعی 10 دن میں ختم ہوجائے گا‘ لیکن ’میں اس راستے پر جانا نہیں چاہتا‘ اور لاکھوں لوگوں کو قتل نہیں کرنا چاہتا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1107396/">عمران خان اور ٹرمپ کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش</a></strong></p>

<p>امریکی صدر کے ان بیانات نے افغانستان میں غم و غصہ کی لہر کی بڑھا دیا ہے، جہاں جنگ زدہ اور پریشان آبادی پہلے ہی امریکی فوج کے انخلا سے متعلق پریشان ہیں کہ آیا وہ دوبارہ طالبان حکومت اور خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔</p>

<p>ایسی صورتحال میں امریکی صدر کے بیان پر افغان صدر اشرف غنی کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت امریکی صدر کے پاکستانی وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران اظہار کیے گئے خیالات پر سفارتی ذرائع اور چینلز کے ذریعے وضاحت کا مطالبہ کرتی ہے‘۔</p>

<p>ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان، افغانستان سے امریکا کو ’نکالنے‘ کے لیے مدد کرے گا اور واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان تعقلات میں ’زبردست صلاحیت‘ ہے۔</p>

<p>تاہم اشرف غنی نے امریکا کی جانب سے طالبان کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو مسلسل درکنار کرنے پر غصے کا اظہار کیا۔</p>

<p>افغان صدر کے بیان میں کہا گیا ’افغان حکومت ملک میں قیام امن کے لیے امریکی کوششوں کی حمایت کر رہی ہے تاہم حکومت یہ سمجھتی ہے کہ غیرملکی سربراہان مملکت افغان قیادت کی غیرموجودگی میں افغانستان کی قسمت کے فیصلے کا تعین نہیں کرسکتی‘۔</p>

<p>دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے افغانوں کو ہر روز سوشل میڈیا پر لانے کا باعث بن رہے ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1107208">افغانستان: پولیس ہیڈکوارٹرز پر طالبان کے حملے میں 12 افراد ہلاک</a></strong></p>

<p>ایک فیس بک صارف محمد فرہاد کا کہنا تھا ’میں حیران ہوا اور مجھے دھمکی اور توہین محسوس ہوئی، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مدد پر ہم امریکا پر تشدد کرتے تھے لیکن اب ڈونلڈ ٹرمپ ہمیں نسل کشی کی دھمکی دے رہے ہیں‘۔</p>

<p>ادھر افغانستان کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے سفیر امن زلمے خلیل زاد افغان امن عمل میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے آٹھویں دورسے قبل منگل کو کابل پہنچ گئے۔</p>

<p>تاہم آنے والے دنوں میں ان مذاکرات کا دور دوحہ میں ہونے کا امکان ہے، جہاں اس مرتبہ بھی اشرف غنی اور ان کی انتظامیہ کو اس سے دور رکھا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1107474</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jul 2019 17:08:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/07/5d36f448beeec.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/07/5d36f448beeec.jpg"/>
        <media:title>امریکی صدر نے عمران خان سے ملاقات کے دوران اس معاملے پر بات کی تھی—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
