<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 17:47:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 17:47:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنسی ہراسانی کی گفتگو ریکارڈ کرنے پر سزا پانے والی خاتون کیلئے عام معافی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1107669/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جکارتہ: انڈونیشین پارلیمان نے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی شکایت کرنے پر جیل بھجوائی گئی خاتون کو عام معافی دینے کی منظوری دے دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عالمی خبررساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ خاتون نے اپنے باس کی فحش گفتگو پر مبنی فون کال ریکارڈ کی تھی جس پر انہیں سزا دینے کے خلاف ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوا تھا اور اس بات کا خطرہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ اس سے جنسی ہراساں ہونے والے افراد کی حوصلہ شکنی ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بائق نوریل مکنون نامی خاتون نے متنازع مقدمے کے سلسلے میں تمام قانونی ذرائع سے رجوع کیا جس سے تھک ہارنے کے بعد انڈونیشیا کے صدر جوکو ودود نے انہیں عام معافی دے دی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089065"&gt;جنسی ہراساں کا الزام لگانے والی خاتون کے خلاف شکایت درج&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس موقع پر اپنے چیمبر میں موجود 3 بچوں کی ماں کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں، پارلیمان کی جانب سے معافی منظور کرنے پر انہوں نے سجدہ شکر ادا کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ 37 سالہ بائق نوریل مکنون ایک اسکول میں ملازم تھیں جنہوں نے 2012 میں اپنے باس کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی شکایت کرنے کے بعد ان کی لاعلمی میں ان کی فحش گفتگو پر مبنی فون کالز کے کچھ حصے ریکارڈ کیے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعدازاں انہوں نے وہ ریکارڈنگز کسی تیسرے فرد کو دے دی تھیں جس نے وہ ریکارڈنگز الیکٹرونک ڈیوائس پر تقسیم کردی تھیں، نتیجتاً پرنسپل کو اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106183"&gt;محض انتظامی کارروائی کو جنسی ہراساں کے طور پر نہیں لیا جاسکتا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;2015 میں پرنسپل نے بائق نوریل کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی تھی جس پر خاتون کے خلاف برقی آلات کے ذریعے فحش مواد تقسیم کرنے کے قانون کے تحت مقدمہ چلایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم مقامی عدالتوں نے اس مقدمے کو خارج کردیا تھا لیکن پراسیکیوٹر اسے سپریم کورٹ میں لے گئے تھے جہاں متاثرہ خاتون کو 6 ماہ قید اور 36 ہزار ڈالر جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ مقدمے نے بین الاقوامی توجہ حاصل کرلی تھی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بائق نوریل کی انصاف کے حصول کی جدو جہد کی حمایت کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جکارتہ: انڈونیشین پارلیمان نے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی شکایت کرنے پر جیل بھجوائی گئی خاتون کو عام معافی دینے کی منظوری دے دی۔</strong></p>

<p>عالمی خبررساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ خاتون نے اپنے باس کی فحش گفتگو پر مبنی فون کال ریکارڈ کی تھی جس پر انہیں سزا دینے کے خلاف ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوا تھا اور اس بات کا خطرہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ اس سے جنسی ہراساں ہونے والے افراد کی حوصلہ شکنی ہوگی۔</p>

<p>بائق نوریل مکنون نامی خاتون نے متنازع مقدمے کے سلسلے میں تمام قانونی ذرائع سے رجوع کیا جس سے تھک ہارنے کے بعد انڈونیشیا کے صدر جوکو ودود نے انہیں عام معافی دے دی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089065">جنسی ہراساں کا الزام لگانے والی خاتون کے خلاف شکایت درج</a></strong></p>

<p>اس موقع پر اپنے چیمبر میں موجود 3 بچوں کی ماں کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں، پارلیمان کی جانب سے معافی منظور کرنے پر انہوں نے سجدہ شکر ادا کیا۔</p>

<p>خیال رہے کہ 37 سالہ بائق نوریل مکنون ایک اسکول میں ملازم تھیں جنہوں نے 2012 میں اپنے باس کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی شکایت کرنے کے بعد ان کی لاعلمی میں ان کی فحش گفتگو پر مبنی فون کالز کے کچھ حصے ریکارڈ کیے تھے۔</p>

<p>بعدازاں انہوں نے وہ ریکارڈنگز کسی تیسرے فرد کو دے دی تھیں جس نے وہ ریکارڈنگز الیکٹرونک ڈیوائس پر تقسیم کردی تھیں، نتیجتاً پرنسپل کو اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106183">محض انتظامی کارروائی کو جنسی ہراساں کے طور پر نہیں لیا جاسکتا</a></strong></p>

<p>2015 میں پرنسپل نے بائق نوریل کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی تھی جس پر خاتون کے خلاف برقی آلات کے ذریعے فحش مواد تقسیم کرنے کے قانون کے تحت مقدمہ چلایا گیا تھا۔</p>

<p>تاہم مقامی عدالتوں نے اس مقدمے کو خارج کردیا تھا لیکن پراسیکیوٹر اسے سپریم کورٹ میں لے گئے تھے جہاں متاثرہ خاتون کو 6 ماہ قید اور 36 ہزار ڈالر جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔</p>

<p>مذکورہ مقدمے نے بین الاقوامی توجہ حاصل کرلی تھی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بائق نوریل کی انصاف کے حصول کی جدو جہد کی حمایت کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1107669</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Jul 2019 14:34:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/07/5d3ab2b60b5aa.jpg?r=557515341" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/07/5d3ab2b60b5aa.jpg?r=288060129"/>
        <media:title>37 سالہ بائق نوریل مکنون کو 6 ماہ قید اور 36 ہزار ڈالر کی سزا سنائی گئی تھی—تصویر: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
