<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 14:05:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 14:05:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خوراک کی برآمدات میں 7 سال میں صرف ساڑھے 8 فیصد اضافہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1107822/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی خوراک کی برآمدات سال 12-2011 میں 4 ارب 25 کروڑ ڈالر کے قریب تھی لیکن 7 سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی اس میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا اور یہ 4 ارب 61 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کے بزنس اینڈ فائنانس سیکشن کی ایک &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1496834/something-is-wrong-with-our-food-exports"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق 12-2011 کے 7 سال بعد ملک کی خوراک کی برآمدات میں صرف 36 کروڑ ڈالر یا 8.5 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہی نہیں بلکہ 18-2017 کے 4 ارب 80 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 19-2018 میں خوراک کی برآمدات میں 4 فیصد کمی ہوئی اور یہ 4 ارب 61 کروڑ ڈالر تک آگئی۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;زیادہ پریشان کن امر یہ ہے کہ گزشتہ 7 برس میں خوراک کی برآمدات 3 ارب 70 کروڑ ڈالر سے 4 ارب 80 کروڑ ڈالر کے درمیان گھومتی رہیں اور 5 ارب ڈالر کے اس تصوراتی ہدف تک کبھی نہیں پہنچ سکیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106907"&gt;پاکستان برآمدات کے ہدف سے 5 ارب ڈالر دور، ادارہ شماریات&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خوراک کی برآمدات میں چاول سب سے زیادہ آمدن کا ذریعہ ہے، اگر واپس 12-2011 پر نظر ڈالیں تو چاول کی برآمدات کی آمدنی 2 ارب ڈالر کے تصوراتی ہدف تک پہنچ گئی تھی لیکن اس کے بعد سے ہم اس سطح کے قریب ہی ہیں اور اس حوالے سے کہیں کچھ غلط ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خوراک کی برآمدات کو 6 ارب ڈالر تک پہنچایا اور اسی سطح کو برقرار رکھنا اتنا مشکل نہیں جتنا ناموافق ترجیحات اور عملی سوچ کے فقدان نے اسے بنا دیا ہے، اسی طرح چاول کی برآمدی آمدنی کو ڈھائی ارب ڈالر سے 3 ارب ڈالر تک بڑھانا اتنا مشکل نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اس کے لیے ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو پائیدار تعلقات قائم کرنے اور کچھ بہت ضروری عملی اور جامع اقدامات کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہ دونوں چیزیں نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان کام کرنے کے تعلقات خراب ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں اقتصادی فیصلہ سازی مجموعی طور پر دوچار ہے، زراعت اور خوراک کی برآمدات کو کوئی چھوٹ حاصل نہیں ہے جبکہ دوسری جانب ہماری وسائل کی کمی کا شکار معیشت ایک اہم دور سے گزر رہی ہے اور یہ امید ہے کہ مستقبل قریب میں چیزیں ڈرامائی طور پر بہتر ہوجائیں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم ایک امید ضرور ہے کہ بہتر احساس غالب آئے گا اور حکومت زمینی حقائق کے ساتھ اقتصادی فیصلہ سازی کو مرتب کرے گی برآمدات کو بڑھانے کے لیے جو ہوسکے گا وہ کرے گی، جیسا کہ خوراک کی برآمدات ترجیح ہوجائے گی اور اسی شعبے میں پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا آغاز کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خوراک کی برآمدات کو بڑھانے کے لیے پہلی چیز یہ ہے کہ ہم مقامی خوراک کی سیکیورٹی کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں، دوسری چیز برآمدی غذائی اشیا کو بڑھانے اور مزید ویلیو ایڈیشن کی جانب بڑھنے سے متعلق ہے جبکہ تیسری چیز عالمی منڈیوں تک ہماری رسائی کو بڑھانے کے بارے میں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تقریباً 2 فیصد آبادی میں اضافے کی شرح کے ساتھ ہی ہماری مقامی غذائی ضروریات تیزی سے بڑھ رہی ہیں جبکہ قابل کاشت زمین کو بڑھانے میں ناکامی اور مسلسل پانی کی کمی چاول کی پیداوار کی ہماری صلاحیت کو محدود کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم ہر سال چاول کی برآمدات کو ایک مناسب شرح تک چاہتے ہیں تو ہمیں چاول کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کرنا ہوگا، اس کے علاوہ ہمیں تیزی سے برآمد شدہ برانڈڈ چاول اور چاول سے بنی اشیا کی جانب بڑھنے کی بھی ضرورت ہے، دونوں صورت میں بہتری آئے گی لیکن اس کی رفتار سست ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1107162"&gt;حکومت کا گندم کی برآمدات پر پابندی لگانے کا فیصلہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب گندم اور چینی کی برآمدات بھی اسی رجحان کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں، جس کو پورا کرنے کے لیے زیادہ غذائی فصلوں کی پیداوار اور خام غذائی برآمدات میں ویلیو ایڈیشن کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چاول، گندم اور چینی کی زائد مقدار کو برآمد کرکے زیادہ ڈالر کمانا مقامی سطح پر مہنگائی کا بھی باعث بنا ہے اور کبھی کبھار یہ اشیا آبادی کے غریب طبقے کے لیے بہت زیادہ مہنگے ہوجاتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لہٰذا مہنگائی کے پیش نظر مستقبل برآمدی خوراک کی برانڈنگ اور خوراک کی پیداوار میں مزید بہتری کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھر پنجاب اور سندھ کے مختلف حصوں میں سبزیوں اور پھلوں کی جدید طریقے سے کاشت کاری کے باوجود ان کی مشترکہ برآمدات کی کمائی 70 کروڑ ڈالر سے کم ہے اور ہم نے 19-2018 میں 7 لاکھ 68 ہزار ٹن پھل اور تقریباً 10 لاکھ 30 ہزار ٹن سبزیوں کی برآمدات سے 70 کروڑ ڈالر سے بھی کم کمائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی خوراک کی برآمدات سال 12-2011 میں 4 ارب 25 کروڑ ڈالر کے قریب تھی لیکن 7 سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی اس میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا اور یہ 4 ارب 61 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی۔</strong></p>

<p>ڈان اخبار کے بزنس اینڈ فائنانس سیکشن کی ایک <a href="https://www.dawn.com/news/1496834/something-is-wrong-with-our-food-exports"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق 12-2011 کے 7 سال بعد ملک کی خوراک کی برآمدات میں صرف 36 کروڑ ڈالر یا 8.5 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔</p>

<p>یہی نہیں بلکہ 18-2017 کے 4 ارب 80 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 19-2018 میں خوراک کی برآمدات میں 4 فیصد کمی ہوئی اور یہ 4 ارب 61 کروڑ ڈالر تک آگئی۔  </p>

<p>زیادہ پریشان کن امر یہ ہے کہ گزشتہ 7 برس میں خوراک کی برآمدات 3 ارب 70 کروڑ ڈالر سے 4 ارب 80 کروڑ ڈالر کے درمیان گھومتی رہیں اور 5 ارب ڈالر کے اس تصوراتی ہدف تک کبھی نہیں پہنچ سکیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106907">پاکستان برآمدات کے ہدف سے 5 ارب ڈالر دور، ادارہ شماریات</a></strong></p>

<p>خوراک کی برآمدات میں چاول سب سے زیادہ آمدن کا ذریعہ ہے، اگر واپس 12-2011 پر نظر ڈالیں تو چاول کی برآمدات کی آمدنی 2 ارب ڈالر کے تصوراتی ہدف تک پہنچ گئی تھی لیکن اس کے بعد سے ہم اس سطح کے قریب ہی ہیں اور اس حوالے سے کہیں کچھ غلط ہے۔</p>

<p>خوراک کی برآمدات کو 6 ارب ڈالر تک پہنچایا اور اسی سطح کو برقرار رکھنا اتنا مشکل نہیں جتنا ناموافق ترجیحات اور عملی سوچ کے فقدان نے اسے بنا دیا ہے، اسی طرح چاول کی برآمدی آمدنی کو ڈھائی ارب ڈالر سے 3 ارب ڈالر تک بڑھانا اتنا مشکل نہیں۔</p>

<p>تاہم اس کے لیے ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو پائیدار تعلقات قائم کرنے اور کچھ بہت ضروری عملی اور جامع اقدامات کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہ دونوں چیزیں نہیں ہیں۔</p>

<p>پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان کام کرنے کے تعلقات خراب ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں اقتصادی فیصلہ سازی مجموعی طور پر دوچار ہے، زراعت اور خوراک کی برآمدات کو کوئی چھوٹ حاصل نہیں ہے جبکہ دوسری جانب ہماری وسائل کی کمی کا شکار معیشت ایک اہم دور سے گزر رہی ہے اور یہ امید ہے کہ مستقبل قریب میں چیزیں ڈرامائی طور پر بہتر ہوجائیں گی۔</p>

<p>تاہم ایک امید ضرور ہے کہ بہتر احساس غالب آئے گا اور حکومت زمینی حقائق کے ساتھ اقتصادی فیصلہ سازی کو مرتب کرے گی برآمدات کو بڑھانے کے لیے جو ہوسکے گا وہ کرے گی، جیسا کہ خوراک کی برآمدات ترجیح ہوجائے گی اور اسی شعبے میں پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا آغاز کیا جائے گا۔</p>

<p>خوراک کی برآمدات کو بڑھانے کے لیے پہلی چیز یہ ہے کہ ہم مقامی خوراک کی سیکیورٹی کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں، دوسری چیز برآمدی غذائی اشیا کو بڑھانے اور مزید ویلیو ایڈیشن کی جانب بڑھنے سے متعلق ہے جبکہ تیسری چیز عالمی منڈیوں تک ہماری رسائی کو بڑھانے کے بارے میں ہے۔</p>

<p>تقریباً 2 فیصد آبادی میں اضافے کی شرح کے ساتھ ہی ہماری مقامی غذائی ضروریات تیزی سے بڑھ رہی ہیں جبکہ قابل کاشت زمین کو بڑھانے میں ناکامی اور مسلسل پانی کی کمی چاول کی پیداوار کی ہماری صلاحیت کو محدود کر رہی ہے۔</p>

<p>اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم ہر سال چاول کی برآمدات کو ایک مناسب شرح تک چاہتے ہیں تو ہمیں چاول کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کرنا ہوگا، اس کے علاوہ ہمیں تیزی سے برآمد شدہ برانڈڈ چاول اور چاول سے بنی اشیا کی جانب بڑھنے کی بھی ضرورت ہے، دونوں صورت میں بہتری آئے گی لیکن اس کی رفتار سست ہوگی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1107162">حکومت کا گندم کی برآمدات پر پابندی لگانے کا فیصلہ</a></strong></p>

<p>دوسری جانب گندم اور چینی کی برآمدات بھی اسی رجحان کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں، جس کو پورا کرنے کے لیے زیادہ غذائی فصلوں کی پیداوار اور خام غذائی برآمدات میں ویلیو ایڈیشن کی ضرورت ہے۔</p>

<p>چاول، گندم اور چینی کی زائد مقدار کو برآمد کرکے زیادہ ڈالر کمانا مقامی سطح پر مہنگائی کا بھی باعث بنا ہے اور کبھی کبھار یہ اشیا آبادی کے غریب طبقے کے لیے بہت زیادہ مہنگے ہوجاتی ہیں۔</p>

<p>لہٰذا مہنگائی کے پیش نظر مستقبل برآمدی خوراک کی برانڈنگ اور خوراک کی پیداوار میں مزید بہتری کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>

<p>ادھر پنجاب اور سندھ کے مختلف حصوں میں سبزیوں اور پھلوں کی جدید طریقے سے کاشت کاری کے باوجود ان کی مشترکہ برآمدات کی کمائی 70 کروڑ ڈالر سے کم ہے اور ہم نے 19-2018 میں 7 لاکھ 68 ہزار ٹن پھل اور تقریباً 10 لاکھ 30 ہزار ٹن سبزیوں کی برآمدات سے 70 کروڑ ڈالر سے بھی کم کمائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1107822</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Jul 2019 12:20:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محی الدین اعظم)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/07/5d3e87b4b1d51.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/07/5d3e87b4b1d51.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/07/5d3e881daf9a4.gif" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/07/5d3e881daf9a4.gif"/>
        <media:title>چاول سے سب سے زیادہ کمانے کے باوجود اس کی برآمدات نہیں بڑھا سکے— فائل فوٹو:اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
