<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 14:35:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 14:35:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف بی آر نے ڈاکٹرز، سرجنز کی آمدنی کی تفصیلات طلب کرلیں
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1107988/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے شہر کے بڑے ہسپتالوں اور طبی مراکز سے منسلک ڈاکٹرز اور سرجنز کی آمدنی کی تفصیلات طلب کرلیں جو اچھی آمد کے باوجود انکم ٹیکس جمع نہیں کرواتے، اس اقدام کے پسِ پردہ مقاصد کے حوالے سے ڈاکٹرز میں حیرانی پائی جاتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمشنر ان لینڈ ریونیو  کے نام ایف بی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں شہر کے 30 سرکاری و نجی ہسپتالوں کی فہرست دی گئی ہے تاکہ وہاں موجود تمام طبی معالجین کی تفصیلات حاصل کر کے ان کی خود کی فراہم کی گئی معلومات سے موازنہ کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ تمام شعبوں اور پیشوں کو دستاویزی شکل دینے کے سلسلے میں نوٹسز جاری کردیے گئے ہیں جس کے لیے پہلے مرحلے کا آغاز کراچی سے کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106956"&gt;'سندھ کے 76 ہزار سینیئر سرکاری افسران ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کرتے'&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت قابلِ ٹیکس آمدنی کے حامل افراد کو اپنا ٹیکس ریٹرن فائل کرنا ضروری ہے، ہم نان فائلر ڈاکٹر کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے ملک بھر کے تمام ہسپتالوں کو نوٹسز بھجوائیں گے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف بی آر کے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ’نئے ٹیکس دہندگان کے شناختی عمل کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے رجسٹرڈ ڈاکٹرز اور سرجنز کی ایک بڑی تعداد کراچی میں اچھی آمدن حاصل کررہی ہے لیکن اپنے انکم ٹیکس ادا نہیں کررہی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چنانچہ نئے ٹیکس دہندگان کی تلاش میں ایف بی آر نے دفعہ 176 کے تحت مندرجہ ذیل ہسپتالوں کو وہاں پریکٹس کرنے والے ڈاکٹرز ان کی آمدنی اور دیگر متعلقہ معلومات فراہم کرنے کے لیے نوٹس بھیجا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1107917"&gt;بجلی کے 32 لاکھ صارفین کا انکم اور سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ نہ ہونے کا انکشاف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف بی آر  نے جن ہسپتالوں کو نوٹسز بھیجے ہیں ان میں مام جی ہسپتال، ڈاؤ یونورسٹی ہسپتال، انڈس ہسپتال، نیشنل میڈیکل سینٹر، انکل سریا ہسپتال، ابنِ سینا ہسپتال، لائف کیئر کنسلٹنٹ کلینک، کراچی ایڈوینٹسٹ ہسپتال، نہال ہسپتال، اے او کلینک، دارالصحت ہسپتال، آغا خان یونیورسٹی ہسپتال، عثمانیہ یونیورسٹی ہسپتال، جناح ہسپتال، او ایم آئی ہسپتال، فاطمیہ ہسپتال، زلیخا ہسپتال، مڈ سٹی ہسپتال، اشفاق میموریل ہسپتال، حبیب میڈیکل سینٹر، ہاشمانیز ہسپتال سیفی ہسپتال، ہیلتھ کیئر ہسپتال، پارک لین ہسپتال، لیاقت نیشنل ہسپتال، تاج میڈیکل کمپلیکس، ضیاالدین میڈیکل سینٹر ہسپتال اور ایس آئی یو ٹی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں محکمہ صحت سندھ کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ انہیں اس اقدام کا علم ہوا ہے تاہم وہ اس میں ڈاکٹروں کے حوالے سے تفصیلات کے حصول اور پسِ پردہ مقاصد کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ سرکاری و نجی ہسپتالوں سے منسلک ڈاکٹرز باقاعدگی سے ٹیکس دیتے ہیں اور بہت سے اداروں میں تنخواہیں دیتے وقت اسے جبراً منہا کرلیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1107775"&gt;ایف بی آر کا ایک لاکھ نان فائلرز کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے ایک سینئر عہدیدار سے جب اس سلسلے میں رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے تبصرے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایف بی آر کی جانب سے اب تک کوئی درخواست یا انتباہ موصول نہیں ہوا چنانچہ اس وقت اس پر بات کرنا نامناسب ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر یکم اگست 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے شہر کے بڑے ہسپتالوں اور طبی مراکز سے منسلک ڈاکٹرز اور سرجنز کی آمدنی کی تفصیلات طلب کرلیں جو اچھی آمد کے باوجود انکم ٹیکس جمع نہیں کرواتے، اس اقدام کے پسِ پردہ مقاصد کے حوالے سے ڈاکٹرز میں حیرانی پائی جاتی ہے۔</strong></p>

<p>کمشنر ان لینڈ ریونیو  کے نام ایف بی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں شہر کے 30 سرکاری و نجی ہسپتالوں کی فہرست دی گئی ہے تاکہ وہاں موجود تمام طبی معالجین کی تفصیلات حاصل کر کے ان کی خود کی فراہم کی گئی معلومات سے موازنہ کیا جاسکے۔</p>

<p>ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ تمام شعبوں اور پیشوں کو دستاویزی شکل دینے کے سلسلے میں نوٹسز جاری کردیے گئے ہیں جس کے لیے پہلے مرحلے کا آغاز کراچی سے کیا گیا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106956">'سندھ کے 76 ہزار سینیئر سرکاری افسران ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کرتے'</a></strong> </p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت قابلِ ٹیکس آمدنی کے حامل افراد کو اپنا ٹیکس ریٹرن فائل کرنا ضروری ہے، ہم نان فائلر ڈاکٹر کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے ملک بھر کے تمام ہسپتالوں کو نوٹسز بھجوائیں گے‘۔</p>

<p>ایف بی آر کے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ’نئے ٹیکس دہندگان کے شناختی عمل کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے رجسٹرڈ ڈاکٹرز اور سرجنز کی ایک بڑی تعداد کراچی میں اچھی آمدن حاصل کررہی ہے لیکن اپنے انکم ٹیکس ادا نہیں کررہی۔</p>

<p>چنانچہ نئے ٹیکس دہندگان کی تلاش میں ایف بی آر نے دفعہ 176 کے تحت مندرجہ ذیل ہسپتالوں کو وہاں پریکٹس کرنے والے ڈاکٹرز ان کی آمدنی اور دیگر متعلقہ معلومات فراہم کرنے کے لیے نوٹس بھیجا ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1107917">بجلی کے 32 لاکھ صارفین کا انکم اور سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ نہ ہونے کا انکشاف</a></strong></p>

<p>ایف بی آر  نے جن ہسپتالوں کو نوٹسز بھیجے ہیں ان میں مام جی ہسپتال، ڈاؤ یونورسٹی ہسپتال، انڈس ہسپتال، نیشنل میڈیکل سینٹر، انکل سریا ہسپتال، ابنِ سینا ہسپتال، لائف کیئر کنسلٹنٹ کلینک، کراچی ایڈوینٹسٹ ہسپتال، نہال ہسپتال، اے او کلینک، دارالصحت ہسپتال، آغا خان یونیورسٹی ہسپتال، عثمانیہ یونیورسٹی ہسپتال، جناح ہسپتال، او ایم آئی ہسپتال، فاطمیہ ہسپتال، زلیخا ہسپتال، مڈ سٹی ہسپتال، اشفاق میموریل ہسپتال، حبیب میڈیکل سینٹر، ہاشمانیز ہسپتال سیفی ہسپتال، ہیلتھ کیئر ہسپتال، پارک لین ہسپتال، لیاقت نیشنل ہسپتال، تاج میڈیکل کمپلیکس، ضیاالدین میڈیکل سینٹر ہسپتال اور ایس آئی یو ٹی شامل ہیں۔</p>

<p>اس ضمن میں محکمہ صحت سندھ کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ انہیں اس اقدام کا علم ہوا ہے تاہم وہ اس میں ڈاکٹروں کے حوالے سے تفصیلات کے حصول اور پسِ پردہ مقاصد کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ سرکاری و نجی ہسپتالوں سے منسلک ڈاکٹرز باقاعدگی سے ٹیکس دیتے ہیں اور بہت سے اداروں میں تنخواہیں دیتے وقت اسے جبراً منہا کرلیا جاتا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1107775">ایف بی آر کا ایک لاکھ نان فائلرز کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ</a></strong></p>

<p>پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے ایک سینئر عہدیدار سے جب اس سلسلے میں رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے تبصرے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایف بی آر کی جانب سے اب تک کوئی درخواست یا انتباہ موصول نہیں ہوا چنانچہ اس وقت اس پر بات کرنا نامناسب ہے۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر یکم اگست 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1107988</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Aug 2019 09:51:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمران ایوب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/08/5d4255ce29dde.jpg?r=1867698974" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/08/5d4255ce29dde.jpg?r=1746810260"/>
        <media:title>تمام شعبوں اور پیشوں کو دستاویزی شکل دینے کے سلسلے میں نوٹسز جاری کردیے گئے ہیں — تصویر: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
