<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 18:37:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 18:37:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تجارتی جنگ: امریکا کا چینی مصنوعات پر نیا ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1108125/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے ساتھ جاری تجارتی جنگ کو مزید بڑھاتے ہوئے چینی مصنوعات پر نیا 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی ایک &lt;a href="https://www.bbc.com/news/business-49199559"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی تجارتی جنگ میں چین کی 300 ارب ڈالر کی مزید مصنوعات پر 10 فیصد نیا ٹیرف نافذ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ اعلان دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ مذاکرات کے حالیہ دور کے بعد سامنے آیا، جس میں پیش رفت کی تھوڑی علامت ظاہر ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1107978"&gt;چین-امریکا تعمیری ملاقات کے بعد مزید تجارتی مذاکرات کیلئے تیار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک ٹوئٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ یکم ستمبر سے امریکا اپنے ملک میں آنے والی 300 ارب ڈالر کی چینی اشیا اور مصنوعات پر اضافی 10 فیصد ٹیرف لگائے گا اور اس میں 250 ارب ڈالر کی وہ مصنوعات نہیں ہوں گی جس پر ٹیرف پہلے ہی 25 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/realDonaldTrump/status/1156979446877962243?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1156979446877962243&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.bbc.com%2Fnews%2Fbusiness-49199559"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یکم ستمبر سے نافذالعمل ہونے والے نئے ٹیرف سے امریکا کے لیے تمام چینی درآمدات پر موثر طریقے سے ٹیکس لگ جائے گا، یہ ڈیوٹی ممکنہ طور پر اسمارٹ فون سے لے کر کپڑوں تک اشیا کی وسیع تعداد کو ہدف بنائے گی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے امریکا کے اقدام پر سخت تنقید کی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بینکاک میں جنوب مشرقی ایشیائی وزرا سے غیر رسمی ملاقات کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ٹیرف میں اضافہ اقتصادی اور تجارتی لڑائی کے حل کے لیے تعمیری راستہ نہیں ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں امریکی صدر نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھی اس معاملے کو دہرایا اور کہا کہ 10 فیصد ٹیرف قلیل مدتی اقدامات ہیں اور یہ ٹیرف مرحلہ وار 25 فیصد تک مزید بڑھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ ’اس معاملے پر کسی کو بہت پہلے ہی چین کے ساتھ ایسا کردینا چاہیے تھا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھر امریکی صدر کی جانب سے چینی درآمدات پر مزید نئے ٹیرف لگانے کے فیصلے کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بھی مندی دیکھنے میں آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d60222bd897c'&gt;اسٹاک مارکیٹس میں مندی&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;بی بی سی کی ایک اور &lt;a href="https://www.bbc.com/news/business-49203034"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یورپ اور ایشیا میں شدید مندی کے بعد تین اہم امریکی انڈیکسز میں 1 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے خبردار کیا امریکا کی جانب سے ڈیوٹیز کے نفاذ پر چین ردعمل دے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’اگر امریکا ٹیرف اقدامات پر عمل درآمد کرتا ہے تو چین اپنے ملک اور عوام کے مفادات کے دفاع کے لیے جوابی اقدامات کرے گا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم انہوں نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ یہ اقدامات کیا ہوسکتے ہیں لیکن رواں سال کے اوائل میں چین نے اشارہ دیا تھا کہ وہ امریکا کے لیے نایاب زمینی معدنیات کی برآمدات کو روک سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094536/"&gt;تجارتی کشیدگی کے باوجود چین اور امریکا باہمی تعاون بڑھانے کیلئے پُرعزم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ چین نایاب زمینی معدنیات پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور یہ مصنوعات امریکی صنعتوں جیسے الیکٹرک کار مینوفکچرنگ اور ونڈ ٹربائن پیداوار میں بہت اہمیت کی حامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ جون 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے 50 ارب ڈالر کی چینی درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف متعارف کرایا تھا جس کی وجہ سے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی تنازع پیدا ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں چین نے ردعمل کے طور پر 128امریکی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی میں 25 فیصد تک اضافہ کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے ساتھ جاری تجارتی جنگ کو مزید بڑھاتے ہوئے چینی مصنوعات پر نیا 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا۔</p>

<p>برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی ایک <a href="https://www.bbc.com/news/business-49199559"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی تجارتی جنگ میں چین کی 300 ارب ڈالر کی مزید مصنوعات پر 10 فیصد نیا ٹیرف نافذ کیا جائے گا۔</p>

<p>یہ اعلان دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ مذاکرات کے حالیہ دور کے بعد سامنے آیا، جس میں پیش رفت کی تھوڑی علامت ظاہر ہوئی تھی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1107978">چین-امریکا تعمیری ملاقات کے بعد مزید تجارتی مذاکرات کیلئے تیار</a></strong></p>

<p>سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک ٹوئٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ یکم ستمبر سے امریکا اپنے ملک میں آنے والی 300 ارب ڈالر کی چینی اشیا اور مصنوعات پر اضافی 10 فیصد ٹیرف لگائے گا اور اس میں 250 ارب ڈالر کی وہ مصنوعات نہیں ہوں گی جس پر ٹیرف پہلے ہی 25 فیصد ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/realDonaldTrump/status/1156979446877962243?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1156979446877962243&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.bbc.com%2Fnews%2Fbusiness-49199559"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>یکم ستمبر سے نافذالعمل ہونے والے نئے ٹیرف سے امریکا کے لیے تمام چینی درآمدات پر موثر طریقے سے ٹیکس لگ جائے گا، یہ ڈیوٹی ممکنہ طور پر اسمارٹ فون سے لے کر کپڑوں تک اشیا کی وسیع تعداد کو ہدف بنائے گی۔ </p>

<p>دوسری جانب چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے امریکا کے اقدام پر سخت تنقید کی ہے۔</p>

<p>بینکاک میں جنوب مشرقی ایشیائی وزرا سے غیر رسمی ملاقات کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ٹیرف میں اضافہ اقتصادی اور تجارتی لڑائی کے حل کے لیے تعمیری راستہ نہیں ہے‘۔</p>

<p>علاوہ ازیں امریکی صدر نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھی اس معاملے کو دہرایا اور کہا کہ 10 فیصد ٹیرف قلیل مدتی اقدامات ہیں اور یہ ٹیرف مرحلہ وار 25 فیصد تک مزید بڑھ سکتا ہے۔</p>

<p>ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ ’اس معاملے پر کسی کو بہت پہلے ہی چین کے ساتھ ایسا کردینا چاہیے تھا‘۔</p>

<p>ادھر امریکی صدر کی جانب سے چینی درآمدات پر مزید نئے ٹیرف لگانے کے فیصلے کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بھی مندی دیکھنے میں آئی۔</p>

<h3 id='5d60222bd897c'>اسٹاک مارکیٹس میں مندی</h3>

<p>بی بی سی کی ایک اور <a href="https://www.bbc.com/news/business-49203034"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق یورپ اور ایشیا میں شدید مندی کے بعد تین اہم امریکی انڈیکسز میں 1 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی۔</p>

<p>اس حوالے سے چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے خبردار کیا امریکا کی جانب سے ڈیوٹیز کے نفاذ پر چین ردعمل دے گا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ’اگر امریکا ٹیرف اقدامات پر عمل درآمد کرتا ہے تو چین اپنے ملک اور عوام کے مفادات کے دفاع کے لیے جوابی اقدامات کرے گا‘۔</p>

<p>تاہم انہوں نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ یہ اقدامات کیا ہوسکتے ہیں لیکن رواں سال کے اوائل میں چین نے اشارہ دیا تھا کہ وہ امریکا کے لیے نایاب زمینی معدنیات کی برآمدات کو روک سکتا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094536/">تجارتی کشیدگی کے باوجود چین اور امریکا باہمی تعاون بڑھانے کیلئے پُرعزم</a></strong></p>

<p>واضح رہے کہ چین نایاب زمینی معدنیات پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور یہ مصنوعات امریکی صنعتوں جیسے الیکٹرک کار مینوفکچرنگ اور ونڈ ٹربائن پیداوار میں بہت اہمیت کی حامل ہیں۔</p>

<p>یاد رہے کہ جون 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے 50 ارب ڈالر کی چینی درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف متعارف کرایا تھا جس کی وجہ سے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی تنازع پیدا ہوگیا تھا۔</p>

<p>بعد ازاں چین نے ردعمل کے طور پر 128امریکی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی میں 25 فیصد تک اضافہ کر دیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1108125</guid>
      <pubDate>Fri, 23 Aug 2019 22:28:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/08/5d448f4c38b04.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/08/5d448f4c38b04.jpg"/>
        <media:title>دونوں ممالک کے درمیان کافی عرصے سے تجارتی جنگ دیکھنے میں آرہی ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
