<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:38:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 19:38:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'طالبان کےساتھ غیر ملکی افواج کے انخلا کا نہیں امن معاہدہ چاہتے ہیں'
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1108145/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ غیر ملکی افواج کے انخلا کا نہیں امن کا معاہدہ چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دورہ پاکستان مکمل کرنے کے بعد طالبان سے مذاکرات کے لیے دوحہ پہنچنے پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے زلمے خلیل زاد نے کہا کہ 'ہم طالبان کے ساتھ غیر ملکی افواج کے انخلا کا نہیں امن کا معاہدہ چاہتے ہیں، ایسا امن معاہدہ جس سے فوج کا انخلا ممکن ہو سکے۔'&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 'افغانستان میں امریکا کی موجودگی مشروط ہے اور کوئی بھی انخلا مشروط ہوگا۔'&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/US4AfghanPeace/status/1157352611240189953"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ طالبان اشارہ دے رہے ہیں کہ وہ معاہدہ چاہتے ہیں، ہم بھی طالبان کے ساتھ اچھے معاہدے کے لیے تیار ہیں۔'&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/US4AfghanPeace/status/1157352639132131328"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد دو روزہ دورے پر یکم اگست کو پاکستان پہنچے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنے دورے کے دوران زلمے خلیل زاد نے وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108119"&gt;&lt;strong&gt;ملاقاتیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کیں اور افغان امن عمل میں مثبت پیش رفت اور آئندہ کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1107625"&gt;دورہ پاکستان کی دعوت ملی تو قبول کریں گے، افغان طالبان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ انہوں نے عمل کی حمایت میں پاکستان کے ادا کیے گئے کردار اور مستقبل میں پاکستان کی جانب سے ممکنہ طور پر اضافی مثبت اقدام پر بھی تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ افغانستان میں 17 سال سے زائد عرصے سے جاری طویل جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کوششوں میں مصروف ہے اور اس سلسلے میں اس کے طالبان سے مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان مذاکرات میں افغان حکومت کو شامل نہیں کیا گیا کیونکہ طالبان انہیں کٹھ پتلی حکومت کہتے ہیں اور وہ براہ راست امریکا سے مذاکرات کا مطالبہ کرتے آئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108042"&gt;افغان امن عمل: امریکی نمائندہ خصوصی کی پاکستان کے وزیر خارجہ سے ملاقات&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار بہت اہم رہا ہے اور وہ افغانستان میں پائیدار اور مستقل امن اور افغان تنازع کے حل کے لیے اپنی کوششیں کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی ضمن میں حال ہی میں امریکا کے دورے کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے واشنگٹن میں کہا تھا کہ وہ وطن واپس پہنچ کر &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1107396"&gt;&lt;strong&gt;افغان طالبان سے ملاقات کر کے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; انہیں امن مذاکرات کے لیے قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ غیر ملکی افواج کے انخلا کا نہیں امن کا معاہدہ چاہتے ہیں۔</p>

<p>دورہ پاکستان مکمل کرنے کے بعد طالبان سے مذاکرات کے لیے دوحہ پہنچنے پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے زلمے خلیل زاد نے کہا کہ 'ہم طالبان کے ساتھ غیر ملکی افواج کے انخلا کا نہیں امن کا معاہدہ چاہتے ہیں، ایسا امن معاہدہ جس سے فوج کا انخلا ممکن ہو سکے۔'</p>

<p>انہوں نے کہا کہ 'افغانستان میں امریکا کی موجودگی مشروط ہے اور کوئی بھی انخلا مشروط ہوگا۔'</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/US4AfghanPeace/status/1157352611240189953"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ طالبان اشارہ دے رہے ہیں کہ وہ معاہدہ چاہتے ہیں، ہم بھی طالبان کے ساتھ اچھے معاہدے کے لیے تیار ہیں۔'</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/US4AfghanPeace/status/1157352639132131328"></a>
            </blockquote>
            </div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>واضح رہے کہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد دو روزہ دورے پر یکم اگست کو پاکستان پہنچے تھے۔</p>

<p>اپنے دورے کے دوران زلمے خلیل زاد نے وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108119"><strong>ملاقاتیں</strong></a> کیں اور افغان امن عمل میں مثبت پیش رفت اور آئندہ کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1107625">دورہ پاکستان کی دعوت ملی تو قبول کریں گے، افغان طالبان</a></strong></p>

<p>اس کے علاوہ انہوں نے عمل کی حمایت میں پاکستان کے ادا کیے گئے کردار اور مستقبل میں پاکستان کی جانب سے ممکنہ طور پر اضافی مثبت اقدام پر بھی تبادلہ خیال کیا۔</p>

<p>یاد رہے کہ افغانستان میں 17 سال سے زائد عرصے سے جاری طویل جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کوششوں میں مصروف ہے اور اس سلسلے میں اس کے طالبان سے مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں۔</p>

<p>ان مذاکرات میں افغان حکومت کو شامل نہیں کیا گیا کیونکہ طالبان انہیں کٹھ پتلی حکومت کہتے ہیں اور وہ براہ راست امریکا سے مذاکرات کا مطالبہ کرتے آئے تھے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108042">افغان امن عمل: امریکی نمائندہ خصوصی کی پاکستان کے وزیر خارجہ سے ملاقات</a></strong></p>

<p>تاہم اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار بہت اہم رہا ہے اور وہ افغانستان میں پائیدار اور مستقل امن اور افغان تنازع کے حل کے لیے اپنی کوششیں کر رہا ہے۔</p>

<p>اسی ضمن میں حال ہی میں امریکا کے دورے کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے واشنگٹن میں کہا تھا کہ وہ وطن واپس پہنچ کر <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1107396"><strong>افغان طالبان سے ملاقات کر کے</strong></a> انہیں امن مذاکرات کے لیے قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1108145</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Aug 2019 11:50:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/08/5d452cf41dc7c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/08/5d452cf41dc7c.jpg"/>
        <media:title>افغانستان میں امریکا کی موجودگی مشروط ہے اور کوئی بھی انخلا مشروط ہوگا،امریکی نمائندہ خصوصی — فائل فوٹو / اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
