<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 02:51:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 02:51:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی سی بی کو پہلے اپنا گھر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، عامر سہیل
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1108232/</link>
      <description>&lt;p&gt;قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عامر سہیل نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے ڈومیسٹک کرکٹ میں اداروں کے خاتمے کے منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بورڈ کو پہلے اپنا گھر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1497916/pcb-first-needs-to-put-its-own-house-in-order-aamir-sohail"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق لاہور میں ڈار ہاکی اکیڈمی کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عامر سہیل کا کہنا تھا کہ ‘پی سی بی صرف ایک شخص کی خواہش پر 6 صوبائی ٹیموں پر مشتمل ڈومیسٹک اسٹرکچر بنانے کا سوچ رہا ہے لیکن یہ صرف بیان ہے کیونکہ حقیقت میں پاکستان میں ٹیلنٹ کی بہتات ہے لیکن نئے ڈھانچے میں آپ اس کو محدود کرنے جا رہے ہیں جو کارآمد نہیں ہوگا’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سابق چیف سلیکٹر نے کہا کہ ‘ادارہ جاتی ٹیمیں ماضی میں کسی حکومت نہیں بنائی تھیں بلکہ ریاستی پالیسی کے تحت بنائی گئی تھیں اس لیے جب آپ ریاستی پالیسی کو بدلنے جارہے ہوں تو آپ کو پارلیمان میں بحث کے ذریعے ایسا کرنا ہوگا’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106290"&gt;وزیراعظم نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے ڈھانچے کی منظوری دے دی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;طریقہ کار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘6 ٹیموں کے منصوبے کو پہلے پی سی بی کی جنرل باڈی کے سامنے رکھنا چاہیے اور اس کے بعد بورڈ آف گورنرز کے سامنے رکھنا چاہیے اور آخر میں اس کو حکومت کے پاس بھیجنا چاہیے لیکن بدقسمتی سے صرف ایک شخص کی خواہش پر ایک ریاستی پالیسی کو تبدیل کرنے کے لیے تمام غیرآئینی راستے اپنائے جارہے ہیں’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘2004 میں فرسٹ کلاس کرکٹ میں ہم نے 7 ٹیموں کا تجربہ کیا تھا جس کے بعد بتدریج ٹیموں میں اضافہ ہوا ہے اور اب اس کی تعداد 16 ہوگئی ہے اس کی وجہ عوم میں کھیل کی دلچسپی ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے اداروں کی ٹیموں کو ختم کرنے کے بجائے نظام کو مضبوط کرنے پر زور دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108179/"&gt;کرکٹ کمیٹی کے اجلاس میں سرفراز، انضمام اور ہیڈ کوچ سے باز پرس&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی سی بی کے منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) کی تعنیاتی پر ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک غیر آئینی قدم ہے کیونکہ پی سی بی کے آئین میں اس طرح کا کوئی عہدہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عامر سہیل کا کہنا تھا کہ ‘اگر آپ ایم ڈی کو چیف آپریٹنگ افسر کی جگہ تعینات کررہے ہیں تو پھر چیف آپریٹنگ افسر کیا کررہے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ آپ معاملات پر سمجھوتہ کررہے ہیں اسی وجہ سے میں کہہ رہا ہوں کہ پی سی بی کو تبدیلی کے نام پر کپتان، چیف سلیکٹر یا کوچز کو تبدیل کرنے کے بجائے پہلے خود کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘پی سی بی نے ہی مکی آرتھر، سرفراز احمد اور انضمام الحق کو ان کے عہدوں میں تعینات کیا تھا اور اب وہ عہدیدار کہاں ہیں جنہوں نے یہ تعیناتیاں کی تھیں انہیں جواب دہ ہونا چاہیے تاہم اس پر کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جائے گا اور سمجھوتہ ہوگا’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف سلیکٹر کے طور پر تعیناتی کے حوالے سے گردش کرنے والی خبر کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ وہ موجودہ سیٹ اپ کی موجودگی میں پی سی بی میں شامل نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108183/"&gt;انگلینڈ کے نئے کوچ کے عہدے کیلئے مکی آرتھر بھی امیدوار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سابق چیف سلیکٹر کا کہنا تھا کہ ‘میں اپنا کردار ادا کرنا چاہوں گا لیکن اس طرح کے نظام کے ساتھ نہیں، پی سی بی پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کرے ورنہ گندے نظام کے باعث صرف استعفے کے لیے بورڈ میں شمولیت کی کوئی ضرورت نہیں ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سرفراز احمد کو کپتانی سے ہٹانے کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ان کی جگہ لینے کے لیے کسی کو تیار نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عامر سہیل نے کہا کہ ‘سرفراز کی جگہ لینے کے لیے کس کو تیار کیا گیا، ٹیم میں کوئی نائب کپتان نہیں ہے جو سرفراز کی جگہ لے گا، اسی وجہ سے میں پی سی بی پر زور دے رہا ہوں کہ وہ اپنا گھر ٹھیک کرے’۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عامر سہیل نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے ڈومیسٹک کرکٹ میں اداروں کے خاتمے کے منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بورڈ کو پہلے اپنا گھر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔</p>

<p>ڈان کی <a href="https://www.dawn.com/news/1497916/pcb-first-needs-to-put-its-own-house-in-order-aamir-sohail"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق لاہور میں ڈار ہاکی اکیڈمی کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عامر سہیل کا کہنا تھا کہ ‘پی سی بی صرف ایک شخص کی خواہش پر 6 صوبائی ٹیموں پر مشتمل ڈومیسٹک اسٹرکچر بنانے کا سوچ رہا ہے لیکن یہ صرف بیان ہے کیونکہ حقیقت میں پاکستان میں ٹیلنٹ کی بہتات ہے لیکن نئے ڈھانچے میں آپ اس کو محدود کرنے جا رہے ہیں جو کارآمد نہیں ہوگا’۔</p>

<p>سابق چیف سلیکٹر نے کہا کہ ‘ادارہ جاتی ٹیمیں ماضی میں کسی حکومت نہیں بنائی تھیں بلکہ ریاستی پالیسی کے تحت بنائی گئی تھیں اس لیے جب آپ ریاستی پالیسی کو بدلنے جارہے ہوں تو آپ کو پارلیمان میں بحث کے ذریعے ایسا کرنا ہوگا’۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1106290">وزیراعظم نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے ڈھانچے کی منظوری دے دی</a></strong></p>

<p>طریقہ کار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘6 ٹیموں کے منصوبے کو پہلے پی سی بی کی جنرل باڈی کے سامنے رکھنا چاہیے اور اس کے بعد بورڈ آف گورنرز کے سامنے رکھنا چاہیے اور آخر میں اس کو حکومت کے پاس بھیجنا چاہیے لیکن بدقسمتی سے صرف ایک شخص کی خواہش پر ایک ریاستی پالیسی کو تبدیل کرنے کے لیے تمام غیرآئینی راستے اپنائے جارہے ہیں’۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘2004 میں فرسٹ کلاس کرکٹ میں ہم نے 7 ٹیموں کا تجربہ کیا تھا جس کے بعد بتدریج ٹیموں میں اضافہ ہوا ہے اور اب اس کی تعداد 16 ہوگئی ہے اس کی وجہ عوم میں کھیل کی دلچسپی ہے’۔</p>

<p>انہوں نے اداروں کی ٹیموں کو ختم کرنے کے بجائے نظام کو مضبوط کرنے پر زور دیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108179/">کرکٹ کمیٹی کے اجلاس میں سرفراز، انضمام اور ہیڈ کوچ سے باز پرس</a></strong> </p>

<p>پی سی بی کے منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) کی تعنیاتی پر ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک غیر آئینی قدم ہے کیونکہ پی سی بی کے آئین میں اس طرح کا کوئی عہدہ نہیں ہے۔</p>

<p>عامر سہیل کا کہنا تھا کہ ‘اگر آپ ایم ڈی کو چیف آپریٹنگ افسر کی جگہ تعینات کررہے ہیں تو پھر چیف آپریٹنگ افسر کیا کررہے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ آپ معاملات پر سمجھوتہ کررہے ہیں اسی وجہ سے میں کہہ رہا ہوں کہ پی سی بی کو تبدیلی کے نام پر کپتان، چیف سلیکٹر یا کوچز کو تبدیل کرنے کے بجائے پہلے خود کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے’۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘پی سی بی نے ہی مکی آرتھر، سرفراز احمد اور انضمام الحق کو ان کے عہدوں میں تعینات کیا تھا اور اب وہ عہدیدار کہاں ہیں جنہوں نے یہ تعیناتیاں کی تھیں انہیں جواب دہ ہونا چاہیے تاہم اس پر کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جائے گا اور سمجھوتہ ہوگا’۔</p>

<p>چیف سلیکٹر کے طور پر تعیناتی کے حوالے سے گردش کرنے والی خبر کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ وہ موجودہ سیٹ اپ کی موجودگی میں پی سی بی میں شامل نہیں ہوں گے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108183/">انگلینڈ کے نئے کوچ کے عہدے کیلئے مکی آرتھر بھی امیدوار</a></strong></p>

<p>سابق چیف سلیکٹر کا کہنا تھا کہ ‘میں اپنا کردار ادا کرنا چاہوں گا لیکن اس طرح کے نظام کے ساتھ نہیں، پی سی بی پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کرے ورنہ گندے نظام کے باعث صرف استعفے کے لیے بورڈ میں شمولیت کی کوئی ضرورت نہیں ہے’۔</p>

<p>سرفراز احمد کو کپتانی سے ہٹانے کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ان کی جگہ لینے کے لیے کسی کو تیار نہیں کیا گیا۔</p>

<p>عامر سہیل نے کہا کہ ‘سرفراز کی جگہ لینے کے لیے کس کو تیار کیا گیا، ٹیم میں کوئی نائب کپتان نہیں ہے جو سرفراز کی جگہ لے گا، اسی وجہ سے میں پی سی بی پر زور دے رہا ہوں کہ وہ اپنا گھر ٹھیک کرے’۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1108232</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Aug 2019 16:10:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد یعقوب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/08/5d4715613011c.jpg?r=644343892" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/08/5d4715613011c.jpg?r=1345687764"/>
        <media:title>عامرسہیل نے اداروں کی ٹیموں کو ختم کرنے کی مخالفت کی—فائل/فوٹو:اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
