<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 15:45:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 15:45:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آخری سمجھوتہ ایکسپریس بھارت روانہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1108544/</link>
      <description>&lt;p&gt;مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے پر پاکستان نے بھارت سے سفارتی تعلقات محدود کرنے کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس کی سروس بھی معطل کر دی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سمجھوتہ ایکسپریس کو دوستی ایکسپریس بھی کہا جاتا ہے اور تھر ایکسپریس کے چلنے سے قبل یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹرین کی واحد سروس تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ ٹرین ابتدائی طور پر امرتسر سے لاہور کے درمیان چلتی تھی اور تقریباً 52کلومیٹر کی مسافت طے کرتی تھی تاہم 80 کی دہائی میں حالات خراب ہونے کے بعد اس کا راستہ تبدیل کردیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اب لاہور سے سمجھوتہ ایکسپریس اٹاری جاتی ہے اور وہاں مسافروں کو اتار کر امیگریشن سمیت دیگر معاملات پورے کرنے کے بعد دوسری ٹرین سے نئی دہلی روانہ کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ٹرین سروس کو دونوں ملکوں کے درمیان کشیدہ تعلقات اور دہشت گردی کے واقعات کے سبب متعدد مواقع پر بند کیا گیا لیکن بعدازاں اسے بحال کردیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حال ہی میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے پر پاکستان نے اس سروس کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس اعلان کے بعد آج ممکنہ طور پر لاہور سے آخری ٹرین روانہ ہوئی ہے اور حالیہ صورتحال کے پیش نظر آئندہ کچھ عرصے تک اس سروس کی بحالی ممکن نظر نہیں آتی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے پر پاکستان نے بھارت سے سفارتی تعلقات محدود کرنے کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس کی سروس بھی معطل کر دی ہے۔</p>

<p>سمجھوتہ ایکسپریس کو دوستی ایکسپریس بھی کہا جاتا ہے اور تھر ایکسپریس کے چلنے سے قبل یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹرین کی واحد سروس تھی۔</p>

<p>یہ ٹرین ابتدائی طور پر امرتسر سے لاہور کے درمیان چلتی تھی اور تقریباً 52کلومیٹر کی مسافت طے کرتی تھی تاہم 80 کی دہائی میں حالات خراب ہونے کے بعد اس کا راستہ تبدیل کردیا گیا۔</p>

<p>اب لاہور سے سمجھوتہ ایکسپریس اٹاری جاتی ہے اور وہاں مسافروں کو اتار کر امیگریشن سمیت دیگر معاملات پورے کرنے کے بعد دوسری ٹرین سے نئی دہلی روانہ کیا جاتا ہے۔</p>

<p>اس ٹرین سروس کو دونوں ملکوں کے درمیان کشیدہ تعلقات اور دہشت گردی کے واقعات کے سبب متعدد مواقع پر بند کیا گیا لیکن بعدازاں اسے بحال کردیا گیا۔</p>

<p>حال ہی میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے پر پاکستان نے اس سروس کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس اعلان کے بعد آج ممکنہ طور پر لاہور سے آخری ٹرین روانہ ہوئی ہے اور حالیہ صورتحال کے پیش نظر آئندہ کچھ عرصے تک اس سروس کی بحالی ممکن نظر نہیں آتی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1108544</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Aug 2019 23:10:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/08/5d4d63d730a8a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="960" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/08/5d4d63d730a8a.jpg"/>
        <media:title>سمجھوتہ ایکسپریس لاہور سے اٹاری کے لیے روانہ ہوئی— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/08/5d4d689adedd8.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/08/5d4d689adedd8.jpg"/>
        <media:title>پاکستان کے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے سمجھوتہ ایکسپریس بند کرنے کا اعلان کیا تھا— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/08/5d4d63d72337d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="960" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/08/5d4d63d72337d.jpg"/>
        <media:title>بھارتی مسلمان شہری لاہور سے بذریعہ سمجھوتہ ایکسپریس اپنے وطن واپس گئے— فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/08/5d4d7071807e2.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="960" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/08/5d4d7071807e2.jpg"/>
        <media:title>پاکستانی خواتین بذریعہ ٹرین بھارت روانہ ہونے والے اپنے رشتے داروں کو نم آنکھوں کے ساتھ رخصت کرتے ہوئے— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/08/5d4d67c7a8b61.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/08/5d4d67c7a8b61.jpg"/>
        <media:title>بھارت روانگی سے قبل مسافر لاہور اسٹیشن پر قرآن پاک کی تلاوت کرتے نظر آئے— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/08/5d4d6843e8c7e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/08/5d4d6843e8c7e.jpg"/>
        <media:title>پاکستانی خاتون نے اپنے رشتے دار کی بھارت روانگی سے قبل انہیں گلا لگایا— فوٹو: ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/08/5d4d68c1b98b7.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="2892" width="4692">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/08/5d4d68c1b98b7.jpg"/>
        <media:title>اس ٹرین سروس کا آغاز شملہ معاہدے کے بعد 1976 میں ہوا تھا— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/08/5d4d68e9403db.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/08/5d4d68e9403db.jpg"/>
        <media:title>ایک پاکستانی خاتون بھارت اپنے رشتے داروں کی پاکستان آمد پر خوش نظر آئیں— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
