<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Parenting</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 20:52:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 20:52:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بچوں کو ٹھوس غذائیں کب متعارف کروانی چاہیئں؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1108805/</link>
      <description>&lt;p&gt;جب آپ کا بچہ ٹھوس غذا استعمال کرنا شروع کردے تو یہ یقیناً ایک سنگ میل عبور کرنے کے مترادف ہے اور والدین کی خوشی بھی اپنی جگہ درست ہے۔ لیکن یہاں یہ سوال ضرور اٹھنا چاہیے کہ آخر بچوں کو ٹھوس غذا دینے کا صحیح وقت کون سا ہے؟ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بچوں میں کئی ایسی علامات نظر آنا شروع ہوجاتی ہیں جن سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اب انہیں ٹھوس غذا دینے کا وقت آچکا ہے۔ لیکن ہم بچوں میں ہونے والی چند تبدیلیوں کو بھی علامات سمجھ کر بچوں کو وقت سے پہلے ٹھوس غذا دینا شروع کردیتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چنانچہ اس سے پہلے کہ آپ اپنے بچوں کو ٹھوس غذا دینا شروع کریں، آپ کو بچوں میں پیدا ہونے والی ان 3 تبدیلیوں کے بارے میں جان لینا چاہیے جنہیں آپ علامات سمجھ بیٹھتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d564f8997dbb'&gt;وزن میں اضافہ&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;آپ نے یہ بات شاید متعدد لوگوں سے سن رکھی ہو کہ اگر بچے کا وزن پیدائشی وزن سے دگنا ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں ٹھوس غذا دینے کا وقت آگیا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ کئی بچے تو محض 3 سے 4 ماہ کے اندر ہی اپنا وزن دگنا بڑھا لیتے ہیں اور اس عمر میں بچے ٹھوس غذا کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ غذا کے استعمال کا وزن میں اضافے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔ بچوں کو ٹھوس غذا متعارف کروانے کی سب سے بہترین عمر 6 ماہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1108412//' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/08/5d55756d48fed.jpg"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d564f8997e36'&gt;وزن کا آہستہ آہستہ بڑھنا&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;بچے کی پیدائش کے بعد ابتدائی مہینوں کے دوران ان کے وزن میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہوتا ہے۔ بعدازاں یہ سلسلہ آہستہ ہوجاتا ہے جس کے باعث والدین کو پریشانی لاحق ہوجاتی ہے اور وہ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ اس طرح ان میں غذائی کمی واقع ہوسکتی ہے۔ چنانچہ وہ اپنے ننھے منوں کو وقت سے پہلے ہی ٹھوس غذا دینا شروع کردیتے ہیں۔ 2 سے 3 ماہ کی عمر کے بعد وزن میں سست رفتار اضافہ ایک عام سی بات ہے اور والدین کو اس بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d564f8997e4b'&gt;دانتوں کا آنا&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;بعض اوقات والدین کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر بچے کے دانت نکلنا شروع ہوجائیں تو اس کا مطلب ہے کہ انہیں ٹھوس غذا دینے کا وقت آچکا ہے۔ تاہم دانتوں کے نکل آنے کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ بچے ٹھوس غذا کے لیے تیار ہیں کیونکہ چند بچوں میں جلد اور چند میں دیر سے دانت نکلنا شروع ہوتے ہیں۔ چنانچہ دانتوں کا نکلنا بھی حقیقی علامت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d564f8997e5f'&gt;آپ کا بچہ ٹھوس کھانے کے لیے کب تیار ہوتا ہے؟&lt;/h3&gt;

&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;جب آپ کا بچہ 6 ماہ کا ہوجائے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;جب آپ کا بچہ بغیر کسی سہارے بیٹھ سکتا ہو۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;جب زبان کی اضطراری حرکت (tongue-thrust reflex) ختم ہوجائے۔&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جب آپ کا بچہ ٹھوس غذا استعمال کرنا شروع کردے تو یہ یقیناً ایک سنگ میل عبور کرنے کے مترادف ہے اور والدین کی خوشی بھی اپنی جگہ درست ہے۔ لیکن یہاں یہ سوال ضرور اٹھنا چاہیے کہ آخر بچوں کو ٹھوس غذا دینے کا صحیح وقت کون سا ہے؟ </p>

<p>بچوں میں کئی ایسی علامات نظر آنا شروع ہوجاتی ہیں جن سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اب انہیں ٹھوس غذا دینے کا وقت آچکا ہے۔ لیکن ہم بچوں میں ہونے والی چند تبدیلیوں کو بھی علامات سمجھ کر بچوں کو وقت سے پہلے ٹھوس غذا دینا شروع کردیتے ہیں۔ </p>

<p>چنانچہ اس سے پہلے کہ آپ اپنے بچوں کو ٹھوس غذا دینا شروع کریں، آپ کو بچوں میں پیدا ہونے والی ان 3 تبدیلیوں کے بارے میں جان لینا چاہیے جنہیں آپ علامات سمجھ بیٹھتے ہیں۔</p>

<h3 id='5d564f8997dbb'>وزن میں اضافہ</h3>

<p>آپ نے یہ بات شاید متعدد لوگوں سے سن رکھی ہو کہ اگر بچے کا وزن پیدائشی وزن سے دگنا ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں ٹھوس غذا دینے کا وقت آگیا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ کئی بچے تو محض 3 سے 4 ماہ کے اندر ہی اپنا وزن دگنا بڑھا لیتے ہیں اور اس عمر میں بچے ٹھوس غذا کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ غذا کے استعمال کا وزن میں اضافے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔ بچوں کو ٹھوس غذا متعارف کروانے کی سب سے بہترین عمر 6 ماہ ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1108412//' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/08/5d55756d48fed.jpg"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<h3 id='5d564f8997e36'>وزن کا آہستہ آہستہ بڑھنا</h3>

<p>بچے کی پیدائش کے بعد ابتدائی مہینوں کے دوران ان کے وزن میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہوتا ہے۔ بعدازاں یہ سلسلہ آہستہ ہوجاتا ہے جس کے باعث والدین کو پریشانی لاحق ہوجاتی ہے اور وہ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ اس طرح ان میں غذائی کمی واقع ہوسکتی ہے۔ چنانچہ وہ اپنے ننھے منوں کو وقت سے پہلے ہی ٹھوس غذا دینا شروع کردیتے ہیں۔ 2 سے 3 ماہ کی عمر کے بعد وزن میں سست رفتار اضافہ ایک عام سی بات ہے اور والدین کو اس بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔</p>

<h3 id='5d564f8997e4b'>دانتوں کا آنا</h3>

<p>بعض اوقات والدین کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر بچے کے دانت نکلنا شروع ہوجائیں تو اس کا مطلب ہے کہ انہیں ٹھوس غذا دینے کا وقت آچکا ہے۔ تاہم دانتوں کے نکل آنے کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ بچے ٹھوس غذا کے لیے تیار ہیں کیونکہ چند بچوں میں جلد اور چند میں دیر سے دانت نکلنا شروع ہوتے ہیں۔ چنانچہ دانتوں کا نکلنا بھی حقیقی علامت نہیں ہے۔</p>

<h3 id='5d564f8997e5f'>آپ کا بچہ ٹھوس کھانے کے لیے کب تیار ہوتا ہے؟</h3>

<ul>
<li>جب آپ کا بچہ 6 ماہ کا ہوجائے۔</li>
<li>جب آپ کا بچہ بغیر کسی سہارے بیٹھ سکتا ہو۔</li>
<li>جب زبان کی اضطراری حرکت (tongue-thrust reflex) ختم ہوجائے۔</li>
</ul>
]]></content:encoded>
      <category>Parenting</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1108805</guid>
      <pubDate>Fri, 16 Aug 2019 11:39:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/08/5d5579bce41ba.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/08/5d5579bce41ba.jpg"/>
        <media:title>آپ کو بچوں میں پیدا ہونے والی ان 3 تبدیلیوں کے بارے میں جان لینا چاہیے، جنہیں آپ علامات سمجھ بیٹھتے ہیں — شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
