<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 13:33:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 13:33:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی حکومت نے راہول گاندھی کو سری نگر ایئرپورٹ سے واپس بھیج دیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1109384/</link>
      <description>&lt;p&gt;مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کی جانب سے عائد پابندیوں اور وادی میں نافذ کرفیو کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے کانگریس رہنما راہول گاندھی، لوک سبھا میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو قابض انتظامیہ نے سری نگر میں داخل ہونے سے روک دیا اور ایئرپورٹ سے ہی واپس نئی دہلی روانہ کردیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارتی خبر رساں ادارے 'اے این آئی' کے مطابق انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کے ہمراہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں پر مشتمل وفد کو سری نگر کے ایئرپورٹ پر روک لیا گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;راہول گاندھی اور دیگر رہنماؤں کو سری نگر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں واپس نئی دہلی روانہ کردیا گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس موقع پر راہول گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی پولیس اور انتظامیہ کے حکام سے تلخ کلامی بھی ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سری نگر انتظامیہ نے پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ کسی بھی سیاسی رہنما کو سری نگر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اگلی ہی ممکنہ پرواز کے ذریعے واپس نئی دہلی بھیج دیا جائے گا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قبل ازیں این ڈی ٹی وی کی &lt;a href="https://www.ndtv.com/india-news/as-rahul-gandhi-opposition-leaders-head-to-jammu-and-kashmir-government-says-stay-away-2089677"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے محکمہ اطلاعات کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کیا گیا تھا جس میں راہول گاندھی کو خبردار کیا گیا تھا کہ ‘وہ سری نگر کا دورہ نہ کریں، اس وقت وہ دوسروں کو بھی مشکلات میں ڈال سکتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی &lt;a href="https://timesofindia.indiatimes.com/india/breaking-news-live-august-24/liveblog/70813126.cms"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق کانگریس رہنما طیارے کے ذریعے سری نگر کے لیے روانہ ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/ANI/status/1165141914275827713"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کانگریس رہنما کے ہمراہ دیگر جماعتوں میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، ترینامول کانگریس، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ایم)، درویندا مُنیترا کازہگم (ڈی ایم کے) اور راشتریہ جنتا دل کے رہنما شامل تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/ANI/status/1165148752807510018"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کانگریس کے دیگر رہنماؤں میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور راجیا سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد بھی شامل تھے جبکہ ان کے ہمراہ آنند شرما بھی موجود تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ غلام نبی آزاد موجودہ صورتحال میں پہلے بھی سری نگر جا چکے ہیں تاہم انہیں وہاں ایئرپورٹ سے ہی واپس نئی دہلی روانہ کردیا گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;روانگی سے قبل بھارتی خبر رساں ادارے 'اے این آئی' سے گفتگو کرتے ہوئے غلام نبی آزاد کا کہنا تھا کہ ’تمام جماعتیں اور رہنما ذمہ دار ہیں، ہم وہاں قانون توڑنے کے لیے نہیں جارہے۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بہت تشویشناک ہے، یہ پچھلے 20 روز سے بند ہے، اس علاقے سے پچھلے 20 روز سے کوئی خبر نہیں آرہی، لیکن حکومت کہہ رہی ہے کہ وہاں سب کچھ معمول کے مطابق ہے۔‘ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وہاں سب کچھ معمول کے مطابق ہے تو قومی رہنماؤں کو وہاں جانے کی اجازت کیوں نہیں ہے؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1109211"&gt;آرٹیکل 370 کے خاتمے پر بھارتی حکومت پر تنقید کرنے والے کانگریس رہنما گرفتار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق کانگریس رہنما راہول گاندھی بھی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ 'جموں و کشمیر کو یک طرفہ طور پر تقسیم کرنے، عوامی نمائندوں کو قید کرنے اور آئین کی خلاف ورزی سے &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108329"&gt;&lt;strong&gt;قومی یکجہتی میں اضافہ نہیں ہوگا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔'&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 'بھارتی قوم زمین کے پلاٹوں سے نہیں عوام سے بنی ہے جبکہ اختیارات کے ناجائز استعمال سے قومی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔'&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d616cc99acec'&gt;مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 5 اگست کو صدارتی فرمان کے ذریعے آئین میں مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108251"&gt;&lt;strong&gt;دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا اعلان&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کردیا تھا، جس کے بعد مقبوضہ علاقہ اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارتی آئین کی &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108273"&gt;&lt;strong&gt;دفعہ 35 'اے'&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے تحت وادی سے باہر سے تعلق رکھنے والے بھارتی نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمت حاصل کر سکتے ہیں، یہ دونوں معاملات بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ہدف تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئین میں مذکورہ تبدیلی سے قبل دہلی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی اہلکاروں کی نفری کو بڑھاتے ہوئے 9 لاکھ تک پہنچا دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعدازاں مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا اور کسی بھی طرح کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی گئی تھی جو عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی برقرار رہی، تاہم اس میں چند مقامات پر جزوی نرمی بھی دیکھنے میں آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1109238/"&gt;’مسئلہ کشمیر پر تمام آپشنز زیر غور ہیں‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارتی حکومت کے اس غیر قانون اقدام کے بعد کشمیریوں کی جانب سے مسلسل احتجاج بھی کیا جارہا ہے، جبکہ بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں متعدد کشمیری شہید و زخمی ہوچکے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم کرنے کے بعد وادی میں ہونے والے انسانی حقوق کے استحصال پر امریکی میڈیا بھی بول پڑا اور اقوام متحدہ کے کردار پر سوالات اٹھا دیئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سی این این نے اپنی رپورٹ میں سوال اٹھایا کہ ’کیا کشمیر جیسے اس اہم ترین مسئلے پر سلامتی کونسل مزید 50 سال گزرنے کے بعد اپنا کردار ادا کرے گا؟‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ بھارتی کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سفارتی سطح پر پاکستان بھی بہت زیادہ متحرک دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h4 id='5d616cc99ad4f'&gt;سفارتی محاذ پر پاکستان متحرک&lt;/h4&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں نہ صرف پاکستانی وزیر خارجہ دیگر ممالک سے روابط میں ہیں بلکہ اسلام آباد کے مطالبے پر مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند کمرے میں اجلاس بھی منعقد ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ 22 اگست کو امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے واضح کیا تھا کہ پاکستان، بھارت سے بات چیت کے لیے بہت کچھ کر چکا ہے اب مزید کچھ نہیں کر سکتا، &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1109231/"&gt;&lt;strong&gt;بھارت سے مذاکرات کا فائدہ نہیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے اپنے انٹرویو میں نئی دہلی کی موجودہ حکومت کو نازی جرمنی کی حکومت سے تشبیہ دی تھی اور کہا تھا کہ اس وقت 2 ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کی آنکھ میں آنکھ ڈالے ہوئے ہیں، کچھ بھی ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کی جانب سے عائد پابندیوں اور وادی میں نافذ کرفیو کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے کانگریس رہنما راہول گاندھی، لوک سبھا میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو قابض انتظامیہ نے سری نگر میں داخل ہونے سے روک دیا اور ایئرپورٹ سے ہی واپس نئی دہلی روانہ کردیا۔ </p>

<p>بھارتی خبر رساں ادارے 'اے این آئی' کے مطابق انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کے ہمراہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں پر مشتمل وفد کو سری نگر کے ایئرپورٹ پر روک لیا گیا۔ </p>

<p>راہول گاندھی اور دیگر رہنماؤں کو سری نگر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں واپس نئی دہلی روانہ کردیا گیا۔ </p>

<p>اس موقع پر راہول گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی پولیس اور انتظامیہ کے حکام سے تلخ کلامی بھی ہوئی۔</p>

<p>سری نگر انتظامیہ نے پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ کسی بھی سیاسی رہنما کو سری نگر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اگلی ہی ممکنہ پرواز کے ذریعے واپس نئی دہلی بھیج دیا جائے گا۔ </p>

<p>قبل ازیں این ڈی ٹی وی کی <a href="https://www.ndtv.com/india-news/as-rahul-gandhi-opposition-leaders-head-to-jammu-and-kashmir-government-says-stay-away-2089677"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے محکمہ اطلاعات کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کیا گیا تھا جس میں راہول گاندھی کو خبردار کیا گیا تھا کہ ‘وہ سری نگر کا دورہ نہ کریں، اس وقت وہ دوسروں کو بھی مشکلات میں ڈال سکتے ہیں۔‘</p>

<p>بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی <a href="https://timesofindia.indiatimes.com/india/breaking-news-live-august-24/liveblog/70813126.cms"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق کانگریس رہنما طیارے کے ذریعے سری نگر کے لیے روانہ ہوئے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/ANI/status/1165141914275827713"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>کانگریس رہنما کے ہمراہ دیگر جماعتوں میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، ترینامول کانگریس، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ایم)، درویندا مُنیترا کازہگم (ڈی ایم کے) اور راشتریہ جنتا دل کے رہنما شامل تھے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/ANI/status/1165148752807510018"></a>
            </blockquote>
            </div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>کانگریس کے دیگر رہنماؤں میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور راجیا سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد بھی شامل تھے جبکہ ان کے ہمراہ آنند شرما بھی موجود تھے۔ </p>

<p>واضح رہے کہ غلام نبی آزاد موجودہ صورتحال میں پہلے بھی سری نگر جا چکے ہیں تاہم انہیں وہاں ایئرپورٹ سے ہی واپس نئی دہلی روانہ کردیا گیا۔ </p>

<p>روانگی سے قبل بھارتی خبر رساں ادارے 'اے این آئی' سے گفتگو کرتے ہوئے غلام نبی آزاد کا کہنا تھا کہ ’تمام جماعتیں اور رہنما ذمہ دار ہیں، ہم وہاں قانون توڑنے کے لیے نہیں جارہے۔‘</p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بہت تشویشناک ہے، یہ پچھلے 20 روز سے بند ہے، اس علاقے سے پچھلے 20 روز سے کوئی خبر نہیں آرہی، لیکن حکومت کہہ رہی ہے کہ وہاں سب کچھ معمول کے مطابق ہے۔‘ </p>

<p>انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وہاں سب کچھ معمول کے مطابق ہے تو قومی رہنماؤں کو وہاں جانے کی اجازت کیوں نہیں ہے؟</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1109211">آرٹیکل 370 کے خاتمے پر بھارتی حکومت پر تنقید کرنے والے کانگریس رہنما گرفتار</a></strong></p>

<p>یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق کانگریس رہنما راہول گاندھی بھی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ </p>

<p>انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ 'جموں و کشمیر کو یک طرفہ طور پر تقسیم کرنے، عوامی نمائندوں کو قید کرنے اور آئین کی خلاف ورزی سے <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108329"><strong>قومی یکجہتی میں اضافہ نہیں ہوگا</strong></a>۔'</p>

<p>انہوں نے کہا کہ 'بھارتی قوم زمین کے پلاٹوں سے نہیں عوام سے بنی ہے جبکہ اختیارات کے ناجائز استعمال سے قومی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔'</p>

<h3 id='5d616cc99acec'>مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ</h3>

<p>خیال رہے کہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 5 اگست کو صدارتی فرمان کے ذریعے آئین میں مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108251"><strong>دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا اعلان</strong></a> کردیا تھا، جس کے بعد مقبوضہ علاقہ اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔</p>

<p>بھارتی آئین کی <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108273"><strong>دفعہ 35 'اے'</strong></a> کے تحت وادی سے باہر سے تعلق رکھنے والے بھارتی نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمت حاصل کر سکتے ہیں، یہ دونوں معاملات بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ہدف تھے۔</p>

<p>آئین میں مذکورہ تبدیلی سے قبل دہلی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی اہلکاروں کی نفری کو بڑھاتے ہوئے 9 لاکھ تک پہنچا دیا تھا۔</p>

<p>بعدازاں مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا اور کسی بھی طرح کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی گئی تھی جو عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی برقرار رہی، تاہم اس میں چند مقامات پر جزوی نرمی بھی دیکھنے میں آئی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1109238/">’مسئلہ کشمیر پر تمام آپشنز زیر غور ہیں‘</a></strong></p>

<p>بھارتی حکومت کے اس غیر قانون اقدام کے بعد کشمیریوں کی جانب سے مسلسل احتجاج بھی کیا جارہا ہے، جبکہ بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں متعدد کشمیری شہید و زخمی ہوچکے ہیں۔ </p>

<p>واضح رہے کہ کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم کرنے کے بعد وادی میں ہونے والے انسانی حقوق کے استحصال پر امریکی میڈیا بھی بول پڑا اور اقوام متحدہ کے کردار پر سوالات اٹھا دیئے۔</p>

<p>سی این این نے اپنی رپورٹ میں سوال اٹھایا کہ ’کیا کشمیر جیسے اس اہم ترین مسئلے پر سلامتی کونسل مزید 50 سال گزرنے کے بعد اپنا کردار ادا کرے گا؟‘</p>

<p>خیال رہے کہ بھارتی کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سفارتی سطح پر پاکستان بھی بہت زیادہ متحرک دکھائی دیتا ہے۔</p>

<h4 id='5d616cc99ad4f'>سفارتی محاذ پر پاکستان متحرک</h4>

<p>اس ضمن میں نہ صرف پاکستانی وزیر خارجہ دیگر ممالک سے روابط میں ہیں بلکہ اسلام آباد کے مطالبے پر مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند کمرے میں اجلاس بھی منعقد ہوا۔</p>

<p>یاد رہے کہ 22 اگست کو امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے واضح کیا تھا کہ پاکستان، بھارت سے بات چیت کے لیے بہت کچھ کر چکا ہے اب مزید کچھ نہیں کر سکتا، <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1109231/"><strong>بھارت سے مذاکرات کا فائدہ نہیں</strong></a> ہے۔</p>

<p>انہوں نے اپنے انٹرویو میں نئی دہلی کی موجودہ حکومت کو نازی جرمنی کی حکومت سے تشبیہ دی تھی اور کہا تھا کہ اس وقت 2 ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کی آنکھ میں آنکھ ڈالے ہوئے ہیں، کچھ بھی ہوسکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1109384</guid>
      <pubDate>Sat, 24 Aug 2019 21:58:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/08/5d60dc3bce9d7.png?r=50355517" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/08/5d60dc3bce9d7.png?r=351742138"/>
        <media:title>راہول گاندھی کے ہمراہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنما بھی موجود تھے۔ — فوٹو: اے این آئی ٹوئٹر اکاؤنٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
