<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 01:20:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 01:20:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مقبوضہ کشمیر میں حکومتی پابندیوں کی حمایت پر پریس کونسل انڈیا پر تنقید
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1109512/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی میڈیا اور پریس کونسل آف انڈیا (پی سی آئی) کے اراکین نے اپنی ہی تنظیم کو حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں سخت پابندیوں کی حمایت کرنے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے 'پی سی آئی' نے اخبار ’کشمیر ٹائمز‘ کی ایگزیکٹو ایڈیٹر انورادھا بھاسن کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی پابندیاں ختم کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر مداخلت کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارتی نیوز ویب سائٹ ’دی وائر‘ کی رپورٹ کے مطابق پی سی آئی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں مواصلاتی رابطوں اور آزاد نقل و حرکت پر پابندی کو ملک کے میڈیا واچ ڈاگ کی جانب سے ’پریس کی آزادی کو محفوظ’ کرنے کی کوشش قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108852"&gt;مقبوضہ کشمیر سے پابندیاں جلد ختم کردیں گے، بھارتی حکومت کی عدالت کو یقین دہانی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم مقامی صحافیوں کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں پریس کے افعال بری طرح متاثر ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب بھارتی اخبار 'دی ہندو' نے اپنے &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.thehindu.com/opinion/editorial/on-the-wrong-side/article29254013.ece"&gt;اداریے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں لکھا کہ ’یہ تصور کے کہ ایک کھلا معاشرہ، ایک آزاد میڈیا کسی بھی طرح قومی سالمیت اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے، آمریت کی توجیہہ سے کم نہیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایڈیٹوریل میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ بھارت کو صحافت میں تشویشناک حد تک معیار میں کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور پی سی آئی کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری کبھی اتنی اہم نہیں تھی جتنی آج ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چنانچہ ’پی سی آئی کو حکومت وقت کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے اپنا کردار نبھانا چاہیے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھر 'آؤٹ لُک میگزین' کے سابق ایڈیٹر اور کونسل کے سابق رکن بھی ان اراکین میں شامل ہیں جنہوں نے اس اقدام پر تنقید کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108709"&gt;مقبوضہ کشمیر میں صورتحال کی بہتری کیلئے وقت درکار ہے، بھارتی سپریم کورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’اگر پریس کونسل آزاد میڈیا کو قوم کی سالمیت کے لیے خطرے کے طور پر دیکھتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ قارئین اور ناظرین کو خصوصی حالات میں اندھیرے میں رکھا جاسکتا ہے تو یہ نہ صرف بھارتی جمہوریت کے لیے سیاہ دن ہے بلکہ یہ کسی کے لیے باعثِ حیرت نہیں ہوگا کہ معاملات اس نہج پر آپہنچے ہیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی سی آئی چیئرمین سی کے پرساد کی جانب سے اس اقدام نے اختلاف رائے کو جنم دیا ہے جس میں کچھ اراکین کا کہنا تھا کہ سی کے پرساد نے کسی سے مشورہ کیے بغیر یہ درخواست دائر کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’پریس کونسل کو ابھی تک کسی بھی میڈیا ہاؤس کی جانب سے کوئی غلط کام کرنے کے حوالے سے شکایت موجود نہیں ہوئی، لہٰذا اس میں مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108985"&gt;مقبوضہ کشمیر میں 4 ہزار شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، بھارتی مجسٹریٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک کونسل رکن نے 'دی وائر' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’درخواست کا متن خاصہ خطرناک ہے حالانکہ اصول کے مطابق چیئرمین کوئی بھی فیصلے کے حوالے سے اجلاس میں دیگر اراکین کو آگاہ کرنے کا پابند ہوتا ہے، لیکن انہوں نے تو یہ کسی کو بتانا بھی گوارا نہیں کیا کہ پی سی آئی انورادھا بھاسن کیس میں مداخلت کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل 16 اگست کو ہونے والی سماعت میں مرکزی حکومت نے بھارتی سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ وہ ’آئندہ چند روز  میں‘ مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کی نقل و حرکت اور مواصلاتی روابط پر عائد پابندی اٹھا لیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی میڈیا اور پریس کونسل آف انڈیا (پی سی آئی) کے اراکین نے اپنی ہی تنظیم کو حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں سخت پابندیوں کی حمایت کرنے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔</p>

<p>گزشتہ ہفتے 'پی سی آئی' نے اخبار ’کشمیر ٹائمز‘ کی ایگزیکٹو ایڈیٹر انورادھا بھاسن کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی پابندیاں ختم کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر مداخلت کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔</p>

<p>بھارتی نیوز ویب سائٹ ’دی وائر‘ کی رپورٹ کے مطابق پی سی آئی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں مواصلاتی رابطوں اور آزاد نقل و حرکت پر پابندی کو ملک کے میڈیا واچ ڈاگ کی جانب سے ’پریس کی آزادی کو محفوظ’ کرنے کی کوشش قرار دیا گیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108852">مقبوضہ کشمیر سے پابندیاں جلد ختم کردیں گے، بھارتی حکومت کی عدالت کو یقین دہانی</a></strong> </p>

<p>تاہم مقامی صحافیوں کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں پریس کے افعال بری طرح متاثر ہیں۔</p>

<p>دوسری جانب بھارتی اخبار 'دی ہندو' نے اپنے <strong><a href="https://www.thehindu.com/opinion/editorial/on-the-wrong-side/article29254013.ece">اداریے</a></strong> میں لکھا کہ ’یہ تصور کے کہ ایک کھلا معاشرہ، ایک آزاد میڈیا کسی بھی طرح قومی سالمیت اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے، آمریت کی توجیہہ سے کم نہیں‘۔</p>

<p>ایڈیٹوریل میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ بھارت کو صحافت میں تشویشناک حد تک معیار میں کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور پی سی آئی کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری کبھی اتنی اہم نہیں تھی جتنی آج ہے‘۔</p>

<p>چنانچہ ’پی سی آئی کو حکومت وقت کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے اپنا کردار نبھانا چاہیے‘۔</p>

<p>ادھر 'آؤٹ لُک میگزین' کے سابق ایڈیٹر اور کونسل کے سابق رکن بھی ان اراکین میں شامل ہیں جنہوں نے اس اقدام پر تنقید کی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108709">مقبوضہ کشمیر میں صورتحال کی بہتری کیلئے وقت درکار ہے، بھارتی سپریم کورٹ</a></strong> </p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ’اگر پریس کونسل آزاد میڈیا کو قوم کی سالمیت کے لیے خطرے کے طور پر دیکھتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ قارئین اور ناظرین کو خصوصی حالات میں اندھیرے میں رکھا جاسکتا ہے تو یہ نہ صرف بھارتی جمہوریت کے لیے سیاہ دن ہے بلکہ یہ کسی کے لیے باعثِ حیرت نہیں ہوگا کہ معاملات اس نہج پر آپہنچے ہیں‘۔</p>

<p>پی سی آئی چیئرمین سی کے پرساد کی جانب سے اس اقدام نے اختلاف رائے کو جنم دیا ہے جس میں کچھ اراکین کا کہنا تھا کہ سی کے پرساد نے کسی سے مشورہ کیے بغیر یہ درخواست دائر کی۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ’پریس کونسل کو ابھی تک کسی بھی میڈیا ہاؤس کی جانب سے کوئی غلط کام کرنے کے حوالے سے شکایت موجود نہیں ہوئی، لہٰذا اس میں مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں‘۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108985">مقبوضہ کشمیر میں 4 ہزار شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، بھارتی مجسٹریٹ</a></strong> </p>

<p>ایک کونسل رکن نے 'دی وائر' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’درخواست کا متن خاصہ خطرناک ہے حالانکہ اصول کے مطابق چیئرمین کوئی بھی فیصلے کے حوالے سے اجلاس میں دیگر اراکین کو آگاہ کرنے کا پابند ہوتا ہے، لیکن انہوں نے تو یہ کسی کو بتانا بھی گوارا نہیں کیا کہ پی سی آئی انورادھا بھاسن کیس میں مداخلت کر رہی ہے۔</p>

<p>اس سے قبل 16 اگست کو ہونے والی سماعت میں مرکزی حکومت نے بھارتی سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ وہ ’آئندہ چند روز  میں‘ مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کی نقل و حرکت اور مواصلاتی روابط پر عائد پابندی اٹھا لیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1109512</guid>
      <pubDate>Mon, 26 Aug 2019 15:43:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/08/5d63ad784c65c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/08/5d63ad784c65c.jpg"/>
        <media:title>بھارتی شہر بنگلور میں مقیم شہریوں نے مواصلاتی رابطے منقطع ہونے پر سخت احتجاج کیا تھا — تصویر: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
