<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 30 May 2026 15:14:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 30 May 2026 15:14:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کی بیرونی قرضوں کی سروسنگ میں ریکارڈ اضافہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1109564/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی: حکومت نے بیرونی قرضوں کی سروسنگ کی مد میں سال 19-2018 کے دوران 11 ارب 55 کروڑ ڈالر ادا کیے جو گزشتہ سال کے دوران تقریباً 54 فیصد رہا تھا۔&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ اعداد و شمار اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے 26 اگست کو جاری کیے گئے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اعداد و شمارت کے مطابق حکومت نے اصل رقم کی مد میں 8 ارب 65 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ادا کیے جبکہ 2 ارب 93 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سود ادا کیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ ریکارڈ ادائیگی سے ظاہر ہے کہ حکومتِ پاکستان نے گزشتہ چند برس کے دوران زیادہ لاگت کے قرض وصول کیے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104923"&gt;غیر ملکی قرضے ایک کھرب 5 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ملک کے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے اور بیرونی اکاؤنٹس کے واضح فرق کو ختم کرنے کے لیے حکومت تسلسل کے ساتھ مختلف ذرائع سے قرضے لیتی رہی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان نے 30 جون 2019 تک انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے 5 ارب 64 کروڑ 60 لاکھ ڈالر قرض لیا جس نے بیرونی قرضوں کو 83 ارب 93 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچا دیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم مالی سال 19-2018 کے اختتام تک پاکستان کا مجموعی قرضہ اور واجبات ایک سو 6 ارب 31 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جون 2018 سے لے کر جون 2019 تک ملکی قرضہ 11 ارب 7 کروڑ 5 لاکھ ڈالر سے لے کر ایک سو 6 ارب 31 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104913"&gt;قرضوں پر سود کی ادائیگی ملکی آمدن کے 41 فیصد تک پہنچ گئی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب مالی سال 19-2018 کے دوران پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کی ادائیگی بھی دگنی ہوگئی جو 5 ارب 12 کروڑ 10 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 10 ارب 48 کروڑ 8 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم انہیں واجبات کے تحت اسٹیٹ بینک میں جمع رقوم 70 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 6 ارب 20 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مہنگے تجارتی قرضوں میں بھی گزشتہ مالی سال کے دوران اضافہ ہوا جو 6 ارب 80 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 8 ارب 47 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 27 اگست 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی: حکومت نے بیرونی قرضوں کی سروسنگ کی مد میں سال 19-2018 کے دوران 11 ارب 55 کروڑ ڈالر ادا کیے جو گزشتہ سال کے دوران تقریباً 54 فیصد رہا تھا۔</strong> </p>

<p>مذکورہ اعداد و شمار اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے 26 اگست کو جاری کیے گئے۔ </p>

<p>اعداد و شمارت کے مطابق حکومت نے اصل رقم کی مد میں 8 ارب 65 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ادا کیے جبکہ 2 ارب 93 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سود ادا کیا۔ </p>

<p>مذکورہ ریکارڈ ادائیگی سے ظاہر ہے کہ حکومتِ پاکستان نے گزشتہ چند برس کے دوران زیادہ لاگت کے قرض وصول کیے۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104923">غیر ملکی قرضے ایک کھرب 5 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے</a></strong></p>

<p>ملک کے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے اور بیرونی اکاؤنٹس کے واضح فرق کو ختم کرنے کے لیے حکومت تسلسل کے ساتھ مختلف ذرائع سے قرضے لیتی رہی ہے۔ </p>

<p>پاکستان نے 30 جون 2019 تک انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے 5 ارب 64 کروڑ 60 لاکھ ڈالر قرض لیا جس نے بیرونی قرضوں کو 83 ارب 93 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچا دیا۔ </p>

<p>تاہم مالی سال 19-2018 کے اختتام تک پاکستان کا مجموعی قرضہ اور واجبات ایک سو 6 ارب 31 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔ </p>

<p>رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جون 2018 سے لے کر جون 2019 تک ملکی قرضہ 11 ارب 7 کروڑ 5 لاکھ ڈالر سے لے کر ایک سو 6 ارب 31 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104913">قرضوں پر سود کی ادائیگی ملکی آمدن کے 41 فیصد تک پہنچ گئی</a></strong></p>

<p>دوسری جانب مالی سال 19-2018 کے دوران پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کی ادائیگی بھی دگنی ہوگئی جو 5 ارب 12 کروڑ 10 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 10 ارب 48 کروڑ 8 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔</p>

<p>تاہم انہیں واجبات کے تحت اسٹیٹ بینک میں جمع رقوم 70 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 6 ارب 20 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔ </p>

<p>مہنگے تجارتی قرضوں میں بھی گزشتہ مالی سال کے دوران اضافہ ہوا جو 6 ارب 80 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 8 ارب 47 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔ </p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 27 اگست 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1109564</guid>
      <pubDate>Tue, 27 Aug 2019 11:50:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/08/5d64cc30a7188.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/08/5d64cc30a7188.jpg"/>
        <media:title>پاکستان نے گزشتہ چند برس کے دوران زیادہ لاگت کے قرض وصول کیے — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
