<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 10:19:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 10:19:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے آزادی اظہار رائے کے ایوارڈ کیلئے 'ڈان' نامزد
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1109894/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی میڈیا کے نگراں ادارے رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے اپنے 25ویں یوم تاسیس کے موقع پر آزادی صحافت کے ایوارڈ کے لیے نامزد میڈیا اداروں کے ناموں کی فہرست جاری کردی جس میں ڈان اخبار کا نام بھی شامل ہے۔&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آر ایس ایف کی جانب سے مختلف ممالک سے مجموعی طور پر 12 میڈیا اداروں یا شخصیات کو نامزد کیا گیا لیکن ان میں سے 3 اداروں کو بین الاقوامی ایوارڈز ملیں گے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان نامزدگیوں میں روسی صحافی بھی شامل ہیں، جن پر متعدد مرتبہ قاتلانہ حملے ہوئے اور ویتنام کی ایک خاتون صحافی بھی شامل ہیں جنہوں نے صحافتی ذمہ داری نبھاتے ہوئے نہ صرف تشدد برداشت کیا بلکہ قید و بند کی صعبتیں بھی برداشت کیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102042"&gt;ڈان کے صحافی سرل المیڈا 'ورلڈ پریس فریڈم ہیرو' نامزد&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان میں پاکستان کا سب سے پرانا انگریزی اخبار روزنامہ ڈان بھی شامل ہے جسے متعدد مرتبہ حراساں بھی کیا گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان کو آر ایس ایف کے ’آزادی ایوارڈ‘ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آر ایس ایف کا کہنا تھا کہ ’روزنامہ ڈان پاکستان کا سب سے پرانا اخبار ہے جس نے آمریت میں بھی مزاحمت جاری رکھی'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بین الاقوامی ادارے کا مزید کہنا تھا کہ 2018 کے عام انتخابات میں بھی اس کی تقسیم پر پابندی عائد کردی گئی تھی جبکہ رواں برس حکومت نے کمپنیوں کو یہ ہدایات دی تھیں کہ وہ ڈان کو اشتہارات نہ دیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ 1992 میں اپنے قیام کے بعد سے لے کر اب تک رپورٹرز ود آؤٹ بارڈز متعدد بہادر اور آزاد صحافیوں کو آزادی اظہارے رائے کے ایوارڈ سے نواز چکا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102424"&gt;یوم آزادی صحافت اور بے سہارا صحافی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آر ایس ایف کے سیکریٹری جنرل کرسٹوف ڈیلوا کا کہنا تھا کہ جنہیں اس سال نامزد کیا گیا ہے انہیں متعدد مرتبہ دھکمیاں دی گئیں اور قید بھی کیا گیا لیکن پھر بھی انہوں نے خاموش ہونے سے انکار کردیا اور اقتدار کی طاقت کے غلط استعمال، کرپشن اور دیگر جرائم کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مایوس کرنے کے بجائے ان صحافیوں کو درپیش مسائل ہمیں وہ ہمت و حوصلہ دیتے ہیں جس کے ذریعے ہم تبدیلی کو حاصل کرسکیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آر ایس ایف کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ‘صحافتی نظریات کے حصول میں حوصلہ افزائی، ایسے لوگوں کے لیے ایک متحرک قوت ہے جو انسانیت کے سب سے اہم چیلنجز سے نمٹنا چاہتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ آر ایس ایف کی سالانہ تقریب 12 ستمبر کو جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ہوگی جہاں ان ایوارڈز کے فاتحین کا اعلان بھی کیا جائے گا۔ &lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر یکم ستمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی میڈیا کے نگراں ادارے رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے اپنے 25ویں یوم تاسیس کے موقع پر آزادی صحافت کے ایوارڈ کے لیے نامزد میڈیا اداروں کے ناموں کی فہرست جاری کردی جس میں ڈان اخبار کا نام بھی شامل ہے۔</strong> </p>

<p>آر ایس ایف کی جانب سے مختلف ممالک سے مجموعی طور پر 12 میڈیا اداروں یا شخصیات کو نامزد کیا گیا لیکن ان میں سے 3 اداروں کو بین الاقوامی ایوارڈز ملیں گے۔ </p>

<p>ان نامزدگیوں میں روسی صحافی بھی شامل ہیں، جن پر متعدد مرتبہ قاتلانہ حملے ہوئے اور ویتنام کی ایک خاتون صحافی بھی شامل ہیں جنہوں نے صحافتی ذمہ داری نبھاتے ہوئے نہ صرف تشدد برداشت کیا بلکہ قید و بند کی صعبتیں بھی برداشت کیں۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102042">ڈان کے صحافی سرل المیڈا 'ورلڈ پریس فریڈم ہیرو' نامزد</a></strong></p>

<p>ان میں پاکستان کا سب سے پرانا انگریزی اخبار روزنامہ ڈان بھی شامل ہے جسے متعدد مرتبہ حراساں بھی کیا گیا۔ </p>

<p>ڈان کو آر ایس ایف کے ’آزادی ایوارڈ‘ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ </p>

<p>آر ایس ایف کا کہنا تھا کہ ’روزنامہ ڈان پاکستان کا سب سے پرانا اخبار ہے جس نے آمریت میں بھی مزاحمت جاری رکھی'۔</p>

<p>بین الاقوامی ادارے کا مزید کہنا تھا کہ 2018 کے عام انتخابات میں بھی اس کی تقسیم پر پابندی عائد کردی گئی تھی جبکہ رواں برس حکومت نے کمپنیوں کو یہ ہدایات دی تھیں کہ وہ ڈان کو اشتہارات نہ دیں۔ </p>

<p>خیال رہے کہ 1992 میں اپنے قیام کے بعد سے لے کر اب تک رپورٹرز ود آؤٹ بارڈز متعدد بہادر اور آزاد صحافیوں کو آزادی اظہارے رائے کے ایوارڈ سے نواز چکا ہے۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102424">یوم آزادی صحافت اور بے سہارا صحافی</a></strong></p>

<p>آر ایس ایف کے سیکریٹری جنرل کرسٹوف ڈیلوا کا کہنا تھا کہ جنہیں اس سال نامزد کیا گیا ہے انہیں متعدد مرتبہ دھکمیاں دی گئیں اور قید بھی کیا گیا لیکن پھر بھی انہوں نے خاموش ہونے سے انکار کردیا اور اقتدار کی طاقت کے غلط استعمال، کرپشن اور دیگر جرائم کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہے۔ </p>

<p>ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مایوس کرنے کے بجائے ان صحافیوں کو درپیش مسائل ہمیں وہ ہمت و حوصلہ دیتے ہیں جس کے ذریعے ہم تبدیلی کو حاصل کرسکیں۔ </p>

<p>آر ایس ایف کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ‘صحافتی نظریات کے حصول میں حوصلہ افزائی، ایسے لوگوں کے لیے ایک متحرک قوت ہے جو انسانیت کے سب سے اہم چیلنجز سے نمٹنا چاہتے ہیں‘۔</p>

<p>واضح رہے کہ آر ایس ایف کی سالانہ تقریب 12 ستمبر کو جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ہوگی جہاں ان ایوارڈز کے فاتحین کا اعلان بھی کیا جائے گا۔ </p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر یکم ستمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1109894</guid>
      <pubDate>Sun, 01 Sep 2019 16:56:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/09/5d6b54d81f6c9.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/09/5d6b54d81f6c9.jpg"/>
        <media:title>ایوارڈ کے فاتحین کا اعلان 12 ستمبر کو کیا جائے گا — فائل فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
