<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 08:52:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 08:52:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مست لوگوں کی ’مستیج جھیل‘
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1110014/</link>
      <description>&lt;h1 id='5d6f4eaab328c'&gt;&lt;div style= "color: #000000; text-align: center;" markdown="1"&gt;مست لوگوں کی ’مستیج جھیل‘&lt;/div&gt;&lt;/h1&gt;

&lt;p&gt;تحریر و تصاویر: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/authors/1864"&gt;&lt;strong&gt;امجد علی سحاب&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جیتی ہوئی ٹیم یا اس کے کھلاڑیوں پر ہر کسی کی نظر جمی رہتی ہے، مگر کیا کبھی کسی نے کھیل ہارنے کے بعد ہاری ہوئی ٹیم کے کھلاڑیوں کا بغور جائزہ لیا ہے؟ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ وہ فیصلہ کن لمحہ ہوتا ہے جب یا تو کھلاڑی شکست و بیم کے سائے میں اس نازک موقعے کا دلیری سے مقابلہ کرکے کندن بن جاتا ہے، یا پھر مایوسیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں اُتر کر گمنام ہوجاتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شاید اسی لیے ابراہام لنکن نے اپنے جگر گوشے کے اتالیق کو ایک لمبا چوڑا خط لکھا تھا اور اس میں اس بات پر زور دیا تھا کہ ’میرے بیٹے کو 2 باتیں ضرور سمجھانا۔ &lt;strong&gt;اول&lt;/strong&gt;: جیت کا مزا کیا ہوتا ہے! &lt;strong&gt;دوم&lt;/strong&gt;: شکست برداشت کیسے کی جاتی ہے!‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;2 سال پہلے جولائی 2017ء میں مستیج جھیل کے دیدار کا قصد کر بیٹھے۔ رختِ سفر باندھ کر جھیل کی طرف اونچے عزم لیے روانہ ہوئے، مگر ناقص حکمت عملی اور موسم کی خرابی کی وجہ سے ہمیں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ آدھے راستے سے وہ واپسی کا سفر مجھے آج بھی یاد ہے، جانشئی بانڈہ میں کسی ہارے ہوئے کھلاڑی کی طرح بوجھل قدموں کے ساتھ واپسی ہمیں ہماری کمیوں اور کوتاہیوں کا طعنہ دے رہی تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تلخ تجربے کی روشنی میں امسال (اگست 2019ء) میں ہماری ٹیم (اُدھیانہ ٹریکرز) کے 9 ممبرز نے چیئرمین فضل خالق کی رہنمائی میں نہ صرف جھیل تک رسائی حاصل کی بلکہ اس کی خوبصورتی کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کیا اور کئی علاقائی و قومی نشریاتی اداروں کی مدد سے اہلِ پاکستان کو ٹریکنگ کے لیے ایک نئی جگہ مہیا کردی۔ بالفاظِ دیگر، اگر ہم ایک بار ہار کر ہمت ہار جاتے تو آج مستیج جھیل اہلِ پاکستان کی آنکھوں سے اوجھل ہی رہتی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مستیج جھیل کی وجۂ تسمیہ بڑی عجیب ہے۔ ہمارے نوجوان گائیڈ عمر واحد کالامی کے مطابق ’مستیج ہماری مقامی زبان میں ’مستی کی جگہ‘ کو کہتے ہیں۔ یہاں تک رسائی بس مست لوگ ہی حاصل کرسکتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس لفظ (مستیج) کے آخری دو حروف ہٹادیے جائیں تو سہ حرفی لفظ ’مست‘ باقی رہ جاتا ہے۔ مستیج تک پہنچتے ہی ہم پر ایک عجیب سی مستی چھاگئی اور اسی وقت مجھے اپنے گائیڈ کی بات یاد آگئی کہ واقعی یہاں مست لوگ ہی رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مستیج جھیل کے لیے رختِ سفر باندھنے والے خیبر پختونخوا کی خوبصورت ترین وادی ’سوات‘ تک جنرل ٹرانسپورٹ کا سہارا لے سکتے ہیں۔ مینگورہ سے بحرین تک روڈ کی حالت بہتر ہے، مگر بحرین سے آگے کالام تک روڈ خستہ حال ہے۔ ہائی ایس گاڑیوں کے علاوہ فیلڈر نامی گاڑیاں بھی بڑی تعداد میں کالام تک ٹرانسپورٹ کی سہولت دیتی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بہتر بات یہ ہوگی کہ ناشتہ مینگورہ شہر میں کیا جائے، جہاں اچھے ریسٹورنٹ میسر ہیں۔ اس کے بعد دوسرا اسٹاپ بحرین ہوجائے، جہاں دریا کنارے ایک کپ پیالی چائے اور روغنی چھولے کھانے کا اپنا مزا ہے۔ اگرچہ بحرین بازار بہت بڑا نہیں مگر اس میں روزمرہ ضرورت کی ہر چیز مناسب داموں مل جاتی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بحرین سے آگے چونکہ روڈ کی حالت خراب ہے، اس لیے آگے کالام تک دو ڈھائی گھنٹے کا سفر کافی صبر آزما ہے۔ کالام بازار آخری اسٹاپ کے طور پر راستے میں آتا ہے، جہاں بحرین بازار کی طرح ہر چیز مل جاتی ہے۔ کالام بازار کی خصوصیت یہ ہے کہ وہاں کے ریسٹورنٹس میں لاہور، فیصل آباد، کراچی اور دیگر شہروں کے مشہور کھانے مناسب داموں میں مل جاتے ہیں۔ یہاں پیٹ کی پوجا پاٹ کی غرض سے اک آدھ گھنٹا رکنا گھاٹے کا سودا نہیں ہوگا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کالام سے آگے ’وادئ انکار‘ کے لیے فور بائے فور گاڑی کے ذریعے سفر شروع ہوتا ہے، جہاں ’بلیو واٹر‘ نامی جگہ آج کل مقامی و غیر مقامی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ اس مقام کی وجۂ تسمیہ اس کا پانی ہے جس پر نیلے امبر کا گمان ہوتا ہے۔ بلیو واٹر دراصل دو آبہ ہے۔ اسے پانی کوہِ جھیل (جسے کچھ مقامی لوگ اندرب جھیل بھی کہتے ہیں) اور مستیج سے وافر مقدار میں ملتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e48d5864f7.jpg"  alt="وادئ انکار کا خوبصورت منظر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;وادئ انکار کا خوبصورت منظر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جو مقامی و غیر مقامی سیاح ٹریکنگ کا شوق نہیں رکھتے، ان کے لیے بلیو واٹر کسی نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں۔ فلک بوس پہاڑ، گھنے جنگلات، بل کھاتی ندی، میٹھے پانی کے جھرنے اور پرندوں کی مسحور کن چہچہاہٹ ماحول کو دو آتشہ کردیتی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلیو واٹر میں سیاحوں کا محبوب مشغلہ نیلے پانی کی ندی میں چارپائی ڈال کر دراز ہونا ہے۔ ایسے میں اگر وہاں قائم چھوٹے سے ریسٹورنٹ والا گرم گرم چائے کی بھاپ اُڑاتی پیالی اور تلے ہوئے گرما گرم پکوڑے پیش کرے، تو آدمی کے منہ سے بے ساختہ یہ آیت نکلتی ہے: &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’فَبِاَیِ آلاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَان!‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلیو واٹر سے آگے مستیج کے لیے پیدل مسافت شروع ہوجاتی ہے۔ مستیج جھیل کے دیدار کے لیے 2 آپشن پیشِ نظر رکھیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e48d5abfac.jpg"  alt="بلیو واٹر میں ایک سیاح چارپائی رکھے موسم کا لطف اٹھا رہا ہے" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بلیو واٹر میں ایک سیاح چارپائی رکھے موسم کا لطف اٹھا رہا ہے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پہلا&lt;/strong&gt;، اگر آپ سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے صبح 8 بجے سفر کا آغاز کریں، تو آپ باآسانی دوپہر 3 بجے تک وادئ انکار پہنچ سکتے ہیں۔ یہ پورا دن آپ مذکورہ وادی میں گزار لیں اور رات کو بلیو واٹر کے ایریا میں کیمپنگ کرلیں۔ اگلی صبح آپ سویرے سویرے مستیج کے لیے روانہ ہوجائیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دوسرا آپشن&lt;/strong&gt;، جیسے ہی وادئ انکار پہنچ جائیں، پیدل سفر شروع کریں اور 3 تا 4 گھنٹوں کی صبر آزما مسافت کے بعد جنت نما ’جانشئی بانڈہ‘ میں پہلی رات گزارنے کی خاطر کیمپنگ کریں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وادئ انکار سے آگے دوراہا آتا ہے۔ جانشئی بانڈہ تک رسائی کے لیے اس مقام پر ایک راستہ اوپر پہاڑ کی چوٹی کی طرف جاتا ہے، جو ڈیڑھ سے دو گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ اس میں بسااوقات آپ کو اپنا راستہ خود بنانا پڑتا ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرا راستہ گرچہ نسبتاً لمبا ہے، مگر کسی حد تک آسانی کے ساتھ تین سے چار گھنٹے میں جانشئی بانڈہ تک پہنچا جاسکتا ہے۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ انسانوں اور جانوروں کے نقل و حمل کی وجہ سے یہ راستہ بالکل کچی سڑک کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ یہ راستہ کبھی تھوڑی سی چڑھائی، کبھی اترائی اور کبھی بالکل سیدھی شکل اختیار کرکے آپ کو جانشئی بانڈہ تک اچھی خاصی ہائیکنگ کے بعد پہنچاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e48d5af35d.jpg"  alt="جانشئی بانڈہ کی طرف گھنے جنگل کے درمیان پیش قدمی جاری ہے" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;جانشئی بانڈہ کی طرف گھنے جنگل کے درمیان پیش قدمی جاری ہے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e4a182a30e.jpg"  alt="جانشئی بانڈہ کا آغاز ہوا چاہتا ہے" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;جانشئی بانڈہ کا آغاز ہوا چاہتا ہے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جانشئی بانڈہ پر جنت کے ٹکڑے کا گمان ہوتا ہے۔ یہاں چرواہوں کے کچے کوٹھے ملتے ہیں۔ اس کے ساتھ چراہ گاہیں اور میدان ہیں، جہاں بلاجھجھک کیمپنگ کی جاسکتی ہے۔ مستیج جھیل سے نکلنے والا پانی ایک ندی کی شکل میں بانڈہ کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتا ہے۔ قدرت اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ یہاں جلوہ گر ہے۔ مگر افسوس کہ یہ رعنائی بہت جلد ماند پڑنے والی ہے، کیونکہ بانڈہ میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی جاری ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e4a1a7c869.jpg"  alt="جانشئی بانڈہ میں مقامی چرواہوں کے کوٹھے" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;جانشئی بانڈہ میں مقامی چرواہوں کے کوٹھے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e4a66d0a3a.jpg"  alt="جانشئی بانڈہ کے آخری کوٹھے، جہاں سے آگے مستیج بانڈہ کے لیے سفر شروع کیا جاتا ہے" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;جانشئی بانڈہ کے آخری کوٹھے، جہاں سے آگے مستیج بانڈہ کے لیے سفر شروع کیا جاتا ہے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹمبر مافیا کٹائی کو قانونی شکل دینے کے لیے ایک زبردست حربہ استعمال کرتا ہے، درختوں کے پیندے میں آگ روشن کرکے انہیں پہلے سُکھا لیا جاتا ہے، اور اس کے بعد انہیں مردہ یا بے کار قرار دے کر کاٹنے کی راہ ہموار کرلی جاتی ہے۔ اگر اس طرف توجہ نہیں دی گئی تو 3 سال تک جانشئی بانڈہ صحرا کی شکل اختیار کرلے گا۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e48d5b227f.jpg"  alt="جانشئی بانڈہ کے راستے میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی جاری ہے" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;جانشئی بانڈہ کے راستے میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی جاری ہے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e4a956de7b.jpg"  alt="جانشئی بانڈہ کا گھنا جنگل جس میں بے دریغ کٹائی جاری ہے" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;جانشئی بانڈہ کا گھنا جنگل جس میں بے دریغ کٹائی جاری ہے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جانشئی بانڈہ سے آگے مستیج بانڈہ تک پورے 4 گھنٹے کا مزید سفر باقی ہے جو بہت ہمت طلب ہے۔ یہاں سے آگے ٹری لائن ختم ہوجاتی ہے اور بڑے بڑے پتھروں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ان کے درمیان راستہ نکالتے نکالتے گلیشئرز اور میٹھے پانی کی ندی توانائی کا ذریعہ بنتی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مستیج بانڈہ تقریباً اس طرف سب سے آخری بانڈہ ہے جہاں چرواہوں کے 2 یا 3 کچے کوٹھے مل جاتے ہیں۔ اس سے آگے بندہ نہ بندے کی ذات۔ سفر کے دوران بتایا گیا کہ آگے کی چوٹیوں میں مارخور اور ریچھ دیکھے گئے ہیں۔ مستیج بانڈہ جیسے دُور دراز پہاڑی علاقے میں ہمیں ایک سفید ریش بابا نے گُڑ کی تگڑی چائے پلائی۔ اس ایک پیالی چائے کی قیمت بھلا کون ادا کرسکتا ہے جہاں ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنے جانے والے انسان، محدود وسائل میں آپ کی خاطر داری کرنے پر تُل جائیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e4a97567a1.jpg"  alt="جانشئی اور مستیج بانڈہ کی سرحد جہاں ندی کے اوپر سالوں سے پڑی یہ گلیشئرپل کا کام دیتا ہے" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;جانشئی اور مستیج بانڈہ کی سرحد جہاں ندی کے اوپر سالوں سے پڑی یہ گلیشئرپل کا کام دیتا ہے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e4a9cb4285.jpg"  alt="مستیج بانڈہ میں ایک مقامی پُل جو غیر مقامیوں کے لیے پلِ صراط سے کم نہیں" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مستیج بانڈہ میں ایک مقامی پُل جو غیر مقامیوں کے لیے پلِ صراط سے کم نہیں&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مستیج بانڈہ میں گوکہ درخت نامی کوئی شے نہیں مگر یہاں تقریباً دو ڈھائی سو فٹ کی بلندی سے نیچے گرنے والی آبشار اور اس کا مسحور کن شور تازگی و فرحت کا احساس دلاتے ہیں۔ مقامی طور پر مذکورہ آبشار کا کوئی نام نہیں تھا، اس لیے دوستوں کے مشورہ سے اس کا نام ’مستیج آبشار‘ رکھ دیا گیا۔ یہ آبشار اسی پہاڑ کی چوٹی پر قائم مستیج جھیل سے خارج ہونے والے پانی کی ایک بڑی مقدار سے وجود پاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e4b46e0790.jpg"  alt="مستیج جھیل کے راستہ میں آنے والی آبشار، جسے متفقہ طور پر مستیج آبشار کا نام دیا گیا" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مستیج جھیل کے راستہ میں آنے والی آبشار، جسے متفقہ طور پر مستیج آبشار کا نام دیا گیا&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e4c488122f.jpg"  alt="مستیج آبشار کا ایک اور منظر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مستیج آبشار کا ایک اور منظر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مستیج بانڈہ میں آدھا گھنٹہ گزارنے کے بعد ہماری ٹیم آخری اور اب تک کی سب سے مشکل مرحلے کے لیے تیار ہوگئی۔ آبشار سے ڈیڑھ دو گھنٹے مسلسل چوٹی کی طرف مسافت طے کرنے کے بعد جب جھیل پر پہلی نظر پڑتی ہے تو تمام تر تھکاوٹ کافور ہوجاتی ہے۔ بندہ نہ بندے کی ذات، رگ و پے میں سرائیت کرتا سکون اور جھیل کا پُرسکون نظارہ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مستیج جھیل، سوات کی دیگر جھیلوں سے یکسر مختلف ہے۔ چاہے وہ اس کی ساخت ہو، رنگ ہو، پانی کی مٹھاس ہو وعلیٰ ہذاالقیاس۔ یہ پہاڑ کی چوٹی سے بالکل دل کی شکل کی بنی نظر آتی ہے۔ نیلے امبر کی طرح اس کا پانی بھی نیلاہٹ لیے ہے۔ دیگر جھیلوں کا پانی ٹھنڈا ہوتا ہے، مگر اس کا ’شیطان گوٹ جھیل‘ (Devil's Corner Swat) کی طرح نیم گرم سا محسوس ہوتا ہے۔ جھیل کے اردگرد رنگا رنگ خود رُو پھول دیکھنے کو ملے جو اب تک سوات کی دیگر جھیلوں کو سیر کرتے کم از کم میں نے نہیں دیکھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e4c7b0e39a.jpg"  alt="مستیج جھیل کی پہاڑی سے لی جانے والی تصویر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مستیج جھیل کی پہاڑی سے لی جانے والی تصویر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e4c7b3ae34.jpg"  alt="مستیج جھیل کی ایک اور زاویہ سے لی جانے والی تصویر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مستیج جھیل کی ایک اور زاویہ سے لی جانے والی تصویر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e4c7b4f3c9.jpg"  alt="مستیج جھیل" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مستیج جھیل&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مستیج جھیل سطحِ سمندر سے تقریباً 13 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اس کی سیر کے لیے جولائی اور اگست کے مہینے آئیڈیل ہیں۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h1 id='5d6f4eaab328c'><div style= "color: #000000; text-align: center;" markdown="1">مست لوگوں کی ’مستیج جھیل‘</div></h1>

<p>تحریر و تصاویر: <a href="https://www.dawnnews.tv/authors/1864"><strong>امجد علی سحاب</strong></a></p>

<p>جیتی ہوئی ٹیم یا اس کے کھلاڑیوں پر ہر کسی کی نظر جمی رہتی ہے، مگر کیا کبھی کسی نے کھیل ہارنے کے بعد ہاری ہوئی ٹیم کے کھلاڑیوں کا بغور جائزہ لیا ہے؟ </p>

<p>یہ وہ فیصلہ کن لمحہ ہوتا ہے جب یا تو کھلاڑی شکست و بیم کے سائے میں اس نازک موقعے کا دلیری سے مقابلہ کرکے کندن بن جاتا ہے، یا پھر مایوسیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں اُتر کر گمنام ہوجاتا ہے۔ </p>

<p>شاید اسی لیے ابراہام لنکن نے اپنے جگر گوشے کے اتالیق کو ایک لمبا چوڑا خط لکھا تھا اور اس میں اس بات پر زور دیا تھا کہ ’میرے بیٹے کو 2 باتیں ضرور سمجھانا۔ <strong>اول</strong>: جیت کا مزا کیا ہوتا ہے! <strong>دوم</strong>: شکست برداشت کیسے کی جاتی ہے!‘</p>

<p>2 سال پہلے جولائی 2017ء میں مستیج جھیل کے دیدار کا قصد کر بیٹھے۔ رختِ سفر باندھ کر جھیل کی طرف اونچے عزم لیے روانہ ہوئے، مگر ناقص حکمت عملی اور موسم کی خرابی کی وجہ سے ہمیں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ آدھے راستے سے وہ واپسی کا سفر مجھے آج بھی یاد ہے، جانشئی بانڈہ میں کسی ہارے ہوئے کھلاڑی کی طرح بوجھل قدموں کے ساتھ واپسی ہمیں ہماری کمیوں اور کوتاہیوں کا طعنہ دے رہی تھی۔ </p>

<p>اس تلخ تجربے کی روشنی میں امسال (اگست 2019ء) میں ہماری ٹیم (اُدھیانہ ٹریکرز) کے 9 ممبرز نے چیئرمین فضل خالق کی رہنمائی میں نہ صرف جھیل تک رسائی حاصل کی بلکہ اس کی خوبصورتی کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کیا اور کئی علاقائی و قومی نشریاتی اداروں کی مدد سے اہلِ پاکستان کو ٹریکنگ کے لیے ایک نئی جگہ مہیا کردی۔ بالفاظِ دیگر، اگر ہم ایک بار ہار کر ہمت ہار جاتے تو آج مستیج جھیل اہلِ پاکستان کی آنکھوں سے اوجھل ہی رہتی۔</p>

<p>مستیج جھیل کی وجۂ تسمیہ بڑی عجیب ہے۔ ہمارے نوجوان گائیڈ عمر واحد کالامی کے مطابق ’مستیج ہماری مقامی زبان میں ’مستی کی جگہ‘ کو کہتے ہیں۔ یہاں تک رسائی بس مست لوگ ہی حاصل کرسکتے ہیں۔‘</p>

<p>اس لفظ (مستیج) کے آخری دو حروف ہٹادیے جائیں تو سہ حرفی لفظ ’مست‘ باقی رہ جاتا ہے۔ مستیج تک پہنچتے ہی ہم پر ایک عجیب سی مستی چھاگئی اور اسی وقت مجھے اپنے گائیڈ کی بات یاد آگئی کہ واقعی یہاں مست لوگ ہی رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔</p>

<p>مستیج جھیل کے لیے رختِ سفر باندھنے والے خیبر پختونخوا کی خوبصورت ترین وادی ’سوات‘ تک جنرل ٹرانسپورٹ کا سہارا لے سکتے ہیں۔ مینگورہ سے بحرین تک روڈ کی حالت بہتر ہے، مگر بحرین سے آگے کالام تک روڈ خستہ حال ہے۔ ہائی ایس گاڑیوں کے علاوہ فیلڈر نامی گاڑیاں بھی بڑی تعداد میں کالام تک ٹرانسپورٹ کی سہولت دیتی ہیں۔ </p>

<p>بہتر بات یہ ہوگی کہ ناشتہ مینگورہ شہر میں کیا جائے، جہاں اچھے ریسٹورنٹ میسر ہیں۔ اس کے بعد دوسرا اسٹاپ بحرین ہوجائے، جہاں دریا کنارے ایک کپ پیالی چائے اور روغنی چھولے کھانے کا اپنا مزا ہے۔ اگرچہ بحرین بازار بہت بڑا نہیں مگر اس میں روزمرہ ضرورت کی ہر چیز مناسب داموں مل جاتی ہے۔ </p>

<p>بحرین سے آگے چونکہ روڈ کی حالت خراب ہے، اس لیے آگے کالام تک دو ڈھائی گھنٹے کا سفر کافی صبر آزما ہے۔ کالام بازار آخری اسٹاپ کے طور پر راستے میں آتا ہے، جہاں بحرین بازار کی طرح ہر چیز مل جاتی ہے۔ کالام بازار کی خصوصیت یہ ہے کہ وہاں کے ریسٹورنٹس میں لاہور، فیصل آباد، کراچی اور دیگر شہروں کے مشہور کھانے مناسب داموں میں مل جاتے ہیں۔ یہاں پیٹ کی پوجا پاٹ کی غرض سے اک آدھ گھنٹا رکنا گھاٹے کا سودا نہیں ہوگا۔ </p>

<p>کالام سے آگے ’وادئ انکار‘ کے لیے فور بائے فور گاڑی کے ذریعے سفر شروع ہوتا ہے، جہاں ’بلیو واٹر‘ نامی جگہ آج کل مقامی و غیر مقامی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ اس مقام کی وجۂ تسمیہ اس کا پانی ہے جس پر نیلے امبر کا گمان ہوتا ہے۔ بلیو واٹر دراصل دو آبہ ہے۔ اسے پانی کوہِ جھیل (جسے کچھ مقامی لوگ اندرب جھیل بھی کہتے ہیں) اور مستیج سے وافر مقدار میں ملتا ہے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e48d5864f7.jpg"  alt="وادئ انکار کا خوبصورت منظر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">وادئ انکار کا خوبصورت منظر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>جو مقامی و غیر مقامی سیاح ٹریکنگ کا شوق نہیں رکھتے، ان کے لیے بلیو واٹر کسی نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں۔ فلک بوس پہاڑ، گھنے جنگلات، بل کھاتی ندی، میٹھے پانی کے جھرنے اور پرندوں کی مسحور کن چہچہاہٹ ماحول کو دو آتشہ کردیتی ہے۔ </p>

<p>بلیو واٹر میں سیاحوں کا محبوب مشغلہ نیلے پانی کی ندی میں چارپائی ڈال کر دراز ہونا ہے۔ ایسے میں اگر وہاں قائم چھوٹے سے ریسٹورنٹ والا گرم گرم چائے کی بھاپ اُڑاتی پیالی اور تلے ہوئے گرما گرم پکوڑے پیش کرے، تو آدمی کے منہ سے بے ساختہ یہ آیت نکلتی ہے: </p>

<p>’فَبِاَیِ آلاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَان!‘</p>

<p>بلیو واٹر سے آگے مستیج کے لیے پیدل مسافت شروع ہوجاتی ہے۔ مستیج جھیل کے دیدار کے لیے 2 آپشن پیشِ نظر رکھیں۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e48d5abfac.jpg"  alt="بلیو واٹر میں ایک سیاح چارپائی رکھے موسم کا لطف اٹھا رہا ہے" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بلیو واٹر میں ایک سیاح چارپائی رکھے موسم کا لطف اٹھا رہا ہے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p><strong>پہلا</strong>، اگر آپ سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے صبح 8 بجے سفر کا آغاز کریں، تو آپ باآسانی دوپہر 3 بجے تک وادئ انکار پہنچ سکتے ہیں۔ یہ پورا دن آپ مذکورہ وادی میں گزار لیں اور رات کو بلیو واٹر کے ایریا میں کیمپنگ کرلیں۔ اگلی صبح آپ سویرے سویرے مستیج کے لیے روانہ ہوجائیں۔</p>

<p><strong>دوسرا آپشن</strong>، جیسے ہی وادئ انکار پہنچ جائیں، پیدل سفر شروع کریں اور 3 تا 4 گھنٹوں کی صبر آزما مسافت کے بعد جنت نما ’جانشئی بانڈہ‘ میں پہلی رات گزارنے کی خاطر کیمپنگ کریں۔ </p>

<p>وادئ انکار سے آگے دوراہا آتا ہے۔ جانشئی بانڈہ تک رسائی کے لیے اس مقام پر ایک راستہ اوپر پہاڑ کی چوٹی کی طرف جاتا ہے، جو ڈیڑھ سے دو گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ اس میں بسااوقات آپ کو اپنا راستہ خود بنانا پڑتا ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرا راستہ گرچہ نسبتاً لمبا ہے، مگر کسی حد تک آسانی کے ساتھ تین سے چار گھنٹے میں جانشئی بانڈہ تک پہنچا جاسکتا ہے۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ انسانوں اور جانوروں کے نقل و حمل کی وجہ سے یہ راستہ بالکل کچی سڑک کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ یہ راستہ کبھی تھوڑی سی چڑھائی، کبھی اترائی اور کبھی بالکل سیدھی شکل اختیار کرکے آپ کو جانشئی بانڈہ تک اچھی خاصی ہائیکنگ کے بعد پہنچاتا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e48d5af35d.jpg"  alt="جانشئی بانڈہ کی طرف گھنے جنگل کے درمیان پیش قدمی جاری ہے" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">جانشئی بانڈہ کی طرف گھنے جنگل کے درمیان پیش قدمی جاری ہے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e4a182a30e.jpg"  alt="جانشئی بانڈہ کا آغاز ہوا چاہتا ہے" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">جانشئی بانڈہ کا آغاز ہوا چاہتا ہے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>جانشئی بانڈہ پر جنت کے ٹکڑے کا گمان ہوتا ہے۔ یہاں چرواہوں کے کچے کوٹھے ملتے ہیں۔ اس کے ساتھ چراہ گاہیں اور میدان ہیں، جہاں بلاجھجھک کیمپنگ کی جاسکتی ہے۔ مستیج جھیل سے نکلنے والا پانی ایک ندی کی شکل میں بانڈہ کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتا ہے۔ قدرت اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ یہاں جلوہ گر ہے۔ مگر افسوس کہ یہ رعنائی بہت جلد ماند پڑنے والی ہے، کیونکہ بانڈہ میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی جاری ہے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e4a1a7c869.jpg"  alt="جانشئی بانڈہ میں مقامی چرواہوں کے کوٹھے" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">جانشئی بانڈہ میں مقامی چرواہوں کے کوٹھے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e4a66d0a3a.jpg"  alt="جانشئی بانڈہ کے آخری کوٹھے، جہاں سے آگے مستیج بانڈہ کے لیے سفر شروع کیا جاتا ہے" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">جانشئی بانڈہ کے آخری کوٹھے، جہاں سے آگے مستیج بانڈہ کے لیے سفر شروع کیا جاتا ہے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>ٹمبر مافیا کٹائی کو قانونی شکل دینے کے لیے ایک زبردست حربہ استعمال کرتا ہے، درختوں کے پیندے میں آگ روشن کرکے انہیں پہلے سُکھا لیا جاتا ہے، اور اس کے بعد انہیں مردہ یا بے کار قرار دے کر کاٹنے کی راہ ہموار کرلی جاتی ہے۔ اگر اس طرف توجہ نہیں دی گئی تو 3 سال تک جانشئی بانڈہ صحرا کی شکل اختیار کرلے گا۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e48d5b227f.jpg"  alt="جانشئی بانڈہ کے راستے میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی جاری ہے" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">جانشئی بانڈہ کے راستے میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی جاری ہے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e4a956de7b.jpg"  alt="جانشئی بانڈہ کا گھنا جنگل جس میں بے دریغ کٹائی جاری ہے" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">جانشئی بانڈہ کا گھنا جنگل جس میں بے دریغ کٹائی جاری ہے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>جانشئی بانڈہ سے آگے مستیج بانڈہ تک پورے 4 گھنٹے کا مزید سفر باقی ہے جو بہت ہمت طلب ہے۔ یہاں سے آگے ٹری لائن ختم ہوجاتی ہے اور بڑے بڑے پتھروں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ان کے درمیان راستہ نکالتے نکالتے گلیشئرز اور میٹھے پانی کی ندی توانائی کا ذریعہ بنتی ہے۔ </p>

<p>مستیج بانڈہ تقریباً اس طرف سب سے آخری بانڈہ ہے جہاں چرواہوں کے 2 یا 3 کچے کوٹھے مل جاتے ہیں۔ اس سے آگے بندہ نہ بندے کی ذات۔ سفر کے دوران بتایا گیا کہ آگے کی چوٹیوں میں مارخور اور ریچھ دیکھے گئے ہیں۔ مستیج بانڈہ جیسے دُور دراز پہاڑی علاقے میں ہمیں ایک سفید ریش بابا نے گُڑ کی تگڑی چائے پلائی۔ اس ایک پیالی چائے کی قیمت بھلا کون ادا کرسکتا ہے جہاں ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنے جانے والے انسان، محدود وسائل میں آپ کی خاطر داری کرنے پر تُل جائیں۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e4a97567a1.jpg"  alt="جانشئی اور مستیج بانڈہ کی سرحد جہاں ندی کے اوپر سالوں سے پڑی یہ گلیشئرپل کا کام دیتا ہے" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">جانشئی اور مستیج بانڈہ کی سرحد جہاں ندی کے اوپر سالوں سے پڑی یہ گلیشئرپل کا کام دیتا ہے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e4a9cb4285.jpg"  alt="مستیج بانڈہ میں ایک مقامی پُل جو غیر مقامیوں کے لیے پلِ صراط سے کم نہیں" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مستیج بانڈہ میں ایک مقامی پُل جو غیر مقامیوں کے لیے پلِ صراط سے کم نہیں</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>مستیج بانڈہ میں گوکہ درخت نامی کوئی شے نہیں مگر یہاں تقریباً دو ڈھائی سو فٹ کی بلندی سے نیچے گرنے والی آبشار اور اس کا مسحور کن شور تازگی و فرحت کا احساس دلاتے ہیں۔ مقامی طور پر مذکورہ آبشار کا کوئی نام نہیں تھا، اس لیے دوستوں کے مشورہ سے اس کا نام ’مستیج آبشار‘ رکھ دیا گیا۔ یہ آبشار اسی پہاڑ کی چوٹی پر قائم مستیج جھیل سے خارج ہونے والے پانی کی ایک بڑی مقدار سے وجود پاتی ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e4b46e0790.jpg"  alt="مستیج جھیل کے راستہ میں آنے والی آبشار، جسے متفقہ طور پر مستیج آبشار کا نام دیا گیا" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مستیج جھیل کے راستہ میں آنے والی آبشار، جسے متفقہ طور پر مستیج آبشار کا نام دیا گیا</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e4c488122f.jpg"  alt="مستیج آبشار کا ایک اور منظر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مستیج آبشار کا ایک اور منظر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>مستیج بانڈہ میں آدھا گھنٹہ گزارنے کے بعد ہماری ٹیم آخری اور اب تک کی سب سے مشکل مرحلے کے لیے تیار ہوگئی۔ آبشار سے ڈیڑھ دو گھنٹے مسلسل چوٹی کی طرف مسافت طے کرنے کے بعد جب جھیل پر پہلی نظر پڑتی ہے تو تمام تر تھکاوٹ کافور ہوجاتی ہے۔ بندہ نہ بندے کی ذات، رگ و پے میں سرائیت کرتا سکون اور جھیل کا پُرسکون نظارہ۔</p>

<p>مستیج جھیل، سوات کی دیگر جھیلوں سے یکسر مختلف ہے۔ چاہے وہ اس کی ساخت ہو، رنگ ہو، پانی کی مٹھاس ہو وعلیٰ ہذاالقیاس۔ یہ پہاڑ کی چوٹی سے بالکل دل کی شکل کی بنی نظر آتی ہے۔ نیلے امبر کی طرح اس کا پانی بھی نیلاہٹ لیے ہے۔ دیگر جھیلوں کا پانی ٹھنڈا ہوتا ہے، مگر اس کا ’شیطان گوٹ جھیل‘ (Devil's Corner Swat) کی طرح نیم گرم سا محسوس ہوتا ہے۔ جھیل کے اردگرد رنگا رنگ خود رُو پھول دیکھنے کو ملے جو اب تک سوات کی دیگر جھیلوں کو سیر کرتے کم از کم میں نے نہیں دیکھے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e4c7b0e39a.jpg"  alt="مستیج جھیل کی پہاڑی سے لی جانے والی تصویر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مستیج جھیل کی پہاڑی سے لی جانے والی تصویر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e4c7b3ae34.jpg"  alt="مستیج جھیل کی ایک اور زاویہ سے لی جانے والی تصویر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مستیج جھیل کی ایک اور زاویہ سے لی جانے والی تصویر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6e4c7b4f3c9.jpg"  alt="مستیج جھیل" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مستیج جھیل</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>مستیج جھیل سطحِ سمندر سے تقریباً 13 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اس کی سیر کے لیے جولائی اور اگست کے مہینے آئیڈیل ہیں۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1110014</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Sep 2019 10:42:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امجد علی سحاب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/09/5d6e4d742bc90.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/09/5d6e4d742bc90.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
