<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 02:14:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 02:14:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دنیا کے 10 کم ترین قابلِ رہائش شہروں میں کراچی بھی شامل
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1110068/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ آبادی والا شہر کراچی دنیا کے 10 کم ترین قابل رہائش شہروں میں شامل ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ &lt;a href="https://www.eiu.com/public/topical_report.aspx?campaignid=liveability2019"&gt;&lt;strong&gt;(ای آئی یو)&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نے ریسرچ اینڈ انالسز ڈویژن کی سالانہ دی گلوبل لائیوبلیٹی انڈیکس 2019 رپورٹ جاری کی جس میں اس بات کا انکشاف ہوا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہر سال ای آئی یو دنیا کے 140 ممالک کی فہرست جاری کرتا ہے جس میں دنیا کے مختلف ممالک کے شہروں میں رہن سہن، جرائم کی شرح، ٹرانسپورٹ کا نظام، انفرا اسٹرکچر، صحت اور تعلیمی سہولیات تک رسائی کے ساتھ ساتھ سیاسی اور معاشی استحکام شامل ہوتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم ہر سال کی طرح اس سال بھی کراچی اس فہرست کے آخری 10 شہروں میں شامل ہوا اور 140 میں سے اس کا 136واں نمبر ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1110023"&gt;ہنسیے کہ کراچی کا مذاق اڑایا گیا ہے!&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کراچی صرف شام کے شہر دمشق، نائیجیریا کے لاگوس، بنگلہ دیش کے ڈھاکا اور لیبیا کے طرابلس سے بہتر ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں جو شہر کم ترین قابل رہائش 10 شہروں میں شامل ہیں ان میں وینزویلا کا کاراکاس، الجزائر کا الجیئرس، کیمرون کا دوالا، زمبابوے کا ہرارے اور پپوا نیو گنی کا مورس بے شامل ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ای آئی یو نے ان شہروں کا 100 پوائنٹس کی ریٹنگ کے ساتھ تجزیہ کیا ہے جس میں کراچی کو استحکام میں 20، صحت عامہ میں 45.8، ثقافت اور ماحولیات میں 38.7، تعلیم میں 66.7 اور انفرا اسٹرکچر میں 51.8 پوائنٹس دیے گئے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں اس سال کراچی کی رینکنگ میں ایک درجہ بہتری آئی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ سال ای آئی یو کی جاری کردہ اس فہرست میں کراچی کا 137واں نمبر تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فہرست میں دیکھا گیا ہے کہ دنیا میں ماحولیاتی تبدیلی، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور نامناسب پانی کی فراہمی کی وجہ سے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی 118ویں اور مصری دارالحکومت قاہرہ 125ویں نمبر پر چلے گئے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1091527"&gt;سپریم کورٹ کا کراچی میں سیاحتی مقاصد کیلئے ٹرام چلانے کا حکم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ای آئی یو کے ایک عہدے دار اگاتھی ڈیمارائس کا کہنا تھا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی مستقبل میں اس فہرست پر بڑی حد تک اثر انداز ہوگی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دنیا کے سر فہرست قابل رہائش شہروں میں آسٹریا کا دارالحکومت ویانا شامل ہے جس نے گزشتہ برس ہی آسٹریلیا کے شہر میلبرن سے پوزیشن چھینی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ آسٹریلیا کا شہر میلبرن اس سے قبل مسلسل 7 سال تک دنیا کے قابل رہائش شہروں میں صف اول پر رہا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس فہرست میں تیسرے نمبر پر بھی آسٹریلیا کا شہر سڈنی، چوتھے نمبر پر جاپانی شہر اوساکا اور پانچویں نمبر پر کینیڈین شہر کیلگری شامل ہیں۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ آبادی والا شہر کراچی دنیا کے 10 کم ترین قابل رہائش شہروں میں شامل ہے۔ </p>

<p>اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ <a href="https://www.eiu.com/public/topical_report.aspx?campaignid=liveability2019"><strong>(ای آئی یو)</strong></a> نے ریسرچ اینڈ انالسز ڈویژن کی سالانہ دی گلوبل لائیوبلیٹی انڈیکس 2019 رپورٹ جاری کی جس میں اس بات کا انکشاف ہوا۔ </p>

<p>ہر سال ای آئی یو دنیا کے 140 ممالک کی فہرست جاری کرتا ہے جس میں دنیا کے مختلف ممالک کے شہروں میں رہن سہن، جرائم کی شرح، ٹرانسپورٹ کا نظام، انفرا اسٹرکچر، صحت اور تعلیمی سہولیات تک رسائی کے ساتھ ساتھ سیاسی اور معاشی استحکام شامل ہوتا ہے۔ </p>

<p>تاہم ہر سال کی طرح اس سال بھی کراچی اس فہرست کے آخری 10 شہروں میں شامل ہوا اور 140 میں سے اس کا 136واں نمبر ہے۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1110023">ہنسیے کہ کراچی کا مذاق اڑایا گیا ہے!</a></strong></p>

<p>کراچی صرف شام کے شہر دمشق، نائیجیریا کے لاگوس، بنگلہ دیش کے ڈھاکا اور لیبیا کے طرابلس سے بہتر ہے۔ </p>

<p>علاوہ ازیں جو شہر کم ترین قابل رہائش 10 شہروں میں شامل ہیں ان میں وینزویلا کا کاراکاس، الجزائر کا الجیئرس، کیمرون کا دوالا، زمبابوے کا ہرارے اور پپوا نیو گنی کا مورس بے شامل ہے۔ </p>

<p>ای آئی یو نے ان شہروں کا 100 پوائنٹس کی ریٹنگ کے ساتھ تجزیہ کیا ہے جس میں کراچی کو استحکام میں 20، صحت عامہ میں 45.8، ثقافت اور ماحولیات میں 38.7، تعلیم میں 66.7 اور انفرا اسٹرکچر میں 51.8 پوائنٹس دیے گئے۔ </p>

<p>یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں اس سال کراچی کی رینکنگ میں ایک درجہ بہتری آئی ہے۔ </p>

<p>گزشتہ سال ای آئی یو کی جاری کردہ اس فہرست میں کراچی کا 137واں نمبر تھا۔ </p>

<p>فہرست میں دیکھا گیا ہے کہ دنیا میں ماحولیاتی تبدیلی، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور نامناسب پانی کی فراہمی کی وجہ سے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی 118ویں اور مصری دارالحکومت قاہرہ 125ویں نمبر پر چلے گئے۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1091527">سپریم کورٹ کا کراچی میں سیاحتی مقاصد کیلئے ٹرام چلانے کا حکم</a></strong></p>

<p>ای آئی یو کے ایک عہدے دار اگاتھی ڈیمارائس کا کہنا تھا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی مستقبل میں اس فہرست پر بڑی حد تک اثر انداز ہوگی۔ </p>

<p>دنیا کے سر فہرست قابل رہائش شہروں میں آسٹریا کا دارالحکومت ویانا شامل ہے جس نے گزشتہ برس ہی آسٹریلیا کے شہر میلبرن سے پوزیشن چھینی تھی۔</p>

<p>واضح رہے کہ آسٹریلیا کا شہر میلبرن اس سے قبل مسلسل 7 سال تک دنیا کے قابل رہائش شہروں میں صف اول پر رہا ہے۔ </p>

<p>اس فہرست میں تیسرے نمبر پر بھی آسٹریلیا کا شہر سڈنی، چوتھے نمبر پر جاپانی شہر اوساکا اور پانچویں نمبر پر کینیڈین شہر کیلگری شامل ہیں۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1110068</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Sep 2019 13:29:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/09/5d6f4f08b0d41.jpg?r=970020619" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/09/5d6f4f08b0d41.jpg?r=1908716594"/>
        <media:title>کراچی صرف دمشق، لاگوس، ڈھاکا اور طرابلس سے بہتر ہے — فائل فوٹو: علی رضا کھتری
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
