<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 11:46:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 22 Jun 2026 11:46:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور: عمر رسیدہ خاتون سے ’بدتمیزی‘ کرنے والا پولیس افسر معطل
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1110173/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: پنجاب حکومت نے بزرگ خاتون سے مبینہ طور پر بدتمیزی کرنے والے اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) کو معطل کردیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گِل نے بتایا کہ لاہور پولیس کے اے ایس آئی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ’لاہور پولیس کو اے ایس آئی کے خلاف فوری ایکشن لینے کی ہدایت‘ کردی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1110030/"&gt;پنجاب میں پولیس تشدد سے ہلاکت کا تیسرا واقعہ، مقدمے میں 6 اہلکار نامزد&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ صحافی تُرہب اصغر  نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں اے ایس آئی کو عمر رسیدہ خاتون پر چیختے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور اے ایس آئی نے خاتون کی لاٹھی بھی پھینک دی تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ترہب اصغر نے بتایا کہ مذکورہ ویڈیو لاہور میں سٹی پولیس افسر کے باہر بنائی گئی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیر اعلیٰ کے ترجمان نے کہا کہ ’ایسا رویہ کسی بھی صورت ناقابل برداشت ہے‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/SHABAZGIL/status/1169557753234411520?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1169557753234411520&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1503699"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویڈیو پوسٹ ہونے کے دو گھنٹے بعد شہباز گِل نے اعلان کیا کہ بزرگ خاتون سے بدتمیزی اور بداخلاقی کے ساتھ پیش آنے پر اے ایس آئی کو معطل کرکے گرفتار کرلیا گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ پنجاب پولیس مشتبہ افراد پر ’تشدد‘ اور ان کے ساتھ تفتیش کے لیے غیرقانونی طریقہ کار اپنانے پر چند ماہ سے شہ سرخوں کی زینت بنی ہوئی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1109965"&gt;پنجاب میں 'پولیس تشدد سے نوجوان کی ہلاکت' کا ایک اور واقعہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے پولیس کے مبینہ تشدد سے لاہور میں 2 اور رحیم یار خان میں ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے ہی محکمہ انسداد کرپشن کے افسران نے لاہور میں ٹارچر سیل دریافت کیا تھا جو گجر پورہ پولیس اسٹیشن کے ہاؤس افسر (ایس ایچ او) اور 3 کانسٹیبل کے زیر استعمال تھا اور وہ تفتیش کے لیے مشتبہ افراد کو ٹارچر سیل لاتے تھے۔  &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: پنجاب حکومت نے بزرگ خاتون سے مبینہ طور پر بدتمیزی کرنے والے اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) کو معطل کردیا۔ </p>

<p>وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گِل نے بتایا کہ لاہور پولیس کے اے ایس آئی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ </p>

<p>انہوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ’لاہور پولیس کو اے ایس آئی کے خلاف فوری ایکشن لینے کی ہدایت‘ کردی۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1110030/">پنجاب میں پولیس تشدد سے ہلاکت کا تیسرا واقعہ، مقدمے میں 6 اہلکار نامزد</a></strong></p>

<p>واضح رہے کہ صحافی تُرہب اصغر  نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں اے ایس آئی کو عمر رسیدہ خاتون پر چیختے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور اے ایس آئی نے خاتون کی لاٹھی بھی پھینک دی تھی۔ </p>

<p>ترہب اصغر نے بتایا کہ مذکورہ ویڈیو لاہور میں سٹی پولیس افسر کے باہر بنائی گئی۔ </p>

<p>وزیر اعلیٰ کے ترجمان نے کہا کہ ’ایسا رویہ کسی بھی صورت ناقابل برداشت ہے‘۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/SHABAZGIL/status/1169557753234411520?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1169557753234411520&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1503699"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ویڈیو پوسٹ ہونے کے دو گھنٹے بعد شہباز گِل نے اعلان کیا کہ بزرگ خاتون سے بدتمیزی اور بداخلاقی کے ساتھ پیش آنے پر اے ایس آئی کو معطل کرکے گرفتار کرلیا گیا۔ </p>

<p>واضح رہے کہ پنجاب پولیس مشتبہ افراد پر ’تشدد‘ اور ان کے ساتھ تفتیش کے لیے غیرقانونی طریقہ کار اپنانے پر چند ماہ سے شہ سرخوں کی زینت بنی ہوئی ہے۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1109965">پنجاب میں 'پولیس تشدد سے نوجوان کی ہلاکت' کا ایک اور واقعہ</a></strong></p>

<p>گزشتہ ہفتے پولیس کے مبینہ تشدد سے لاہور میں 2 اور رحیم یار خان میں ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا۔  </p>

<p>گزشتہ ہفتے ہی محکمہ انسداد کرپشن کے افسران نے لاہور میں ٹارچر سیل دریافت کیا تھا جو گجر پورہ پولیس اسٹیشن کے ہاؤس افسر (ایس ایچ او) اور 3 کانسٹیبل کے زیر استعمال تھا اور وہ تفتیش کے لیے مشتبہ افراد کو ٹارچر سیل لاتے تھے۔  </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1110173</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Sep 2019 22:54:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/09/5d713eae767ee.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/09/5d713eae767ee.jpg"/>
        <media:title>ویڈیو لاہور میں سٹی پولیس افسر کے باہر بنائی گئی تھی —فوٹو: ٹوئٹر اکاؤنٹ شہباز گِل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
