<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 04:58:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 04:58:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’کشمیریوں کو زندہ درگور کردیا گیا، اقوام متحدہ قراردادوں پر عملدرآمد کروائے‘
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1111075/</link>
      <description>&lt;p&gt;ساؤتھ ایشین اسٹریٹجک اسٹیبلیٹی انسٹیٹیوٹ یونیورسٹی (ایس اے ایس ایس آئی یو) کی ڈائریکٹر جنرل نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر کشمیر سے متعلق قراردادوں پر فوری عملدرآمد کروایا جائے کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کرکے کشمیریوں کو زندہ درگور کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ترک میڈیا کے وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے ایس اے ایس ایس آئی یو کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ماریہ سلطان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو امید ہے کہ اقوام متحدہ دہائیوں پرانے اس حل طلب مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں 1948 میں ایک قرارداد منظور ہوئی تھی، جس میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا تھا جبکہ انہیں آزاد رائے شماری کے ذریعے اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈاکٹر ماریہ سلطان  نے وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 5 اگست کو غیرقانونی طریقے سے مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-اے کو ختم کردیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108966"&gt;’کیا مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ 50 سال بعد کردار ادا کرے گا؟‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کا یہ غیرقانونی اقدام نئی دہلی اور اسلام آباد کو کشیدگی کی طرف لے گیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کشمیریوں کو بھارت نے زندہ درگور کردیا ہے، وہ اپنے ہی گھر میں بے یارو مددگار ہوگئے ہیں، وہاں بھارت نے انسانی حقوق کی پامالیاں کی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں صدارتی نظام رائج نہیں کیا جاسکتا، جموں و کشمیر میں صرف گورنر راج ہی لگایا جاسکتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ آرٹیکل 35-اے کو 1954 میں آئینی حکم نامہ (جموں و کشمیر) کے تحت اس وقت کے بھارتی صدر ڈاکٹر راجیندرا پرساد کی ہدایت پر جواہر لال نہرو کی کابینہ نے آئین میں شامل کیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1109783/"&gt;'کشمیر میں کچھ ہوا تو بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے'&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈاکٹر ماریہ سلطان نے بتایا کہ آئینی حکم نامے 1954 نے 1952 کے دہلی معاہدے کی پیری کی جو اس وقت کے بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو اور جموں اور کشمیر کے وزیراعظم شیخ محمد عبداللہ کے درمیان ہوا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 35-اے کے علاوہ 164 قوانین منسوخ ہوئے ہیں، 166 قوانین کو برقرار رکھا گیا ہے جبکہ 106 قوانین کو جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن بل 2019 کے تحت وسعت دی گئی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت نے یہ اقدام اٹھاتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت اور جموں و کشمیر کی حکومتوں کے درمیان ماضی میں ہونے والے معاہدوں کی بھی خلاف ورزی کی۔ &lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 21 ستمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ساؤتھ ایشین اسٹریٹجک اسٹیبلیٹی انسٹیٹیوٹ یونیورسٹی (ایس اے ایس ایس آئی یو) کی ڈائریکٹر جنرل نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر کشمیر سے متعلق قراردادوں پر فوری عملدرآمد کروایا جائے کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کرکے کشمیریوں کو زندہ درگور کردیا گیا ہے۔</p>

<p>ترک میڈیا کے وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے ایس اے ایس ایس آئی یو کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ماریہ سلطان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو امید ہے کہ اقوام متحدہ دہائیوں پرانے اس حل طلب مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔ </p>

<p>انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں 1948 میں ایک قرارداد منظور ہوئی تھی، جس میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا تھا جبکہ انہیں آزاد رائے شماری کے ذریعے اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا تھا۔ </p>

<p>ڈاکٹر ماریہ سلطان  نے وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 5 اگست کو غیرقانونی طریقے سے مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-اے کو ختم کردیا تھا۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108966">’کیا مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ 50 سال بعد کردار ادا کرے گا؟‘</a></strong></p>

<p>انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کا یہ غیرقانونی اقدام نئی دہلی اور اسلام آباد کو کشیدگی کی طرف لے گیا ہے۔ </p>

<p>مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کشمیریوں کو بھارت نے زندہ درگور کردیا ہے، وہ اپنے ہی گھر میں بے یارو مددگار ہوگئے ہیں، وہاں بھارت نے انسانی حقوق کی پامالیاں کی ہیں۔ </p>

<p>ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں صدارتی نظام رائج نہیں کیا جاسکتا، جموں و کشمیر میں صرف گورنر راج ہی لگایا جاسکتا ہے۔ </p>

<p>انہوں نے مزید کہا کہ آرٹیکل 35-اے کو 1954 میں آئینی حکم نامہ (جموں و کشمیر) کے تحت اس وقت کے بھارتی صدر ڈاکٹر راجیندرا پرساد کی ہدایت پر جواہر لال نہرو کی کابینہ نے آئین میں شامل کیا تھا۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1109783/">'کشمیر میں کچھ ہوا تو بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے'</a></strong></p>

<p>ڈاکٹر ماریہ سلطان نے بتایا کہ آئینی حکم نامے 1954 نے 1952 کے دہلی معاہدے کی پیری کی جو اس وقت کے بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو اور جموں اور کشمیر کے وزیراعظم شیخ محمد عبداللہ کے درمیان ہوا تھا۔ </p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 35-اے کے علاوہ 164 قوانین منسوخ ہوئے ہیں، 166 قوانین کو برقرار رکھا گیا ہے جبکہ 106 قوانین کو جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن بل 2019 کے تحت وسعت دی گئی۔ </p>

<p>ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت نے یہ اقدام اٹھاتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت اور جموں و کشمیر کی حکومتوں کے درمیان ماضی میں ہونے والے معاہدوں کی بھی خلاف ورزی کی۔ </p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 21 ستمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1111075</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Sep 2019 16:45:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افتخار اے خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/09/5d85c82566c41.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/09/5d85c82566c41.jpg"/>
        <media:title>بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی— فائل فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
