<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 13:03:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 13:03:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رکاوٹوں کے باوجود لوگ دنیا کے پراسرار ترین مقام پر پہنچنے میں کامیاب
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1111187/</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد متعدد رکاوٹوں کے باوجود دنیا کے پر اسرار، خطرناک اور خفیہ ترین فوجی اڈے کا اعزاز رکھنے والے امریکی علاقے ’ایریا 51‘ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’ایریا 51‘ سے متعلق کسی کے پاس مستند معلومات نہیں ہے اور خود امریکی فوج نے بھی اسے محض 6 سال قبل ہی اپنے ماتحت علاقہ تسلیم کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے &lt;a href="https://www.reuters.com/article/us-usa-area51/in-nevada-desert-area-51-raid-lures-festive-ufo-hunters-three-arrested-idUSKBN1W51H6"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;  یہ علاقہ در اصل امریکا اور سابق سوویت یونین (حالیہ روس) کے درمیان جاری سرد جنگ کے دوران فوجی مقاصد کے لیے بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس علاقے کے حوالے سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہاں پر 1947 میں ایک غیر ملکی جہاز کے تباہ کیے جانے کے بعد اس کے ملبے اور اس جہاز میں سوار اہلکاروں کی لاشوں کو دفنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم بعد ازاں اس علاقے کے حوالے سے وقتا بوقتا متضاد اور پراسرار کہانیاں سامنے آتی رہیں اورایسی اطلاعات بھی آئیں کہ امریکی فوج نے ویتنام جنگ میں بھی اس علاقے کو استعمال کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d88ad2cc9d49.jpg"  alt="وہاں پہنچنے والوں میں بڑی عمر کی خواتین بھی شامل تھیں&amp;mdash;فوٹو: رائٹرز" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;وہاں پہنچنے والوں میں بڑی عمر کی خواتین بھی شامل تھیں—فوٹو: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس علاقے کے حوالے سے یہ کہانیاں بھی بتائی جاتی ہیں کہ یہیں سے ہی امریکا نے خلائی تحقیق کے لیے کام کا آغاز کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس علاقے کو ’ان آئڈنٹی فائی فلائنگ آبجیکٹ‘ (یو ایف او) یعنی نامعلوم پروازی اشیاء کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہاں سے امریکا اپنے فوجی مقاصد کے لیے پروازیں کرتا رہتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس علاقے کو دنیا کا پراسرار اور خفیہ ترین فوجی علاقہ یا فوجی اڈہ بھی مانا جاتا ہے اور امریکی فوج نے 2013 میں اس علاقے کو اپنے ماتحت کے طور پر تسلیم کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ علاقے ریاست نویڈا کے طویل و عریز صحرا میں قائم ہیں اور اس کے دور دور تک صرف 170 افراد کی آبادی موجود ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d88adbeb1342.jpg"  alt="ایریا 51 کی باڑ کے 200 میٹر تک آنا ممنوع ہے اور ایسا کرنے والے پر جرمانہ عائد کرنے سمیت انہیں سزا دی جاسکتی ہے&amp;mdash;فوٹو: رائٹرز" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ایریا 51 کی باڑ کے 200 میٹر تک آنا ممنوع ہے اور ایسا کرنے والے پر جرمانہ عائد کرنے سمیت انہیں سزا دی جاسکتی ہے—فوٹو: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس علاقے کے حوالے سے پراسرار اور عجیب کہانیاں سامنے آنے کے بعد رواں برس جون میں ریاست کیلیفورنیا کے کالج کے 21 سالہ طالب علم میٹی روبرٹ نے وہاں جانے کے حوالے سے فیس بک پر ایک ایونٹ کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے فیس بک پر ’اسٹورم ایریا 51، وہ ہم سب کو روک نہیں سکتے‘ کے نام سے ایونٹ کا اعلان کیا اور دنیا بھر کے لوگوں کو دعوت دی کہ وہ ستمبر کے وسط کے بعد وہاں آئیں اور دنیا کے اس پراسرار ترین و خفیہ فوجی علاقے کو دیکھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;21 سالہ طالب علم کی جانب سے اس دعوت نامے پر دنیا بھر سے تقریبا 20 لاکھ افراد نے دلچسپی کا اظہار کیا اور وہاں آنے کا عندیہ بھی دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d88ae7d81be2.jpg"  alt="وہاں پہنچنے والے افراد نے مختلف فیشن اپنا رکھا تھا&amp;mdash;فوٹو: اے پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;وہاں پہنچنے والے افراد نے مختلف فیشن اپنا رکھا تھا—فوٹو: اے پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکی میگزین ’ٹائم‘ نے اپنی &lt;a href="https://time.com/5681197/area-51-raid-aftermath/"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں بتایا کہ اگرچہ وہاں آنے کے لیے 20 لاکھ افراد نے دلچسپی ظاہر کی تھی، تاہم وہاں بہت کم تعداد میں لوگ پہنچے تاہم یہ پہلا موقع تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ ایک ایسی جگہ پہنچے جس کے لیے خیال کیا جاتا ہے کہ وہ دنیا کی پر اسرار ترین جگہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق وہاں جانے والے لوگوں نے تین مختلف فیسٹیول منعقد کیے اور لوگ ’ایریا 51‘ کی حدود میں آنے والے علاقے کی تین مختلف جگہوں پر پہنچے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ‘رائٹرز‘ نے &lt;a href="https://www.reuters.com/article/us-usa-area51-social-media/stealth-bomber-for-area-51-crowd-u-s-military-unit-apologizes-for-tweet-idUSKBN1W60OR"&gt;&lt;strong&gt;بتایا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کہ ایریا 51 جانے والے افراد کی تعداد 150 تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d88af4a78acb.jpg"  alt="پراسرار ترین مقام پر پہنچنے والے افراد خوش دکھائی دیے&amp;mdash;فوٹو: سی نیٹ" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;پراسرار ترین مقام پر پہنچنے والے افراد خوش دکھائی دیے—فوٹو: سی نیٹ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’سی نیٹ‘ کے &lt;a href="https://www.cnet.com/how-to/area-51-raid-alienstock-naruto-runs-and-how-to-keep-up-with-it-all-live/"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; دنیا کے پراسرار ترین اور خفیہ ترین مقام کی حیثیت رکھنے والے علاقے میں پہنچنے والے افراد خلائی مخلوق کے لباس سمیت دیگر اچھوتے لباس پہن کر وہاں گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وہاں جانے والے افراد نے سوشل میڈیا اور موبائل فون کا خوب استعمال کیا اور دنیا کو دکھایا کہ وہ کس طرح دنیا کے پراسرار ترین مقام پر آئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d88b01c3dabb.jpg"  alt="وہاں پہنچنے والے افراد نے مختلف نعروں پر مبنی بینر بھی اٹھا رکھے تھے&amp;mdash;فوٹو: رائٹرز" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;وہاں پہنچنے والے افراد نے مختلف نعروں پر مبنی بینر بھی اٹھا رکھے تھے—فوٹو: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیوزی لینڈ کے نشریاتی ادارے ’اسٹف ڈاٹ کو‘ کے &lt;a href="https://www.stuff.co.nz/travel/news/116014385/earthlings-head-home-from-area-51s-alienstock"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; وہاں جانے والے افراد میں نہ صرف امریکا کی مختلف ریاستوں کے لوگ تھے بلکہ جرمنی، روس، آسٹریلیا اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک کے لوگ بھی تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے &lt;a href="https://www.bbc.com/news/world-us-canada-49786363?fbclid=IwAR0sZeLRuuhDJh0Hlb7_81D4d1TV6QPrfWxg7AK07bsnGKQFo2RD4g0TT_k"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; دنیا کے پراسرار ترین و خفیہ فوجی علاقے میں لوگوں کے پہنچنے سے قبل امریکی فوج کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ٹوئٹ کے ذریعے لوگوں کو دھمکی دی تھی کہ اگر کسی نے وہاں آنے کی جرأت کی تو اسے بم کا جیکٹ پہن کر کھڑے ہونے والے شخص کا سامنا کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/DVIDSHub/status/1175447432152436737"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم لوگوں کے وہاں پہنچنے کے بعد امریکی فوج کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے اس ٹوئٹ پر معافی مانگی گئی اور کہا گیا کہ وہ امریکی فوجی ادارے کا بیان نہیں تھا اور نہ ہی امریکی فوج ایسا خیال رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکی فوج کے ادارے ’ڈیفینس، وژوئل، انفارمیشن ڈسٹری بیوشن سروس &lt;a href="https://www.dvidshub.net/"&gt;&lt;strong&gt;(ڈی وی آئی ڈی ایس)&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے ٹوئٹر ہینڈل ڈی وی آئی ڈی ایس ہب سے کی جانے والی ٹوئٹ پر لوگوں سے دھمکی والی ٹوئٹ کے حوالے سے معذرت کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d88b14dcc389.jpg"  alt="لوگ پراسرار مقام پر بھی اچھوتے انداز اپناتے دکھائی دیے&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;لوگ پراسرار مقام پر بھی اچھوتے انداز اپناتے دکھائی دیے—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد متعدد رکاوٹوں کے باوجود دنیا کے پر اسرار، خطرناک اور خفیہ ترین فوجی اڈے کا اعزاز رکھنے والے امریکی علاقے ’ایریا 51‘ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔</p>

<p>’ایریا 51‘ سے متعلق کسی کے پاس مستند معلومات نہیں ہے اور خود امریکی فوج نے بھی اسے محض 6 سال قبل ہی اپنے ماتحت علاقہ تسلیم کیا تھا۔</p>

<p>خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے <a href="https://www.reuters.com/article/us-usa-area51/in-nevada-desert-area-51-raid-lures-festive-ufo-hunters-three-arrested-idUSKBN1W51H6"><strong>مطابق</strong></a>  یہ علاقہ در اصل امریکا اور سابق سوویت یونین (حالیہ روس) کے درمیان جاری سرد جنگ کے دوران فوجی مقاصد کے لیے بنایا گیا تھا۔</p>

<p>اس علاقے کے حوالے سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہاں پر 1947 میں ایک غیر ملکی جہاز کے تباہ کیے جانے کے بعد اس کے ملبے اور اس جہاز میں سوار اہلکاروں کی لاشوں کو دفنایا گیا تھا۔</p>

<p>تاہم بعد ازاں اس علاقے کے حوالے سے وقتا بوقتا متضاد اور پراسرار کہانیاں سامنے آتی رہیں اورایسی اطلاعات بھی آئیں کہ امریکی فوج نے ویتنام جنگ میں بھی اس علاقے کو استعمال کیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d88ad2cc9d49.jpg"  alt="وہاں پہنچنے والوں میں بڑی عمر کی خواتین بھی شامل تھیں&mdash;فوٹو: رائٹرز" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">وہاں پہنچنے والوں میں بڑی عمر کی خواتین بھی شامل تھیں—فوٹو: رائٹرز</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس علاقے کے حوالے سے یہ کہانیاں بھی بتائی جاتی ہیں کہ یہیں سے ہی امریکا نے خلائی تحقیق کے لیے کام کا آغاز کیا۔</p>

<p>اس علاقے کو ’ان آئڈنٹی فائی فلائنگ آبجیکٹ‘ (یو ایف او) یعنی نامعلوم پروازی اشیاء کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہاں سے امریکا اپنے فوجی مقاصد کے لیے پروازیں کرتا رہتا ہے۔</p>

<p>اس علاقے کو دنیا کا پراسرار اور خفیہ ترین فوجی علاقہ یا فوجی اڈہ بھی مانا جاتا ہے اور امریکی فوج نے 2013 میں اس علاقے کو اپنے ماتحت کے طور پر تسلیم کیا تھا۔</p>

<p>یہ علاقے ریاست نویڈا کے طویل و عریز صحرا میں قائم ہیں اور اس کے دور دور تک صرف 170 افراد کی آبادی موجود ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d88adbeb1342.jpg"  alt="ایریا 51 کی باڑ کے 200 میٹر تک آنا ممنوع ہے اور ایسا کرنے والے پر جرمانہ عائد کرنے سمیت انہیں سزا دی جاسکتی ہے&mdash;فوٹو: رائٹرز" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ایریا 51 کی باڑ کے 200 میٹر تک آنا ممنوع ہے اور ایسا کرنے والے پر جرمانہ عائد کرنے سمیت انہیں سزا دی جاسکتی ہے—فوٹو: رائٹرز</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس علاقے کے حوالے سے پراسرار اور عجیب کہانیاں سامنے آنے کے بعد رواں برس جون میں ریاست کیلیفورنیا کے کالج کے 21 سالہ طالب علم میٹی روبرٹ نے وہاں جانے کے حوالے سے فیس بک پر ایک ایونٹ کا اعلان کیا۔</p>

<p>انہوں نے فیس بک پر ’اسٹورم ایریا 51، وہ ہم سب کو روک نہیں سکتے‘ کے نام سے ایونٹ کا اعلان کیا اور دنیا بھر کے لوگوں کو دعوت دی کہ وہ ستمبر کے وسط کے بعد وہاں آئیں اور دنیا کے اس پراسرار ترین و خفیہ فوجی علاقے کو دیکھیں۔</p>

<p>21 سالہ طالب علم کی جانب سے اس دعوت نامے پر دنیا بھر سے تقریبا 20 لاکھ افراد نے دلچسپی کا اظہار کیا اور وہاں آنے کا عندیہ بھی دیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d88ae7d81be2.jpg"  alt="وہاں پہنچنے والے افراد نے مختلف فیشن اپنا رکھا تھا&mdash;فوٹو: اے پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">وہاں پہنچنے والے افراد نے مختلف فیشن اپنا رکھا تھا—فوٹو: اے پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>امریکی میگزین ’ٹائم‘ نے اپنی <a href="https://time.com/5681197/area-51-raid-aftermath/"><strong>رپورٹ</strong></a> میں بتایا کہ اگرچہ وہاں آنے کے لیے 20 لاکھ افراد نے دلچسپی ظاہر کی تھی، تاہم وہاں بہت کم تعداد میں لوگ پہنچے تاہم یہ پہلا موقع تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ ایک ایسی جگہ پہنچے جس کے لیے خیال کیا جاتا ہے کہ وہ دنیا کی پر اسرار ترین جگہ ہے۔</p>

<p>رپورٹ کے مطابق وہاں جانے والے لوگوں نے تین مختلف فیسٹیول منعقد کیے اور لوگ ’ایریا 51‘ کی حدود میں آنے والے علاقے کی تین مختلف جگہوں پر پہنچے۔</p>

<p>خبر رساں ادارے ‘رائٹرز‘ نے <a href="https://www.reuters.com/article/us-usa-area51-social-media/stealth-bomber-for-area-51-crowd-u-s-military-unit-apologizes-for-tweet-idUSKBN1W60OR"><strong>بتایا</strong></a> کہ ایریا 51 جانے والے افراد کی تعداد 150 تھی۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d88af4a78acb.jpg"  alt="پراسرار ترین مقام پر پہنچنے والے افراد خوش دکھائی دیے&mdash;فوٹو: سی نیٹ" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">پراسرار ترین مقام پر پہنچنے والے افراد خوش دکھائی دیے—فوٹو: سی نیٹ</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>’سی نیٹ‘ کے <a href="https://www.cnet.com/how-to/area-51-raid-alienstock-naruto-runs-and-how-to-keep-up-with-it-all-live/"><strong>مطابق</strong></a> دنیا کے پراسرار ترین اور خفیہ ترین مقام کی حیثیت رکھنے والے علاقے میں پہنچنے والے افراد خلائی مخلوق کے لباس سمیت دیگر اچھوتے لباس پہن کر وہاں گئے۔</p>

<p>وہاں جانے والے افراد نے سوشل میڈیا اور موبائل فون کا خوب استعمال کیا اور دنیا کو دکھایا کہ وہ کس طرح دنیا کے پراسرار ترین مقام پر آئے ہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d88b01c3dabb.jpg"  alt="وہاں پہنچنے والے افراد نے مختلف نعروں پر مبنی بینر بھی اٹھا رکھے تھے&mdash;فوٹو: رائٹرز" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">وہاں پہنچنے والے افراد نے مختلف نعروں پر مبنی بینر بھی اٹھا رکھے تھے—فوٹو: رائٹرز</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>نیوزی لینڈ کے نشریاتی ادارے ’اسٹف ڈاٹ کو‘ کے <a href="https://www.stuff.co.nz/travel/news/116014385/earthlings-head-home-from-area-51s-alienstock"><strong>مطابق</strong></a> وہاں جانے والے افراد میں نہ صرف امریکا کی مختلف ریاستوں کے لوگ تھے بلکہ جرمنی، روس، آسٹریلیا اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک کے لوگ بھی تھے۔</p>

<p>برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے <a href="https://www.bbc.com/news/world-us-canada-49786363?fbclid=IwAR0sZeLRuuhDJh0Hlb7_81D4d1TV6QPrfWxg7AK07bsnGKQFo2RD4g0TT_k"><strong>مطابق</strong></a> دنیا کے پراسرار ترین و خفیہ فوجی علاقے میں لوگوں کے پہنچنے سے قبل امریکی فوج کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ٹوئٹ کے ذریعے لوگوں کو دھمکی دی تھی کہ اگر کسی نے وہاں آنے کی جرأت کی تو اسے بم کا جیکٹ پہن کر کھڑے ہونے والے شخص کا سامنا کرنا پڑے گا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/DVIDSHub/status/1175447432152436737"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>تاہم لوگوں کے وہاں پہنچنے کے بعد امریکی فوج کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے اس ٹوئٹ پر معافی مانگی گئی اور کہا گیا کہ وہ امریکی فوجی ادارے کا بیان نہیں تھا اور نہ ہی امریکی فوج ایسا خیال رکھتی ہے۔</p>

<p>امریکی فوج کے ادارے ’ڈیفینس، وژوئل، انفارمیشن ڈسٹری بیوشن سروس <a href="https://www.dvidshub.net/"><strong>(ڈی وی آئی ڈی ایس)</strong></a> کے ٹوئٹر ہینڈل ڈی وی آئی ڈی ایس ہب سے کی جانے والی ٹوئٹ پر لوگوں سے دھمکی والی ٹوئٹ کے حوالے سے معذرت کی گئی۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d88b14dcc389.jpg"  alt="لوگ پراسرار مقام پر بھی اچھوتے انداز اپناتے دکھائی دیے&mdash;فوٹو: اے ایف پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">لوگ پراسرار مقام پر بھی اچھوتے انداز اپناتے دکھائی دیے—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1111187</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Sep 2019 17:33:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/09/5d88abe578524.jpg?0.30890129600355265" type="image/30890129600355265" medium="image" height="960" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/09/5d88abe578524.jpg?0.5278870377776734"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
