<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 08:29:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 08:29:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ای سی پی اراکین کی تعیناتی کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو ارسال
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1111428/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن پاکستان  (ای سی پی) کے 2 اراکین کی تعیناتی کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کرنے کے خلاف دائر درخواست خارج کردی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ درخواست جسٹس (ر) الطاف ابراہیم قریشی اور جسٹس (ر) ارشاد قیصر نے دائر کی تھی جو بالترتیب پنجاب اور خیبرپختونخوا سے الیکشن کمیشن کے رکن ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کی تعیناتی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں ایک سیاسی جماعت ’عام لوگ‘ اور لاہور ہائی کورٹ میں ’سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی‘ نے درخواست دی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1093566"&gt;الیکشن کمیشن کے 3 اراکین کی تعیناتی غیر آئینی ہونے کا انکشاف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ دونوں میں سے کسی رکن نے آئین کی دفعہ 207(2) کے تحت ریٹائرمنٹ کے بعد 2 سال کی آئینی مدت مکمل نہیں کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم درخواست میں فریق بنائے گئے اراکین الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں استدعا کی تھی کہ چونکہ دونوں اراکین کے دفاتر اسلام آباد ہائی کورٹ کے علاقائی دائرہ اختیار میں ہیں اس لیے ان کی تعیناتی کو 2 مختلف ہائی کورٹس میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو مذکورہ کیس سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ سے اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کرنے کا حکم دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں؛ &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1096783"&gt;2 اراکین کی ریٹائرمنٹ کے باعث الیکشن کمیشن کا کام متاثر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس پر جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے درخواست گزاروں کو یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کرنے کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست گزار کے مطابق مدعیان علیہ کو نوٹس صرف علاقائی دائرہ اختیار کی اس عدالت کی جانب سے بھیجا جاسکتا ہے جہاں اس کا سرکاری دفتر موجود ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 27 ستمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن پاکستان  (ای سی پی) کے 2 اراکین کی تعیناتی کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کرنے کے خلاف دائر درخواست خارج کردی۔</p>

<p>مذکورہ درخواست جسٹس (ر) الطاف ابراہیم قریشی اور جسٹس (ر) ارشاد قیصر نے دائر کی تھی جو بالترتیب پنجاب اور خیبرپختونخوا سے الیکشن کمیشن کے رکن ہیں۔</p>

<p>ان کی تعیناتی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں ایک سیاسی جماعت ’عام لوگ‘ اور لاہور ہائی کورٹ میں ’سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی‘ نے درخواست دی تھی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1093566">الیکشن کمیشن کے 3 اراکین کی تعیناتی غیر آئینی ہونے کا انکشاف</a></strong> </p>

<p>ان درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ دونوں میں سے کسی رکن نے آئین کی دفعہ 207(2) کے تحت ریٹائرمنٹ کے بعد 2 سال کی آئینی مدت مکمل نہیں کی۔</p>

<p>تاہم درخواست میں فریق بنائے گئے اراکین الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں استدعا کی تھی کہ چونکہ دونوں اراکین کے دفاتر اسلام آباد ہائی کورٹ کے علاقائی دائرہ اختیار میں ہیں اس لیے ان کی تعیناتی کو 2 مختلف ہائی کورٹس میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔</p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو مذکورہ کیس سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ سے اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کرنے کا حکم دینا چاہیے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں؛ <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1096783">2 اراکین کی ریٹائرمنٹ کے باعث الیکشن کمیشن کا کام متاثر</a></strong></p>

<p>جس پر جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے درخواست گزاروں کو یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کرنے کا حکم دیا۔</p>

<p>درخواست گزار کے مطابق مدعیان علیہ کو نوٹس صرف علاقائی دائرہ اختیار کی اس عدالت کی جانب سے بھیجا جاسکتا ہے جہاں اس کا سرکاری دفتر موجود ہو۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 27 ستمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1111428</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Sep 2019 12:22:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ناصر اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/09/5d8d83b814893.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/09/5d8d83b814893.jpg"/>
        <media:title>درخواست جسٹس ریٹائرڈ الطاف ابراہیم قریشی اور جسٹس (ر) ارشاد قیصر نے دائر کی تھی—فائل فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
