<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 20:59:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 20:59:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکسٹائل صنعتکاروں کو برآمدات پر رعایت نہ ملنے کی شکایت
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1111575/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: ٹیکسٹائل کے صنعت کاروں نے وزیراعظم دفتر سے حکومت کی جانب سے سبسڈائز گیس اور بجلی کی قیمتوں، ٹیکس تعطل سے متعلق منظور کیے گئے برآمدی پیکج کے 'عدم نفاذ' کی شکایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی کابینہ اس معاملے کو یکم اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں اٹھائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1508100/textile-barons-complain-of-not-getting-concessions-on-exports"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق وزیراعظم دفتر کو ارسال کردہ خط میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اے پی ٹی ایم اے) نے وفاقی کابینہ سے مطالبہ کیا کہ ’حکومت کے منظور کردہ فیصلے کے نفاذ پر نظرِ ثانی کی جائے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ خصوصی توانائی پیکج میں7 روپے 50 پیسے فی یونٹ بجلی اور 6.5 ڈالر فی یونٹ کمبائنڈ گیس (ایل این جی اور گھریلو گیس) اور گھریلو گیس 7 سو 80 روپے فی یونٹ (ملین برٹش تھرمل یونٹ) کی سابقہ زیرو ریٹڈ انڈسٹری کے لیے رواں برس توسیع دے دی گئی تھی تا کہ برآمدات میں اضافہ ہو اور مسابقتی توانائی ٹیرف فراہم کیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1087444"&gt;بڑھتی ہوئی درآمدات کے بعد بھی ٹیکسٹائل، کپڑوں کی برآمدات میں اضافہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صنعتکاروں نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ ایک سال گزرنے کے باوجود کابینہ کی جانب سے توانائی کی قیمتوں میں کمی کے فیصلے پر عملدرآمد منتخب، جزوی اور حکومت کے نچلے درجے پر غیر متعلقہ اور غیر پیشہ ورانہ رویوں کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایپٹما کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ نے رواں برس جنوری میں برآمداتی صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمت 7 روپے 50 پیسے مقرر کی تھی جس میں دیگر چارجز مثلاً سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ شامل نہیں ہوں گے اور اسے وفاقی حکومت کی سبسڈی کا حصہ بتایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے نہ صرف جون تک 7 روپے 50 پیسے فی یونٹ چارج کیے بلکہ کابینہ کے فیصلے کے برخلاف اس پر ایک روپے 80 پیسے فی یونٹ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بھی لینے شروع کردیے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1107162"&gt;حکومت کا گندم کی برآمدات پر پابندی لگانے کا فیصلہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر حیرت کا بھی اظہار کیا کہ حکومتی فیصلے پر عملدرآمد کو اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ای سی سی اور کابینہ سے منظوری حاصل کیے بغیر روک دیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: ٹیکسٹائل کے صنعت کاروں نے وزیراعظم دفتر سے حکومت کی جانب سے سبسڈائز گیس اور بجلی کی قیمتوں، ٹیکس تعطل سے متعلق منظور کیے گئے برآمدی پیکج کے 'عدم نفاذ' کی شکایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی کابینہ اس معاملے کو یکم اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں اٹھائے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1508100/textile-barons-complain-of-not-getting-concessions-on-exports">رپورٹ</a></strong> کے مطابق وزیراعظم دفتر کو ارسال کردہ خط میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اے پی ٹی ایم اے) نے وفاقی کابینہ سے مطالبہ کیا کہ ’حکومت کے منظور کردہ فیصلے کے نفاذ پر نظرِ ثانی کی جائے‘۔</p>

<p>خیال رہے کہ خصوصی توانائی پیکج میں7 روپے 50 پیسے فی یونٹ بجلی اور 6.5 ڈالر فی یونٹ کمبائنڈ گیس (ایل این جی اور گھریلو گیس) اور گھریلو گیس 7 سو 80 روپے فی یونٹ (ملین برٹش تھرمل یونٹ) کی سابقہ زیرو ریٹڈ انڈسٹری کے لیے رواں برس توسیع دے دی گئی تھی تا کہ برآمدات میں اضافہ ہو اور مسابقتی توانائی ٹیرف فراہم کیا جائے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1087444">بڑھتی ہوئی درآمدات کے بعد بھی ٹیکسٹائل، کپڑوں کی برآمدات میں اضافہ</a></strong></p>

<p>صنعتکاروں نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ ایک سال گزرنے کے باوجود کابینہ کی جانب سے توانائی کی قیمتوں میں کمی کے فیصلے پر عملدرآمد منتخب، جزوی اور حکومت کے نچلے درجے پر غیر متعلقہ اور غیر پیشہ ورانہ رویوں کا شکار ہے۔</p>

<p>ایپٹما کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ نے رواں برس جنوری میں برآمداتی صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمت 7 روپے 50 پیسے مقرر کی تھی جس میں دیگر چارجز مثلاً سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ شامل نہیں ہوں گے اور اسے وفاقی حکومت کی سبسڈی کا حصہ بتایا گیا تھا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے نہ صرف جون تک 7 روپے 50 پیسے فی یونٹ چارج کیے بلکہ کابینہ کے فیصلے کے برخلاف اس پر ایک روپے 80 پیسے فی یونٹ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بھی لینے شروع کردیے تھے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1107162">حکومت کا گندم کی برآمدات پر پابندی لگانے کا فیصلہ</a></strong></p>

<p>انہوں نے اس بات پر حیرت کا بھی اظہار کیا کہ حکومتی فیصلے پر عملدرآمد کو اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ای سی سی اور کابینہ سے منظوری حاصل کیے بغیر روک دیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1111575</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Sep 2019 11:57:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/09/5d91773a73655.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/09/5d91773a73655.jpg"/>
        <media:title>سابقہ زیرو ریٹڈ انڈسٹری کے لیے رواں برس توسیع دی گئی تھی—فائل فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
