<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 21:00:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 21:00:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پہلے عرب خلانورد خلائی اسٹیشن سے واپس آگئے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1111817/</link>
      <description>&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ ہزاع المنصوری ’انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن‘ (عالمی خلائی اسٹیشن) پر 8 دن گزارنے کے بعد واپس زمین پر پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہزاع المنصوری رواں ماہ 25 ستمبر کو وسطی ایشیائی ملک قازقستان کے بیکانور خلائی اسٹیشن سے روسی ساختی اسپیس کرافٹ سوئز ایم ایس 15 میں روانہ ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کے ہمراہ روسی خلانورد اولیگ اسکرپوچکا اور امریکی خلانورد خاتون جیسکا میر بھی عالمی خلائی اسٹیشن گئی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تینوں خلا نورد 6 گھنٹوں کی مسافت کے بعد عالمی خلائی اسٹیشن پہنچے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تینوں خلانوردوں کا عالمی اسٹیشن پر موجود پہلے سے 6 خلانوردوں نے والہانہ استقبال کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/NASA/status/1179713704507494400"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اب تینوں میں سے عرب خلانورد واپس زمین پر پہنچ گئے ہیں جب کہ ان کے ساتھ عالمی خلائی اسٹیشن پر پہلے سے موجود 6 میں سے 2 خلانورد بھی واپس زمین پر آگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عالمی خلائی اسٹیشن کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر کی جانے والی ٹوئٹس میں بتایا گیا کہ تینوں خلانورد قازقستان واپس پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تینوں خلانورد تین اکتوبر کو اسی مقام پر زمین پر اترے، جہاں سے وہ خلائی اسٹیشن کے لیے روانہ ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خلانورد پیراشوٹ کے ذریعے زمین پر اترے اور انہوں نے اترے ہی اپنے اپنے ممالک کے جھنڈوں کو چوما۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/Space_Station/status/1179713058442113024"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عالمی خلائی اسٹیشن نے تینوں خلانوردوں کو زمین پر بھیجنے کے وقت کی ویڈیو بھی براہ راست چلائی تھی، جس میں &lt;a href="https://www.facebook.com/watch/?v=532539454176003"&gt;&lt;strong&gt;تینوں خلانوردوں کو اسپیس کرافٹ میں بھیٹتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اماراتی خلانورد ہزاع المنصوری اپنے ساتھ قرآن پاک سمیت یو اے ای کا جھنڈہ اور کھانے کی اشیا لے گئے تھے جب کہ انہوں نے وہاں سے عربی زبان میں لوگوں کو عالمی خلائی اسٹیشن کی معلومات بھی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عرب خلانورد کی جانب سے عربی میں دی گئی معلومات کو یو اے ای میں براہ راست دکھایا گیا تھا جب کہ انہوں نے وہاں سے اپنے عوام کے لیے خصوصی تصاویر بھی بھجوائی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہزاع المنصور نے عالمی خلائی اسٹیشن پر جانے سے قبل کہا تھا کہ وہ وہاں پابندی سے نماز بھی ادا کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/10/5d95ee0432c29.jpg"  alt="عرب خلانورد کے ساتھ دیگر 2 خلانورد بھی زمین پر آگئے&amp;mdash;فوٹو: انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;عرب خلانورد کے ساتھ دیگر 2 خلانورد بھی زمین پر آگئے—فوٹو: انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ ہزاع المنصوری ’انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن‘ (عالمی خلائی اسٹیشن) پر 8 دن گزارنے کے بعد واپس زمین پر پہنچ گئے۔</p>

<p>ہزاع المنصوری رواں ماہ 25 ستمبر کو وسطی ایشیائی ملک قازقستان کے بیکانور خلائی اسٹیشن سے روسی ساختی اسپیس کرافٹ سوئز ایم ایس 15 میں روانہ ہوئے تھے۔</p>

<p>ان کے ہمراہ روسی خلانورد اولیگ اسکرپوچکا اور امریکی خلانورد خاتون جیسکا میر بھی عالمی خلائی اسٹیشن گئی تھیں۔</p>

<p>تینوں خلا نورد 6 گھنٹوں کی مسافت کے بعد عالمی خلائی اسٹیشن پہنچے تھے۔</p>

<p>تینوں خلانوردوں کا عالمی اسٹیشن پر موجود پہلے سے 6 خلانوردوں نے والہانہ استقبال کیا تھا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/NASA/status/1179713704507494400"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>تاہم اب تینوں میں سے عرب خلانورد واپس زمین پر پہنچ گئے ہیں جب کہ ان کے ساتھ عالمی خلائی اسٹیشن پر پہلے سے موجود 6 میں سے 2 خلانورد بھی واپس زمین پر آگئے۔</p>

<p>عالمی خلائی اسٹیشن کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر کی جانے والی ٹوئٹس میں بتایا گیا کہ تینوں خلانورد قازقستان واپس پہنچ گئے۔</p>

<p>تینوں خلانورد تین اکتوبر کو اسی مقام پر زمین پر اترے، جہاں سے وہ خلائی اسٹیشن کے لیے روانہ ہوئے تھے۔</p>

<p>خلانورد پیراشوٹ کے ذریعے زمین پر اترے اور انہوں نے اترے ہی اپنے اپنے ممالک کے جھنڈوں کو چوما۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/Space_Station/status/1179713058442113024"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>عالمی خلائی اسٹیشن نے تینوں خلانوردوں کو زمین پر بھیجنے کے وقت کی ویڈیو بھی براہ راست چلائی تھی، جس میں <a href="https://www.facebook.com/watch/?v=532539454176003"><strong>تینوں خلانوردوں کو اسپیس کرافٹ میں بھیٹتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔</strong></a></p>

<p>اماراتی خلانورد ہزاع المنصوری اپنے ساتھ قرآن پاک سمیت یو اے ای کا جھنڈہ اور کھانے کی اشیا لے گئے تھے جب کہ انہوں نے وہاں سے عربی زبان میں لوگوں کو عالمی خلائی اسٹیشن کی معلومات بھی تھی۔</p>

<p>عرب خلانورد کی جانب سے عربی میں دی گئی معلومات کو یو اے ای میں براہ راست دکھایا گیا تھا جب کہ انہوں نے وہاں سے اپنے عوام کے لیے خصوصی تصاویر بھی بھجوائی تھیں۔</p>

<p>ہزاع المنصور نے عالمی خلائی اسٹیشن پر جانے سے قبل کہا تھا کہ وہ وہاں پابندی سے نماز بھی ادا کریں گے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/10/5d95ee0432c29.jpg"  alt="عرب خلانورد کے ساتھ دیگر 2 خلانورد بھی زمین پر آگئے&mdash;فوٹو: انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">عرب خلانورد کے ساتھ دیگر 2 خلانورد بھی زمین پر آگئے—فوٹو: انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1111817</guid>
      <pubDate>Thu, 03 Oct 2019 17:50:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/10/5d95eccd0270a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/10/5d95eccd0270a.jpg?0.4698591912208028"/>
        <media:title>ہزاع المنصوری نے زمین پر آتے ہی ملک کے جھنڈے کو چوما—فوٹو: انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
