<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 04:03:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 04:03:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیپال: ملازمہ کے ’ریپ‘ کا الزام، پارلیمنٹ کے اسپیکر گرفتار
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1112043/</link>
      <description>&lt;p&gt;ہمالیہ پہاڑوں کے دامن میں موجود جنوبی ایشیائی ملک نیپال کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کرشنا بہادر مہارا کی جانب سے ’ریپ‘ الزامات کے باعث عہدے سے استعفیٰ دینے کے ایک ہفتے بعد پولیس نے گرفتار کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;61 سالہ کرشنا بہادر مہارا پر پارلیمنٹ سیکریٹریٹ کی ملازمہ نے نشہ کرنے کے بعد ’ریپ‘ کی کوشش کے الزامات لگائے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;متاثرہ خاتون کے مطابق کرشنا بہادر مہارا گزشتہ ماہ 29 ستمبر کو ان کے فلیٹ میں شراب پی کر گھس آئے اور پہلے انہیں شراب پینے پر مجبور کیا اور بعد ازاں ان کے مبینہ ریپ کرنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خاتون کے مطابق جب انہوں نے کرشنا بہادر مہارا کو پولیس بلانے کی دھمکی دی تو وہ چلے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ملازمہ نے پارلیمنٹ کے اسپیکر پر سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو بیان میں الزامات عائد کیے تھے جس کے بعد کرشنا بہادر مہارا کو کئی افراد نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5d9af8aadf4af'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1111687"&gt;نیپال: پارلیمنٹ کے اسپیکر ریپ الزام پر مستعفی&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;ملازمہ کی جانب سے ’ریپ‘ الزامات لگائے جانے کے بعد رواں ماہ یکم اکتوبر کو انہوں نے شفاف تحقیقات کے لیے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کرشنا بہادر مہارا نے خاتون کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ شفاف تحقیقات چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ متاثرہ خاتون نے کرشنا بہادر مہارا کے خلاف مقدمہ درج نہیں کروایا اس لیے کیس کی تفتیش شروع نہیں کی جا سکی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/10/5d937b8aad1a0.jpg"  alt="کرشنا بہادر مہارا نے یکم اکتوبر کو استعفیٰ دے دیا تھا&amp;mdash;فوٹو: رائٹرز" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کرشنا بہادر مہارا نے یکم اکتوبر کو استعفیٰ دے دیا تھا—فوٹو: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں خاتون کی جانب سے پولیس کو تحریری شکایت درج کروائے جانے کے بعد معاملے کی تحقیق شروع کی گئیں اور پولیس نے کرشنا بہادر مہارا کی گرفتاری کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت نے استعفیٰ دینے والے اسپیکر کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جس کے بعد پولیس نے کرشنا بہادر مہارا کو گزشتہ شب کو اپنی رہائش گاہ سے گرفتار کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’نیپال ٹائمز‘ کے &lt;a href="https://www.nepalitimes.com/latest/mahara-arrested/"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; پولیس کی بھاری نفری کرشنا بہادر مہارا کی رہائش گاہ پر پہنچی اور انہیں اپنی گاڑی میں جیل منتقل کرنے کی کوشش کی لیکن سابق اسپیکر نے پولیس کی گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سابق اسپیکر اپنی گاڑی میں بیٹھ کر پولیس کے ساتھ گئے، اس موقع پر ان کی رہائش گاہ کے باہر ان کے حامی بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ پہلا موقع تھا کہ نیپال میں کسی اہم ترین سیاستدان و حکمران کو ’ریپ‘ کیس میں گرفتار کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق کرشنا بہادر مہارا کی گرفتاری سے ان کی پارلیمنٹ کی رکنیت بھی ختم ہوگئی اور اب انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/10/5d9aec4e0cb83.jpg"  alt="کرشنا بہادر مہارا کی گرفتاری کے موقع پر ان کے حامی بھی جمع ہوگئے&amp;mdash;فوٹو: نیپال ٹائمز" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کرشنا بہادر مہارا کی گرفتاری کے موقع پر ان کے حامی بھی جمع ہوگئے—فوٹو: نیپال ٹائمز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کرشنا بہادر مہارا نیپال میں 2000 کے بعد شروع ہونے والی خانہ جنگی کے دوران ماؤ نواز باغیوں کے رہنما تھے، تاہم انہوں نے 2006 میں خانہ جنگی کو ختم کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ مذاکرات کیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماؤ نواز باغیوں اور نیپالی حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کرشنا بہادر مہارا نے باغیوں کے اتحادی گروپ کے سربراہ کا کردار ادا کیا تھا اور بعد ازاں اسی گروپ نے 2017 کے عام انتخابات میں حصہ لیا تو انہیں کامیابی ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انتخابات میں کامیابی کے بعد کرنشا بہادر مہارا جہاں رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے وہیں انہیں اسپیکر بھی منتخب کرلیا گیا، وہ حکمران جماعت نیپال کمیونسٹ پارٹی کے اہم ترین رہنما ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کرشنا بہادر مہارا پر قومی دھارے میں شامل ہونے اور حکومت کا حصہ بننے کے بعد پہلی مرتبہ سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/10/5d9aed0375547.jpg"  alt="خاتون نے کرشنا بہادر مہارا پر زبردستی شراب پلانے کے الزامات بھی عائد کیے&amp;mdash;فوٹو: نیپال سناچار" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;خاتون نے کرشنا بہادر مہارا پر زبردستی شراب پلانے کے الزامات بھی عائد کیے—فوٹو: نیپال سناچار&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ہمالیہ پہاڑوں کے دامن میں موجود جنوبی ایشیائی ملک نیپال کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کرشنا بہادر مہارا کی جانب سے ’ریپ‘ الزامات کے باعث عہدے سے استعفیٰ دینے کے ایک ہفتے بعد پولیس نے گرفتار کرلیا۔</p>

<p>61 سالہ کرشنا بہادر مہارا پر پارلیمنٹ سیکریٹریٹ کی ملازمہ نے نشہ کرنے کے بعد ’ریپ‘ کی کوشش کے الزامات لگائے تھے۔</p>

<p>متاثرہ خاتون کے مطابق کرشنا بہادر مہارا گزشتہ ماہ 29 ستمبر کو ان کے فلیٹ میں شراب پی کر گھس آئے اور پہلے انہیں شراب پینے پر مجبور کیا اور بعد ازاں ان کے مبینہ ریپ کرنے کی کوشش کی۔</p>

<p>خاتون کے مطابق جب انہوں نے کرشنا بہادر مہارا کو پولیس بلانے کی دھمکی دی تو وہ چلے گئے۔</p>

<p>ملازمہ نے پارلیمنٹ کے اسپیکر پر سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو بیان میں الزامات عائد کیے تھے جس کے بعد کرشنا بہادر مہارا کو کئی افراد نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔</p>

<h6 id='5d9af8aadf4af'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1111687">نیپال: پارلیمنٹ کے اسپیکر ریپ الزام پر مستعفی</a></h6>

<p>ملازمہ کی جانب سے ’ریپ‘ الزامات لگائے جانے کے بعد رواں ماہ یکم اکتوبر کو انہوں نے شفاف تحقیقات کے لیے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔</p>

<p>کرشنا بہادر مہارا نے خاتون کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ شفاف تحقیقات چاہتے ہیں۔</p>

<p>پولیس نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ متاثرہ خاتون نے کرشنا بہادر مہارا کے خلاف مقدمہ درج نہیں کروایا اس لیے کیس کی تفتیش شروع نہیں کی جا سکی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/10/5d937b8aad1a0.jpg"  alt="کرشنا بہادر مہارا نے یکم اکتوبر کو استعفیٰ دے دیا تھا&mdash;فوٹو: رائٹرز" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کرشنا بہادر مہارا نے یکم اکتوبر کو استعفیٰ دے دیا تھا—فوٹو: رائٹرز</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>بعد ازاں خاتون کی جانب سے پولیس کو تحریری شکایت درج کروائے جانے کے بعد معاملے کی تحقیق شروع کی گئیں اور پولیس نے کرشنا بہادر مہارا کی گرفتاری کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔</p>

<p>عدالت نے استعفیٰ دینے والے اسپیکر کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جس کے بعد پولیس نے کرشنا بہادر مہارا کو گزشتہ شب کو اپنی رہائش گاہ سے گرفتار کرلیا۔</p>

<p>’نیپال ٹائمز‘ کے <a href="https://www.nepalitimes.com/latest/mahara-arrested/"><strong>مطابق</strong></a> پولیس کی بھاری نفری کرشنا بہادر مہارا کی رہائش گاہ پر پہنچی اور انہیں اپنی گاڑی میں جیل منتقل کرنے کی کوشش کی لیکن سابق اسپیکر نے پولیس کی گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کردیا۔</p>

<p>سابق اسپیکر اپنی گاڑی میں بیٹھ کر پولیس کے ساتھ گئے، اس موقع پر ان کی رہائش گاہ کے باہر ان کے حامی بھی موجود تھے۔</p>

<p>یہ پہلا موقع تھا کہ نیپال میں کسی اہم ترین سیاستدان و حکمران کو ’ریپ‘ کیس میں گرفتار کیا گیا۔</p>

<p>رپورٹ کے مطابق کرشنا بہادر مہارا کی گرفتاری سے ان کی پارلیمنٹ کی رکنیت بھی ختم ہوگئی اور اب انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/10/5d9aec4e0cb83.jpg"  alt="کرشنا بہادر مہارا کی گرفتاری کے موقع پر ان کے حامی بھی جمع ہوگئے&mdash;فوٹو: نیپال ٹائمز" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کرشنا بہادر مہارا کی گرفتاری کے موقع پر ان کے حامی بھی جمع ہوگئے—فوٹو: نیپال ٹائمز</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>کرشنا بہادر مہارا نیپال میں 2000 کے بعد شروع ہونے والی خانہ جنگی کے دوران ماؤ نواز باغیوں کے رہنما تھے، تاہم انہوں نے 2006 میں خانہ جنگی کو ختم کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ مذاکرات کیے۔</p>

<p>ماؤ نواز باغیوں اور نیپالی حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کرشنا بہادر مہارا نے باغیوں کے اتحادی گروپ کے سربراہ کا کردار ادا کیا تھا اور بعد ازاں اسی گروپ نے 2017 کے عام انتخابات میں حصہ لیا تو انہیں کامیابی ہوئی۔</p>

<p>انتخابات میں کامیابی کے بعد کرنشا بہادر مہارا جہاں رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے وہیں انہیں اسپیکر بھی منتخب کرلیا گیا، وہ حکمران جماعت نیپال کمیونسٹ پارٹی کے اہم ترین رہنما ہیں۔</p>

<p>کرشنا بہادر مہارا پر قومی دھارے میں شامل ہونے اور حکومت کا حصہ بننے کے بعد پہلی مرتبہ سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/10/5d9aed0375547.jpg"  alt="خاتون نے کرشنا بہادر مہارا پر زبردستی شراب پلانے کے الزامات بھی عائد کیے&mdash;فوٹو: نیپال سناچار" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">خاتون نے کرشنا بہادر مہارا پر زبردستی شراب پلانے کے الزامات بھی عائد کیے—فوٹو: نیپال سناچار</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1112043</guid>
      <pubDate>Mon, 07 Oct 2019 13:34:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/10/5d9aebaff2f0a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/10/5d9aebaff2f0a.jpg?0.8567450407356398"/>
        <media:title>ملازمہ نے اسپیکر پر گھر میں گھس کر زبردستی کرنے کا الزام لگایا تھا —اسکرین شاٹ/ یوٹیوب/ کھٹمنڈو پوسٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
