<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 12:12:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 12:12:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی اقدام ہمیں قبول نہیں، رہنما ناگالینڈ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1112077/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت سے علیحدگی کی تحریک چلانے والے ناگالینڈ کے بزرگ رہنما تھوینگ لینگ مویوا نے نریندر مودی کی قیادت میں مقبوضہ جموں و کشمیر  سے متعلق یک طرفہ فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ خطے کو حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کرنا ناقابل قبول ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قطری نشریاتی ادارے 'الجزیرہ' کو دیے گئے &lt;a href="https://www.aljazeera.com/news/2019/10/naga-leader-muivah-wary-india-kashmir-status-scrapped-191003082336819.html"&gt;&lt;strong&gt;انٹرویو&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں 85 سالہ علیحدگی پسند رہنما تھوینگ لینگ مویوا نے کہا کہ ‘کشمیریوں کی تاریخ کا احترام کیے بغیر بھارت کا مقبوضہ کشمیر پر فیصلہ ہمیں قبول نہیں ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108251"&gt;&lt;strong&gt;کشمیر کی خصوصی حیثیت  کو ختم&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کیا ہے جس کو ‘میں دھوکے سے کم نہیں سمجھتا’ کیونکہ اس طرح مسلم اکثریتی علاقے کو مرکز کے زیر کنٹرول کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/10/5d9b5d49ae409.jpg"  alt="ناگالینڈ کے علیحدگی پسند ناگالیم کے نام سے خود مختار ریاست تشکیل دینا چاہتے ہیں&amp;mdash;فوٹو:بشکریہ الجزیرہ" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ناگالینڈ کے علیحدگی پسند ناگالیم کے نام سے خود مختار ریاست تشکیل دینا چاہتے ہیں—فوٹو:بشکریہ الجزیرہ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تھوینگ لینگ مویوا نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالیم (آئی ایم) کے سربراہ ہیں جو بھارت کی سب سے بڑی علیحدگی پسند تنظیم ہے اور اس کے اراکین کی تعداد 5 ہزار 15 ہزار تک بتائی جاتی ہے جو دہائیوں سے آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالیم کی بنیاد 1980 میں رکھی گئی تھی جس میں عیسائی اکثریتی ریاست ناگالینڈ کے دیگر مسلح گروپ بھی ساتھ تھے اور ان کا نعرہ تھا کہ ناگالینڈ کے عوام متفقہ طور پر خود مختار ریاست چاہتے ہیں جس کا نام ناگالیم ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ناگالینڈ میں پہلی مسلح تنظیم 1960 میں وجود میں آئی تھی جو ناگا نیشنل کونسل کہلاتی تھی جس کے ایک رہنما نے 1975 میں بھارتی آئین کو مشروط تسلیم کرتے ہوئے شیلونگ معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے نتیجے میں گروپ کے اندر اختلافات سامنے آئے اور 5 سال بعد ایک نئی تنظیم وجود میں آئی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1111449/"&gt;امریکا کا مقبوضہ کشمیر پر عائد پابندیاں نرم کرنے کیلئے بھارت پر دباؤ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ بھارتی آئین جس طرح مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتا تھا اسی طرح ناگالینڈ کو بھی بھارتی قوانین سے تحفظ دیتا ہے جس کے لیے آرٹیکل 371 نافذ ہے اور اسی آرٹیکل کے تحت آسام کے چند علاقوں سمیت شمال مشرقی 7 ریاستوں کو تحفظ دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ناگالینڈ کے علیحدگی پسند رہنما نے بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جبکہ دیگر علیحدگی پسند گروہ بھی خدشات کا شکار کر رہے ہیں، تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے مرکزی رہنما اور وزیر داخلہ امیت شاہ نے یقین دلایا تھا کہ آرٹیکل 371 کو نہیں چھیڑا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تھوینگ لینگ مویوا نے اپنے مرکز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت ناگالینڈ کی خودمختاری، ریاست کے علیحدہ آئین اور ناگالینڈ کے جھنڈے کے سوال پر پیچھے ہٹ رہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘وہ چاہتے ہیں کہ ناگالینڈ بھارت کا حصہ بن جائے جو ہمارے لیے حیران کن ہے، معذرت لیکن یہ ممکن نہیں ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالیم نے 1997 میں جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے تھے لیکن ان کا مطالبہ ہے کہ ناگالیم میں منی پور، آسام اور اروناچل پردیش سمیت دیگر علاقوں میں جہاں ناگا باشندوں کی اکثریت ہے، ان کو ملا کر خود مختار ریاست تشکیل دی جائے جس میں سرحد پار میانمار کا مغربی علاقہ بھی شامل ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1112008/"&gt;امریکی سینیٹر کا مظفرآباد کا دورہ، بھارت پر کشمیر میں کرفیو ہٹانے پر زور&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں 2015 میں تھوینگ لینگ مویوا کی قیادت میں گروپ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور مصالحت کار آر ین روی کے ساتھ 16 نکاتی معاہدے پر دستخط کیے تھے لیکن سیاسی حل کے تلاش میں مذاکرات ختم ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تھوینگ لینگ مویوا اپنے طور پر قائم عوامی جمہوری ناگالیم کے مرکز کیمپ ہبرون میں رہائش پذیر ہیں جو ضلع پیرن میں 81 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے اور وہیں سے اپنے امور چلا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت سے علیحدگی کی تحریک چلانے والے ناگالینڈ کے بزرگ رہنما تھوینگ لینگ مویوا نے نریندر مودی کی قیادت میں مقبوضہ جموں و کشمیر  سے متعلق یک طرفہ فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ خطے کو حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کرنا ناقابل قبول ہے۔</p>

<p>قطری نشریاتی ادارے 'الجزیرہ' کو دیے گئے <a href="https://www.aljazeera.com/news/2019/10/naga-leader-muivah-wary-india-kashmir-status-scrapped-191003082336819.html"><strong>انٹرویو</strong></a> میں 85 سالہ علیحدگی پسند رہنما تھوینگ لینگ مویوا نے کہا کہ ‘کشمیریوں کی تاریخ کا احترام کیے بغیر بھارت کا مقبوضہ کشمیر پر فیصلہ ہمیں قبول نہیں ہے’۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108251"><strong>کشمیر کی خصوصی حیثیت  کو ختم</strong></a> کیا ہے جس کو ‘میں دھوکے سے کم نہیں سمجھتا’ کیونکہ اس طرح مسلم اکثریتی علاقے کو مرکز کے زیر کنٹرول کردیا گیا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/10/5d9b5d49ae409.jpg"  alt="ناگالینڈ کے علیحدگی پسند ناگالیم کے نام سے خود مختار ریاست تشکیل دینا چاہتے ہیں&mdash;فوٹو:بشکریہ الجزیرہ" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ناگالینڈ کے علیحدگی پسند ناگالیم کے نام سے خود مختار ریاست تشکیل دینا چاہتے ہیں—فوٹو:بشکریہ الجزیرہ</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>تھوینگ لینگ مویوا نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالیم (آئی ایم) کے سربراہ ہیں جو بھارت کی سب سے بڑی علیحدگی پسند تنظیم ہے اور اس کے اراکین کی تعداد 5 ہزار 15 ہزار تک بتائی جاتی ہے جو دہائیوں سے آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں۔</p>

<p>نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالیم کی بنیاد 1980 میں رکھی گئی تھی جس میں عیسائی اکثریتی ریاست ناگالینڈ کے دیگر مسلح گروپ بھی ساتھ تھے اور ان کا نعرہ تھا کہ ناگالینڈ کے عوام متفقہ طور پر خود مختار ریاست چاہتے ہیں جس کا نام ناگالیم ہوگا۔</p>

<p>ناگالینڈ میں پہلی مسلح تنظیم 1960 میں وجود میں آئی تھی جو ناگا نیشنل کونسل کہلاتی تھی جس کے ایک رہنما نے 1975 میں بھارتی آئین کو مشروط تسلیم کرتے ہوئے شیلونگ معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے نتیجے میں گروپ کے اندر اختلافات سامنے آئے اور 5 سال بعد ایک نئی تنظیم وجود میں آئی۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1111449/">امریکا کا مقبوضہ کشمیر پر عائد پابندیاں نرم کرنے کیلئے بھارت پر دباؤ</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ بھارتی آئین جس طرح مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتا تھا اسی طرح ناگالینڈ کو بھی بھارتی قوانین سے تحفظ دیتا ہے جس کے لیے آرٹیکل 371 نافذ ہے اور اسی آرٹیکل کے تحت آسام کے چند علاقوں سمیت شمال مشرقی 7 ریاستوں کو تحفظ دیا گیا ہے۔</p>

<p>ناگالینڈ کے علیحدگی پسند رہنما نے بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جبکہ دیگر علیحدگی پسند گروہ بھی خدشات کا شکار کر رہے ہیں، تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے مرکزی رہنما اور وزیر داخلہ امیت شاہ نے یقین دلایا تھا کہ آرٹیکل 371 کو نہیں چھیڑا جائے گا۔</p>

<p>تھوینگ لینگ مویوا نے اپنے مرکز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت ناگالینڈ کی خودمختاری، ریاست کے علیحدہ آئین اور ناگالینڈ کے جھنڈے کے سوال پر پیچھے ہٹ رہی ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘وہ چاہتے ہیں کہ ناگالینڈ بھارت کا حصہ بن جائے جو ہمارے لیے حیران کن ہے، معذرت لیکن یہ ممکن نہیں ہے’۔</p>

<p>یاد رہے کہ نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالیم نے 1997 میں جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے تھے لیکن ان کا مطالبہ ہے کہ ناگالیم میں منی پور، آسام اور اروناچل پردیش سمیت دیگر علاقوں میں جہاں ناگا باشندوں کی اکثریت ہے، ان کو ملا کر خود مختار ریاست تشکیل دی جائے جس میں سرحد پار میانمار کا مغربی علاقہ بھی شامل ہو۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1112008/">امریکی سینیٹر کا مظفرآباد کا دورہ، بھارت پر کشمیر میں کرفیو ہٹانے پر زور</a></strong></p>

<p>بعد ازاں 2015 میں تھوینگ لینگ مویوا کی قیادت میں گروپ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور مصالحت کار آر ین روی کے ساتھ 16 نکاتی معاہدے پر دستخط کیے تھے لیکن سیاسی حل کے تلاش میں مذاکرات ختم ہوگئے تھے۔</p>

<p>تھوینگ لینگ مویوا اپنے طور پر قائم عوامی جمہوری ناگالیم کے مرکز کیمپ ہبرون میں رہائش پذیر ہیں جو ضلع پیرن میں 81 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے اور وہیں سے اپنے امور چلا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1112077</guid>
      <pubDate>Mon, 07 Oct 2019 22:19:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/10/5d9b5d454e3ec.jpg?r=788669993" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/10/5d9b5d454e3ec.jpg?r=151855166"/>
        <media:title>بزرگ رہنما نے بھارتی اقدام کو دھوکا قرار دیا—فوٹوبشکریہ الجزیرہ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
