<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 14:28:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 14:28:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>طبیعات کا نوبیل انعام امریکی و سوئس سائنسدانوں کے نام
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1112220/</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا کا سب سے معتبر ایوارڈ دینے والی سویڈن کی سویڈش اکیڈمی آف نوبیل پرائز نے ’فزکس‘ (طبیعات) کا ایوارڈ سوئٹزرلینڈ اور امریکا کے تین سائسندانوں کو مشترکہ طور پر دینے کا اعلان کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نوبیل پرائز کمیٹی کے مطابق طبعیات کا رواں سال کا انعام تین سائنسدانوں امریکی نژاد کینیڈین سائنسدان جیمز پیبلز و سوئٹزرلینڈ کے سائنسدانوں مائیکل میئر اور دیبر کوئلوز کو دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمیٹی کے مطابق تینوں سائنسدانوں نے کائنات کی تخلیق میں تحقیق میں مدد کرنے سمیت نئے سیاروں کی دریافت میں مدد کرنے کے حوالے سے کام کیا، جس وجہ سے انہیں ان کی خدمات کے عوض انعام دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکی نژاد کینیڈین سائنسدان جیمز پیپلز نے کائنات کی تخلیق کے حوالے سے مدد کرنے کے حوالے سے تجربات کیے اور ان کے مشاہدوں سے نئی تحقیق میں مدد ملی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جب کہ سوئٹزرلینڈ کے سائنسدانوں سائنسدانوں مائیکل میئر اور دیبر کوئلوز کو فلکیاتی سائنس میں تجربات اور مشاہدوں پر انہیں انعام دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دونوں سائنسدانوں کی تحقیق، تجربے اور مشاہدوں نے کائنات میں موجود نئے یا چھپے سیاروں تک رسائی میں سائسنسدانوں کو مدد فراہم کی جس پر انہیں ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا، تینوں سائنسدانوں کو انعام دینے کا اعلان 8 اکتوبر کو کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/NobelPrize/status/1181507664582467585"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تینوں سائنسدانوں میں نوبیل انعام کی رقم دو حصوں میں تقسیم کی جائے گی، انعام کی رقم کا نصف حصہ امریکی نژاد کینیڈین سائنسدان جب کہ نصف حصہ دونوں سوئٹزرلینڈ کے سائننسدانوں کو دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فزکس کے نوبیل انعام سے قبل طب کے نوبیل انعام کا بھی اعلان کیا گیا تھا اور طب کا نوبیل بھی تین سائنسدانوں کو دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5da57402076b9'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1112070/"&gt;طب کا نوبیل انعام برطانوی اور امریکی سائنسدانوں کے نام&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;طب کا نوبیل انعام آکسفورڈ یونیورسٹی کے سر پیٹر ریٹکلیف، ہارورڈ یونیورسٹی کے ولیم کیالین اور جونز ہوپکنز یونیورسٹی کے گریگ سمینزا کو دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان تینوں سائنسدانوں کا تحقیقی کام خون کی کمی اور کینسر وغیرہ کے نئے طریقہ علاج تشکیل دینے میں مدد دے سکے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/10/5d9b491348914.jpg"  alt="طب کا انعام بھی تین سائنسدانوں کو دیا گیا تھا&amp;mdash;فوٹو: اے پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;طب کا انعام بھی تین سائنسدانوں کو دیا گیا تھا—فوٹو: اے پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا کا سب سے معتبر ایوارڈ دینے والی سویڈن کی سویڈش اکیڈمی آف نوبیل پرائز نے ’فزکس‘ (طبیعات) کا ایوارڈ سوئٹزرلینڈ اور امریکا کے تین سائسندانوں کو مشترکہ طور پر دینے کا اعلان کردیا۔</p>

<p>نوبیل پرائز کمیٹی کے مطابق طبعیات کا رواں سال کا انعام تین سائنسدانوں امریکی نژاد کینیڈین سائنسدان جیمز پیبلز و سوئٹزرلینڈ کے سائنسدانوں مائیکل میئر اور دیبر کوئلوز کو دیا جائے گا۔</p>

<p>کمیٹی کے مطابق تینوں سائنسدانوں نے کائنات کی تخلیق میں تحقیق میں مدد کرنے سمیت نئے سیاروں کی دریافت میں مدد کرنے کے حوالے سے کام کیا، جس وجہ سے انہیں ان کی خدمات کے عوض انعام دیا جا رہا ہے۔</p>

<p>امریکی نژاد کینیڈین سائنسدان جیمز پیپلز نے کائنات کی تخلیق کے حوالے سے مدد کرنے کے حوالے سے تجربات کیے اور ان کے مشاہدوں سے نئی تحقیق میں مدد ملی۔</p>

<p>جب کہ سوئٹزرلینڈ کے سائنسدانوں سائنسدانوں مائیکل میئر اور دیبر کوئلوز کو فلکیاتی سائنس میں تجربات اور مشاہدوں پر انہیں انعام دیا جا رہا ہے۔</p>

<p>دونوں سائنسدانوں کی تحقیق، تجربے اور مشاہدوں نے کائنات میں موجود نئے یا چھپے سیاروں تک رسائی میں سائسنسدانوں کو مدد فراہم کی جس پر انہیں ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا، تینوں سائنسدانوں کو انعام دینے کا اعلان 8 اکتوبر کو کیا گیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/NobelPrize/status/1181507664582467585"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>تینوں سائنسدانوں میں نوبیل انعام کی رقم دو حصوں میں تقسیم کی جائے گی، انعام کی رقم کا نصف حصہ امریکی نژاد کینیڈین سائنسدان جب کہ نصف حصہ دونوں سوئٹزرلینڈ کے سائننسدانوں کو دیا جائے گا۔</p>

<p>فزکس کے نوبیل انعام سے قبل طب کے نوبیل انعام کا بھی اعلان کیا گیا تھا اور طب کا نوبیل بھی تین سائنسدانوں کو دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔</p>

<h6 id='5da57402076b9'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1112070/">طب کا نوبیل انعام برطانوی اور امریکی سائنسدانوں کے نام</a></h6>

<p>طب کا نوبیل انعام آکسفورڈ یونیورسٹی کے سر پیٹر ریٹکلیف، ہارورڈ یونیورسٹی کے ولیم کیالین اور جونز ہوپکنز یونیورسٹی کے گریگ سمینزا کو دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔</p>

<p>ان تینوں سائنسدانوں کا تحقیقی کام خون کی کمی اور کینسر وغیرہ کے نئے طریقہ علاج تشکیل دینے میں مدد دے سکے گا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/10/5d9b491348914.jpg"  alt="طب کا انعام بھی تین سائنسدانوں کو دیا گیا تھا&mdash;فوٹو: اے پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">طب کا انعام بھی تین سائنسدانوں کو دیا گیا تھا—فوٹو: اے پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1112220</guid>
      <pubDate>Tue, 15 Oct 2019 12:23:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/10/5d9ddec489ed9.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/10/5d9ddec489ed9.jpg"/>
        <media:title>تین میں سے دو سائنسدانوں کا تعلق سوئٹزرلینڈ سے ہے—فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
