<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - KP-FATA</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 17 Apr 2026 08:18:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 17 Apr 2026 08:18:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد، خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں ایک مرتبہ پھر زلزلہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1112492/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور صوبہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سمیت ملک کے بالائی علاقوں میں پیر کی صبح ایک مرتبہ پھر زلزلہ محسوس کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر&lt;strong&gt;&lt;a href="http://seismic.pmd.gov.pk/"&gt;زلزلے کی شدت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; 5.8 ریکارڈ کی گئی اور اس کا مرکز کوہِ ہندوکش افغانستان تھا جبکہ اس کی گہرائی 157 کلو میٹر تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پیر کی صبح 6 بج کر 11 منٹ پر آنے والا زلزلہ پشاور، مالاکنڈ، چارسدہ، مردان، وزیرستان، دیر، چترال، نوشہرہ، مانسہرہ، ہزارہ ڈویژن، بٹ گرام کے ساتھ ساتھ راولپنڈی اور اسلام آباد کے گرد و نواح میں بھی محسوس کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1027521/"&gt;جب زلزلہ آئے تو کیا کرنا چاہیے؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق پیر کی صبح آنے والے اس زلزلے سے ابتدائی طور پر کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، البتہ زلزلے سے عوام میں خوف ہراس پھیل گیا اور لوگ قرآنی آیات پڑھتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ریڈیو پاکستان کی &lt;strong&gt;&lt;a href="http://urdu.radio.gov.pk/14-10-2019/khibrpkhtonkhoaaorshmali-aalak-jat-mi-panch-aaashai-aa-shdt-k-zlzl-k-jk"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب بھی آزاد کشمیر کے علاقے میر پور میں 3.8 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1111294/"&gt;24 ستمبر کو&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; پنجاب اور آزاد کشمیر میں 5.8 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس نے جہلم اور آزاد کشمیر کے علاقے میر پور کو سب سے زیادہ متاثر کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس زلزلے میں 38 افراد جاں بحق جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوگئے تھے جس کے بعد سے مختلف علاقوں میں کچھ دن کے وقفے سے زلزلے آنے کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہ ستمبر میں آنے والے زلزلے کے باعث جاتلاں میں مختلف مقامات پر سڑکیں دھنسنے کے ساتھ ساتھ متعدد عمارتیں بھی تباہ ہوگئی تھیں اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1111302"&gt;’اپنے گھر کی کوئی ایک دیوار سلامت نہیں دیکھی‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اُس وقت زلزلہ پیما مرکز نے بتایا تھا کہ یہ زلزلہ سہ پہر 4 بجے آیا تھا اور اس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی جبکہ اس کا مرکز جہلم کے شمال میں آزاد کشمیر اور پنجاب کو جدا کرنے والی سرحد سے 22.3 کلومیٹر دور تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس زلزلے نے جہاں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی وہیں اس کے بعد آنے والے آفٹر شاکس نے بھی شہریوں کو خوف میں مبتلا کردیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ زلزلے کے 2 روز بعد &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1111294/"&gt;26 ستمبر کو ایک مرتبہ پھر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; آزاد کشمیر لرز اٹھا تھا جس کے نیتجے میں مزید 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ پہلے زلزلے کے نتیجے میں مخدوش ہوجانے والی تعمیرات بھی زمین بوس ہوگئیں تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعدازاں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1112214/"&gt;9 اکتوبر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو بھی خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلہ محسوس کیا تھا جس کی شدت 5.2 جبکہ گہرائی 180 کلومیٹر تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;زلزلہ متاثرین کی امداد کے لیے 2 اکتوبر کو حکومتِ پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومت کی جانب سے پہلے مرحلے میں زلزلے سے جاں بحق ہونے والے افراد کے 38 لواحقین خاندانوں کو &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1111738/"&gt;5، 5 لاکھ روپے کے امدادی چیکس&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; فراہم کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قبل ازیں یکم اکتوبر کو حکومتِ آزاد کشمیر نے میر پور اور زلزلے سے متاثرہ دیگر علاقوں کو ’آفت زدہ‘ قرار دے دیا تھا تاکہ متاثرین کو بہتر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور صوبہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سمیت ملک کے بالائی علاقوں میں پیر کی صبح ایک مرتبہ پھر زلزلہ محسوس کیا گیا۔</p>

<p>زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر<strong><a href="http://seismic.pmd.gov.pk/">زلزلے کی شدت</a></strong> 5.8 ریکارڈ کی گئی اور اس کا مرکز کوہِ ہندوکش افغانستان تھا جبکہ اس کی گہرائی 157 کلو میٹر تھی۔</p>

<p>پیر کی صبح 6 بج کر 11 منٹ پر آنے والا زلزلہ پشاور، مالاکنڈ، چارسدہ، مردان، وزیرستان، دیر، چترال، نوشہرہ، مانسہرہ، ہزارہ ڈویژن، بٹ گرام کے ساتھ ساتھ راولپنڈی اور اسلام آباد کے گرد و نواح میں بھی محسوس کیا گیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1027521/">جب زلزلہ آئے تو کیا کرنا چاہیے؟</a></strong></p>

<p>رپورٹس کے مطابق پیر کی صبح آنے والے اس زلزلے سے ابتدائی طور پر کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، البتہ زلزلے سے عوام میں خوف ہراس پھیل گیا اور لوگ قرآنی آیات پڑھتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔</p>

<p>ریڈیو پاکستان کی <strong><a href="http://urdu.radio.gov.pk/14-10-2019/khibrpkhtonkhoaaorshmali-aalak-jat-mi-panch-aaashai-aa-shdt-k-zlzl-k-jk">رپورٹ</a></strong> کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب بھی آزاد کشمیر کے علاقے میر پور میں 3.8 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا تھا۔</p>

<p>خیال رہے کہ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1111294/">24 ستمبر کو</a></strong> پنجاب اور آزاد کشمیر میں 5.8 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس نے جہلم اور آزاد کشمیر کے علاقے میر پور کو سب سے زیادہ متاثر کیا تھا۔</p>

<p>اس زلزلے میں 38 افراد جاں بحق جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوگئے تھے جس کے بعد سے مختلف علاقوں میں کچھ دن کے وقفے سے زلزلے آنے کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔</p>

<p>ماہ ستمبر میں آنے والے زلزلے کے باعث جاتلاں میں مختلف مقامات پر سڑکیں دھنسنے کے ساتھ ساتھ متعدد عمارتیں بھی تباہ ہوگئی تھیں اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1111302">’اپنے گھر کی کوئی ایک دیوار سلامت نہیں دیکھی‘</a></strong> </p>

<p>اُس وقت زلزلہ پیما مرکز نے بتایا تھا کہ یہ زلزلہ سہ پہر 4 بجے آیا تھا اور اس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی جبکہ اس کا مرکز جہلم کے شمال میں آزاد کشمیر اور پنجاب کو جدا کرنے والی سرحد سے 22.3 کلومیٹر دور تھا۔</p>

<p>اس زلزلے نے جہاں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی وہیں اس کے بعد آنے والے آفٹر شاکس نے بھی شہریوں کو خوف میں مبتلا کردیا تھا۔</p>

<p>مذکورہ زلزلے کے 2 روز بعد <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1111294/">26 ستمبر کو ایک مرتبہ پھر</a></strong> آزاد کشمیر لرز اٹھا تھا جس کے نیتجے میں مزید 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ پہلے زلزلے کے نتیجے میں مخدوش ہوجانے والی تعمیرات بھی زمین بوس ہوگئیں تھی۔</p>

<p>بعدازاں <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1112214/">9 اکتوبر</a></strong> کو بھی خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلہ محسوس کیا تھا جس کی شدت 5.2 جبکہ گہرائی 180 کلومیٹر تھی۔</p>

<p>زلزلہ متاثرین کی امداد کے لیے 2 اکتوبر کو حکومتِ پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومت کی جانب سے پہلے مرحلے میں زلزلے سے جاں بحق ہونے والے افراد کے 38 لواحقین خاندانوں کو <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1111738/">5، 5 لاکھ روپے کے امدادی چیکس</a></strong> فراہم کیے گئے تھے۔</p>

<p>قبل ازیں یکم اکتوبر کو حکومتِ آزاد کشمیر نے میر پور اور زلزلے سے متاثرہ دیگر علاقوں کو ’آفت زدہ‘ قرار دے دیا تھا تاکہ متاثرین کو بہتر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1112492</guid>
      <pubDate>Mon, 14 Oct 2019 12:54:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکسراج الدینعمر باچا)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/10/5da3e6e7b3497.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/10/5da3e6e7b3497.jpg"/>
        <media:title>اس زلزلے سے ابتدائی طور پر کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
