<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Amazing</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 22:50:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 22:50:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دنیا کا منفرد زمین کا ٹکڑا جس کے مالک ہر 6 ماہ میں تبدیل ہوتے ہیں
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1112723/</link>
      <description>&lt;p&gt;اگرچہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں عام طور پر زمین کے مالکانہ حقوق 90 سے 100 سال تک دیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم دنیا میں ایک ایسا زمین کا ٹکڑا بھی ہے، جس کے مالک ہر 6 ماہ میں تبدیل ہوتے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے مالک عام افراد نہیں بلکہ 2 ریاستیں ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جی ہاں، یورپ میں واقع ’فزنٹ آئی لینڈ‘ نامی 7 ہزار اسکوائر میٹر سے بھی کم رقبے پر پھیلا ہوا آئی لینڈ وہ واحد زمین کا ٹکڑا ہے، جس کی ملکیت ہر 6 ماہ میں تبدیل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’دبئی پوسٹ‘ کے &lt;a href="https://www.dubaipost.ae/en/short-n-eazy/around-the-world/island-changes-nationality-twice-a-year-2019-10-07-1.4281?fbclid=IwAR3yDn84emH6Y7h7hoTkF66M4N4u9ltFbJ2jcEwI7fqOzySlPYH4SlWujWY"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; اس چھوٹے مگر انتہائی اہم اور تاریخی آئی لینڈ کی مالکی تبدیل ہونے کا یہ سلسلہ 350 سال سے جاری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/10/5da821dc3d959.jpg"  alt="آئی لینڈ سیاحت کے حوالے سے یورپ بھر میں مشہور ہے&amp;mdash;فوٹو: امیوزنگ پلانل" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;آئی لینڈ سیاحت کے حوالے سے یورپ بھر میں مشہور ہے—فوٹو: امیوزنگ پلانل&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس آئی لینڈ کی ملکیت ہر 6 ماہ فرانس اور اسپین میں تبدیل ہونے کا سلسلہ 1669 میں اس وقت شروع ہوا جب دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے چلی آرہی جنگ کو ختم کرنے کا معاہدہ ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنگ کو ختم کرنے کے معاہدے میں یہ بات بھی شامل کی گئی کہ اسپین اور فرانس کی سرحد کو ملانے والی جگہ پر واقع ’فزنٹ آئی لینڈ‘ کے انتطامات اور مالکانہ حقوق دونوں ممالک کے پاس ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;معاہدے کے مطابق دونوں ممالک ہر 6 ماہ بعد ’فزنٹ آئی لینڈ‘ کے مالکانہ حقوق ایک دوسرے کو فراہم کریں گے اور تب سے آج تک اس زمین کے ٹکڑے کے مالکانہ حقوق دونوں ممالک میں تبدیل ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے &lt;a href="https://www.bbc.com/news/stories-42817"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ’فزنٹ آئی لینڈ‘ دراصل اسپین اور فرانس کی زمینی سرحد کو ملانے والی جگہ پر موجود ایک زمین کا ٹکڑا ہے جو دونوں ممالک کی سرحد پر واقع دریا کے کنارے موجود ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس آئی لینڈ کے ابتدائی 6 ماہ کے مالکانہ حقوق اسپین جب کہ سال کے آخری 6 ماہ کے مالکانہ حقوق فرانس کے پاس رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ اس آئی لینڈ کی مقامی آبادی کوئی نہیں، تاہم اسی آئی لینڈ کے آس پاس اسپین اور فرانس کی شہریت والے افراد بستے ہیں اور مقامی افراد میں اس آئی لینڈ کو انتہائی خاص اہمیت حاصل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی لینڈ کے ہر 6 ماہ بعد تبدیل ہونے والے مالکانہ حقوق کے بعد دونوں ممالک اپنی اپنی مدت کے دوران آئی لینڈ کی دیکھ بھال، صفائی اور اسے سیاحوں کے لیے مزید بہتر بنانے کے انتطامات کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی آئی لینڈ کے پر موجود بنے ہوئے پُل بھی دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر بنائے اور ان پُلوں کے تحت ہی لوگ آسانی سے دونوں ممالک کی جانب سفر کرتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/10/5da8222649322.jpg"  alt="دریا کے دامن میں موجود آئی لینڈ پر پہنچنے کے لیے بنائے گئے پل بھی دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر بنائے&amp;mdash;اسکرین شاٹ/ یوٹیوب" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;دریا کے دامن میں موجود آئی لینڈ پر پہنچنے کے لیے بنائے گئے پل بھی دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر بنائے—اسکرین شاٹ/ یوٹیوب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;59&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اگرچہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں عام طور پر زمین کے مالکانہ حقوق 90 سے 100 سال تک دیے جاتے ہیں۔</p>

<p>تاہم دنیا میں ایک ایسا زمین کا ٹکڑا بھی ہے، جس کے مالک ہر 6 ماہ میں تبدیل ہوتے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے مالک عام افراد نہیں بلکہ 2 ریاستیں ہیں۔</p>

<p>جی ہاں، یورپ میں واقع ’فزنٹ آئی لینڈ‘ نامی 7 ہزار اسکوائر میٹر سے بھی کم رقبے پر پھیلا ہوا آئی لینڈ وہ واحد زمین کا ٹکڑا ہے، جس کی ملکیت ہر 6 ماہ میں تبدیل ہوتی ہے۔</p>

<p>’دبئی پوسٹ‘ کے <a href="https://www.dubaipost.ae/en/short-n-eazy/around-the-world/island-changes-nationality-twice-a-year-2019-10-07-1.4281?fbclid=IwAR3yDn84emH6Y7h7hoTkF66M4N4u9ltFbJ2jcEwI7fqOzySlPYH4SlWujWY"><strong>مطابق</strong></a> اس چھوٹے مگر انتہائی اہم اور تاریخی آئی لینڈ کی مالکی تبدیل ہونے کا یہ سلسلہ 350 سال سے جاری ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/10/5da821dc3d959.jpg"  alt="آئی لینڈ سیاحت کے حوالے سے یورپ بھر میں مشہور ہے&mdash;فوٹو: امیوزنگ پلانل" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">آئی لینڈ سیاحت کے حوالے سے یورپ بھر میں مشہور ہے—فوٹو: امیوزنگ پلانل</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس آئی لینڈ کی ملکیت ہر 6 ماہ فرانس اور اسپین میں تبدیل ہونے کا سلسلہ 1669 میں اس وقت شروع ہوا جب دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے چلی آرہی جنگ کو ختم کرنے کا معاہدہ ہوا۔</p>

<p>جنگ کو ختم کرنے کے معاہدے میں یہ بات بھی شامل کی گئی کہ اسپین اور فرانس کی سرحد کو ملانے والی جگہ پر واقع ’فزنٹ آئی لینڈ‘ کے انتطامات اور مالکانہ حقوق دونوں ممالک کے پاس ہوں گے۔</p>

<p>معاہدے کے مطابق دونوں ممالک ہر 6 ماہ بعد ’فزنٹ آئی لینڈ‘ کے مالکانہ حقوق ایک دوسرے کو فراہم کریں گے اور تب سے آج تک اس زمین کے ٹکڑے کے مالکانہ حقوق دونوں ممالک میں تبدیل ہوتے ہیں۔</p>

<p>برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے <a href="https://www.bbc.com/news/stories-42817"><strong>مطابق</strong></a> ’فزنٹ آئی لینڈ‘ دراصل اسپین اور فرانس کی زمینی سرحد کو ملانے والی جگہ پر موجود ایک زمین کا ٹکڑا ہے جو دونوں ممالک کی سرحد پر واقع دریا کے کنارے موجود ہے۔</p>

<p>اس آئی لینڈ کے ابتدائی 6 ماہ کے مالکانہ حقوق اسپین جب کہ سال کے آخری 6 ماہ کے مالکانہ حقوق فرانس کے پاس رہتے ہیں۔</p>

<p>اگرچہ اس آئی لینڈ کی مقامی آبادی کوئی نہیں، تاہم اسی آئی لینڈ کے آس پاس اسپین اور فرانس کی شہریت والے افراد بستے ہیں اور مقامی افراد میں اس آئی لینڈ کو انتہائی خاص اہمیت حاصل ہے۔</p>

<p>آئی لینڈ کے ہر 6 ماہ بعد تبدیل ہونے والے مالکانہ حقوق کے بعد دونوں ممالک اپنی اپنی مدت کے دوران آئی لینڈ کی دیکھ بھال، صفائی اور اسے سیاحوں کے لیے مزید بہتر بنانے کے انتطامات کرتے ہیں۔</p>

<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی آئی لینڈ کے پر موجود بنے ہوئے پُل بھی دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر بنائے اور ان پُلوں کے تحت ہی لوگ آسانی سے دونوں ممالک کی جانب سفر کرتے ہیں۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/10/5da8222649322.jpg"  alt="دریا کے دامن میں موجود آئی لینڈ پر پہنچنے کے لیے بنائے گئے پل بھی دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر بنائے&mdash;اسکرین شاٹ/ یوٹیوب" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">دریا کے دامن میں موجود آئی لینڈ پر پہنچنے کے لیے بنائے گئے پل بھی دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر بنائے—اسکرین شاٹ/ یوٹیوب</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>59</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1112723</guid>
      <pubDate>Thu, 17 Oct 2019 13:44:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/10/5da82137f2b30.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/10/5da82137f2b30.jpg"/>
        <media:title>دریا کے بیچ میں درختوں کے جھگٹے میں واقع آئی لینڈ کی مالکی اسپین اور فرانس میں تبدیل ہوتی ہے—فوٹو: فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
