<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 08:54:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 08:54:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آسٹریلیا: بغیر اشاعت صفحات سیاہ کرکے اخبارات کا احتجاج
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1112947/</link>
      <description>&lt;p&gt;آسٹریلیا کے تمام اخبارات آج (بروز پیر) عوامی مفاد کی صحافت کی بقا کے لیے شروع کی گئی ’رائٹ ٹو نو‘ یا معلومات کا حق نامی مہم کے تحت سیاہ کردیے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ مہم دراصل ملک میں آزادی صحافت کو محدود کرنے والی قانون سازی ’نیشنل سیکیورٹی لا‘ کے خلاف احتجاج ہے جس کا مقصد آسٹریلیا میں رازداری کی فضا کو فروغ دینا اور رپورٹنگ کو محدود کرنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/PressClubAust/status/1186057998050811904"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دی ایج نامی نیوز &lt;strong&gt;&lt;a href="http://theage.com.au/national/a-culture-of-secrecy-what-is-the-right-to-know-campaign-about-20191018-p5323v.html"&gt;ویب سائٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کی رپورٹ کے مطابق اس مہم میں نیوز کور، دی اے بی سی، نائن، ایس بی ایس، دی گارجین اور صحافتی تنظیم دی میڈیا، انٹرٹینمنٹ اینڈ آرٹس الائنس شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ اس طرح کی مہم کی اس سے قبل کوئی مثال نہیں ملتی جو رواں برس جون میں آسٹریلین فیڈرل پولیس کی جانب سے اے بی سی کے دفاتر پر اور ‘نیوز کور’ کی صحافی انیکا سمیتھرسٹ کے گھر پر چھاپے کے بعد شروع کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.bbc.com/news/world-australia-48537377"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں بتایا گیا کہ اے بی سی کے دفتر پر چھاپہ ’افغان فائلز‘ نامی تحقیقات سیریز کی وجہ سے مارا گیا تھا جس میں ’آسٹریلیا کی خصوصی فوج کی جانب سے افغانستان میں غیر قانونی قتل اور غیر اخلاقی حرکات کے الزامات سے پردہ اٹھایا گیا تھا'۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/smh/status/1186172758050263040"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب صحافی کے گھر چھاپہ مارنے کی وجہ آسٹریلوی حکومت کی جانب سے شہریوں کی خفیہ نگرانی کے حوالے سے 2018 میں سامنے آنے والی رپورٹ تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع ہونے والی برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1512071/australian-newspapers-unite-against-media-curbs"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق آج کا احتجاج حکومت پر عوامی دباؤ ڈالنے کے لیے ہے تاکہ حساس معلومت تک رسائی محدود کرنے کے قانون سے صحافیوں کو مستثنیٰ قرار دیا جائے، معلومات کی آزادی کے مناسب نظام کا نفاذ اور ہتک عزت کے مقدمات کے میعار کو بلند کیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108524"&gt;ملک کے ابتر حالات پر معروف انگریزی اخبار کا احتجاج، پورا اخبار خالی شائع&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلوی اخبار دی کینبرا ٹائمز کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.canberratimes.com.au/story/6447711/its-time-to-fight-for-your-right-to-know/?cs=14225"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق میڈیا اتحاد کا کہنا تھا کہ 2 دہائیوں کے دوران 60 سے زائد قوانین متعارف کروائے گئے جس سے صحافت کو جرم اور غلط کاموں کو افشا یا حکومتی فیصلوں کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرنے پر بھی خفیہ معلومات منظر عام پر لانے والوں کو سزا کا مستحق بنادیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/BevanShields/status/1185888415327215616"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکی نیوز ویب سائٹ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.huffingtonpost.com.au/entry/why-the-newspapers-are-censored-today_au_5dad34dae4b08cfcc31e0a73?ncid=tweetlnkauhpmg00000001"&gt;ہفنگ پوسٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق صحافتی اداروں کی جانب سے اس مہم پر وزیر مواصلات پاؤل فلیچر نے فوری طور پر کوئی ردِ عمل نہیں دیا تاہم اس سے قبل حکومت کہہ چکی ہے کہ آزادی صحافت ایک بنیادی اصول ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رائٹ ٹو نو نامی اس مہم کے تحت آسٹریلیا کی محدود مارکیٹ میں میڈیا کی آزادی کے لیے ان اداروں کا اتحاد غیر معمولی اقدام ہے جہاں میڈیا کے ادارے اشتہاری اخراجات کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور مقابلہ کرتے اور ملک کے بالکل مختلف نقطہ نظر پیش کرنے کی روایت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099176"&gt;مقبوضہ کشمیر کے اخبارات کا ’خالی صفحات‘ کے ذریعے انوکھا احتجاج&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بات مدِ نظر رہے کہ اخبارات کی غیر معمولی اشاعت کے ذریعے احتجاج کا یہ پہلا موقع نہیں بلکہ 8 اگست کو 
لبنان کے معروف انگریزی اخبار ’دی ڈیلی اسٹار‘ نے اپنے 12 صفحات پر کوئی بھی خبر شائع کیے بغیر اپنا &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108524"&gt;منفرد احتجاج&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; ریکارڈ کروایا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اخبار نے اپنے منفرد احتجاج کے ذریعے ملک میں فرقہ واریت جیسے مسائل اور حکومت کی جانب سے کسی بھی معاملے کو حل کرنے کے لیے خاص اقدامات نہ اٹھائے جانے کی جانب توجہ مبذول کروائی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل 10 مارچ کو بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے اخبارات نے انڈین حکومت کی پالیسی کے خلاف پہلے صفحے پر &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099176"&gt;کوئی خبر شائع نہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کر کے انوکھا احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس روز مقبوضہ کشمیر کے متعدد اخبارات نے پہلے صفحے پر کوئی خبر شائع نہیں کی تھی اور صرف ایک احتجاجی تحریر درج کی تھی کہ 'بھارتی حکام کا اشتہارات کی فراہمی کے لیے بلا جواز انکار'۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آسٹریلیا کے تمام اخبارات آج (بروز پیر) عوامی مفاد کی صحافت کی بقا کے لیے شروع کی گئی ’رائٹ ٹو نو‘ یا معلومات کا حق نامی مہم کے تحت سیاہ کردیے گئے۔</p>

<p>یہ مہم دراصل ملک میں آزادی صحافت کو محدود کرنے والی قانون سازی ’نیشنل سیکیورٹی لا‘ کے خلاف احتجاج ہے جس کا مقصد آسٹریلیا میں رازداری کی فضا کو فروغ دینا اور رپورٹنگ کو محدود کرنا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/PressClubAust/status/1186057998050811904"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>دی ایج نامی نیوز <strong><a href="http://theage.com.au/national/a-culture-of-secrecy-what-is-the-right-to-know-campaign-about-20191018-p5323v.html">ویب سائٹ</a></strong> کی رپورٹ کے مطابق اس مہم میں نیوز کور، دی اے بی سی، نائن، ایس بی ایس، دی گارجین اور صحافتی تنظیم دی میڈیا، انٹرٹینمنٹ اینڈ آرٹس الائنس شامل ہیں۔</p>

<p>خیال رہے کہ اس طرح کی مہم کی اس سے قبل کوئی مثال نہیں ملتی جو رواں برس جون میں آسٹریلین فیڈرل پولیس کی جانب سے اے بی سی کے دفاتر پر اور ‘نیوز کور’ کی صحافی انیکا سمیتھرسٹ کے گھر پر چھاپے کے بعد شروع کی گئی تھی۔</p>

<p>برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی <strong><a href="https://www.bbc.com/news/world-australia-48537377">رپورٹ</a></strong> میں بتایا گیا کہ اے بی سی کے دفتر پر چھاپہ ’افغان فائلز‘ نامی تحقیقات سیریز کی وجہ سے مارا گیا تھا جس میں ’آسٹریلیا کی خصوصی فوج کی جانب سے افغانستان میں غیر قانونی قتل اور غیر اخلاقی حرکات کے الزامات سے پردہ اٹھایا گیا تھا'۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/smh/status/1186172758050263040"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>دوسری جانب صحافی کے گھر چھاپہ مارنے کی وجہ آسٹریلوی حکومت کی جانب سے شہریوں کی خفیہ نگرانی کے حوالے سے 2018 میں سامنے آنے والی رپورٹ تھی۔</p>

<p>ڈان اخبار میں شائع ہونے والی برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1512071/australian-newspapers-unite-against-media-curbs">رپورٹ</a></strong> کے مطابق آج کا احتجاج حکومت پر عوامی دباؤ ڈالنے کے لیے ہے تاکہ حساس معلومت تک رسائی محدود کرنے کے قانون سے صحافیوں کو مستثنیٰ قرار دیا جائے، معلومات کی آزادی کے مناسب نظام کا نفاذ اور ہتک عزت کے مقدمات کے میعار کو بلند کیا جائے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108524">ملک کے ابتر حالات پر معروف انگریزی اخبار کا احتجاج، پورا اخبار خالی شائع</a></strong> </p>

<p>آسٹریلوی اخبار دی کینبرا ٹائمز کی <strong><a href="https://www.canberratimes.com.au/story/6447711/its-time-to-fight-for-your-right-to-know/?cs=14225">رپورٹ</a></strong> کے مطابق میڈیا اتحاد کا کہنا تھا کہ 2 دہائیوں کے دوران 60 سے زائد قوانین متعارف کروائے گئے جس سے صحافت کو جرم اور غلط کاموں کو افشا یا حکومتی فیصلوں کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرنے پر بھی خفیہ معلومات منظر عام پر لانے والوں کو سزا کا مستحق بنادیا گیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/BevanShields/status/1185888415327215616"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>امریکی نیوز ویب سائٹ <strong><a href="https://www.huffingtonpost.com.au/entry/why-the-newspapers-are-censored-today_au_5dad34dae4b08cfcc31e0a73?ncid=tweetlnkauhpmg00000001">ہفنگ پوسٹ</a></strong> کے مطابق صحافتی اداروں کی جانب سے اس مہم پر وزیر مواصلات پاؤل فلیچر نے فوری طور پر کوئی ردِ عمل نہیں دیا تاہم اس سے قبل حکومت کہہ چکی ہے کہ آزادی صحافت ایک بنیادی اصول ہے۔</p>

<p>رائٹ ٹو نو نامی اس مہم کے تحت آسٹریلیا کی محدود مارکیٹ میں میڈیا کی آزادی کے لیے ان اداروں کا اتحاد غیر معمولی اقدام ہے جہاں میڈیا کے ادارے اشتہاری اخراجات کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور مقابلہ کرتے اور ملک کے بالکل مختلف نقطہ نظر پیش کرنے کی روایت رکھتے ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099176">مقبوضہ کشمیر کے اخبارات کا ’خالی صفحات‘ کے ذریعے انوکھا احتجاج</a></strong> </p>

<p>یہ بات مدِ نظر رہے کہ اخبارات کی غیر معمولی اشاعت کے ذریعے احتجاج کا یہ پہلا موقع نہیں بلکہ 8 اگست کو 
لبنان کے معروف انگریزی اخبار ’دی ڈیلی اسٹار‘ نے اپنے 12 صفحات پر کوئی بھی خبر شائع کیے بغیر اپنا <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108524">منفرد احتجاج</a></strong> ریکارڈ کروایا تھا۔</p>

<p>اخبار نے اپنے منفرد احتجاج کے ذریعے ملک میں فرقہ واریت جیسے مسائل اور حکومت کی جانب سے کسی بھی معاملے کو حل کرنے کے لیے خاص اقدامات نہ اٹھائے جانے کی جانب توجہ مبذول کروائی تھی۔</p>

<p>اس سے قبل 10 مارچ کو بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے اخبارات نے انڈین حکومت کی پالیسی کے خلاف پہلے صفحے پر <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099176">کوئی خبر شائع نہ</a></strong> کر کے انوکھا احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔</p>

<p>اس روز مقبوضہ کشمیر کے متعدد اخبارات نے پہلے صفحے پر کوئی خبر شائع نہیں کی تھی اور صرف ایک احتجاجی تحریر درج کی تھی کہ 'بھارتی حکام کا اشتہارات کی فراہمی کے لیے بلا جواز انکار'۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1112947</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Oct 2019 19:05:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/10/5dad65aa324c8.jpg?r=1808316703" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/10/5dad65aa324c8.jpg?r=281208483"/>
        <media:title>یہ مہم ملک میں آزادی صحافت کو محدود کرنے والی قانون سازی نیشنل سیکیورٹی لا کے خلاف احتجاج ہے —تصویر: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
