<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 21:39:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 22 Jun 2026 21:39:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد: جے یو آئی (ف) کو ’آزادی مارچ‘ کا اجازت نامہ مل گیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1113456/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد/راولپنڈی: جمعیت علمائے اسلام (ف) کو 31 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت میں آزادی مارچ کے لیے انتظامیہ کی جانب سے تصدیق نامہ عدم اعتراض (این او سی) دے دیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1513466/jui-f-issued-noc-for-azadi-march-points-of-entry-for-marchers-decided"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق انتظامیہ کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ پولیس آپریشن ڈویژن اور اسپیشل برانچ کی جانب سے رپورٹس موصول ہونے کے بعد این او سی جاری کیا گیا، حالانکہ ان رپورٹس میں احتجاجی مارچ کو اجازت نہ دینے کی تجویز دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ اسپیشل برانچ نے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) اور وزارت داخلہ کی جانب سے خطرے کا الرٹ بھی جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ جے یو آئی (ف)، تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113402/"&gt;جمعیت علمائے اسلام (ف) کا 'آزادی مارچ' پنجاب میں داخل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں ایک عہدیدار نے بتایا کہ مذکورہ این او سی اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقت نے جاری کیا جبکہ منتظمین سے مذکورہ این او سی کی شرائط و ضوابط پر عمل کرنے کا حلف نامہ بھی طلب کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;این او سی میں کہا گیا کہ اندرونی طور پر مارچ کے شرکا کو سیکیورٹی فراہم کرنا جے یو آئی (ف) کی ذمہ داری ہے جس کی فہرست پیشگی طور پر مقامی پولیس حکام کو بھی فراہم کردی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;این او سی میں ہدایت کی گئی ہے کہ مارچ کے شرکا متعین کردہ چار دیواری سے آگے نہیں جائیں گے اور ریاست، کسی مذہب یا پاکستان کے نظریے کے خلاف نفرت انگیز تقاریر نہیں کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113344"&gt;مولانا فضل الرحمٰن نے کراچی سے آزادی مارچ کا آغاز کردیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ مذکورہ مقام کے قریب ہتھیار اور کسی قسم کا آتشیں اسلحہ کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن اندرونی سیکیورٹی کے لیے کسی بھی قسم کی چیز کی ضرورت ہو تو اس کی انتظامیہ سے اجازت لی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;این او سی میں آزادی مارچ کے تمام شرکا کو پولیس کے ٹریفک منیجمنٹ منصوبے پر عمل کرنے اور چیکنگ یا تلاشی کے وقت کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالنے کی ہدایت کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;این او سی کے اجرا کے بعد ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے جے یو آئی (ف) کے وفد سے ملاقات بھی کی جس میں داخلی و خارجی راستوں، پارکنگ کے مقام، ٹوائلٹس، خوراک کے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113319"&gt;آزادی مارچ: معاہدہ ہوگیا، اپوزیشن ڈی چوک نہیں آئے گی، پرویز خٹک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ ملاقات میں مارچ کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھی اتفاق کیا گیا، اس موقع پر ریڈ زون جزوی طور پر سیل کردیا جائے گا اور مارچ کے خاتمے تک وہاں کسی کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ پیر کی رات 8 بجے تک مولانا فضل الرحمٰن کی سربراہی میں آزادی مارچ سندھ کے شی گھوٹکی پہنچا تھا جس میں 32 ہزار کارکنان، ان کے علاوہ انصار السلام کے ایک ہزار سے زائد کارکنان اور ایک ہزار سے زائد گاڑیاں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد/راولپنڈی: جمعیت علمائے اسلام (ف) کو 31 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت میں آزادی مارچ کے لیے انتظامیہ کی جانب سے تصدیق نامہ عدم اعتراض (این او سی) دے دیا گیا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1513466/jui-f-issued-noc-for-azadi-march-points-of-entry-for-marchers-decided">رپورٹ</a></strong> کے مطابق انتظامیہ کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ پولیس آپریشن ڈویژن اور اسپیشل برانچ کی جانب سے رپورٹس موصول ہونے کے بعد این او سی جاری کیا گیا، حالانکہ ان رپورٹس میں احتجاجی مارچ کو اجازت نہ دینے کی تجویز دی گئی تھی۔</p>

<p>خیال رہے کہ اسپیشل برانچ نے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) اور وزارت داخلہ کی جانب سے خطرے کا الرٹ بھی جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ جے یو آئی (ف)، تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113402/">جمعیت علمائے اسلام (ف) کا 'آزادی مارچ' پنجاب میں داخل</a></strong></p>

<p>اس ضمن میں ایک عہدیدار نے بتایا کہ مذکورہ این او سی اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقت نے جاری کیا جبکہ منتظمین سے مذکورہ این او سی کی شرائط و ضوابط پر عمل کرنے کا حلف نامہ بھی طلب کیا گیا ہے۔</p>

<p>این او سی میں کہا گیا کہ اندرونی طور پر مارچ کے شرکا کو سیکیورٹی فراہم کرنا جے یو آئی (ف) کی ذمہ داری ہے جس کی فہرست پیشگی طور پر مقامی پولیس حکام کو بھی فراہم کردی جائے گی۔</p>

<p>این او سی میں ہدایت کی گئی ہے کہ مارچ کے شرکا متعین کردہ چار دیواری سے آگے نہیں جائیں گے اور ریاست، کسی مذہب یا پاکستان کے نظریے کے خلاف نفرت انگیز تقاریر نہیں کی جائیں گی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113344">مولانا فضل الرحمٰن نے کراچی سے آزادی مارچ کا آغاز کردیا</a></strong></p>

<p>اس کے علاوہ مذکورہ مقام کے قریب ہتھیار اور کسی قسم کا آتشیں اسلحہ کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن اندرونی سیکیورٹی کے لیے کسی بھی قسم کی چیز کی ضرورت ہو تو اس کی انتظامیہ سے اجازت لی جائے گی۔</p>

<p>این او سی میں آزادی مارچ کے تمام شرکا کو پولیس کے ٹریفک منیجمنٹ منصوبے پر عمل کرنے اور چیکنگ یا تلاشی کے وقت کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالنے کی ہدایت کی گئی۔</p>

<p>این او سی کے اجرا کے بعد ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے جے یو آئی (ف) کے وفد سے ملاقات بھی کی جس میں داخلی و خارجی راستوں، پارکنگ کے مقام، ٹوائلٹس، خوراک کے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113319">آزادی مارچ: معاہدہ ہوگیا، اپوزیشن ڈی چوک نہیں آئے گی، پرویز خٹک</a></strong></p>

<p>مذکورہ ملاقات میں مارچ کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھی اتفاق کیا گیا، اس موقع پر ریڈ زون جزوی طور پر سیل کردیا جائے گا اور مارچ کے خاتمے تک وہاں کسی کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>

<p>خیال رہے کہ پیر کی رات 8 بجے تک مولانا فضل الرحمٰن کی سربراہی میں آزادی مارچ سندھ کے شی گھوٹکی پہنچا تھا جس میں 32 ہزار کارکنان، ان کے علاوہ انصار السلام کے ایک ہزار سے زائد کارکنان اور ایک ہزار سے زائد گاڑیاں موجود ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1113456</guid>
      <pubDate>Fri, 01 Nov 2019 17:50:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد اصغر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/10/5db7e4f933b42.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/10/5db7e4f933b42.jpg"/>
        <media:title>جے یو آئی (ف) کے رہنماؤں نے مارچ کے مقام کا دورہ کیا—تصویر: تنویر شہزاد
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
