<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 13:22:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 13:22:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیپالی کوہ پیما نے 14 بلند ترین پہاڑ سر کرلیے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1113475/</link>
      <description>&lt;p&gt;نیپال کے سابق فوجی نے انتہائی کم وقت میں دنیا کے بلند ترین 14 پہاڑوں کو سر کرکے دنیا کے تیز ترین کوہ پیما بننے کا اعزاز حاصل کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیپال کے 36 سالہ نرمل پورجا نے اپنے ملک کے 7، پاکستان کے 6 اور تبت میں موجود 2 دنیا کے بلند ترین پہاڑوں کو 7 ماہ سے بھی کم مدت میں سر کرکے نیا ریکارڈ بنایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل دنیا کے 14 ہی بلند پہاڑوں کو تیزی سے سر کرنے کا اعزاز جنوبی کوریا کے کوہ پیما کم چانگ ہو کے پاس تھا، جنہوں نے یہی پہاڑ 7 سال، 10 ماہ اور 6 دن میں سر کیے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دنیا کے بلند ترین 14 پہاڑوں کو اب تک دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما سر کر چکے ہیں، تاہم تیز ترین چوٹیاں سر کرنے کا ریکارڈ جنوبی کورین کوہ پیما کے پاس تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/nimsdai/status/1189019357483077632"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لیکن اب نیپالی کوہ پیما نے جنوبی کورین کوہ پیما کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے محض 6 ماہ 7 دن میں دنیا کے 14 بڑے پہاڑ سر کرلیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے &lt;a href="https://www.reuters.com/article/us-nepal-climber/nepali-scales-14-highest-peaks-in-just-over-six-months-becomes-worlds-fastest-climber-idUSKBN1X80PX"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نرمل پورجا نے 28 اکتوبر کی صبح 8 بج کر 58 منٹ پر تبت میں موجود ’شیشپانگما‘ کی چوٹی کو سر کرکے نیا اعزاز اپنے نام کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ پہاڑ 26 ہزار 335 فٹ بلند تھا جب کہ اس سے قبل نرمل پورجا اس سے بھی بڑے پہاڑ تیزی سے سر کرتے آ رہے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نرمل پورجا کو پہاڑوں کی چوٹیاں سر کرنے کے لیے نیپال کے سابق ریکارڈ ہولڈر کوہ پیما منگما شیرپا کی کمپنی نے آلات اور سہولیات فراہم کیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نرمل پورجا نے دنیا کی بلند ترین پہاڑیوں کو سر کرنے کا آغاز رواں برس 23 اپریل کو کیا تھا اور انہوں نے آخری چوٹی 28 اکتوبر کو سر کی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/10/5db821abcdbf2.jpg"  alt="نرمل پورجا نے 26 ہزار فٹ والی پہاڑیاں سر کیں&amp;mdash;فوٹو: ٹوئٹر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;نرمل پورجا نے 26 ہزار فٹ والی پہاڑیاں سر کیں—فوٹو: ٹوئٹر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نرمل پورجا نے گزشتہ 6 ماہ میں 8 ہزار میٹر یعنی 26 ہزار فٹ سے زائد بلند چوٹیوں کو سر کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نرمل پورجا نے سب سے پہلے 23 اپریل کو اپنے ہی ملک کی پہاڑی ’اناپورنا‘ کو سر کیا، جس کے بعد 12 مئی کو انہوں نے ’ڈھولاگری‘ نامی پہاڑی کو سر کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نرمل پورجا نے 15 مئی کو ’کینگچر جگنا‘ 22 مئی کو ’ایوریسٹ‘، اسی دن ہی ’لہوٹسے‘ اور دو دن بعد 24 مئی کو ’مکلو‘ کی پہاڑی کو سر کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیپال کی چوٹیاں سر کرنے کے بعد نرمل پورجا نے رواں برس جولائی میں پاکستان کا رخ کیا اور تین جولائی کو انہوں نے ’نانگا پربت‘ 15 جولائی کو ’گاشربرم اول‘ اور تین بعد 18 جولائی کو ’گاشربرم دوئم‘ کو سر کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نرمل پورجا نے 24 جولائی کو ’کے ٹو‘ 26 جولائی کو ’بروڈ پیک‘ 23 ستمبر کو ’چوایو‘ اور 27 ستمبر کو ’مناسلو‘ کی چوٹی کو سر کیا۔
نرمل پورجا نے گزشتہ روز یعنی 28 اکتوبر کو ’شیشپانگما‘ کو سرکیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/10/5db8223aa9c9d.jpg"  alt="نرمل پورجا سے قبل کم چانگ ہو نے مذکورہ پہاڑیاں 7 سال 10 ماہ سے زائد وقت میں سر کی تھیں&amp;mdash;فوٹو: ٹوئٹر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;نرمل پورجا سے قبل کم چانگ ہو نے مذکورہ پہاڑیاں 7 سال 10 ماہ سے زائد وقت میں سر کی تھیں—فوٹو: ٹوئٹر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نیپال کے سابق فوجی نے انتہائی کم وقت میں دنیا کے بلند ترین 14 پہاڑوں کو سر کرکے دنیا کے تیز ترین کوہ پیما بننے کا اعزاز حاصل کرلیا۔</p>

<p>نیپال کے 36 سالہ نرمل پورجا نے اپنے ملک کے 7، پاکستان کے 6 اور تبت میں موجود 2 دنیا کے بلند ترین پہاڑوں کو 7 ماہ سے بھی کم مدت میں سر کرکے نیا ریکارڈ بنایا۔</p>

<p>اس سے قبل دنیا کے 14 ہی بلند پہاڑوں کو تیزی سے سر کرنے کا اعزاز جنوبی کوریا کے کوہ پیما کم چانگ ہو کے پاس تھا، جنہوں نے یہی پہاڑ 7 سال، 10 ماہ اور 6 دن میں سر کیے تھے۔</p>

<p>دنیا کے بلند ترین 14 پہاڑوں کو اب تک دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما سر کر چکے ہیں، تاہم تیز ترین چوٹیاں سر کرنے کا ریکارڈ جنوبی کورین کوہ پیما کے پاس تھا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/nimsdai/status/1189019357483077632"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>لیکن اب نیپالی کوہ پیما نے جنوبی کورین کوہ پیما کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے محض 6 ماہ 7 دن میں دنیا کے 14 بڑے پہاڑ سر کرلیے۔</p>

<p>خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے <a href="https://www.reuters.com/article/us-nepal-climber/nepali-scales-14-highest-peaks-in-just-over-six-months-becomes-worlds-fastest-climber-idUSKBN1X80PX"><strong>مطابق</strong></a> نرمل پورجا نے 28 اکتوبر کی صبح 8 بج کر 58 منٹ پر تبت میں موجود ’شیشپانگما‘ کی چوٹی کو سر کرکے نیا اعزاز اپنے نام کرلیا۔</p>

<p>مذکورہ پہاڑ 26 ہزار 335 فٹ بلند تھا جب کہ اس سے قبل نرمل پورجا اس سے بھی بڑے پہاڑ تیزی سے سر کرتے آ رہے تھے۔</p>

<p>نرمل پورجا کو پہاڑوں کی چوٹیاں سر کرنے کے لیے نیپال کے سابق ریکارڈ ہولڈر کوہ پیما منگما شیرپا کی کمپنی نے آلات اور سہولیات فراہم کیں۔</p>

<p>نرمل پورجا نے دنیا کی بلند ترین پہاڑیوں کو سر کرنے کا آغاز رواں برس 23 اپریل کو کیا تھا اور انہوں نے آخری چوٹی 28 اکتوبر کو سر کی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/10/5db821abcdbf2.jpg"  alt="نرمل پورجا نے 26 ہزار فٹ والی پہاڑیاں سر کیں&mdash;فوٹو: ٹوئٹر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">نرمل پورجا نے 26 ہزار فٹ والی پہاڑیاں سر کیں—فوٹو: ٹوئٹر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>نرمل پورجا نے گزشتہ 6 ماہ میں 8 ہزار میٹر یعنی 26 ہزار فٹ سے زائد بلند چوٹیوں کو سر کیا۔</p>

<p>نرمل پورجا نے سب سے پہلے 23 اپریل کو اپنے ہی ملک کی پہاڑی ’اناپورنا‘ کو سر کیا، جس کے بعد 12 مئی کو انہوں نے ’ڈھولاگری‘ نامی پہاڑی کو سر کیا۔</p>

<p>نرمل پورجا نے 15 مئی کو ’کینگچر جگنا‘ 22 مئی کو ’ایوریسٹ‘، اسی دن ہی ’لہوٹسے‘ اور دو دن بعد 24 مئی کو ’مکلو‘ کی پہاڑی کو سر کیا۔</p>

<p>نیپال کی چوٹیاں سر کرنے کے بعد نرمل پورجا نے رواں برس جولائی میں پاکستان کا رخ کیا اور تین جولائی کو انہوں نے ’نانگا پربت‘ 15 جولائی کو ’گاشربرم اول‘ اور تین بعد 18 جولائی کو ’گاشربرم دوئم‘ کو سر کیا۔</p>

<p>نرمل پورجا نے 24 جولائی کو ’کے ٹو‘ 26 جولائی کو ’بروڈ پیک‘ 23 ستمبر کو ’چوایو‘ اور 27 ستمبر کو ’مناسلو‘ کی چوٹی کو سر کیا۔
نرمل پورجا نے گزشتہ روز یعنی 28 اکتوبر کو ’شیشپانگما‘ کو سرکیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/10/5db8223aa9c9d.jpg"  alt="نرمل پورجا سے قبل کم چانگ ہو نے مذکورہ پہاڑیاں 7 سال 10 ماہ سے زائد وقت میں سر کی تھیں&mdash;فوٹو: ٹوئٹر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">نرمل پورجا سے قبل کم چانگ ہو نے مذکورہ پہاڑیاں 7 سال 10 ماہ سے زائد وقت میں سر کی تھیں—فوٹو: ٹوئٹر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1113475</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Oct 2019 17:25:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/10/5db8215de4dbb.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/10/5db8215de4dbb.jpg?0.0005403939868187102"/>
        <media:title>نرمل پورجا نے 6 ماہ 7 دن میں ریکارڈ بنایا—فوٹو: ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
