<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 09:22:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 09:22:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آزادی مارچ کے پیش نظر اسلام آباد میں فوج طلب
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1113572/</link>
      <description>&lt;p&gt;جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچنے کے پیشِ نظر جہاں وزیراعظم عمران خان نے ممکنہ اشتعال انگیزی سے نمٹنے کے لیے اپنی جماعت کے سینئر اراکین سے مشاورت کی تو وہیں مقامی انتظامیہ نے امن و عامہ کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے فوج کو طلب کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ اتوار 27 اکتوبر کو کراچی سے شروع ہونے والا آزادی مارچ بدھ 30 اکتوبر کو لاہور پہنچا تھا اور توقع ہے کہ گوجر خان میں مختصر قیام کے بعد یہ جمعرات 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1513946/local-administration-calls-in-army-as-azadi-march-nears-capital"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق پارٹی رہنماؤں کے اجلاس میں شریک ایک شخصیت سے ڈان کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وزیراعظم، اسلام آباد کے پشاور موڑ پر متوقع احتجاج کے حوالے سے مطمئن نظر آئے اور انہوں نے پنجاب میں آزادی مارچ کی صورتحال کو ’انتہائی بری‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113518/"&gt;جے یو آئی (ف) کا آزادی مارچ لاہور سے راولپنڈی کی طرف رواں دواں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم حکومت نے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے حساس مقامات پر فوج تعینات کردی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں اسلام آباد کی مقامی انتظامیہ نے حساس ترین علاقے ریڈ زون میں ٹرپل ون بریگیڈ کو تعینات کرنے کی بھی درخواست دے دی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ ریڈ زون میں پارلیمنٹ ہاؤس، سپریم کورٹ، دفتر خارجہ، پاکستان ٹیلی ویژن، ریڈیو پاکستان اور ڈپلومیٹک انکلیو موجود ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے ساتھ انتطامیہ نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کی تین بڑی شاہراہیں اسلام آباد ایکسپریس وے، کشمیر ہائی وے اور 9 ایونیو صبح 11 بجے سے شام 5 بجے تک بند رہیں گی، اس کی جگہ متبادل راستوں سے ٹریفک کو گزرنے کی اجازت ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اجلاس کے بارے میں ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن پہلے ہی دو بڑی اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حمایت سے محروم ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113468/"&gt;آزادی مارچ: پشاور ہائی کورٹ کا صوبائی حکومت کو شاہراہیں بند نہ کرنے کا حکم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کا گڑھ ہونے کے باوجود نہ اس کے صدر میاں شہباز شریف اور نہ ہی کوئی اور رہنما آزادی مارچ کے لیے لاہور میں قیام کے دوران اس میں شامل ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں جب وزیراعظم کی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے پارٹی رہنماؤں کے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ اپوزیشن کی اشتعال انگیزی سے نمٹنے کے لیے حکومت کے سیکیورٹی پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب وزیراعظم نے وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کو ہدایت کی کہ عوام کو حکومت کی حکمت عملی سے آگاہ کرنے کے لیے پریس کانفرنس کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113321"&gt;'حکومت کیسے بتا سکتی تھی نواز شریف کی صحت ٹھیک رہے گی یا نہیں؟'&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے ساتھ وزیراعظم نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کو سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف تضحیک آمیز بیانات دینے سے بھی روک دیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کے مطابق ان کی حالت تشویشناک ہے لہٰذا ان کے خلاف ریمارکس دینا نامناسب ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچنے کے پیشِ نظر جہاں وزیراعظم عمران خان نے ممکنہ اشتعال انگیزی سے نمٹنے کے لیے اپنی جماعت کے سینئر اراکین سے مشاورت کی تو وہیں مقامی انتظامیہ نے امن و عامہ کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے فوج کو طلب کرلیا۔</p>

<p>خیال رہے کہ اتوار 27 اکتوبر کو کراچی سے شروع ہونے والا آزادی مارچ بدھ 30 اکتوبر کو لاہور پہنچا تھا اور توقع ہے کہ گوجر خان میں مختصر قیام کے بعد یہ جمعرات 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوگا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1513946/local-administration-calls-in-army-as-azadi-march-nears-capital">رپورٹ</a></strong> کے مطابق پارٹی رہنماؤں کے اجلاس میں شریک ایک شخصیت سے ڈان کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وزیراعظم، اسلام آباد کے پشاور موڑ پر متوقع احتجاج کے حوالے سے مطمئن نظر آئے اور انہوں نے پنجاب میں آزادی مارچ کی صورتحال کو ’انتہائی بری‘ قرار دیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113518/">جے یو آئی (ف) کا آزادی مارچ لاہور سے راولپنڈی کی طرف رواں دواں</a></strong> </p>

<p>تاہم حکومت نے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے حساس مقامات پر فوج تعینات کردی ہے۔</p>

<p>علاوہ ازیں اسلام آباد کی مقامی انتظامیہ نے حساس ترین علاقے ریڈ زون میں ٹرپل ون بریگیڈ کو تعینات کرنے کی بھی درخواست دے دی ہے۔</p>

<p>واضح رہے کہ ریڈ زون میں پارلیمنٹ ہاؤس، سپریم کورٹ، دفتر خارجہ، پاکستان ٹیلی ویژن، ریڈیو پاکستان اور ڈپلومیٹک انکلیو موجود ہے۔</p>

<p>اس کے ساتھ انتطامیہ نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کی تین بڑی شاہراہیں اسلام آباد ایکسپریس وے، کشمیر ہائی وے اور 9 ایونیو صبح 11 بجے سے شام 5 بجے تک بند رہیں گی، اس کی جگہ متبادل راستوں سے ٹریفک کو گزرنے کی اجازت ہوگی۔</p>

<p>اجلاس کے بارے میں ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن پہلے ہی دو بڑی اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حمایت سے محروم ہوچکے ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113468/">آزادی مارچ: پشاور ہائی کورٹ کا صوبائی حکومت کو شاہراہیں بند نہ کرنے کا حکم</a></strong></p>

<p>وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کا گڑھ ہونے کے باوجود نہ اس کے صدر میاں شہباز شریف اور نہ ہی کوئی اور رہنما آزادی مارچ کے لیے لاہور میں قیام کے دوران اس میں شامل ہوا۔</p>

<p>اس ضمن میں جب وزیراعظم کی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے پارٹی رہنماؤں کے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ اپوزیشن کی اشتعال انگیزی سے نمٹنے کے لیے حکومت کے سیکیورٹی پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے گا۔</p>

<p>دوسری جانب وزیراعظم نے وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کو ہدایت کی کہ عوام کو حکومت کی حکمت عملی سے آگاہ کرنے کے لیے پریس کانفرنس کریں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113321">'حکومت کیسے بتا سکتی تھی نواز شریف کی صحت ٹھیک رہے گی یا نہیں؟'</a></strong></p>

<p>اس کے ساتھ وزیراعظم نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کو سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف تضحیک آمیز بیانات دینے سے بھی روک دیا ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کے مطابق ان کی حالت تشویشناک ہے لہٰذا ان کے خلاف ریمارکس دینا نامناسب ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1113572</guid>
      <pubDate>Fri, 01 Nov 2019 17:48:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید عرفان رضا)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/10/5dba5025f0705.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/10/5dba5025f0705.jpg"/>
        <media:title>وفاقی دارالحکومت کی تین بڑی شاہراہیں اسلام آباد ایکسپریس وے، کشمیر ہائی وے اور 9 ایونیو صبح 11 بجے سے شام 5 بجے تک بند رہیں گی —تصویر: فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
