<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 15:46:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 15:46:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رواں مالی سال: 4 ماہ میں ریونیو شارٹ فال ایک کھرب 62 ارب روپے تک جا پہنچا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1113669/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: حکومت کی جانب سے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی تاریخ میں ایک ماہ کی ڈرامائی توسیع کے باجود پاکستان کا ریونیو شارٹ فال مسلسل بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سینیئر عہدیداروں نے کہا کہ رواں مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ کے دوران  صوبائی سطح پر جمع ہونے والا ریونیو 14 کھرب 47 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے 12 کھرب 80 ارب روپے رہا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1514156/revenue-shortfall-rises-to-rs162bn-in-july-oct"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق 4ماہ میں شارٹ فال ایک کھرب 67 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جو ستمبر میں ایک کھرب 13 ارب روپے تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113459"&gt;آئی ایم ایف پروگرام کا پہلا جائزہ، ریونیو شارٹ فال پر خصوصی توجہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ فرق میں 5 ارب روپے کی بک ایڈجسٹمنٹ کے بعد معمولی کمی واقع ہوئی اور یہ ایک کھرب 62 ارب روپے کا ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم سالانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو 12 کھرب 84 ارب روپے کی مجموعی کلیکشن 2018 میں جمع ہونے والے 11 کھرب 4 ارب روپے سے 16 فیصد زائد ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف بی آر حکام کے مطابق اکتوبر میں ریونیو کلیکشن 3 کھرب 20 ارب روپے رہی جبکہ اس کا ہدف 3 کھرب 76 ارب روپے رکھا گیا تھا یعنی ہدف سے 55 ارب روپے کم آمدن ہوئی تاہم یہ رقم گزشتہ سال کے مقابلے 15 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکام کا مزید کہنا تھا کہ اب تک ٹیکس دہندگان کو مجموعی طور پر 34 ارب روپے واپس ادا کیے جاچکے ہیں، جس میں ماہ اکتوبر میں 4 ارب روپے واپس کیے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1111643/"&gt;ایف بی آر ریونیو کے حصول میں ناکام، شارٹ فال 111 ارب روپے تک پہنچ گیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ریونیو کلیکشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایف بی آر حکام کا کہنا تھا کہ 4 ماہ کے دوران سب سے زیادہ 5 کھرب 66 ارب روپے سیلز ٹیکس کے ذریعے حاصل ہوئے جس کے بعد انکم ٹیکس سے 4 کھرب 68 ارب روپے اور کسٹم ٹیکس کے ذریعے ایک کھرب 9 ارب روپے کی آمدنی ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بقیہ فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی کے 71 ارب روپے سمیت ایک کھرب 37 ارب روپے کی رقم دیگر ٹیکسز کی مد میں حاصل ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کے 6 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت رواں مالی سال کے لیے ریونیو کا ہدف 50 کھرب 55 ارب 50 کروڑ روپے رکھا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ آئی ایم ایف فنڈ کے تحت پہلی سہ ماہی کے دوران حکومتی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے مشن پاکستان میں موجود ہے۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: حکومت کی جانب سے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی تاریخ میں ایک ماہ کی ڈرامائی توسیع کے باجود پاکستان کا ریونیو شارٹ فال مسلسل بڑھ رہا ہے۔</p>

<p>اس ضمن میں وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سینیئر عہدیداروں نے کہا کہ رواں مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ کے دوران  صوبائی سطح پر جمع ہونے والا ریونیو 14 کھرب 47 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے 12 کھرب 80 ارب روپے رہا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1514156/revenue-shortfall-rises-to-rs162bn-in-july-oct">رپورٹ</a></strong> کے مطابق 4ماہ میں شارٹ فال ایک کھرب 67 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جو ستمبر میں ایک کھرب 13 ارب روپے تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113459">آئی ایم ایف پروگرام کا پہلا جائزہ، ریونیو شارٹ فال پر خصوصی توجہ</a></strong> </p>

<p>مذکورہ فرق میں 5 ارب روپے کی بک ایڈجسٹمنٹ کے بعد معمولی کمی واقع ہوئی اور یہ ایک کھرب 62 ارب روپے کا ہوگیا تھا۔</p>

<p>تاہم سالانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو 12 کھرب 84 ارب روپے کی مجموعی کلیکشن 2018 میں جمع ہونے والے 11 کھرب 4 ارب روپے سے 16 فیصد زائد ہے۔</p>

<p>ایف بی آر حکام کے مطابق اکتوبر میں ریونیو کلیکشن 3 کھرب 20 ارب روپے رہی جبکہ اس کا ہدف 3 کھرب 76 ارب روپے رکھا گیا تھا یعنی ہدف سے 55 ارب روپے کم آمدن ہوئی تاہم یہ رقم گزشتہ سال کے مقابلے 15 فیصد زیادہ ہے۔</p>

<p>حکام کا مزید کہنا تھا کہ اب تک ٹیکس دہندگان کو مجموعی طور پر 34 ارب روپے واپس ادا کیے جاچکے ہیں، جس میں ماہ اکتوبر میں 4 ارب روپے واپس کیے گئے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1111643/">ایف بی آر ریونیو کے حصول میں ناکام، شارٹ فال 111 ارب روپے تک پہنچ گیا</a></strong> </p>

<p>ریونیو کلیکشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایف بی آر حکام کا کہنا تھا کہ 4 ماہ کے دوران سب سے زیادہ 5 کھرب 66 ارب روپے سیلز ٹیکس کے ذریعے حاصل ہوئے جس کے بعد انکم ٹیکس سے 4 کھرب 68 ارب روپے اور کسٹم ٹیکس کے ذریعے ایک کھرب 9 ارب روپے کی آمدنی ہوئی۔</p>

<p>بقیہ فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی کے 71 ارب روپے سمیت ایک کھرب 37 ارب روپے کی رقم دیگر ٹیکسز کی مد میں حاصل ہوئی۔</p>

<p>خیال رہے کہ حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کے 6 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت رواں مالی سال کے لیے ریونیو کا ہدف 50 کھرب 55 ارب 50 کروڑ روپے رکھا تھا۔</p>

<p>مذکورہ آئی ایم ایف فنڈ کے تحت پہلی سہ ماہی کے دوران حکومتی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے مشن پاکستان میں موجود ہے۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1113669</guid>
      <pubDate>Fri, 01 Nov 2019 19:00:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/11/5dbbf5d698ad8.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/11/5dbbf5d698ad8.jpg"/>
        <media:title>ایف بی آر حکام کے مطابق اکتوبر میں ریونیو کلیکشن 3 کھرب 20 ارب روپے رہا—فائل فوٹو: ثوبیہ شاہد
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
