<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 22:14:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 22:14:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افسانہ : تیسرے پہر کا خواب
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1113929/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسے محبت ہوئی تو یوں محسوس ہوا کہ یہی وہ کیفیت تھی جس کی تلاش میں وہ مدتوں مارا مارا پھرتا رہا۔ پھر ایک شام وہ لڑکی جو اس کی سچی محبت تھی اسے یہ کہہ کر کسی اور کی محبت میں گرفتار ہوگئی کہ وہ ایک بالکل بکواس نوجوان ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آدمی کی بکواسیت کا تعلق اس کی معیشت سے ہوتا ہے۔ یہ بات بالکل عجیب تھی لیکن وہ اپنی خالی جیب کو کیسے بھر سکتا تھا؟ زندہ رہنے کے لیے کام کرنا پڑتا ہے اور کام ملنے کے لیے سفارش چاہیے تھی جو اس کے پاس نہیں تھی۔ کوئی بھی ذریعہ نہیں تھا سوائے خواب دیکھنے کے سو وہ خواب دیکھتا رہا۔ اسے خواب دیکھنے کا بہت شوق تھا وہ سوچتا کہ یہ کیسا انوکھا کام ہے کہ آدمی جب سوتا ہے تو کسی اور جہان میں چلا جاتا ہے۔ پھر ایک شب اس نے 3 خواب دیکھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تیسرے خواب میں اس نے دیکھا کہ چاند بادلوں کی اوٹ میں چھپ گیا اور ہر طرف مکمل اندھیرا چھا گیا تھا۔ دوسرا خواب زمین پر ایک ایسے بھوکے آدمی کا تھا جو اپنے پیٹ سے انتڑیاں نکال کر نچوڑ رہا تھا۔ وہ جاگا تو اس نے دیکھا کہ اس نے اپنا پیٹ پکڑ رکھا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1112782//' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/11/5dc11cbff1a54.jpg"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt; 			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پہلے خواب میں اس کی سچی محبت اس کے جیب کی تلاشی لے رہی تھی لیکن اسے کچھ نہ ملا تو وہ اس کے منہ پر تھوک کر چلی گئی۔ وہ جاگا تو اسے اپنا چہرہ گیلا محسوس ہوا۔ صرف خوابوں کے سہارے تو عمریں نہیں کاٹی جاسکتیں، سانس کی آری چلتی ہے تو سارے خوابوں کو چیرتی چلی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کب تک ناکام محبت کو یاد کرکے آنسو بہائے جاسکتے تھے جب کہ آدمی ایک ویٹر ہو؟ غریب آدمی کے پاس عموماً بہت سی باتوں کے لیے وقت کم ہوتا ہے، اس لیے وہ فوراً اپنے کام کی طرف متوجہ ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وقت پَر لگا کر اُڑتا چلا گیا، اس کی شادی ہوگئی ایک بچہ ہوگیا لیکن وہ ویٹر کا ویٹر رہا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دال دال دال کب تک آدمی دال کھاتا رہے جب کہ لوگ ایک ہزار کا برگر کھاکے آدھا چھوڑجاتے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک ویٹر کو کبھی سچی محبت نہیں مل سکتی۔ اب بھلا جس آدمی کو مکمل کھانا نہ مل سکے اسے مکمل محبت کس طرح مل سکتی ہے؟ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’منہ ہاتھ دھو کے آجاؤ دال بن چکی ہے‘، اس کی بیوی نے کہا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پہلا لقمہ ابھی لیا ہی تھا کہ بیوی کی آواز آئی، ’وہ سنیے دکاندار کہہ رہا تھا کہ 2 ماہ سے پیسے نہیں ملے اگر پرانے پیسے نہیں دیے تو کل سے سامان نہیں ملے گا‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’یعنی اب دال بھی نہیں؟‘، اس نے دل میں سوچا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسرا لقمہ لیا تو آواز آئی کہ ’وہ بجلی کا بل 2 ہزار آیا ہے۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تیسرے لقمے کی باری آئی تو خبر ملی کہ ’مالک مکان آیا تھا۔ کہہ رہا تھا اگر اس ماہ کرایہ ادا نہیں کیا تو سامان باہر پھینک دے گا، تو کیا اب ہم فٹ پاتھ رہیں گے؟‘، بیوی نے پوچھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’مجھے بھوک نہیں، میں سونے جارہا ہوں‘، اس نے کہا اور اٹھ کھڑا ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’وہ میرے کسی سوال کا جواب تو دیں‘، بیوی نے پیچھے سے آواز دی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’کل تنخواہ مل جائے گی‘، اس نے بتایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیند آچکی تھی اور اسے خواب میں کوئی آواز دے رہا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’یہاں سے آگے جنگل ہے۔ تمہیں یہیں سے لوٹنا ہوگا اگر تم آگے گئے تو جنگلی بھیڑیے تمہیں کھا جائیں گے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’لوٹ آؤ‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’جنگل یہاں سے کتنا دُور ہے؟‘، اس نے پوچھا&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’ایک قدم کے فاصلے پر جنگل ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’تو ابھی ہم کہاں ہیں؟‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’جنگل میں ...‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’پھر ایک قدم کا فاصلہ؟‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’وہ فاصلہ صرف تمہارے ذہن میں ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وہ ڈر کر جاگ گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’کہاں جاؤں؟ آخر کہاں؟‘، اس نے جاگتے ساتھ ہی سوچا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آج آپ کی آنکھ جلد کھل گئی؟ بیوی نے اسے جاگے دیکھا تو پوچھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1112358//' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/11/5dc11cf14c10e.jpg"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt; 			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’بس آج جلدی کام پر جانا ہے،‘ اس نے کہا لیکن اسے سمجھ نہ آئی کہ اتنی جلدی صبح کیسے ہوگئی۔ ایک خواب میں رات کٹ گئی۔ اسے محسوس ہوا کہ گزشتہ زندگی بھی ایک خواب ہی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’آج تنخواہ مل جائے گی نا؟‘، بیوی نے پوچھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’ہاں شاید ...‘، اس نے کہا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وہ گھر سے صبح صبح نکل پڑا۔ سڑکوں پر ٹریفک جام تھا، جگہ جگہ کنٹینرز رکھے ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’بھائی یہ گاڑیاں چل کیوں نہیں رہیں؟‘، اس نے ایک شخص سے پوچھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’لگتا ہے آپ خبریں نہیں سنتے؟‘ اس آدمی نے کہا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’کیوں کوئی خاص خبر ہے کیا؟‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’اپوزیشن حکومت گرانے آرہی ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’تو یہاں حکومت کھڑی ہوئی ہے؟‘، اس نے پوچھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’بس ہڑتال ہے آج‘، آدمی نے جواب دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’کتنے روز کی؟‘، اس نے پوچھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’ابھی کچھ معلوم نہیں‘، آدمی نے کہا اور دوسری جانب دیکھنے لگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ حالات دیکھ کر بس اس کے دماغ میں ایک ہی لفظ گونج رہا تھا، تنخواہ، نتخواہ، تنخواہ۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’کھولو سڑکیں کھولو، گاڑیاں چلاؤ‘، وہ چلّایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس آدمی کو کیا ہوگیا ہے؟ سڑک کنارے کھڑے لوگوں نے ایک دوسرے سے کہا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وہ سڑک پر دوڑنے لگا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1107392//' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/08/5d4be998d868c.jpg"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt; 			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’سڑک کھولو‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وہ کنٹینر پر لاتیں برسانے لگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس والے کی نظر پڑی تو وہ دوڑتا ہوا آیا اور اس پر لاٹھی چارج شروع کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’اپوزیشن کی حمایت کرتا ہے سالا، کرتا ہوں میں تمہارا بندوبست‘، اسے لاٹھیاں پڑتی رہیں، پھر پولیس والا اسے گھسیٹتے ہوئے لے کر گیا اور پولیس وین میں ڈال دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’تنخواہ، تنخواہ، تنخواہ‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’دال، دال، دال‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’بِل، بِل، بِل،‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جیل میں وہ جاگتا رہا پھر رات کے تیسرے پہر اس کی آنکھ لگ گئی۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ کسی کا سامان باہر گلی میں پڑا ہے اور ایک عورت صندوق کے اوپر بچہ اٹھائے رو رہی ہے۔ پیچھے دیوار پر لکھا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’بچہ برائے فروخت‘۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسے محبت ہوئی تو یوں محسوس ہوا کہ یہی وہ کیفیت تھی جس کی تلاش میں وہ مدتوں مارا مارا پھرتا رہا۔ پھر ایک شام وہ لڑکی جو اس کی سچی محبت تھی اسے یہ کہہ کر کسی اور کی محبت میں گرفتار ہوگئی کہ وہ ایک بالکل بکواس نوجوان ہے۔</p>

<p>آدمی کی بکواسیت کا تعلق اس کی معیشت سے ہوتا ہے۔ یہ بات بالکل عجیب تھی لیکن وہ اپنی خالی جیب کو کیسے بھر سکتا تھا؟ زندہ رہنے کے لیے کام کرنا پڑتا ہے اور کام ملنے کے لیے سفارش چاہیے تھی جو اس کے پاس نہیں تھی۔ کوئی بھی ذریعہ نہیں تھا سوائے خواب دیکھنے کے سو وہ خواب دیکھتا رہا۔ اسے خواب دیکھنے کا بہت شوق تھا وہ سوچتا کہ یہ کیسا انوکھا کام ہے کہ آدمی جب سوتا ہے تو کسی اور جہان میں چلا جاتا ہے۔ پھر ایک شب اس نے 3 خواب دیکھے۔</p>

<p>تیسرے خواب میں اس نے دیکھا کہ چاند بادلوں کی اوٹ میں چھپ گیا اور ہر طرف مکمل اندھیرا چھا گیا تھا۔ دوسرا خواب زمین پر ایک ایسے بھوکے آدمی کا تھا جو اپنے پیٹ سے انتڑیاں نکال کر نچوڑ رہا تھا۔ وہ جاگا تو اس نے دیکھا کہ اس نے اپنا پیٹ پکڑ رکھا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1112782//' ><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/11/5dc11cbff1a54.jpg"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p> 			</p>

<p>پہلے خواب میں اس کی سچی محبت اس کے جیب کی تلاشی لے رہی تھی لیکن اسے کچھ نہ ملا تو وہ اس کے منہ پر تھوک کر چلی گئی۔ وہ جاگا تو اسے اپنا چہرہ گیلا محسوس ہوا۔ صرف خوابوں کے سہارے تو عمریں نہیں کاٹی جاسکتیں، سانس کی آری چلتی ہے تو سارے خوابوں کو چیرتی چلی جاتی ہے۔</p>

<p>کب تک ناکام محبت کو یاد کرکے آنسو بہائے جاسکتے تھے جب کہ آدمی ایک ویٹر ہو؟ غریب آدمی کے پاس عموماً بہت سی باتوں کے لیے وقت کم ہوتا ہے، اس لیے وہ فوراً اپنے کام کی طرف متوجہ ہوا۔</p>

<p>وقت پَر لگا کر اُڑتا چلا گیا، اس کی شادی ہوگئی ایک بچہ ہوگیا لیکن وہ ویٹر کا ویٹر رہا۔</p>

<p>دال دال دال کب تک آدمی دال کھاتا رہے جب کہ لوگ ایک ہزار کا برگر کھاکے آدھا چھوڑجاتے تھے۔</p>

<p>ایک ویٹر کو کبھی سچی محبت نہیں مل سکتی۔ اب بھلا جس آدمی کو مکمل کھانا نہ مل سکے اسے مکمل محبت کس طرح مل سکتی ہے؟ </p>

<p>’منہ ہاتھ دھو کے آجاؤ دال بن چکی ہے‘، اس کی بیوی نے کہا۔</p>

<p>پہلا لقمہ ابھی لیا ہی تھا کہ بیوی کی آواز آئی، ’وہ سنیے دکاندار کہہ رہا تھا کہ 2 ماہ سے پیسے نہیں ملے اگر پرانے پیسے نہیں دیے تو کل سے سامان نہیں ملے گا‘۔ </p>

<p>’یعنی اب دال بھی نہیں؟‘، اس نے دل میں سوچا۔</p>

<p>دوسرا لقمہ لیا تو آواز آئی کہ ’وہ بجلی کا بل 2 ہزار آیا ہے۔‘</p>

<p>تیسرے لقمے کی باری آئی تو خبر ملی کہ ’مالک مکان آیا تھا۔ کہہ رہا تھا اگر اس ماہ کرایہ ادا نہیں کیا تو سامان باہر پھینک دے گا، تو کیا اب ہم فٹ پاتھ رہیں گے؟‘، بیوی نے پوچھا۔</p>

<p>’مجھے بھوک نہیں، میں سونے جارہا ہوں‘، اس نے کہا اور اٹھ کھڑا ہوا۔</p>

<p>’وہ میرے کسی سوال کا جواب تو دیں‘، بیوی نے پیچھے سے آواز دی۔</p>

<p>’کل تنخواہ مل جائے گی‘، اس نے بتایا۔</p>

<p>نیند آچکی تھی اور اسے خواب میں کوئی آواز دے رہا تھا۔</p>

<p>’یہاں سے آگے جنگل ہے۔ تمہیں یہیں سے لوٹنا ہوگا اگر تم آگے گئے تو جنگلی بھیڑیے تمہیں کھا جائیں گے‘۔</p>

<p>’لوٹ آؤ‘۔</p>

<p>’جنگل یہاں سے کتنا دُور ہے؟‘، اس نے پوچھا</p>

<p>’ایک قدم کے فاصلے پر جنگل ہے‘۔</p>

<p>’تو ابھی ہم کہاں ہیں؟‘</p>

<p>’جنگل میں ...‘</p>

<p>’پھر ایک قدم کا فاصلہ؟‘</p>

<p>’وہ فاصلہ صرف تمہارے ذہن میں ہے‘۔</p>

<p>وہ ڈر کر جاگ گیا۔</p>

<p>’کہاں جاؤں؟ آخر کہاں؟‘، اس نے جاگتے ساتھ ہی سوچا۔</p>

<p>آج آپ کی آنکھ جلد کھل گئی؟ بیوی نے اسے جاگے دیکھا تو پوچھا۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1112358//' ><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/11/5dc11cf14c10e.jpg"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p> 			</p>

<p>’بس آج جلدی کام پر جانا ہے،‘ اس نے کہا لیکن اسے سمجھ نہ آئی کہ اتنی جلدی صبح کیسے ہوگئی۔ ایک خواب میں رات کٹ گئی۔ اسے محسوس ہوا کہ گزشتہ زندگی بھی ایک خواب ہی تھی۔</p>

<p>’آج تنخواہ مل جائے گی نا؟‘، بیوی نے پوچھا۔</p>

<p>’ہاں شاید ...‘، اس نے کہا۔</p>

<p>وہ گھر سے صبح صبح نکل پڑا۔ سڑکوں پر ٹریفک جام تھا، جگہ جگہ کنٹینرز رکھے ہوئے تھے۔</p>

<p>’بھائی یہ گاڑیاں چل کیوں نہیں رہیں؟‘، اس نے ایک شخص سے پوچھا۔</p>

<p>’لگتا ہے آپ خبریں نہیں سنتے؟‘ اس آدمی نے کہا۔</p>

<p>’کیوں کوئی خاص خبر ہے کیا؟‘</p>

<p>’اپوزیشن حکومت گرانے آرہی ہے‘۔</p>

<p>’تو یہاں حکومت کھڑی ہوئی ہے؟‘، اس نے پوچھا۔ </p>

<p>’بس ہڑتال ہے آج‘، آدمی نے جواب دیا۔</p>

<p>’کتنے روز کی؟‘، اس نے پوچھا۔</p>

<p>’ابھی کچھ معلوم نہیں‘، آدمی نے کہا اور دوسری جانب دیکھنے لگا۔</p>

<p>یہ حالات دیکھ کر بس اس کے دماغ میں ایک ہی لفظ گونج رہا تھا، تنخواہ، نتخواہ، تنخواہ۔ </p>

<p>’کھولو سڑکیں کھولو، گاڑیاں چلاؤ‘، وہ چلّایا۔</p>

<p>اس آدمی کو کیا ہوگیا ہے؟ سڑک کنارے کھڑے لوگوں نے ایک دوسرے سے کہا۔</p>

<p>وہ سڑک پر دوڑنے لگا۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1107392//' ><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/08/5d4be998d868c.jpg"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p> 			</p>

<p>’سڑک کھولو‘۔</p>

<p>وہ کنٹینر پر لاتیں برسانے لگا۔</p>

<p>پولیس والے کی نظر پڑی تو وہ دوڑتا ہوا آیا اور اس پر لاٹھی چارج شروع کردیا۔</p>

<p>’اپوزیشن کی حمایت کرتا ہے سالا، کرتا ہوں میں تمہارا بندوبست‘، اسے لاٹھیاں پڑتی رہیں، پھر پولیس والا اسے گھسیٹتے ہوئے لے کر گیا اور پولیس وین میں ڈال دیا۔</p>

<p>’تنخواہ، تنخواہ، تنخواہ‘</p>

<p>’دال، دال، دال‘</p>

<p>’بِل، بِل، بِل،‘</p>

<p>جیل میں وہ جاگتا رہا پھر رات کے تیسرے پہر اس کی آنکھ لگ گئی۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ کسی کا سامان باہر گلی میں پڑا ہے اور ایک عورت صندوق کے اوپر بچہ اٹھائے رو رہی ہے۔ پیچھے دیوار پر لکھا ہے۔</p>

<p>’بچہ برائے فروخت‘۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1113929</guid>
      <pubDate>Tue, 05 Nov 2019 12:20:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد جمیل اختر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/11/5dc121de31f23.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/11/5dc121de31f23.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
