<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Amazing</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 23:53:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 23:53:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انگلش حروف تہجی کا وہ حرف جو بیشتر افراد لکھ نہیں سکتے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1113982/</link>
      <description>&lt;p&gt;اگر آپ یہ پڑھ رہے ہیں تو یقیناً انگریزی حروف تہجی یا ایلفا بیٹ سے واقف ہوں گے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ بچپن سے اب تک ہزاروں یا لاکھوں بار پڑھ یا سن چکے ہوں گے اور دماغ میں بہت گہرائی میں جگہ بھی بناچکے ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تو اگر کوئی آپ کو بتائے کہ انگریزی حروف تہجی کا ایک حرف ایسا ہے جو آپ درست شناخت کرنے کے قابل نہیں، تو یقین کرنا مشکل ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1071905' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/11/5dc19feb91db9.png"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر ہاں، حروف تہجی کا ایک حرف ایسا ہے جو بیشتر افراد درست لکھنے یا شناخت کرنے سے بھی قاصر رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ دریافت امریکا کی جان ہوپکنز یونیورسٹی نے ایک &lt;a href="http://psycnet.apa.org/record/2018-13691-001"&gt;تحقیق&lt;/a&gt; کے دوران کی، جس کی ویڈیو (نیچے دیکھ سکتے ہیں) میں آپ اس 'دھوکا' دینے والے حرف کو دیکھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درحقیقت یہ حرف G ہے اور محققین نے دریافت کیا ہے کہ لگ بھگ بیشتر افراد اسے تحریر یا پہچان نہیں پاتے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ حرف عام طور پر 2 طرح لکھا جاتا ہے ایک تو اوپن ٹیل جو اکثر افراد استعمال کرتے ہیں یعنی g، اور ایک لوپ ٹیل جو پرنٹ اور آن لائن فونٹس جیسے ٹائمز نیو رومن اور کیلبری میں نظر آتا ہے، نیچے تصویر میں دیکھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-5/8 w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/11/5dc19f58027a4.jpg"  alt="" /&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے دریافت کیا کہ اس شکل میں جی کو لوگ پڑھ تو لیتے ہیں مگر بیشتر افراد اسے لکھ نہیں پاتے یا درست طریقے سے شناخت بھی نہیں کرپاتے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے بتایا کہ ہمارا خیال تھا کہ ہم نے4 مختلف شکلوں میں اس حرف کو لکھ کر لوگوں کو دکھایا، جن میں سے 3 درست نہیں تھے، تو 25 میں سے صرف 7 افراد ہی درست g کو شناخت کرسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ لوگ درست طریقے سے جانتے ہی نہیں تھے کہ یہ حرف کیسا نظرآتا ہے حالانکہ اسے پڑھ لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک اور تجربے میں 38 میں سے صرف 2 بالغ افراد ہی درست G کو شناخت کرسکے جبکہ صرف ایک ہی اسے لکھ سکا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے بتایا کہ ہم نے رضاکاروں سے کہا کہ g کی 2 اقسام ہیں کیا آپ انہیں لکھ سکتے ہیں؟، اس پر لوگ ہمارے جانب دیکھتے اور کچھ دیر تک سوچتے رہتے، کیونکہ انہیں کوئی آئیڈیا ہی نہیں تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آپ بھی ویڈیو دیکھیں اور کچھ پہچاننے کی کوشش کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/KJ9IefVBgHk?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اگر آپ یہ پڑھ رہے ہیں تو یقیناً انگریزی حروف تہجی یا ایلفا بیٹ سے واقف ہوں گے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ بچپن سے اب تک ہزاروں یا لاکھوں بار پڑھ یا سن چکے ہوں گے اور دماغ میں بہت گہرائی میں جگہ بھی بناچکے ہوں گے۔</p>

<p>تو اگر کوئی آپ کو بتائے کہ انگریزی حروف تہجی کا ایک حرف ایسا ہے جو آپ درست شناخت کرنے کے قابل نہیں، تو یقین کرنا مشکل ہوگا۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1071905' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/11/5dc19feb91db9.png"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>مگر ہاں، حروف تہجی کا ایک حرف ایسا ہے جو بیشتر افراد درست لکھنے یا شناخت کرنے سے بھی قاصر رہتے ہیں۔</p>

<p>یہ دریافت امریکا کی جان ہوپکنز یونیورسٹی نے ایک <a href="http://psycnet.apa.org/record/2018-13691-001">تحقیق</a> کے دوران کی، جس کی ویڈیو (نیچے دیکھ سکتے ہیں) میں آپ اس 'دھوکا' دینے والے حرف کو دیکھ سکتے ہیں۔</p>

<p>درحقیقت یہ حرف G ہے اور محققین نے دریافت کیا ہے کہ لگ بھگ بیشتر افراد اسے تحریر یا پہچان نہیں پاتے۔</p>

<p>یہ حرف عام طور پر 2 طرح لکھا جاتا ہے ایک تو اوپن ٹیل جو اکثر افراد استعمال کرتے ہیں یعنی g، اور ایک لوپ ٹیل جو پرنٹ اور آن لائن فونٹس جیسے ٹائمز نیو رومن اور کیلبری میں نظر آتا ہے، نیچے تصویر میں دیکھیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-5/8 w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/11/5dc19f58027a4.jpg"  alt="" /></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>محققین نے دریافت کیا کہ اس شکل میں جی کو لوگ پڑھ تو لیتے ہیں مگر بیشتر افراد اسے لکھ نہیں پاتے یا درست طریقے سے شناخت بھی نہیں کرپاتے۔</p>

<p>محققین نے بتایا کہ ہمارا خیال تھا کہ ہم نے4 مختلف شکلوں میں اس حرف کو لکھ کر لوگوں کو دکھایا، جن میں سے 3 درست نہیں تھے، تو 25 میں سے صرف 7 افراد ہی درست g کو شناخت کرسکے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ لوگ درست طریقے سے جانتے ہی نہیں تھے کہ یہ حرف کیسا نظرآتا ہے حالانکہ اسے پڑھ لیتے ہیں۔</p>

<p>ایک اور تجربے میں 38 میں سے صرف 2 بالغ افراد ہی درست G کو شناخت کرسکے جبکہ صرف ایک ہی اسے لکھ سکا۔</p>

<p>محققین نے بتایا کہ ہم نے رضاکاروں سے کہا کہ g کی 2 اقسام ہیں کیا آپ انہیں لکھ سکتے ہیں؟، اس پر لوگ ہمارے جانب دیکھتے اور کچھ دیر تک سوچتے رہتے، کیونکہ انہیں کوئی آئیڈیا ہی نہیں تھا۔</p>

<p>آپ بھی ویڈیو دیکھیں اور کچھ پہچاننے کی کوشش کریں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/KJ9IefVBgHk?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1113982</guid>
      <pubDate>Tue, 05 Nov 2019 21:25:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/11/5dc19f252fb0e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/11/5dc19f252fb0e.jpg"/>
        <media:title>— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
