<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 19:21:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 19:21:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سینیٹ میں ’آرڈیننس کے ذریعے حکمرانی‘ پر تنازع شدت اختیار کرگیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1114009/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: حکومت کی جانب سے صدارتی فرمان (آرڈیننس) کے ذریعے حکومت کرنے کی پالیسی پر تنازع اس وقت مزید زور پکڑ گیا جب صدارتی آرڈیننس کو سینیٹ میں پیش کرنے کے حوالے سے ان کا مبہم جواب اپوزیشن کو مطمئن نہیں کرسکا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1515159/senate-controversy-over-rule-through-ordinances-deepens"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی جانب سے حکومت کو موجودہ سیشن میں آرڈیننس پیش کرنے کا پابند کرنے کے حوالے سے رولنگ دینے پر انکار کرنے کے باعث سینیٹ اجلاس کو بغیر کسی کارروائی کے معطل کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سینیٹ کی کارروائی میں غیر معمولی طرز عمل اس وقت دیکھنے میں آیا جب اپوزیشن اراکین چیئرمین کے پوڈیم کے سامنے کھڑے ہوکر ’نو ٹو آرڈیننس‘، ’نو ٹو سویلین ڈکٹیٹر شپ اور پارلیمنٹ کو عزت دو' کے نعرے بلند کرنے لگے اور یہ سلسلہ پریزائڈنگ آفیسر ستارہ ایاز کی جانب سے اجلاس آج تک کے لیے ملتوی کرنے کے بعد بھی جاری رہا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113652/"&gt;صدر مملکت نے 'مفاد عامہ' کے 8 آرڈیننس نافذ کردیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سینیٹ اجلاس کے آغاز میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر رضا ربانی نے رولنگ مقرر کرتے ہوئے کہا کہ ’آئین میں آرڈیننس پیش کرنے کی گنجائش موجود ہے لیکن یہ صرف اس وقت ہوسکتا ہے جب پارلیمان فعال نہ ہو اور یہ مقننہ کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ آئین کی دفعہ 89 (1) کے تحت ’صدر، سوائے جب قومی اسمبلی کا اجلاس ہورہا ہو، اگر اس بارے میں مطمئن ہوں کہ ایسے حالات موجود ہیں جن کی بنا پر فوری کارروائی ضروری ہوگئی ہے تو وہ حالات کے تقاضے کے مطابق آرڈیننز وضع اور نافذ کرسکے گا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رضا ربانی کا مزید کہنا تھا کہ صدر میکانی اعتبار سے ایسی سمری موصول ہونے پر نہیں کرسکے بلکہ انہیں مطمئن کرنا پڑے گا، اطمینان سے مراد انہیں اپنے ذہن کا استعمال کرتے ہوئے دیکھنا ہوگا کہ آیا صورتحال ایسی ہے کہ جو آرڈیننس کی نفاذ کی اجازت دیتی ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1074194"&gt;سینیٹ انتخابات میں کب، کیا اور کیسے ہوتا ہے؟ مکمل طریقہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارلیمان کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ کسی آرڈیننس کو نامناسب سمجھتے ہوئے نامنظور کردے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سینیٹر رضا ربانی کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے وزیر پارلیمانی امور سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ آرڈیننس پیش کیا جائے گا لیکن یہ آج کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا کیوں کہ آج سینیٹ کا اجلاس اپوزیشن نے بلوایا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم پی پی پی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ ایسی رولنگ موجود ہے جس کے تحت بلائے گئے سیشن میں ہی حکومت اپنا ایجنڈا بھی شامل کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ ایوانِ صدارت ’آرڈیننس فیکٹری‘ بن چکا ہے اور اس آرڈیننس نامنظور ہونے کے خوف سے سینیٹ کا اجلاس منعقد ہی نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104404"&gt;سینیٹ: ججز سے متعلق حکومتی ریفرنس کے خلاف اپوزیشن کی قرارداد منظور&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اجلاس میں جب سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے پوچھا کہ حکومت کب تک آرڈیننس ایوان میں پیش کرے گی تو وزیر پارلیمانی امور مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی دور میں جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کی تفصیلات بتانے لگ گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس پر ڈپٹی چیئرمین نے خصوصی طور پر اسی بات کا جواب دینے کا تو سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ آرڈیننس ایوان میں منظوری کے لیے ’مناسب‘ اور ’بہتر‘ وقت پر پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: حکومت کی جانب سے صدارتی فرمان (آرڈیننس) کے ذریعے حکومت کرنے کی پالیسی پر تنازع اس وقت مزید زور پکڑ گیا جب صدارتی آرڈیننس کو سینیٹ میں پیش کرنے کے حوالے سے ان کا مبہم جواب اپوزیشن کو مطمئن نہیں کرسکا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1515159/senate-controversy-over-rule-through-ordinances-deepens">رپورٹ</a></strong> کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی جانب سے حکومت کو موجودہ سیشن میں آرڈیننس پیش کرنے کا پابند کرنے کے حوالے سے رولنگ دینے پر انکار کرنے کے باعث سینیٹ اجلاس کو بغیر کسی کارروائی کے معطل کرنا پڑا۔</p>

<p>سینیٹ کی کارروائی میں غیر معمولی طرز عمل اس وقت دیکھنے میں آیا جب اپوزیشن اراکین چیئرمین کے پوڈیم کے سامنے کھڑے ہوکر ’نو ٹو آرڈیننس‘، ’نو ٹو سویلین ڈکٹیٹر شپ اور پارلیمنٹ کو عزت دو' کے نعرے بلند کرنے لگے اور یہ سلسلہ پریزائڈنگ آفیسر ستارہ ایاز کی جانب سے اجلاس آج تک کے لیے ملتوی کرنے کے بعد بھی جاری رہا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1113652/">صدر مملکت نے 'مفاد عامہ' کے 8 آرڈیننس نافذ کردیے</a></strong> </p>

<p>سینیٹ اجلاس کے آغاز میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر رضا ربانی نے رولنگ مقرر کرتے ہوئے کہا کہ ’آئین میں آرڈیننس پیش کرنے کی گنجائش موجود ہے لیکن یہ صرف اس وقت ہوسکتا ہے جب پارلیمان فعال نہ ہو اور یہ مقننہ کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے‘۔</p>

<p>سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ آئین کی دفعہ 89 (1) کے تحت ’صدر، سوائے جب قومی اسمبلی کا اجلاس ہورہا ہو، اگر اس بارے میں مطمئن ہوں کہ ایسے حالات موجود ہیں جن کی بنا پر فوری کارروائی ضروری ہوگئی ہے تو وہ حالات کے تقاضے کے مطابق آرڈیننز وضع اور نافذ کرسکے گا‘۔</p>

<p>رضا ربانی کا مزید کہنا تھا کہ صدر میکانی اعتبار سے ایسی سمری موصول ہونے پر نہیں کرسکے بلکہ انہیں مطمئن کرنا پڑے گا، اطمینان سے مراد انہیں اپنے ذہن کا استعمال کرتے ہوئے دیکھنا ہوگا کہ آیا صورتحال ایسی ہے کہ جو آرڈیننس کی نفاذ کی اجازت دیتی ہو۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1074194">سینیٹ انتخابات میں کب، کیا اور کیسے ہوتا ہے؟ مکمل طریقہ</a></strong></p>

<p>انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارلیمان کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ کسی آرڈیننس کو نامناسب سمجھتے ہوئے نامنظور کردے۔</p>

<p>سینیٹر رضا ربانی کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے وزیر پارلیمانی امور سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ آرڈیننس پیش کیا جائے گا لیکن یہ آج کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا کیوں کہ آج سینیٹ کا اجلاس اپوزیشن نے بلوایا تھا۔</p>

<p>تاہم پی پی پی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ ایسی رولنگ موجود ہے جس کے تحت بلائے گئے سیشن میں ہی حکومت اپنا ایجنڈا بھی شامل کرسکتی ہے۔</p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ ایوانِ صدارت ’آرڈیننس فیکٹری‘ بن چکا ہے اور اس آرڈیننس نامنظور ہونے کے خوف سے سینیٹ کا اجلاس منعقد ہی نہیں کیا گیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1104404">سینیٹ: ججز سے متعلق حکومتی ریفرنس کے خلاف اپوزیشن کی قرارداد منظور</a></strong> </p>

<p>اجلاس میں جب سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے پوچھا کہ حکومت کب تک آرڈیننس ایوان میں پیش کرے گی تو وزیر پارلیمانی امور مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی دور میں جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کی تفصیلات بتانے لگ گئے۔</p>

<p>جس پر ڈپٹی چیئرمین نے خصوصی طور پر اسی بات کا جواب دینے کا تو سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ آرڈیننس ایوان میں منظوری کے لیے ’مناسب‘ اور ’بہتر‘ وقت پر پیش کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1114009</guid>
      <pubDate>Wed, 06 Nov 2019 16:19:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افتخار اے خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/11/5dc246c1109dd.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/11/5dc246c1109dd.jpg"/>
        <media:title>سینیٹ چیئرمین کی جانب سے رولنگ دینے سے انکار پر اجلاس کی کارروائی  ملتوی کردی پڑی —فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
