<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 21:49:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 21:49:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کو 2023ہاکی ورلڈ کپ کی میزبانی مل گئی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1114230/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے 2023 میں شیڈول ہاکی ورلڈ کپ کی میزبانی بھارت کو دے دی ہے جبکہ اسپین اور نیدرلینڈ 2022 میں مشترکہ طور پر ویمن ہاکی ورلڈ کپ کی میزبانی کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہاکی ورلڈ کپ 13 سے 29 جنوری 2023 تک بھارت میں کھیلا جائے گا جبکہ ویمنز ہاکی ورلڈ کپ یکم جولائی سے 17 جولائی 2022 تک اسپن اور نیدرلینڈز میں شیڈول ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لوزین میں انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں دونوں عالمی ایونٹ کے میزبانوں کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مردوں کے اگلے ہاکی ورلڈ کپ کی میزبانی کی دوڑ میں بیلجیئم اور ملائیشیا بھی شامل تھے تاہم وسائل خصوصاً اسپانسر شپ اور زیادہ مالیاتی فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت کو ایک مرتبہ پھر ترجیح دی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عالمی ہاکی فیڈریشن کے چیف ایگزیکٹو افسر تھیری ویل نے کہا کہ ہمارے لیے میزبان کا فیصلہ کرنا بہت مشکل تھا لیکن ہمارا بنیادی مقصد کھیل کا فروغ اور ترقی ہے جس کے لیے سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے اور فیصلے میں مالیاتی پہلو بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/FIH_Hockey/status/1192760668308594688"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دونوں ایونٹس کے لیے کوالیفائی کرنے کے عمل کی بھی منظوری دے دی گئی جس میں میزبان ٹیم تو براہ راست کوالیفائی کر جائے گی جبکہ کانٹی نینٹل چیمپیئن شپ کی فاتح پانچ ٹیمیں بھی براہ راست کوالیفائی کر جائیں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;16 ٹیموں کے ان ایونٹس کی بقیہ 10 ٹیمیں مختلف ہوم اور اوے میچز کے ذریعے کوالیفائی کریں گی اور مجموعی طور پر 20 ٹیمیں ایونٹ کے لیے کوالیفائی کرنے کے لیے مختلف مراحل سے گزریں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ بھارت نے گزشتہ سال منعقدہ ہاکی ورلڈ کپ کی بھی میزبانی کی تھی جس کے ساتھ وہ لگاتار دو ہاکی ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے 2023 میں شیڈول ہاکی ورلڈ کپ کی میزبانی بھارت کو دے دی ہے جبکہ اسپین اور نیدرلینڈ 2022 میں مشترکہ طور پر ویمن ہاکی ورلڈ کپ کی میزبانی کریں گے۔</p>

<p>ہاکی ورلڈ کپ 13 سے 29 جنوری 2023 تک بھارت میں کھیلا جائے گا جبکہ ویمنز ہاکی ورلڈ کپ یکم جولائی سے 17 جولائی 2022 تک اسپن اور نیدرلینڈز میں شیڈول ہے۔</p>

<p>لوزین میں انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں دونوں عالمی ایونٹ کے میزبانوں کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا۔</p>

<p>مردوں کے اگلے ہاکی ورلڈ کپ کی میزبانی کی دوڑ میں بیلجیئم اور ملائیشیا بھی شامل تھے تاہم وسائل خصوصاً اسپانسر شپ اور زیادہ مالیاتی فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت کو ایک مرتبہ پھر ترجیح دی گئی۔</p>

<p>عالمی ہاکی فیڈریشن کے چیف ایگزیکٹو افسر تھیری ویل نے کہا کہ ہمارے لیے میزبان کا فیصلہ کرنا بہت مشکل تھا لیکن ہمارا بنیادی مقصد کھیل کا فروغ اور ترقی ہے جس کے لیے سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے اور فیصلے میں مالیاتی پہلو بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/FIH_Hockey/status/1192760668308594688"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>دونوں ایونٹس کے لیے کوالیفائی کرنے کے عمل کی بھی منظوری دے دی گئی جس میں میزبان ٹیم تو براہ راست کوالیفائی کر جائے گی جبکہ کانٹی نینٹل چیمپیئن شپ کی فاتح پانچ ٹیمیں بھی براہ راست کوالیفائی کر جائیں گی۔</p>

<p>16 ٹیموں کے ان ایونٹس کی بقیہ 10 ٹیمیں مختلف ہوم اور اوے میچز کے ذریعے کوالیفائی کریں گی اور مجموعی طور پر 20 ٹیمیں ایونٹ کے لیے کوالیفائی کرنے کے لیے مختلف مراحل سے گزریں گی۔</p>

<p>واضح رہے کہ بھارت نے گزشتہ سال منعقدہ ہاکی ورلڈ کپ کی بھی میزبانی کی تھی جس کے ساتھ وہ لگاتار دو ہاکی ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1114230</guid>
      <pubDate>Tue, 12 Nov 2019 00:46:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/11/5dc5a7ed74b16.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/11/5dc5a7ed74b16.jpg"/>
        <media:title>بیلجیئم اس وقت ہاکی کا ورلڈ چیمپیئن ہے— فایل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
