<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:24:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:24:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سابق آئی ایس آئی سربراہ کا نام مزید 2 تحقیقات کے باعث ای سی ایل میں موجود
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1114247/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: وزارت دفاع نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بتایا ہے کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کے خلاف مزید 2 انکوائریز شروع کیے جانے کے باعث ان کا نام سفری پابندی کی فہرست میں درج ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرل لسٹ میں اس وقت درج کیا گیا جب انہوں نے بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ انالسز ونگ (را) کے سابق سربراہ کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر ایک کتاب تحریر کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رواں برس فروری میں فوجی ترجمان نے اعلان کیا تھا کہ جنرل (ر) اسد درانی فوج کے وقواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088202"&gt;اسد درانی نے ای سی ایل سے نام نکالنے کیلئے درخواست دائر کردی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا تھا کہ امرجیت سنگھ دولت کے ساتھ مل کر متنازع کتاب تحریر کرنے پر  اسد درانی کے خلاف انکوائری شروع کردی گئی ہے جبکہ ایک فوجی عدالت نے ان کی پینشن اور ریٹائرمنٹ کے بعد کی مراعات بھی واپس لے لی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ مئی کے مہینے میں جنرل (ر) اسد درانی نے اپنا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکلوانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ ان کے خلاف کیس نمٹایا جاچکا ہے لہٰذا اب ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں درج رکھنے کی ضرورت نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ان کی درخواست خارج کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وزارت داخلہ کے ذریعے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089362"&gt;سابق ڈی جی آئی ایس آئی سے متعلق جی ایچ کیو کی رپورٹ طلب&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم گزشتہ ماہ جنرل (ر) اسد درانی نے عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے پر سیکریٹری داخلہ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی تھی، جس پر 15 اکتوبر کو عدالت نے وزارت داخلہ کو عدالتی احکامات پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں جمعے کو ہونے والی سماعت میں ڈپٹی سیکریٹری داخلہ نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ جنرل (ر) اسد درانی کا معاملہ کابینہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا تھا جنہوں نے ان کا نام ای سی ایل میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں وزارت دفاع کے عہدیدار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ متعلقہ حکام نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کے خلاف 2 علیحدہ انکوائریز کے احکامات دیے تھے جو اس وقت جاری ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079245/"&gt;کتاب پر پوزیشن واضح کرنے کیلئے اسد درانی کو طلب کرلیا،آئی ایس پی آر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزارت دفاع ان انکوائریز کے سلسلے میں جنرل (ر) اسد درانی کو طلب کرے گی اس لیے ان کا ملک میں موجود رہنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) نے جنرل (ر) اسدر درانی کا نام ای سی ایل میں درج کرنے کے لیے گزشتہ برس وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ جنرل (ر) اسد درانی اگست 1990 سے مارچ 1992 تک آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز رہے،  ان کے خلاف باقاعدہ انکوائری کا آغاز ہونے کے بعد مئی میں انہیں جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) بھی طلب کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079369"&gt;اسد درانی کی کتاب: فوج کا معاملے کی تحقیقات کا اعلان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انکوائری کی سربراہی حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل کررہے ہیں جس میں ان سے تحریر کردہ کتاب میں لکھے گئے مواد کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن میں جنرل (ر) اسد درانی کے وکیل نے کہا تھا کہ ان کے موکل کو جی ایچ کیو میں ’چائے کے لیے‘ بلایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے عدالت میں کہا تھا کہ جنرل (ر) اسد درانی بیرونِ ملک جانا چاہتے ہیں لیکن ای سی ایل میں نام شامل ہونے کی وجہ سے سفر نہیں کرسکتے۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 9 نومبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: وزارت دفاع نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بتایا ہے کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کے خلاف مزید 2 انکوائریز شروع کیے جانے کے باعث ان کا نام سفری پابندی کی فہرست میں درج ہے۔</p>

<p>واضح رہے کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرل لسٹ میں اس وقت درج کیا گیا جب انہوں نے بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ انالسز ونگ (را) کے سابق سربراہ کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر ایک کتاب تحریر کی۔</p>

<p>رواں برس فروری میں فوجی ترجمان نے اعلان کیا تھا کہ جنرل (ر) اسد درانی فوج کے وقواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088202">اسد درانی نے ای سی ایل سے نام نکالنے کیلئے درخواست دائر کردی</a></strong> </p>

<p>انہوں نے کہا تھا کہ امرجیت سنگھ دولت کے ساتھ مل کر متنازع کتاب تحریر کرنے پر  اسد درانی کے خلاف انکوائری شروع کردی گئی ہے جبکہ ایک فوجی عدالت نے ان کی پینشن اور ریٹائرمنٹ کے بعد کی مراعات بھی واپس لے لی ہیں۔</p>

<p>خیال رہے کہ مئی کے مہینے میں جنرل (ر) اسد درانی نے اپنا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکلوانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ ان کے خلاف کیس نمٹایا جاچکا ہے لہٰذا اب ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں درج رکھنے کی ضرورت نہیں۔</p>

<p>اس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ان کی درخواست خارج کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وزارت داخلہ کے ذریعے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی جائے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089362">سابق ڈی جی آئی ایس آئی سے متعلق جی ایچ کیو کی رپورٹ طلب</a></strong> </p>

<p>تاہم گزشتہ ماہ جنرل (ر) اسد درانی نے عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے پر سیکریٹری داخلہ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی تھی، جس پر 15 اکتوبر کو عدالت نے وزارت داخلہ کو عدالتی احکامات پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔</p>

<p>بعد ازاں جمعے کو ہونے والی سماعت میں ڈپٹی سیکریٹری داخلہ نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ جنرل (ر) اسد درانی کا معاملہ کابینہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا تھا جنہوں نے ان کا نام ای سی ایل میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔</p>

<p>اس ضمن میں وزارت دفاع کے عہدیدار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ متعلقہ حکام نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کے خلاف 2 علیحدہ انکوائریز کے احکامات دیے تھے جو اس وقت جاری ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079245/">کتاب پر پوزیشن واضح کرنے کیلئے اسد درانی کو طلب کرلیا،آئی ایس پی آر</a></strong></p>

<p>انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزارت دفاع ان انکوائریز کے سلسلے میں جنرل (ر) اسد درانی کو طلب کرے گی اس لیے ان کا ملک میں موجود رہنا ضروری ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) نے جنرل (ر) اسدر درانی کا نام ای سی ایل میں درج کرنے کے لیے گزشتہ برس وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا۔</p>

<p>واضح رہے کہ جنرل (ر) اسد درانی اگست 1990 سے مارچ 1992 تک آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز رہے،  ان کے خلاف باقاعدہ انکوائری کا آغاز ہونے کے بعد مئی میں انہیں جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) بھی طلب کیا گیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079369">اسد درانی کی کتاب: فوج کا معاملے کی تحقیقات کا اعلان</a></strong></p>

<p>انکوائری کی سربراہی حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل کررہے ہیں جس میں ان سے تحریر کردہ کتاب میں لکھے گئے مواد کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی تھی۔</p>

<p>اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن میں جنرل (ر) اسد درانی کے وکیل نے کہا تھا کہ ان کے موکل کو جی ایچ کیو میں ’چائے کے لیے‘ بلایا گیا تھا۔</p>

<p>انہوں نے عدالت میں کہا تھا کہ جنرل (ر) اسد درانی بیرونِ ملک جانا چاہتے ہیں لیکن ای سی ایل میں نام شامل ہونے کی وجہ سے سفر نہیں کرسکتے۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 9 نومبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1114247</guid>
      <pubDate>Sat, 09 Nov 2019 14:25:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/11/5dc63a747612d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/11/5dc63a747612d.jpg"/>
        <media:title>اسد درانی نے عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے پر سیکریٹری داخلہ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی تھی—فائل فوٹو: الجزیرہ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
